ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 119

موسم کا حال: دہلی-این سی آر سمیت ملک کی 10 ریاستوں میں شدید بارش کا الرٹ

0
موسم-کا-حال:-دہلی-این-سی-آر-سمیت-ملک-کی-10-ریاستوں-میں-شدید-بارش-کا-الرٹ

نئی دہلی: ملک بھر کی کئی ریاستوں میں بارش کے بعد موسم تبدیل ہو گیا ہے۔ دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ تیز بارش کے بعد لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج یعنی ہفتہ (16 ستمبر) کو بارش کے حوالے سے کئی ریاستوں میں الرٹ جاری کیا ہے۔ دریں اثنا، جنوب مغربی مدھیہ پردیش کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جہاں اگلے 3 دنوں تک شدید بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، دہلی-این سی آر میں ہفتہ (16 ستمبر) کو مطلع دن بھر ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔ وہیں، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری اور کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق دہلی میں اگلے پانچ دنوں تک مطلع ابر آلود رہنے اور ہلکی بارش ہونے کا امکان ہے۔

یوپی کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید بارش کے بعد ریاست کا موسم تبدیل ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں ہفتہ کو بھی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اتراکھنڈ میں بھی بارش کے بعد لوگوں کو دھوپ اور مرطوب گرمی سے راحت ملی۔ ہفتہ (16 ستمبر) کو ریاست کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ جبکہ 5 اضلاع میں شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے مہاراشٹر اور گجرات کے کئی علاقوں میں بھی بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، مغربی مدھیہ پردیش ریڈ الرٹ پر ہے کیونکہ 17 ستمبر تک مختلف مقامات پر بھاری سے بہت زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ اور جموں ڈویژن میں 17 ستمبر تک ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ڈی نے راجستھان، گجرات، گوا، کرناٹک، کیرالہ اور انڈمان اور نکوبار میں بھی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ مدھیہ پردیش میں بارش نے کافی تباہی مچائی ہے۔ سڑکوں سے لے کر گھروں تک ہر طرف سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ ندیا بھی اپھان پر ہیں اور بیتول میں ایک آٹو ندی میں سما گیا۔ آٹو میں 4 افراد سوار تھے جن کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

راہل نوین ای ڈی کے قائم مقام ڈائریکٹر بن گئے، سنجے کمار مشرا کی میعاد ختم

0
راہل-نوین-ای-ڈی-کے-قائم-مقام-ڈائریکٹر-بن-گئے،-سنجے-کمار-مشرا-کی-میعاد-ختم

ای ڈی چیف سنجے کمار مشرا کی میعاد کل  یعنی 15 ستمبر کو ختم ہوہو گئی۔ اب ای ڈی کے اسپیشل ڈائرکٹر راہل نوین کو ای ڈی کا قائم مقام ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق سرکاری حکم نامے میں جمعہ کو کہا گیا کہ آئی آر ایس افسر راہل نوین کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا ڈائریکٹر انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ سنجے کمار مشرا نے تقریباً 4 سال 10 ماہ تک ای ڈی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

راہل نوین 1993 بیچ کے آئی آر ایس افسر ہیں۔ اسپیشل ڈائریکٹر ہونے کے علاوہ راہل نوین، جو بہار سے تعلق رکھتے ہیں، ای ڈی ہیڈکوارٹر کے چیف ویجیلنس آفیسر کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ نئے ڈائریکٹر کی باقاعدہ تقرری تک قائم مقام ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

سنجے کمار مشرا کو 2018 میں ای ڈی کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کا دور نومبر 2020 میں ختم ہونا تھا۔ مرکز کی طرف سے انہیں تین بار سروس میں توسیع دی گئی۔ اس اقدام کو اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

سنجے کمار مشرا کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے سی وی سی ایکٹ میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔ گزشتہ جولائی کے مہینے میں سپریم کورٹ نے سنجے کمار مشرا کی تیسری توسیع کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ جن کا شیڈول 18 نومبر 2023 تک تھا۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں 31 جولائی تک اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ تاہم، مرکزی حکومت نے تب سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ انہیں 15 ستمبر تک اس عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت دی جائے۔ جس پر عدالت نے انہیں 15 ستمبر تک عہدے پر رہنے کی اجازت دے دی۔

نو تشکیل کانگریس مجلس عاملہ کی پہلی میٹنگ کل حیدر آباد میں، 17 ستمبر کو ریلی

0
نو-تشکیل-کانگریس-مجلس-عاملہ-کی-پہلی-میٹنگ-کل-حیدر-آباد-میں،-17-ستمبر-کو-ریلی

تلنگانہ کے حیدر آباد میں 16 ستمبر کو نوتشکیل کانگریس مجلس عاملہ (سی ڈبلیو سی) کی پہلی میٹنگ منعقد ہوگی۔ اس میٹنگ میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی پالیسی اور انتخاب سے متعلق دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اگلے دن یعنی 17 ستمبر کو کانگریس مجلس عاملہ کی وسعت شدہ میٹنگ کے بعد کانگریس پارٹی شام کو ایک بڑی ریلی کرے گی جس میں تلنگانہ کے لیے 6 گارنٹیوں کا اعلان کیا جائے گا۔

یہ جانکاری کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے تلنگانہ کے حیدر آباد میں منعقد پریس کانفرنس میں دی۔ اس دوران ان کے ساتھ کانگریس محکمہ مواصلات کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش، تلنگانہ کانگریس انچارج مانک راؤ ٹھاکرے، تلنگانہ کانگریس صدر ریونت ریڈی، قانون ساز پارٹی کے لیڈر ملو بھٹی وکرمارک سمیت دیگر اہم کانگریس لیڈران بھی موجود تھے۔

کے سی وینوگوپال نے بتایا کہ نوتشکیل کانگریس مجلس عاملہ کی میٹنگ 16 ستمبر کو دوپہر ڈھائی بجے حیدر آباد میں ہوگی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے مجلس عاملہ کی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، سبھی سی ڈبلیو سی اراکین، مستقل مدعو اراکین اور خصوصی مدعو اراکین حصہ لیں گے۔ کانگریس کے چار وزرائے اعلیٰ سمیت 84 لوگ میٹنگ میں شامل ہوں گے، جبکہ 6 لوگ خراب صحت یا دیگر ذاتی وجوہات سے موجود نہیں رہیں گے۔ میٹنگ میں 5 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کی پالیسی اور انتخاب سے متعلق دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال ہوگا۔

کے سی وینوگوپال نے مزید جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ 17 ستمبر کی صبح 10.30 بجے کانگریس مجلس عاملہ کی وسیع شدہ میٹنگ ہوگی۔ وسعت شدہ مجلس عاملہ کی میٹنگ میں سی ڈبلیو سی اراکین، مستقل مدعو اراکین کے ساتھ ساتھ سبھی پی سی سی صدر، سی ایل پی لیڈر، پارلیمانی پارٹی کے عہدیدار، مرکزی انتخابی کمیٹی کے اراکین کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس کے بعد کانگریس پارٹی 17 ستمبر کی شام کو تکوڈا کے راجیو گاندھی احاطہ کے بڑے میدان میں منعقد ’وجئے بھیری‘ ریلی مین تلنگانہ کے لیے 6 گارنٹیوں کا اعلان کرے گی۔ ریلی کے بعد اراکین پارلیمنٹ پارلیمانی اجلاس میں شامل ہونے کے لیے دہلی پہنچیں گے، حالانکہ دیگر لیڈران، سی ڈبلیو سی اراکین، پی سی سی صدر، سی ایل پی لیڈر تلنگانہ کے سبھی اسمبلی حلقوں کا دورہ کریں گے۔ سبھی لیڈران و کارکنان میٹنگ کریں گے اور بی آر ایس حکومت کے خلاف سبھی انتخابی حلقوں میں مہم چلائی جائے گی۔

وینوگوپال نے بھروسہ ظاہر کیا کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ سمیت سبھی پانچ ریاستوں میں حکومت بنائے گی۔ انھوں نے کہا کہ سابقہ یو پی اے حکومت کے دوران سونیا گاندھی نے الگ تلنگانہ ریاست کا وعدہ پورا کیا تھا۔ لیکن وزیر اعلیٰ کے سی آر نے تلنگانہ کو بدعنوان ریاست میں بدل دیا ہے۔ تلنگانہ کی عوام بدعنوان بی آر ایس حکومت سے افسردہ ہے۔ مجلس عاملہ کی یہ میٹنگ انڈین نیشنل کانگریس اور ملک کی تاریخ میں ایک تاریخی میٹنگ ہونے جا رہی ہے۔

دوسری طرف جئے رام رمیش نے کہا کہ راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے بعد کرناٹک میں انتخاب ہوئے اور اکثریت حاصل کر کانگریس کی حکومت بنی۔ چار ماہ ہو گئے ہیں، لیکن بی جے پی نے ابھی تک کرناٹک میں اپنا حزب مخالف لیڈر تک مقرر نہیں کیا ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کی جیت کا اثر تلنگانہ میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت اور کے سی آر حکومت ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں۔ جب بھی پارلیمنٹ میں غیر جمہوری بل لائے گئے ہیں، بی آر ایس نے ہمیشہ مودی حکومت کا ساتھ دیا ہے۔

اروندر سنگھ لولی نے عہدہ سنبھالتے ہی سیاسی سرگرمیاں کیں تیز

0
اروندر-سنگھ-لولی-نے-عہدہ-سنبھالتے-ہی-سیاسی-سرگرمیاں-کیں-تیز

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروندر سنگھ لولی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ آج دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (DUSU) کے انتخابات کیلئے اروندر سنگھ لولی نے پانچ لوگوں پر مشتمل ایک رابطہ کمیٹی کا اعلان پردیش کانگریس دفتر راجیو بھون میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں سابق طلباء لیڈر انل بھاردواج، نیرج بسویا، کمل کانت شرما، امت ملک اور جے کرن چودھری اس کے رکن ہوں گے۔ یہ کمیٹی طلبہ یونین کے انتخابات میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کی دیکھ ریکھ کرے گی۔

اروندر نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں نیشنل اسٹوڈینٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے چاروں اُمیدواروں ہتیش گولیا (صدر)، ابھی دہیا (نائب صدر)، یکشنا شرما (سکریٹری) اور شبھم چودھری (جوائنٹ سکریٹری) کا تعارف کرایا۔

واضح رہے کہ جب سے لولی نے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے دہلی کانگریس میں زبردست جوش دیکھنے کو مل رہا ہے اور پارٹی زمینی سطح پر پوری طرح سے سرگرم ہو گئی ہے۔ طلبہ یونین کے انتخابات کے حوالے سے طلب کی گئی ہنگامی میٹنگ میں آج دہلی بھر سے کانگریس کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانگریس کے تمام کارکنوں نے حلف لیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں دہلی یونیورسٹی کے طلباء سے ملیں گے اور ان کی حمایت حاصل کریں گے اور تمام 280 بلاکس میں میٹنگیں منعقد کی جائیں گی۔ اروندر سنگھ نے آنے والے طلبہ یونین کے انتخابات میں چاروں اُمیدواروں کی جیت کے لیے کوشش کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ اکھل بھارتیہ ودیارتی پریشد (اے بی وی پی) نے دہلی یونیورسٹی کے طلباء کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہیں کیا۔ چاہے کیمپس کے ماحول کی بات ہو، خواتین کی حفاظت کا مسئلہ ہو۔ ہاسٹل سے متعلق بڑے مسائل کو دور کرنے میں اے بی وی پی پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے بی وی پی نے دہلی میں طلباء کے مفادات کے لیے کبھی کام نہیں کیا جس کو ہر کس و ناکس اچھی طرح جانتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں ایک بھی نیا کالج یا یونیورسٹی نہیں بنائی گئی جس کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ دہلی کانگریس صدر نے کہا کہ گرو گوبند سنگھ یونیورسٹی کے تحت بھی کوئی کالج نہیں بنایا گیا، جبکہ کانگریس کے دور حکومت میں 5 نئی یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔

میٹنگ میں نظامت کے فرائض کمیونکیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین انل بھاردواج نے ادا کیے۔ اہم شرکاء میں این ایس یو آئی کے قومی صدر نیرج کندن، دہلی حکومت کے سابق وزیر ہارون یوسف، منگت رام سنگھل، کرن والیا، جتیندر کمار کوچر، سابق ایم ایل اے جے کشن، سریندر کمار، بھیشم شرما، ویر سنگھ دھینگان، امرتا دھون، بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری زبیر احمد، جاوید مرزا کے علاوہ کثیر تعداد میں دہلی یونیورسٹی کے طلباء موجود تھے۔

مدھیہ پردیش میں گھوٹالوں، بدعنوانوں اور جھوٹوں کی حکومت: کمل ناتھ

0
مدھیہ-پردیش-میں-گھوٹالوں،-بدعنوانوں-اور-جھوٹوں-کی-حکومت:-کمل-ناتھ

مدھیہ پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس کی ریاستی یونٹ کے صدر کمل ناتھ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ کانگریس امیدوار سروے کی بنیاد پر ہی طے ہوں گے، پیراشوٹ والا کوئی امیدوار نہیں ہوگا۔ دراصل مدھیہ پردیش کے اشوک نگر ضلع میں پہنچے کمل ناتھ سے نامہ نگاروں نے کانگریس کی امیدواری کو لے کر سوال کیا تھا۔ جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’کوئی پیراشوٹ نہیں، جو دوسری پارٹیوں سے کانگریس میں آ رہے ہیں۔ جب تک مقامی تنظیم انھیں قبول نہیں کرتا، تب تک کوئی بھی نہیں آتا ہے۔‘‘

کمل ناتھ نے کہا کہ ابھی جنھوں نے جوائن کیا ہے، ان کے ساتھ اسٹیج پر ہماری مقامی تنظیم بھی بیٹھی تھی۔ مقامی تنظیم کو سب سے پہلے انھیں قبول کرنا ہے۔ ٹکٹ کوئی پیراشوٹ سے نہیں ملے گا۔ ٹکٹ کے لیے ہم نے سروے کرایا ہے۔ ابھی کانگریس کمیٹی نے سروے کرایا ہے، اور اسی کے مطابق ٹکٹ دیے جائیں گے۔

ریاست کی موجودہ حالت کا تذکرہ کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا کہ ’’ریاست کی تصویر ہمارے سامنے ہے، زیادہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ بدعنوانی کی کیا حد ہے۔ آج بدعنوانی کا کیا حال ہے، گھوٹالے کا کیا ریکارڈ ہے، یہ سبھی کو معلوم ہے۔ یہ گھوٹالوں کی حکومت ہے، بدعنوانوں کی حکومت ہے۔ آج مدھیہ پردیش میں جھوٹوں کی حکومت چل رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ عوام یہ باتیں سمجھ چکی ہے اور برسراقتدار لوگوں کو پہچان بھی لیا ہے۔ آج مدھیہ پردیش کا ہر طبقہ پریشان ہے، چاہے وہ نوجوان ہوں، کسانوں ہوں، یا پھر چھوٹے کاروباری ہوں۔ اسپتالوں کی بات کی جائے تو وہاں ڈاکٹر نہیں، اسکول میں ٹیچر نہیں، بجلی کے کھمبوں میں کہیں تار نہیں، اور جہاں تار ہیں وہاں تار میں بجلی نہیں۔

کمل ناتھ نے وزیر اعظم مودی کے مدھیہ پردیش دورہ کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی بینا آئے تھے اور انڈیا اتحاد پر سناتن مذہب کو لے کر حملہ بولا، لیکن سناتن مذہب کو تو ہم سبھی مانتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنا ملک سناتن مذہب کا بھی ملک ہے، لیکن یہاں کئی دیگر مذاہب بھی ہیں، اور سناتن مذہب یہ تعلیم نہیں دیتا کہ دوسرے مذہب کو دور رکھا جائے۔

ریاستی حکومت کے ذریعہ لگاتار کیے جا رہے اعلانات کو لے کر کمل ناتھ سے جب سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ ماہ سے شیوراج سنگھ چوہان نے اعلانات کرنے شروع کیے ہیں اور اب اعلانات کی مشین ڈبل اسپیڈ میں چل رہی ہے۔ ان کی جھوٹ کی مشین بھی ڈبل اسپیڈ سے چل رہی ہے۔ 18 سال بعد انھیں بہنیں یاد آئی ہیں، 18 سال بعد انھیں ملازمین یاد آئے ہیں، 18 سال بعد انھیں نوجوان یاد آئے ہیں۔ آج مدھیہ پردیش پر 3 لاکھ 30 کروڑ روپے کا قرض ہے۔ اس قرض کا کیا استعمال کیا انھوں نے۔ انھوں نے بڑے بڑے ٹھیکے دیے اور ایڈوانس لے کر انھوں نے اپنا کمیشن نکالا، لیکن اس 3 لاکھ 30 کروڑ کا جو قرض لیا ہے، کیا اس سے ہمارے آؤٹ سورس والوں کو فائدہ ہوا؟ کیا ہمارے کانٹریکٹ والے ملازمین کو فائدہ ہوا؟ کیا ہماری آشا بہنوں کا فائدہ ہوا؟ یہ جو کلچر شیوراج سنگھ چوہان نے شروع کیا ہے وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔

انتخابی ریاستوں کو ملنے والی ہے 9 وندے بھارت ٹرینوں کی سوغات!

0
انتخابی-ریاستوں-کو-ملنے-والی-ہے-9-وندے-بھارت-ٹرینوں-کی-سوغات!

کچھ ریاستوں میں رواں سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، اور کچھ ریاستوں میں آئندہ سال کے شروع میں۔ ایسے میں امید کی جا رہی ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے کچھ ریاستوں کے لیے انتخابی سوغات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ انتخابی ریاستوں کے لیے 9 وندے بھارت ٹرینیں بن کر تیار ہیں اور جلد ہی ان کے افتتاح کی تاریخی سامنے آ سکتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان وندے بھارت ٹرینوں کی سوغات انتخابی ریاست مدھیہ پردیش اور راجستھان کے علاوہ اڈیشہ کو بھی مل سکتی ہے۔ ریلوے ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ وندے بھارت ٹرین بنانے والی چنئی کی انٹیگرل کوچ فیکٹری میں کم از کم 9 ٹرینیں بن کر تیار ہیں۔ ان 9 ٹرینوں میں سب سے زیادہ تین ٹرینیں جنوبی ریلوے کو الاٹ کی گئی ہیں۔ تین وندے بھارت ٹرینیں پہلے سے ہی اس زون میں چل رہی ہیں۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ تیار 9 وندے بھارت ٹرینوں کے افتتاح کی تاریخوں سے متعلق ریلوے ابھی غور کر رہا ہے۔ وزارت ریل ایک بڑے انعقاد کی تیاری کر رہا ہے۔ اس میں وزیر اعظم بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ ریلوے ایک عظیم الشان تقریب کے ذریعہ سبھی ٹرینوں کو ایک ساتھ شروع کر سکتا ہے۔

ریلوے نے بھلے ہی ابھی نئی وندے بھارت ٹرینوں کے روٹ سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو ٹرینیں جئے پور-اندور اور جئے پور-اودے پور کے لیے مختص کی جا سکتی ہیں۔ جئے پور-اندور وندے بھارت ٹرین کے بارے میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ نیمچ کے راستے ہو کر گزرے گی۔ ان دونوں روٹ کو وندے بھارت ٹرینیں ملنے کی امید اس لیے بھی ہے کیونکہ ان دونوں ریاستوں میں رواں سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہی مرکزی وزیر ریل اشونی ویشنو نے اودے پور، نیمچ اور اندور کے ریلوے اسٹیشنوں کا دورہ بھی کیا تھا۔

مذکورہ بالا روٹ کے علاوہ ایسٹ کوسٹ ریلوے کو الاٹ ایک ٹرین اڈیشہ کے پوری اور راؤرکیلا میں چلنے کا امکان ہے۔ اڈیشہ کی پہلی وندے بھارت ٹرین کے افتتاح کے دوران ہی وزیر ریل اشونی ویشنو نے کہا تھا کہ جلد ہی ایک ٹرین راؤرکیلا کو بھی ملے گی۔ اڈیشہ میں بھی 2024 میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت اڈیشہ کو اس ٹرین کی سوغات دینے جا رہی ہے تو اس میں کوئی حیرانی نہیں۔ ایسٹ سنٹرل ریلوے کو سونپی گئی ٹرینوں میں سے ایک ٹرین پٹنہ-ہوڑہ روٹ کے درمیان چلائی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں اس روٹ پر ٹرائل جامتاڑا اور آسنسول میں اسٹاپیج کے ساتھ کیا گیا ہے۔

مہادیو ایپ: 39 ٹھکانوں پر ای ڈی کی چھاپہ ماری، 417 کروڑ روپے ضبط، رڈار پر بالی ووڈ کی 14 ہستیاں

0
مہادیو-ایپ:-39-ٹھکانوں-پر-ای-ڈی-کی-چھاپہ-ماری،-417-کروڑ-روپے-ضبط،-رڈار-پر-بالی-ووڈ-کی-14-ہستیاں

مہادیو ایپ سے جڑے منی لانڈرنگ نیٹورک کے معاملے میں ای ڈی نے مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال، مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی اور مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں چھاپہ ماری کا عمل انجام دیا ہے۔ مجموعی طور پر ای ڈی نے 39 ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی جس میں گولڈ کوائن و زیورات کے ساتھ ساتھ 417 کروڑ روپے بھی ضبط کیے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلاشی کے دوران ای ڈی افسران کو بڑی تعداد میں منی لانڈرنگ سے متعلق کاغذات اور ثبوت ملے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چھاپہ ماری کے دوران حاصل کاغذات میں 14 بالی ووڈ ہستیوں کے نام بھی ملے ہیں۔ اس کے بعد ٹائیگر شراف، سنی لیون، نیہا ککڑ، بھارتی سنگھ، نصرت بھروچا، وشال ڈڈلانی جیسے بالی ووڈ ستارے آن لائن سٹہ بازی ایپ کے ذریعہ دھوکہ دہی کے معاملے میں ای ڈی کی رڈار پر آ گئے ہیں۔

ای ڈی ذرائع کے مطابق مہادیو بک ایپ کے مالک سوربھ چندراکر کی شادی فروری میں متحدہ عرب امارات واقع دبئی میں ہوئی تھی۔ اس میں بالی ووڈ کے گلوکار اور اداکار کو پرفارم کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ ای ڈی کے ہاتھ ہی ویڈیو لگی ہے۔ ای ڈی افسران کا کہنا ہے کہ حوالہ کے ذریعہ تقریباً 200 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ ای ڈی کے ہاتھ کچھ سنسنی خیز جانکاریاں بھی لگی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ’مہادیو بیٹنگ ایپ‘ کمپنی کے مالک کا نام روی اُپل، سوربھ چندراکر ہے۔ ای ڈی ان کی تلاش کر رہی ہے۔ جیسے جیسے اس آن لائن دھوکہ دہی گینگ کو لے کر جانچ آگے بڑھتی جا رہی ہے، بالی ووڈ کنکشن اور بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

ای ڈی کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ افسران جلد ہی اس معاملے کی تحقیقات کریں گے اور اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ یہ بالی ووڈ ستارے اس دھوکہ دہی سے کس طرح سے جڑے ہوئے تھے۔ ای ڈی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے آن لائن سٹہ بازی ایپس کے ذریعہ بازار سے پیسے نکالے ہیں۔ اس کے ذریعہ کئی مشہور ہستیوں اور سرکاری افسران تک پیسہ گیا ہے۔ اس معاملے میں ای ڈی افسران حوالہ کاروبار سے بھی کنکشن دیکھ رہے ہیں۔ یوگیش پوپٹ نام کے شخص کا بھی نام سامنے آیا ہے اور تلاشی کے دوران افسران کو گووندا کیڈیا نامی شخص کے گھر سے 18 لاکھ روپے نقد، 13 کروڑ روپے کے سونے اور چاندی کے زیورات برآمد ہوئے۔

بہرحال، جو 14 بالی ووڈ ہستیاں ای ڈی کی رڈار پر آ گئی ہیں، ان کے نام ہیں راحت فتح علی خان، علی اصغر، وشال ڈڈلانی، عاطف اسلم، بھارتی سنگھ، سنی لیون، ٹائیگر شراف، نیہا ککڑ، ایلی اورام، بھاگیہ شری، کرشنا ابھشیک، پلکت سمراٹ، کیرتی کھربندا، نصرت بھروچا۔

دہلی یونیورسٹی طلبا یونین انتخاب: این ایس یو آئی نے امیدواروں کا کیا اعلان

0
دہلی-یونیورسٹی-طلبا-یونین-انتخاب:-این-ایس-یو-آئی-نے-امیدواروں-کا-کیا-اعلان

دہلی یونیورسٹی طلبا یونین (ڈوسو) انتخاب کے لیے کانگریس کی طلبا تنظیم این ایس یو آئی نے اپنے سبھی امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ این ایس یو آئی کی طرف سے صدر عہدہ کے لیے ہتیش گولیا، نائب صدر کے لیے ابھی دہیا، سکریٹری کے لیے یکشنا شرما اور جوائنٹ سکریٹری عہدہ کے لیے شبھم چودھری انتخاب لڑیں گے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ این ایس یو آئی کے امیدواروں کی فہرست سامنے آنے کے بعد اے بی وی پی بھی جلد ہی اپنے امیدواروں کی آخری فہرست جاری کر دے گا۔

اس مرتبہ مختلف طلبا تنظیموں اور آزاد امیدوار ملا کر مجموعی طور پر 97 امیدواروں نے نامزدگی کا پرچہ داخل کیا ہے۔ ابھی تک ڈوسو صدر اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدہ کے لیے ایک ایک امیدوار کی نامزدگی رد کر دی گئی ہے۔ نامزدگی پرچہ کی چھنٹنی کے بعد کچھ امیدوار اپنا نام بھی واپس لیں گے۔ حالانکہ دہلی یونیورسٹی طلبا یونین انتخاب میں این ایس یو آئی اور اے بی وی پی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے۔

واضح رہے کہ دہلی یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا یونین انتخاب کی تاریخوں کا اعلان پہلے ہی کر دیا ہے۔ اس کے مطابق 22 ستمبر کو انتخاب کی تاریخ مقرر ہے۔ اس سے قبل یونیورسٹی میں طلبا یونین انتخاب 2019 میں کروائے گئے تھے۔ کورونا وبا کے سبب طویل مدت تک تعلیمی ادارے بند رہے۔ بیشتر کلاس آن لائن ہی ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ 2019 کے بعد اب 2023 میں طلبا یونین انتخاب ہونے جا رہے ہیں۔

این ایس یو آئی اور اے بی وی پی سمیت مختلف طلبا تنظیموں اور طلبا نے اسے دیرینہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ اس درمیان انتخابی تاریخوں کا نوٹفیکیشن جاری ہوتے ہی دہلی یونیورسٹی میں مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ طلبا یونین انتخاب میں لنگدوہ کمیٹی اور سپریم کورٹ کی سفارشات پر عمل یقینی کروایا جائے گا۔

دوسری طرف طلبا انتخاب کا اعلان ہونے کے بعد دہلی یونیورسٹی کی مختلف طلبا تنظیموں نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ انتخاب کو لے کر سبھی طلبا تنظیمیں اپنی اپنی انتخابی پالیسی بنا رہی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے مطابق طلبا یونین انتخاب کے لیے نامزدگی درج کرانے کے بعد نامزدگی پرچہ کی اسکروٹنی کی جائے گی۔ اسکروٹنی میں جن امیدواروں کی نامزدگی درست پائی جائے گی وہ امیدوار انتخاب لڑ سکیں گے۔

’ناصر-جنید کی گاڑی کے نمبر گئو رکشکوں کے گروپ میں شیئر کیے گئے تھے‘، مونو مانیسر کا انکشاف

0
’ناصر-جنید-کی-گاڑی-کے-نمبر-گئو-رکشکوں-کے-گروپ-میں-شیئر-کیے-گئے-تھے‘،-مونو-مانیسر-کا-انکشاف

جنید اور ناصر قتل معاملے میں گرفتار ملزم مونو مانیسر فی الحال پولیس ریمانڈ پر ہے اور اس سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ سامنے آ رہی خبروں کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران مونو مانیسر نے پولیس کے سامنے کچھ اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ مانیسر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گئورکشکوں نے ناصر اور جنید کے قتل سے ایک ہفتہ پہلے ہی اسے دونوں کے بارے میں جانکاری دی تھی۔ ساتھ ہی دونوں کی گاڑی کا نمبر اور موبائل نمبر گئو رکشکوں کے گروپ میں شیئر کیے جانے کی بات بھی مونو مانیسر نے قبول کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جنید اور ناصر کی بولیرو کار میں گائے نہیں تھی، دونوں کو سبق سکھانے کے لیے اس نے 8 دن پہلے ہی قتل کا پورا منصوبہ تیار کیا تھا۔

اس معاملے میں انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق ناصر اور جنید کے قتل سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ناصر اور جنید کی گاڑی اور موبائل کا نمبر گئو رکشکوں کے گروپ میں شیئر کیا گیا۔ اس کے بعد دونوں کو مارنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ جنید-ناصر قتل معاملہ کے ملزم مونو مانیسر کو پولیس نے گزشتہ منگل کو ہریانہ کے مانیسر سے گرفتار کیا تھا۔ ہریانہ پولیس نے گرفتاری کے بعد اسے راجستھان پولیس کے حوالے کر دیا جس کے بعد اسے پولیس ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔ پولیس کے ذریعہ پوچھ تاچھ کے دوران مانیسر نے بتایا کہ جنید اور ناصر کو سبق سکھانے کے مقصد سے اغوا اور قتل کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد وہ ملک سے فرار ہو گیا تھا۔ مانیسر نے بتایا کہ یہ پہلے ہی طے ہو چکا تھا کہ جنید اور ناصر کو کب اور کہاں سے اٹھانا ہے اور اس کے لیے وہ حادثہ سے دو تین دن پہلے ہی راجستھان سرحد کے پاس حالات کی جانچ کر چکا تھا۔

غریب ترین 20 فیصد آبادی کمر توڑ مہنگائی کی مار برداشت کر رہی: ملکارجن کھڑگے

0
غریب-ترین-20-فیصد-آبادی-کمر-توڑ-مہنگائی-کی-مار-برداشت-کر-رہی:-ملکارجن-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کو مہنگائی کے مسئلہ پر بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت پر طنز کیا اور کہا کہ غریب ترین 20 فیصد آبادی کمر توڑ مہنگائی کی مار برداشت کر رہی ہے۔ ایکس پر ہندی میں کی گئی پوسٹ میں کانگریس صدر نے کہا، ’’مودی جی، ادھر ادھر کی باتیں کر کے عوام کی توجہ ‘مہنگائی کی لوٹ مار’ سے ہٹانا چاہتے ہیں!

انہوں نے کہا، ’’مودی حکومت کی لوٹ مار کی وجہ سے کمر توڑ مہنگائی کا سب سے زیادہ خمیازہ 20 فیصد غریب ترین لوگوں کو برداشت کرنا پڑا رہا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ملک کو اب احساس ہو گیا ہے کہ ان کی پریشانیوں کی واحد وجہ بی جے پی ہی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں عوام بی جے پی کو سبق سکھا کر اس لوٹ کا بدلہ ضرور لیں گے۔ کانگریس لیڈر نے کہا، ’’مہنگائی کے معاملے پر – جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا!” اس نے اپنے دعوؤں کی تائید کے لیے سی آر آئی ایس آئی ایل کی تحقیقی رپورٹ اور اگست کے لیے خوردہ افراط زر کے اعداد و شمار کے ساتھ گرافکس کا بھی اشتراک کیا۔