ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 116

سی ڈبلیو سی اجلاس: 2024 میں بی جے پی کی شکست مہاتما گاندھی کو سچی خراج عقیدت ہوگی، کھڑگے

0
سی-ڈبلیو-سی-اجلاس:-2024-میں-بی-جے-پی-کی-شکست-مہاتما-گاندھی-کو-سچی-خراج-عقیدت-ہوگی،-کھڑگے

حیدرآباد: کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ کے آخری دن کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کئی اہم مسائل پر بات کی۔ حیدرآباد میں جاری اجلاس کے دوران کانگریس صدر نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے۔ حیدرآباد کو آج کے دن 1948 میں آزادی ملی تھی۔ کانگریس نے ایک طویل جنگ لڑی۔ نہرو جی اور سردار پٹیل صاحب نے حیدرآباد کو آزاد کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک حیدرآباد میں ہونے والے اس اجلاس کے پیغام کا انتظار کر رہا ہے۔ ہمارا آج کا ایجنڈا ریاستی اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی تیاری ہے۔

کانگریس صدر نے کہا ’’ہم مستقبل کے چیلنجوں سے واقف ہیں۔ یہ چیلنجز دراصل ہندوستانی جمہوریت کے چیلنجز ہیں۔ ملک کے آئین کو بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔ ایس سی، ایس ٹی او بی سی، خواتین، غریبوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ایک چیلنج ہے۔‘‘ آنے والے انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ اگلے 2 سے 3 ماہ میں 5 ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں صرف 6 ماہ رہ گئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات بھی ہو سکتے ہیں، ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ’’چھتیس گڑھ اور راجستھان میں ہماری ریاستی حکومتوں نے سماجی انصاف کا ایک نیا ماڈل پیش کیا ہے۔ ہمیں اس بارے میں پورے ملک کو بتانا ہوگا۔ کانگریس نے انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پچھلے 2 مہینوں میں ہم نے 20 ریاستوں کے عہدیداروں اور سرکردہ لیڈروں کے ساتھ تفصیلی میٹنگ کی اور حکمت عملی تیار کی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہمیں ووٹرز سے مسلسل رابطے میں رہنا ہوگا۔ ان کے سوالوں کا جواب دینا ہے۔ ہمیں اپنے مخالفین کی طرف سے پھیلائے جانے والے جھوٹ کا فوری مقابلہ کرنا ہوگا۔ آپ کو مسائل اور حقائق کی بنیاد پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی طاقت دکھانی ہوگی۔ اس آمرانہ حکومت کو ہٹا کر ہندوستان کی جمہوریت کو بچانا ہوگا۔ کھڑگے نے کہا کہ ملک تبدیلی چاہتا ہے، یہ اشارہ ہمارے سامنے ہے۔ کرناٹک کے حالیہ انتخابات اور اس سے پہلے ہماچل پردیش میں ہماری جیت اس کا ثبوت ہے۔

ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شریک قائدین سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ یہ آرام سے بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ دن رات محنت کرنی پڑے گی۔ ہم کرناٹک میں متحد رہے جس کا نتیجہ سب نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ہماری ریاستی حکومتیں ہیں، ان کے اچھے کاموں کی تشہیر کرنی ہوگی۔ ہمیں یہ بھی بتانا ہے کہ مرکزی حکومت ہماری حکومتوں کی ترقی میں کیسے رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔ جہاں ہم اپوزیشن میں ہیں وہاں ہمیں حکمران جماعت کی کوتاہیوں اور عوام دشمن پالیسیوں کو اجاگر کرنا ہوگا۔

کانگریس صدر نے مزید کہا ‘‘مودی حکومت نئے مسائل لا کر عوام کو ان کے بنیادی مسائل سے ہٹانے کی سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت کی بنیاد کانگریس نے رکھی ہے۔ اس لیے ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی کانگریس پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں آخری سانس تک لڑنا پڑے گا۔ 2024 مہاتما گاندھی کی کانگریس صدر بننے کی صد سالہ سالگرہ ہے۔ 2023 کانگریس سیوا دل کی صد سالہ ہے۔ 2024 میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا مہاتما گاندھی کو حقیقی خراج عقیدت ہوگا۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ 1953 میں حیدرآباد میں کانگریس کی جنرل کانفرنس میں پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا، ’’ہمیں ہمیشہ پورے ملک کے بارے میں سوچنا ہے اور اس بڑے مقصد کے لیے ہر کام کرنا ہے لیکن ہم ایک پارٹی کے رکن ہیں اور ہمیں نظم و ضبط کا وہ احساس ہونا چاہیے جو کسی بھی پارٹی کے لیے ضروری ہے۔‘‘

پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس سے ایک روز قبل پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر قومی پرچم لہرایا گیا

0
پارلیمنٹ-کے-آئندہ-اجلاس-سے-ایک-روز-قبل-پارلیمنٹ-کی-نئی-عمارت-پر-قومی-پرچم-لہرایا-گیا

نئی دہلی: نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکڑنے آج پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں قومی پرچم لہرایا۔ کل سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس سے ایک روز قبل نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے صحن کے گیٹ پر قومی پرچم لہرایا گیا۔لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

مرکزی وزیر برائے صنعت و تجارت و امور صارفین پیوش گوئل، پارلیمانی امور اور کوئلہ اور کانوں کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش ، پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال اور مسٹر وی مرلی دھرن اس موقع پر راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔

اس موقع پر نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکڑ اور لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے پارلیمنٹ ڈیوٹی گروپ کی طرف سے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ دھنکڑ اور مسٹر برلا نے سیکورٹی اہلکاروں کو پھلوں کی ٹوکریاں دے کر انہیں اعزاز سے نوازا۔

ہماچل میں آفت زدگان کے لیے وزیر اعلیٰ سکھو کا امدادی قدم

0
ہماچل-میں-آفت-زدگان-کے-لیے-وزیر-اعلیٰ-سکھو-کا-امدادی-قدم

شملہ: ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے ریاست میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آفت سے متاثرہ افراد کو مفت ایل پی جی کٹس اور راشن دیا جائے گا۔ مفت ایل پی جی کٹ میں دیگر چیزوں کے علاوہ ایک ایل پی جی سلنڈر، پریشر ریگولیٹر اور ایک ہاٹ پلیٹ شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آفت سے متاثرہ خاندانوں تک بنیادی خوراک کی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مفت راشن کی فراہمی کو 31 مارچ 2024 تک بڑھا دیا جائے گا۔

اس آفت سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ ایسے میں بے گھر خاندانوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ایک اور امدادی قدم اٹھایا ہے۔ حکومت ان لوگوں کو مالی امداد فراہم کرے گی جو کیمپوں سے نکل کر کرائے کے مکانوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ سی ایم سکھو نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں کے لیے بالترتیب5000 روپے اور 10000 روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا عمل شروع کی گئی ہیں۔

وزیر اعلی ہماچل آفت کو قومی آفت قرار دینے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔ سی ایم سکھو نے کہا کہ وہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پی ایم مودی کو لکھے اپنے خط میں آفت سے متاثرہ ریاست کی پرزور وکالت کی۔ ہماچل پردیش میں شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی کو 2013 کے کیدارناتھ سانحہ کی طرح قومی آفت قرار دینے کے لیے پی ایم مودی سے اپیل کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

ہماچل پردیش میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے تقریباً 12000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ سیلاب، بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے تقریباً 13000 مکانات کو نقصان پہنچا، قومی شاہراہوں اور سڑکوں پر نقل و حرکت متاثر ہوئی اور سرکاری و نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آفت کی وجہ سے کسانوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے کیونکہ ریاست میں زرعی اراضی کا بڑا حصہ زیر آب آ گیا ہے۔

میکسیکو کی کانگریس میں خلائی مخلوق کی طرح دکھنے والی لاشوں کی نمائش، دنیا بھر کے لوگ تجسس میں مبتلا

0
میکسیکو-کی-کانگریس-میں-خلائی-مخلوق-کی-طرح-دکھنے-والی-لاشوں-کی-نمائش،-دنیا-بھر-کے-لوگ-تجسس-میں-مبتلا

میکسکو سٹی: میکسیکو کی گانگریس میں حال ہی میں خلائی مخلوق کی طرح نظر آنے والی دو لاشوں کی نمائش کی گئی جس سے دنیا بھر کے لوگ حران و ششدر رہ گئے۔ ماہرین کی جانب سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ لاشیں ہزاروں سال پرانی ہیں جنہیں پیرو کے شہر کوسکو سے دریافت کیا گیا ہے۔ نمائش کے دوران سائنسدان اور امریکن فار سیف ایرو اسپیس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور امریکی بحریہ میں سابق پائلٹ ریان گریوز بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صحافی جیمی موسسان نے امریکی حکام اور میکسیکو کے حکومتی اراکین کو کچھ ویڈیوز دکھائیں جس میں اجنبی لاشیں ملنے کا بھی انکشاف کیا گیا۔ انہوں نے گانگریس میں حلف لیتے ہوئے کہا کہ یہ لاشیں ہمارے زمینی ارتقا سے تعلق نہیں رکھتیں، یہ یو ایف او کے ملبے سے نہیں ملیں بلکہ قدیم سرنگوں سے دریافت ہوئی ہیں۔

برطانوی میڈیا ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق یوولوجسٹ نے ایسے دعوے کیے ہیں جو ابھی تک درست ثابت نہیں ہوئے، یہ بات قابل غور ہے کہ ماضی میں دریافتوں کے بارے میں ان کے کچھ پچھلے دعوے بعد میں غلط ثابت ہوئے تھے۔ جیمی موسسان نے مزید بتایا کہ میکسیکو کی خود مختار نیشنل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان مبینہ لاشوں پر ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے ڈی این اے کا تجزیہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میکسیکن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان لاشوں کے ڈی این اے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ابھی تک معمہ ہے۔ سماعت کے دوران مبینہ لاشوں کے ایکسرے بھی پیش کیے گئے، ماہرین نے دعویٰ کیا کہ لاشوں میں سے ایک میں ’انڈے‘ موجود تھے، اس کا مطلب مبینہ طور پر اس اجنبی مخلوق میں جنم دینے کی صلاحیت ہے۔

اس کے علاوہ مبینہ طور پر ان لاشوں میں انتہائی غیر معمولی دھاتوں سے بنے امپلانٹس پائے گئے تھے، جیسا کہ اوسمیم جو ایک قسم کی نیلی سفید دھات ہے جو فاؤنٹین پین، سوئیاں اور الیکٹرک جیسی اشیاء کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ اس مبینہ دریافت کے بعد دنیا بھر کے لوگ تجسس میں مبتلا ہوگئے ہیں اور زمین سے باہر کی زندگی کے حوالے سے انسانی معلومات اور سمجھ سے معتلق کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

منموہن حکومت میں پیش ’خاتون ریزرویشن بل‘ آج بھی زندہ، اسے خصوصی اجلاس میں منظور کیا جائے: کانگریس

0
منموہن-حکومت-میں-پیش-’خاتون-ریزرویشن-بل‘-آج-بھی-زندہ،-اسے-خصوصی-اجلاس-میں-منظور-کیا-جائے:-کانگریس

حیدرآباد: کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ایک قرارداد منظور کر کے مرکز کی مودی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خاتون ریزرویشن بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرائے۔ پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو سی ڈبلیو سی اجلاس کے دوران منظور کی گئی قرارداد پر معلومات دیتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کی حکومت میں جو بل پیش کیا گیا تھا وہ آج تک زندہ ہے، مودی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ پالیمنٹ کے آئندہ اجلاس کے دوران اسے منظور کرائے۔

حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران پون کھیڑا نے کہا کہ سال 1989 میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کو یقینی بنایا تھا۔ اس کے بعد کانگریس کی حکومتوں نے لگاتار کوشش کی کہ خواتین ریزرویشن کے لیے قانون سازی کی جائے۔ یہ بل کبھی راجیہ سبھا میں تو کبھی لوک سبھا میں منظور ہوا لیکن دونوں ایوان سے ایک ساتھ منظور نہیں کیا گیا۔

پھر یہ بل منموہن سنگھ کی حکومت میں آیا جو آج تک زندہ ہے۔سی ڈبلیو سی میٹنگ میں منظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خواتین کے ریزرویشن بل کو آئندہ خصوصی اجلاس میں منظور کیا جائے۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے بھی اس سلسلے میں وزیر اعظم کو خط بھی لکھا تھا۔

دریں اثنا، ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پون کھیڑا نے ذات پر مبنی ریزرویشن کی بھی حمایت کی اور کہا کہ اگر یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ کس ذات کی کتنی آبادی ہے تو لوگوں کو منصفانہ ریزرویشن کس طرح فراہم کیا جا سکتا ہے۔ پون کھیڑا نے کہا ’’راہل گاندھی کی کولار میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ریزرویشن کو لوگوں کی آبادی کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہئے۔ حکومت ذات پر مبنی ریزرویشن سے کیوں شرما رہی ہے؟‘‘

وزیر اعظم مودی کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر نائب صدر دھنکھڑ اور راہل گاندھی سمیت اہم شخصیات کی مبارکباد

0
وزیر-اعظم-مودی-کی-73ویں-سالگرہ-کے-موقع-پر-نائب-صدر-دھنکھڑ-اور-راہل-گاندھی-سمیت-اہم-شخصیات-کی-مبارکباد

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی سمیت متعدد اہم شخصیات نے مبارکباد پیش کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ملک کے 14ویں وزیر اعظم نریندر 17 ستمبر 1950 کو مہسانہ ضلع کے وڈنگر میں پیدا ہوئے تھے۔

اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ’’بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو یوم پیدائش کی دلی مبارکباد۔ آپ کی دوراندیش قیادت، جذبہ سخاوت اور مثالی نفاذ نے بھارت کو بے مثال ترقی اور عہد کی تبدیلی کی طرف گامزن کیا ہے۔ آپ کی میراث ہمارے ملک کی تاریخ میں کندہ ہے۔ ایشور آپ کو اچھی صحت اور خوشیاں عطا کرے تاکہ آپ آنے والے سالوں میں ہندوستان کی خدمت کرتے رہیں۔‘‘

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دی اور ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد۔‘‘ وزیر اعظم مودی کی سالگرہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مختلف طریقوں سے منا رہی ہے۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دی۔ اتوار کو اپنے ٹویٹ میں نتیش کمار نے کہا، ’’وزیراعظم نریندر مودی کو ان کی سالگرہ پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔‘‘ میں اس کی صحت مند اور لمبی زندگی کی خواہش کرتا ہوں۔”

دریں اثنا، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) وی کے سکسینہ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دی۔ کیجریوال نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’’وزیراعظم نریندر مودی کو سالگرہ مبارک۔ میں آپ کی اچھی صحت اور لمبی عمر کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میدیا پر لکھا، ’’ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد اور نیک خواہشات، جنہوں نے ہندوستان کو عالمی سطح پر عزت بخشی۔ ایشور آپ کو بہتر صحت اور لمبی عمر عطا کرے تاکہ قوم آپ کی رہنمائی سے مستفید ہوتی رہے۔‘‘

وادی کشمیر: کوکر ناگ میں جاری انکاؤنٹر پانچویں روز میں داخل، سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع

0
وادی-کشمیر:-کوکر-ناگ-میں-جاری-انکاؤنٹر-پانچویں-روز-میں-داخل،-سرچ-آپریشن-کا-دائرہ-مزید-وسیع

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ کے جنگل علاقے میں اتوار کو مسلسل پانچویں روز بھی سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی صبح تصادم کی جگہ متعدد آئی ای ڈی دھماکے ہوئے جس وجہ سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے کمین گاہ کو پوری طرح سے تباہ کیا۔ پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تصادم آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گڈول کوکر ناگ میں پانچویں روز بھی سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنگلی علاقے میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ کمین گاہ کو مارٹر شیلوں سے تباہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ یہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے لہذا آپریشن میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون کے کیمرا کے ذریعے تصادم کی جگہ تین لاشوں کو دیکھا گیا ہے تاہم سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہاں پر مزید ملی ٹینٹ موجود ہیں۔

بتادیں کہ سیکورٹی فورسز نے بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔

دریں اثنا پولیس سربراہ دلباغ سنگھ، اے ڈی جی پی وجے کمار ، کور کمانڈر کوکر ناگ میں خیمہ زن ہیں اور وہ آپریشن کی از خود نگرانی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس فوج اور پولیس کے سینئر آفیسران گراونڈ پر موجود سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہدایات دے رہے ہیں۔

منی پور تشدد: چوراچاندپور سے ہتھیاروں کا ذخیرہ برآمد

0
منی-پور-تشدد:-چوراچاندپور-سے-ہتھیاروں-کا-ذخیرہ-برآمد

امپھال: مرکزی اور ریاستی سیکورٹی فورسز کی ایک مشترکہ ٹیم نے ہفتہ کو منی پور کے چورا چند پور ضلع کے کھوڈانگ گاؤں میں 15 ہتھیار برآمد کیے، جن میں 14 جدید ترین مارٹر، ایک سنگل بیرل بندوق اور دیگر جنگی اسٹورز شامل ہیں۔

منی پور، ناگالینڈ اور جنوبی اروناچل پردیش کے دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل امت شکلا نے بتایا کہ فوج، آسام رائفلز، دیگر مرکزی فورسز اور منی پور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے مخصوص خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع چورا چند پور کے گاؤں کھوڈانگ میں آپریشن شروع کیا اور اسلحہ و جنگی مواد برآمد کیا۔

تھوبل ضلع میں اسی طرح کی کارروائی میں، آسام رائفلز اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کواروک مارنگ میں تلاشی آپریشن کیا اور ایک 9 ایم ایم کاربائن اور دیگر جنگی مواد برآمد کیا۔ برآمد شدہ اسلحہ اور گولہ بارود مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ منی پور میں نسلی تشدد سب سے پہلے 3 مئی کو اس وقت شروع ہوا تھا جب میتئی برادری کو شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) میں شامل کرنے کے کے خلاف پہاڑی اضلاع میں ‘قبائلی یکجہتی مارچ’ نکالا گیا تھا۔ تشدد میں اب تک 150 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ میتئی کمیونٹی منی پور کی آبادی کا تقریباً 53 فیصد ہے اور وہ زیادہ تر وادی امپھال میں رہتے ہیں۔ کوکی اور ناگا برادریوں کی آبادی 40 فیصد سے زیادہ ہے، یہ لوگ پہاڑی اضلاع میں رہتے ہیں۔

خاتون پہلوانوں کی ہراسانی کا معاملہ: دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا، ‘نگرانی کمیٹی نے برج بھوشن کو الزامات سے بری نہیں کیا‘

0
خاتون-پہلوانوں-کی-ہراسانی-کا-معاملہ:-دہلی-پولیس-نے-عدالت-کو-بتایا،-‘نگرانی-کمیٹی-نے-برج-بھوشن-کو-الزامات-سے-بری-نہیں-کیا‘

نئی دہلی: سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف درج کیے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہفتہ کو یہاں ایک عدالت کو بتایا کہ الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی نگرانی کمیٹی نے انہیں بری نہیں کیا ہے۔

ہفتہ کو برج بھوشن اور ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر دونوں عدالت میں موجود تھے۔ پولیس نے راؤز ایونیو کورٹ کے ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ (اے سی ایم ایم) ہرجیت سنگھ جسپال کے سامنے یہ دلیل پیش کی۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اتل سریواستو نے عدالت کو بتایا، ’’نگرانی کمیٹی نے برج بھوشن سنگھ کو الزامات سے بری نہیں کیا ہے۔ کمیٹی نے سفارشات دی تھیں، فیصلہ نہیں۔ کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ یہ الزامات مصدقہ نہیں ہیں یا جھوٹے ہیں۔‘‘

انہوں نے عدالت سے سنگھ کے خلاف الزامات طے کرنے کی بھی درخواست کی اور کہا کہ محض ایک اشارہ بھی تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 354 کے تحت جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔ پچھلی سماعت کے دوران بھی شکایت کنندہ خواتین پہلوانوں نے کہا تھا کہ ان پر لگائے گئے الزامات کے لیے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنا ضروری ہے۔ عدالت کیس کی اگلی سماعت 23 ستمبر کو کرے گی۔

خواتین پہلوانوں کے وکیل نے یکم ستمبر کو استدلال کیا تھا کہ سنگھ اور تومر کو نگرانی کمیٹی نے کبھی بری نہیں کیا، انہوں نے مزید کہا کہ پینل، جس کی سربراہی ٹاپ باکسر ایم سی میری کام کر رہی ہیں، وہ صرف جذبات کو پرسکون کرنے کا ایک دکھاوا تھا۔

پہلوانوں کی طرف سے پیش ہونے والی سینئر وکیل ربیکا جان نے کہا تھا ’’ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات جس کا آپ نے نوٹس لیا ہے، اس نوعیت کے ہیں کہ ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ نگرانی کمیٹی تشکیل جنسی ہراسانی کی روک تھام (پی او ایس ایچ ) ایکٹ کے قواعد کے مطابق نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے دلیل دی تھی، ’’کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جذبات کو پرسکون کرنے کا ایک ڈھونگ تھا۔‘‘

دہلی پولیس نے 11 اگست کو اے سی ایم ایم جسپال کی عدالت کو بتایا تھا کہ اس کے پاس بی جے پی ایم پی برج بھوشن کے خلاف کیس کو آگے بڑھانے کے لیے کافی ثبوت ہیں اور شریک ملزم تومر کے خلاف کیس بھی واضح ہے۔

کئی مودی آئیں گے اور چلے جائیں گے، اس بار بہار کی عوام جواب دے گی: رابڑی دیوی

0
کئی-مودی-آئیں-گے-اور-چلے-جائیں-گے،-اس-بار-بہار-کی-عوام-جواب-دے-گی:-رابڑی-دیوی

امت شاہ کے ذریعہ لالو یادو اور نتیش کمار پر کیے گئے زبانی حملے کا اب بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے سخت جواب دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں کتنے مودی آئیں گے اور چلے جائیں گے۔ کیا پورے ملک کے لوگ ان کی مٹھی میں ہیں؟ رابڑی نے ساتھ ہی کہا کہ وہ روزگار نہیں دیں گے اور مہنگائی نہیں روکیں گے۔ انھیں سخت جواب بہار کی عوام دے گی۔ کیا صرف ان کے کہنے سے مودی آ جائے گا، کیا لوگ ان کے مٹھی میں ہیں؟

رابڑی دیوی نے کہا کہ ملک میں لڑائی جھگڑا ہو رہا ہے، کشمیر میں قتل ہو رہا ہے۔ کشمیر میں انتخاب کیوں نہیں کرائے جا رہے؟ ہمت ہے تو جموں و کشمیر میں انتخاب کرائے جائیں۔ خوف کی وجہ سے انتخاب نہیں کرائے جا رہے وہاں۔ منی پور میں تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں، اس پر روک کیوں نہیں لگ رہی؟ بہار اور ملک کی عوام ان کو اب سبق سکھائے گی۔