اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 121

دہلی فسادات معاملہ: ملزمان نے الزامات پر بحث سے پہلے دہلی پولیس سے وضاحت طلب کی

0
دہلی-فسادات-معاملہ:-ملزمان-نے-الزامات-پر-بحث-سے-پہلے-دہلی-پولیس-سے-وضاحت-طلب-کی

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی کے 2020 کے فسادات کے پیچھے ایک بڑی سازش کے الزامات کے معاملہ میں ملزمان دیوانگنا کلیتا، نتاشا نروال اور آصف اقبال تنہا نے دہلی پولیس سے اپنی تحقیقات کی حیثیت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے یہ ہدایت مانگی ہے کہ الزامات طے کرنے پر بحث شروع ہونے سے پہلے پولیس کو یہ واضح کرنے کی ہدایت کی جائے کہ تحقیقات کب مکمل ہوں گی۔

تنہا نے خاص طور پر تفتیش کے لیے وقت مقرر کرنے کی درخواست کی۔ صفورا زرگر، شرجیل امام اور میران حیدر سمیت دیگر شریک ملزمان بھی اسی طرح کی درخواست پر غور کر رہے ہیں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 18 ستمبر کو ہے۔ 5 اگست کو عدالت نے کہا تھا کہ وہ 11 ستمبر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کرے گی۔

تاہم، 11 ستمبر کو کالیتا کی طرف سے پیش وکیل ادیت پجاری نے الزامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ادھر ادھر کی باتیں کر رہا ہے اور اب بھی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ کیس کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

ککڑڈومہ عدالت کے خصوصی جج امیتابھ راوت کے سامنے پیش ہوتے ہوئے تنہا کی نمائندگی کرنے والے وکیل سومیا شنکرن نے کہا تھا کہ کیس کو آگے چلانے سے پہلے استغاثہ کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کی تحقیقات مکمل ہیں اور اس کیس میں کسی کوئی اور ضمنی چارج شیٹ داخل نہیں کی جائے گی۔

تاہم، ان دلائل کی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر امت پرساد نے مخالفت کی، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک حربہ ہے جو ملزمان، جو کہ ضمانت پر ہیں، ان ملزمان کے فائدے کے لیے جو حراست میں ہیں کیونکہ وہ ہائی کورٹ کے سامنے مقدمہ میں تاخیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسے ریکارڈ پر لیا جائے، کیونکہ یہ کل کی عکاسی نہیں کرنا چاہیے کہ انہوں نے دلائل کا آغاز نہیں کیا اور دلیل دی کہ وہ پہلے ہی روزمرہ کی سماعت کی مخالفت کر سکتے تھے اور مناسب درخواست دائر کر سکتے تھے۔ عدالت نے پھر حکم دیا: "استغاثہ کو پیشگی کاپی کے ساتھ تفصیلی بیورہ پیش کریں۔”

اس کیس کی کارروائی ستمبر 2020 میں پہلی چارج شیٹ داخل کرنے کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد سے دہلی پولیس نے اس معاملے میں کل چار چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ چارج شیٹ 16 ستمبر 2020 کو پیش کی گئی، اس کے بعد 22 نومبر 2020، 24 فروری 2021 اور 2 مارچ 2022 کو ضمنی چارج شیٹ پیش کی گئیں۔

حکومت سے بات چیت کے بعد یوپی میں وکلاء کی ہڑتال ختم

0
حکومت-سے-بات-چیت-کے-بعد-یوپی-میں-وکلاء-کی-ہڑتال-ختم

لکھنؤ: اتر پردیش کی بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا کے ساتھ کامیاب بات چیت کے بعد وکلاء کی ریاست گیر ہڑتال کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی 15 دن سے جاری احتجاج ختم ہو گیا ہے۔ 30 اگست کو پورے اترپردیش کے وکلاء نے ہاپوڑ میں وکلاء پر پولیس کے مبینہ لاٹھی چارج کے بعد ہڑتال شروع کر دی تھی۔

چیف سیکرٹری نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احتجاج کے دوران وکلاء کے خلاف درج تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔ اتر پردیش بار کونسل کے چیئرمین شیو کشور گوڑ نے کہا، ’’چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا کے ساتھ بات چیت بہت مثبت رہی‘‘۔

گوڑ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وکالت کے تحفظ کے قوانین سے متعلق معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں حکومت اور بار کونسل دونوں کے نمائندے شامل ہوں گے اور اس طرح کے قانون کی تجویز کو مقررہ مدت میں پاس کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔

گوڑ نے کہا کہ ہاپوڑ میں قصوروار پولیس افسران کی معطلی اور تبادلے کا ان کا مطالبہ حکومت نے قبول کر لیا ہے۔ ہڑتال کو ختم کرنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "حکومت نے قصوروار پولیس افسران کی معطلی اور ہاپوڑ میں اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے کا ہمارا مطالبہ مان لیا ہے۔”

تاہم الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اشوک کمار سنگھ کو ہڑتال ختم ہونے کی خبر نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمعہ کی صبح ہونے والے اجلاس میں بار کونسل کی اس اپڈیٹ پر بات کریں گے اور پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

روس نے امریکہ کے دو سفارتکاروں کو بے دخل کیا

0
روس-نے-امریکہ-کے-دو-سفارتکاروں-کو-بے-دخل-کیا

واشنگٹن: امریکہ نے کہا ہے کہ روس کا ہمارے دو سفارتکاروں کو بے دخل کرنا بلا جواز ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق روس نے اعلان کیا کہ دو امریکی سفارتکاروں کو بے دخل کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ ایک سابق روسی ملازم کے لیے رابطہ ایجنٹ تھے۔ ان دونوں کو اس سال کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر یوکرین کے تنازعے کے متعلق معلومات امریکہ کو منتقل کرنے کا شبہ تھا۔ روسی اعلان کے بعد امریکہ نے اس اقدام کو ناجائز قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ روس کی طرف سے ہمارے دو سفارتی ملازمین کو نکالنا بلاجواز ہے۔ روس میں امریکی سفارت خانے کے ایک ذریعے نے بھی ٹی اے ایس ایس کو خصوصی بیانات میں اعلان کیا کہ واشنگٹن روس کو امریکی سفارت کاروں کی بے دخلی کا جواب دے گا۔

ذرائع کے مطابق واشنگٹن ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جن کی بنیاد پر ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے دو ملازمین کو غیر معمولی شخصیت قرار دیا گیا تھا۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب روسی وزارت خارجہ نے آج کے اوائل میں اس بات کی تصدیق کی کہ جن دو سفارت کاروں کو "پرسونا نان گریٹا” سمجھا جاتا ہے وہ ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے پہلے اور دوسرے سیکرٹری جیفری سیلن اور ڈیوڈ برنسٹین تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سات دنوں کے اندر روسی سرزمین سے نکل جانا چاہیے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں سفارت کاروں نے رابرٹ چنوف نامی ایک روسی شہری سے رابطہ کرکے غیر قانونی سرگرمیاں کیں۔ اس پر کسی غیر ملک کے ساتھ خفیہ تعاون کا الزام ہے اور اسے روسی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے مالی انعامات کے بدلے مشن تفویض کیا گیا تھا۔

اسی ذریعے نے مزید کہا کہ ماسکو میں امریکی سفیر لین ٹریسی کو جمعرات کو روسی وزارت خارجہ میں طلب کر کے اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی سفارتی مشن کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی سرگرمیاں جس میں میزبان ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھی شامل ہے ناقابل قبول ہیں۔

یہ اخراج ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات اپنی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں جو یوکرین کے سب سے بڑے مالی اور فوجی حامیوں میں سے ایک ہے، جہاں روس فروری 2022 سے حملہ کر رہا ہے۔

موسم کا حال: دہلی-این سی آر میں سیاہ بادلوں کے ساتھ موسلا دھار بارش

0
موسم-کا-حال:-دہلی-این-سی-آر-میں-سیاہ-بادلوں-کے-ساتھ-موسلا-دھار-بارش

نئی دہلی: دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش نے موسم خوشگوار بنا دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کی گرمی کے بعد آج یعنی 15 ستمبر کو صبح تقریباً 7 بجے آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور دہلی، نوئیڈا، غازی آباد سمیت آس پاس کے کئی علاقوں میں اندھیرا چھا گیا۔ کچھ ہی دیر میں سیاہ بادل موسلا دھار بارش میں بدل گئے۔ کئی علاقوں میں ہلکی اور کئی علاقوں میں بھاری بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے آج دہلی سمیت کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بھاری بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، دہلی-این سی آر میں آج صبح 9:30 بجے تک شمال مغربی اتر پردیش سے آنے والے بادلوں کی وجہ سے 50-70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش ہونے کا امکان ہے۔ جس کے بعد تیز ہواؤں اور بارش کا دورانیہ بتدریج کم ہو جائے گا۔

آئی ایم ڈی کی پیش گوئی کے مطابق پوری دہلی اور این سی آر کے ملحقہ علاقوں (لونی دیہات، ہندن اے ایف اسٹیشن، غازی آباد، اندرا پورم، چھپرولا، نوئیڈا، دادری، گریٹر نوئیڈا، گروگرام، فرید آباد، مانیسر، بلبھ گڑھ) میں ہلکی سے درمیانی شدت کی بارش ہوگی۔ کچھ مقامات پر تیز بارش اور 50-70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلیں گی۔ اس کے علاوہ گنور، سونی پت، کھرکھوداا (ہریانہ)، ساکوتی ٹانڈہ، ہستینا پور، بڑوت، میرٹھ، مودی نگر، پلاکھوا، ہاپوڑ، دورالا، باغپت، کھیکڑا (اتر پردیش) میں بھی 50-70 کلومیٹر کی رفتار سے تیز ہواؤںن کے ساستھ درمیانی شدت کی بارش ہوگی۔

اتر پردیش کے شاملی، مظفر نگر، کاندھلا، کھتولی، چاند پور، کٹھور، گڑھ مکتیشور، گلاوٹھی، سکندرآباد کے آس پاس کے علاقوں میں بھی آج ہلکی سے درمیانی شدت کی بارش ہوگی۔

تازہ بارش کی وجہ سے دہلی-این سی آر کے درجہ حرارت میں بھی کمی آئی ہے۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق نئی دہلی میں ہفتہ کو بھی ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتوار کو بارش کی شدت میں کمی ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ ہفتہ کو یہاں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اتوار کو کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 34 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا اتحاد کی طرف سے ’نفرتی اینکرس‘ کا بائیکاٹ کیوں تھا ضروری!

0
انڈیا-اتحاد-کی-طرف-سے-’نفرتی-اینکرس‘-کا-بائیکاٹ-کیوں-تھا-ضروری!

بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی ماضی میں کس طرح کرن تھاپر اور رویش کمار جیسے صحافیوں کا بائیکاٹ کر چکے ہیں، اسے یاد دلاتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے ایک لیڈر نے دعویٰ کیا کہ مختلف نیوز چینلز کے 14 اینکرس کے پروگرام کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ بھاری دل سے لینا پڑا ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ کیسے موجودہ حکومت نے پرنئے رائے کی ملکیت میں این ڈی ٹی وی اور نیوز ویب سائٹس ’نیوز کلک‘ و ’دی کوئنٹ‘ کو کس طرح پریشان کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ویسے نیوز اینکرس کا بائیکاٹ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی انوکھا۔ لیکن جب پانی سر سے اوپر ہو گیا تو یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔

اسی فیصلے کے ساتھ اینکرس کی فہرست کو کانگریس کے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیف پون کھیڑا نے شیئر کیا۔ جن اینکرس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے، ان کی فہرست اس طرح ہے:

ادیتی تیاگی – بھارت ایکسپریس

امن چوپڑا – نیوز 18 انڈیا

امیش دیوگن – نیوز 18 انڈیا

آنند نرسمہن – سی این این-نیوز 18

ارنب گوسوامی – ریپبلک

اشوک شریواستو – دوردرشن نیوز

چترا ترپاٹھی – آج تک

گورو ساونت – انڈیا ٹوڈے ٹی وی

نویکا کمار – ٹائمز ناؤ

پراچی پراشر – انڈیا ٹی وی

روبیکا لیاقت – بھارت 24

شیو ارور – انڈیا ٹوڈے ٹی وی

سدھیر چودھری – آج تک

سوشانت سنہا – ٹائمز ناؤ نوبھارت

اسی فیصلے کو لے کر پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پر ایک چھوٹی سی ویڈیو بھی شیئر کی۔ انھوں نے اس میں کہا ہے کہ ’’روزانہ شام 5 بجے سے کچھ چینلز پر نفرت کا ایک بازار سجایا جاتا ہے۔ گزشتہ 9 سال سے یہ لگاتار چل رہا ہے۔ اس بازار میں الگ الگ پارٹیوں کے لیڈران جاتے ہیں، کچھ ماہرین جاتے ہیں، کچھ تجزیہ نگار جاتے ہیں، لیکن ہم سب نفرت کے اس بازار میں گاہک بن کر جاتے ہیں۔ ہمیں نفرت سے پاک ہندوستان کی سمت میں ایک قدم اٹھانا تھا۔ آج ایک فیصلہ لیا گیا، کچھ اینکرس کو نشان زد کیا جائے، ان کے شوز میں، ایوینٹس میں ہم لوگ نہ جائیں، جس سے ایک مضبوط قدم اٹھایا جائے۔ ہم اس نفرت کے بازار کے شراکت دار نہیں بننا چاہتے جو ہمارے سماج کو آلودہ کر رہا ہے۔ ہمارے لیڈروں کے خلاف نازیبا تبصرے، فیک نیوز وغیرہ سے ہم لڑتے آئے ہیں اور لڑتے رہیں گے، لیکن سماج میں نفرت نہیں پھیلنے دیں گے۔ بڑے بھاری من سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ ہم ان میں سے کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے، ہمیں ہندوستان سے محبت ہے، اسی لیے نفرت کی دکان کو بند کرنے کا فیصلہ لیا۔‘‘ پون کھیڑا نے اپنی ویڈیو میں یہ امید ظاہر کی ہے کہ یہ اینکرس خود ہی اپنے آپ کو بدلیں گے اور وقت بھی بدلے گا۔ انھوں نے ایک طرح سے اشارہ دیا کہ وقت آنے پر اس فہرست کا تجزیہ کر اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

انڈیا اتحاد کے ایک لیڈر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بالآخر ہمیں ایسے اینکرس کی فہرست بنانی پڑی جو نفرت پھیلانے ہیں، فرضی خبریں دکھاتے ہیں اور سماج میں فرقہ پرستی کا وائرس پھیلاتے ہیں۔ ویسے اینکرس کی کارگزاریوں سے عوام بھی واقف ہے۔

بہرحال، جیسی کہ امید تھی، بی جے پی نے انڈیا اتحاد کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا نے تو پورے اپوزیشن اور خاص طور سے کانگریس پر حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔ لیکن بی جے پی کے رد عمل پر فوراً ہی اپوزیشن نے بھی جواب دیا۔ اپوزیشن نے تمام ایسی مثالیں سامنے رکھ دیں جب ان اینکرس نے غیر ذمہ دارانہ رویہ دکھایا۔ اسی ضمن میں اسی ہفتہ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ایک اینکر کہتی دکھائی دے رہی ہے کہ انھیں آج بھی اس بات پر شرم آتی ہے کہ کیسے سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن نے تب کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو وہائٹ ہاؤس میں انتظار کروایا تھا۔ لیکن وہ اینکر یہ بات بھول گئیں یا قصداً چھپا گئیں کہ اندرا گاندھی نے کس طرح نکسن اور امریکہ سے اس بات کا بدلہ لیا تھا اور تب امریکی حکومت کو ٹھینگا دکھا دیا تھا۔

اس کے علاوہ حال ہی کے ایک واقعہ بھی یاد دلائی گئی کہ کیسے این ڈی ٹی وی کے ممبئی بیورو چیف کو مبینہ طور پر اڈانی کی ملکیت والے چینل نے راہل گاندھی کی پریس کانفرنس میں گڑبڑی کرنے کو کہا تھا۔ اس حکم کو نہ مانتے ہوئے بیورو چیف سوہت مشرا نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ابھی دو دن پہلے ہی کانگریس سوشل میڈیا انچارج سپریا شرینیت نے ایک صحافی کے اس سوال کا جواب دیا تھا کہ وہ کن صحافیوں کو ’چرن چمبک‘ (قدم چومنے والا) کہتی ہیں۔ سپریا شرینیت نے جواب دیا تھا کہ جن صحافیوں میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ سچے سوال پوچھ سکیں، وہ ’چرن چمبک‘ ہیں، جبکہ بہت سے صحافی ہیں جو سچ کے ساتھ ہیں، اور وہ ان کا احترام کرتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ کچھ سالوں میں نیوز اینکرس اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران یا ترجمان کے درمیان رشتوں میں کافی تلخی آئی ہے۔ اپوزیشن لگاتار اس بات کو اٹھاتا رہا ہے کہ نیوز چینل قصداً ایسے سبجیکٹ پر ڈیبیٹ (بحث) کرتے ہیں جو حکومت کی حمایت یا سرکاری پی آر پروفیشنل کے ذریعہ طے کیے گئے ہوتے ہیں۔ ان ڈیبیٹ میں ایسے لوگوں کو تجزیہ کار کے طور پر شامل کیا جاتا ہے جو دراصل حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کا کام کرتے ہیں۔

بہرحال، اپوزیشن کے فیصلے سے سینئر صحافی سہاسنی حیدر خوش نہیں ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ اپوزیشن نیوز اینکرس کی گریڈنگ کرنے میں وقت ضائع کر رہا ہے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ شفافیت اور میڈیا کی ان تک رسائی ہو جو اقتدار میں ہیں۔‘‘ حالانکہ فیکٹ چیکر اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے ایسے کچھ ڈیبیٹ کے اسکرین شاٹ شیئر کر کے بتایا ہے کہ آخر ان اینکرس کا بائیکاٹ کرنا کیوں ضروری تھا۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے میڈیا مشیر رہے پنکج پچوری نے بھی اس معاملے میں اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ میڈیا کے لیے ایک افسوسناک دن ہے۔ یہ میڈیا مالکان کی ناکامی ہے جو اس کاروبار میں یہ جانتے ہوئے آئے تھے کہ بھروسہ ہی ان کی سب سے بڑی پونجی ہے۔ بھروسہ اصل مقاصد کا، یکساں موقع دینے کا اور اظہارِ رائے کی آزادی کا۔ لیکن یہ بھروسہ بری طرح ٹوٹ چکا ہے۔‘‘

ہزاروں کانگریس کارکنان کی موجود گی میں اروندر سنگھ لولی نے باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالا

0
ہزاروں-کانگریس-کارکنان-کی-موجود-گی-میں-اروندر-سنگھ-لولی-نے-باضابطہ-طور-پر-عہدہ-سنبھالا

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نو منتخب صدر اروندر سنگھ لولی نے آج کانگریس کے ہزاروں کارکنوں کی موجودگی میں باضابطہ طور پر صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ سبکدوش ہونے والے صدر چودھری انل کمار نے اروندر سنگھ لولی کو باضابطہ چارج دیتے ہوئے مشکل وقت میں کام کرنے کے لیے تمام کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔ لولی کے استقبال کیلئے کانگریس کارکنان نے ڈھول نگاڑے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ پردیش دفتر میں جیسے ہی اروندر سنگھ لولی نے انٹری کی کانگریس کارکنان نے انہیں کاندھوں پر اٹھا لیا۔ لولی کے صدر بننے پر دہلی کانگریس پوری طرح متحد نظر آئی۔ اس موقع پر سابق صدر سبھاش چوپڑا نے سونیا گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، وینوگوپال اور ریاستی انچارج دیپک بابریہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

آج صبح 10 بجے سے نئی دہلی کا پورا علاقہ کانگریس لیڈران و کارکنان کی بھیڑ سے بھرا ہوا نظر آیا۔ ہاتھوں میں ترنگے جھنڈے اور ڈھول لے کر سینکڑوں لوگ ٹولیوں میں راجیو بھون پہنچے۔ آئی ٹی او چوک سے منٹو برج اور رام لیلا میدان تک پرائیویٹ گاڑیوں کی بھیڑ کی وجہ سے لوگ پیدل ہی ریاستی دفتر پہنچے۔ دہلی کے دور دراز علاقوں سے سینکڑوں لوگ کانگریس کی ٹوپیاں پہن کر میٹرو کے ذریعے تقریب میں پہنچے۔ لولی کے استقبال کیلئے خواتین، نوجوانوں اور اقلیتی طبقے کے لوگ بڑی تعداد میں موجود رہے۔ پارٹی کارکنان راہل گاندھی زندہ باد، پرینکا گاندھی زندہ باد، اروندر سنگھ لولی زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتار لگا رہے تھے۔ نئی دہلی کا پورا علاقہ کانگریس کارکنوں کے ہورڈنگز اور پوسٹرس سے بھر ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ عام کارکنوں نے کہا کہ یہ جلسہ نہیں بلکہ کانگریس کارکنوں کا میلہ ہے۔ کارکنوں میں زبردست جوش اور ولولہ دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ آنے والے دنوں میں کانگریس پارٹی دہلی میں عوامی مسائل پورے جوش کے ساتھ اٹھائے گی۔

اس موقع پر دیپک بابریا نے کہا کہ دہلی میں کانگریس کبھی کمزور نہیں تھی۔ آج کارکنوں کا یہ میلہ دیکھنے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اعلی کمان کا فیصلہ درست ہے اور کانگریس پارٹی ایک بار پھر دہلی میں اپنا پرانا مقام حاصل کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگ دہلی میں کانگریس کی 15 سالہ شاندار دور حکومت کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کے ہر پروگرام میں جوش و خروش سے شرکت کریں۔

کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اجے ماکن نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی دہلی میں کانگریس کو مضبوط کرنے کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، ہزاروں کارکنوں کی موجودگی اس کا ثبوت ہے۔ ماکن نے مزید کہا کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کی جیت کی وجہ سے ملک اور دہلی میں حالات بدتر ہوئے ہیں۔ اب لوگ سمجھ گئے ہیں کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ یہاں موجود کانگریس کارکنان کو یہ بات عام لوگوں تک پہنچانی ہے۔ لوگ کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ دن رات ایک کر کے کانگریس کو مضبوط کریں گے۔ ہمیں کانگریس کو واپس لانا ہوگا۔

سینئر لیڈر جئے پرکاش اگروال نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی میں کانگریس کو مضبوط کرنے کی حیرت انگیز طاقت ہے۔ انہوں نے تمام کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور لڑنے کے لیے تیار ہوں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اروندر سنگھ لولی نے دہلی کے تمام کانگریس کارکنان سے کہا کہ وہ دہلی کے تمام 70 اسمبلی حلقوں میں نہ صرف بوتھ سطح تک کانگریس کو مضبوط کریں بلکہ دہلی کے عام لوگوں کے مسائل کو دھیان میں رکھتے ہوئے دہلی کے لوگوں کیلئے آواز بلند کریں۔ تاہم ضرورت پڑنے پر اپنے اپنے علاقوں میں ایک تحریک چلائیں۔ لولی نے کہا کہ دہلی کانگریس فرقہ پرست طاقتوں اور دہلی میں عوامی مفاد کے مسائل کے خلاف اپنی جنگ بڑے پیمانے پر لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تمام مذاہب کو ایک ساتھ لے کر چلنے والی پارٹی ہے۔ ہماری ترجیح سیکولرزم کا تحفظ اور عوام کی خدمت ہے۔ لولی نے یہ بھی کہا کہ پارٹی دہلی میں بدانتظامی اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔

آج کی تقریب میں شامل اہم شخصیتوں میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دہلی انچارج دیپک بابریا، سابق ریاستی صدر اجے ماکن، سبھاش چوپڑا، جئے پرکاش اگروال، چودھری انل کمار، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اراکین منیش چترتھ، دیویندر یادو اور سابق ایم پی کرشنا تیرتھ، سندیپ دیکشت، پرویز ہاشمی، راجیش للوٹھیا، دہلی حکومت کے سابق وزیر ہارون یوسف، راجکمار چوہان، سابق ایم ایل اے جے کشن، کانگریس ترجمان راگنی نائک، سابق ایم پی رمیش کمار، ڈاکٹر ادت راج، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن پون کھیڑا، سابق ایم ایل اے مکیش شرما، الکا لامبا، ابھیشیک دت، شیو بھاٹیہ، امرتا دھون، سابق وزیر ڈاکٹر نریندر ناتھ، منگاترم سنگھل، رماکانت گوسوامی، پروفیسر کرن والیا کے علاوہ کونسلر زیوتھ کانگریس، مہیلا کانگریس، این ایس یو آئی سیوا دل وغیرہ کے عہدیداران، ضلع اور بلاک صدور کے علاوہ کثیر تعداد میں کانگریس کارکنان موجود تھے۔

ممبئی ایئرپورٹ پر پرائیویٹ چارٹرڈ فلائٹ رَنوے سے پھسل کر دو ٹکڑے میں تقسیم

0
ممبئی-ایئرپورٹ-پر-پرائیویٹ-چارٹرڈ-فلائٹ-رَنوے-سے-پھسل-کر-دو-ٹکڑے-میں-تقسیم

ممبئی ایئرپورٹ پر جمعرات کے روز ایک چارٹرڈ طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا جس میں کم از کم 3 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 14 ستمبر کو لینڈنگ کرتے وقت پرائیویٹ چارٹرڈ طیارہ رَنوے پر پھسل گیا اور دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس طیارہ میں 6 مسافر اور 2 کرو ممبرس سوار تھے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس طیارہ حادثہ میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈی جی سی اے نے اس حادثہ کے بارے میں بتایا کہ وشاکھاپٹنم سے ممبئی کے لیے پرواز بھرنے والا وی ایس آر ونچرس لیئرجیٹ 45 طیارہ وی ٹی-ڈی بی ایل ممبئی ہوائی اڈے پر رَنوے-27 پر اترتے وقت پھسل گیا۔ طیارہ میں 6 مسافر اور 2 کرو ممبرس سوار تھے۔ زوردار بارش کے سبب مرئیت 700 میٹر ہی تھی۔

اس حادثہ کے بعد کی کچھ ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں ممبئی ایئرپورٹ پر بارش کے درمیان رَنوے کے پاس طیارہ کے ملبہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حادثے کے دوران طیارہ میں آگ بھی لگ گئی تھی جس پر ایمرجنسی سروسز نے جلد ہی قابو پا لیا۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ آئندہ حکم تک ہوائی اڈے پر سبھی آپریشنز کو بند کر دیا گیا ہے۔

پیوش گویل نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی سچائی ظاہر کر دی: کانگریس

0
پیوش-گویل-نے-وزیر-اعلیٰ-ہیمنت-بسوا-سرما-کی-سچائی-ظاہر-کر-دی:-کانگریس

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی بیوی کی کمپنی کو 10 کروڑ روپے کی سبسیڈی ملنے پر ہنگامے کے ایک دن بعد کانگریس نے ایک بار پھر حکومت پر طنز کستے ہوئے سوال کیا ہے کہ کون جھوٹ بول رہا ہے؟ وزیر اعلیٰ یا مرکزی وزیر برائے کامرس؟ کیونکہ دونوں کے بیانات مختلف ہیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’کون جھوٹ بول رہا ہے- آسام کے وزیر اعلیٰ یا مرکزی وزیر برائے کامرس و صنعت؟ واضح طور پر دونوں درست نہیں ہو سکتے۔‘‘ دراصل جئے رام رمیش اپنی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ گورو گگوئی کے ایک ٹوئٹ کا جواب دے رہے تھے۔ گگوئی نے ٹوئٹ میں الزام لگایا تھا کہ ’’کل پورے دن ہیمنت بسوا سرما نے اپنی بیوی کی کمپنی کے بارے میں ایک ہی بات دہرائی۔ ان کے فائدہ کے لیے میں پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر برائے کامرس و صنعت پیوش گویل کا جواب بتا رہا ہوں۔ پیوش گویل کے جواب نے سچائی ظاہر کر دی ہے۔ اور دونوں وزراء کو وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ انھوں نے گویل کا جواب اور 22 مارچ 2023 کو دیے گئے سوال کا جواب بھی منسلک کیا۔

قابل ذکر ہے کہ بدھ کے روز گگوئی نے اس معاملے کو سامنے لایا اور ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’وزیر اعظم (نریندر) مودی نے ہندوستان کے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لیے کسان سمپدا یوجنا شروع کی۔ لیکن آسام میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اپنے اثر کا استعمال کر کے اپنی بیوی کی فرم کو کریڈٹ لنکڈ سبسیڈی کے حصے کی شکل میں 10 کروڑ روپے دلانے میں مدد کی۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی پوچھا کہ ’’کیا مرکزی حکومت کے منصوبے بی جے پی کو خوشحال کرنے کے لیے ہیں؟‘‘ اس درمیان آسام کے وزیر اعلیٰ نے اپنی بیوی رینیکی بھوئیاں شرما کے خلاف اراضی گھوٹالے کے الزامات کی تردید کی۔

ارنب، سدھیر اور چترا سمیت 14 اینکرس کے پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے انڈیا اتحاد کے لیڈران

0
ارنب،-سدھیر-اور-چترا-سمیت-14-اینکرس-کے-پروگرام-میں-شامل-نہیں-ہوں-گے-انڈیا-اتحاد-کے-لیڈران

مرکز کی مودی حکومت کے خلاف متحد ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ’انڈیا‘ نے ’گودی میڈیا‘ کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسے ٹی وی اینکرس یا صحافیوں کے پروگرام میں اپنے لیڈرس کو نہیں بھیجیں گی جو کہ صرف اشتعال انگیزی پھیلانے کا کام کرتے ہیں اور نفرت کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ انڈیا اتحاد کی طرف سے ایسے ٹی وی اینکرس کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں ارنب گوسوامی، سدھیر چودھری اور چترا ترپاٹھی جیسے مشہور نام شامل ہیں۔

دراصل انڈیا اتحاد کے کوآرڈنیشن کمیٹی کی میٹنگ 13 ستمبر کو این سی پی چیف شرد پوار کی دہلی واقع رہائش پر منعقد ہوئی تھی۔ اس میٹنگ کے بعد ہی کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بتا دیا تھا کہ میٹنگ میں اس بات پر اتفاق قائم ہوا ہے کہ کچھ میڈیا گروپس کے کچھ اینکر کے شو میں انڈیا اتحاد کا کوئی بھی لیڈر شامل نہیں ہوگا۔ حالانکہ اس وقت انھوں نے کسی بھی اینکر کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اینکرس کے نام پر فیصلہ وہ ذیلی گروپ کرے گا جسے میڈیا کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اب ان اینکرس کی فہرست سامنے آئی ہے جن کے پروگرام میں انڈیا اتحاد کے لیڈران شامل نہیں ہوں گے۔ وہ نام ہیں: ادیتی تیاگی، امن چوپڑا، امیش دیوگن، آنند نرسمہن، ارنب گوسوامی، اشوک شریواستو، چترا ترپاٹھی، گورو ساونت، نویکا کمار، پراچی پراشر، روبیکا لیاقت، شیو ارور، سدھیر چودھری اور سوشانت سنہا۔

’انڈیا میڈیا کمیٹی‘ کے ذریعہ 14 ستمبر کو مذکورہ بالا 14 ٹی وی اینکرس کے نام کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ ساتھ ہی انڈیا میڈیا کمیٹی نے بتایا کہ 13 ستمبر کو منعقد انڈیا کوآرڈنیشن کمیٹی کی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ کچھ اینکرس کے پروگرام میں انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیاں اپنے نمائندے نہیں بھیجیں گی۔ اینکرس کی فہرست کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے اپنے ایکس ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ انھوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’روزانہ شام 5 بجے سے کچھ چینلز پر نفرت کی دکانیں سجائی جاتی ہیں۔ ہم نفرت کے بازار کے گاہک نہیں بنیں گے۔ ہمارا مقصد ہے ’نفرت سے پاک ہندوستان‘۔ بڑے بھاری من سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ کچھ اینکرس کے شوز اور ایونٹس میں ہم شراکت دار نہیں بنیں۔ ہمارے لیڈران کے خلاف نازیبا تبصرے، فیک نیوز وغیرہ سے ہم لڑتے آئے ہیں اور لڑتے رہیں گے، لیکن سماج میں نفرت نہیں پھیلنے دیں گے۔‘‘

اداکار پون کلیان نے جیل میں چندرابابو نائیڈو سے کی ملاقات، انتخابی اتحاد کا کیا اعلان

0
اداکار-پون-کلیان-نے-جیل-میں-چندرابابو-نائیڈو-سے-کی-ملاقات،-انتخابی-اتحاد-کا-کیا-اعلان

جَن سینا پارٹی (جے ایس پی) لیڈر اور مشہور اداکار پون کلیان نے جمعرات کو تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) چیف چندرابابو نائیڈو سے راجمندری سنٹرل جیل میں ملاقات کی اور اس کے بعد اعلان کیا کہ آندھرا پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخاب جے ایس پی اور ٹی ڈی پی ایک ساتھ مل کر لڑے گی۔ پون کلیان نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی بدتر حکمرانی کو ختم کرنے کے مقصد سے ووٹوں کی تقسیم سے بچنے کے لیے بی جے پی بھی ان کے ساتھ ہاتھ ملائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پون کلیان نے ٹی ڈی پی رکن اسمبلی این بال کرشن اور ٹی ڈی پی جنرل سکریٹری نارا لوکیش کے ساتھ چندرابابو نائیڈو سے ملاقات کے لیے جیل پہنچے جو کہ کوشل وِکاس نگم گھوٹالے میں عدالتی حراست میں ہیں۔ اس ملاقات کے بعد جے ایس پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ جیل میں نائیڈو سے ان کی ملاقات ریاست کے لیے ایک اہم ملاقات تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے ٹی ڈی پی کے ساتھ اتحاد میں آئندہ اسمبلی انتخاب لڑنے کے اپنے فیصلے سے نائیڈو کو مطلع کرا دیا ہے۔‘‘ پون کلیان، جن کی پارٹی این ڈی اے کا حصہ ہے، نے امید ظاہر کی ہے کہ بی جے پی بھی اس معاملے میں مثبت فیصلہ لے گی۔

اپنے بیان میں پون کلیان نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ ہمارے مستقبل کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ پوری ریاست کے مستقبل کے لیے ہے۔ اگر ہم الگ الگ انتخاب لڑتے ہیں تو یہ انارکی والی حکومت اگلے ایک یا دو دہائیوں تک چل سکتی ہے۔‘‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ جے ایس پی کتنی سیٹوں پر انتخاب لڑے گی، تو انھوں نے کہا کہ یہ سب بعد میں طے کیا جائے گا۔ جے ایس پی اور ٹی ڈی پی دونوں ایک ساتھ کیے جانے والے پروگراموں پر فیصلہ لینے کے لیے ایک جوائنٹ کمیٹی بنائیں گی۔