ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 115

تلنگانہ عوام کے لئے کانگریس کے6اہم وعدے،سونیا گاندھی کا اعلان

0
تلنگانہ-عوام-کے-لئے-کانگریس-کے6اہم-وعدے،سونیا-گاندھی-کا-اعلان

تلنگانہ میں اس سال کے اواخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں کانگریس نے کل  کئی اہم وعدوں کا اعلان کرتے ہوئے رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوشش کی۔ پارٹی کے اہم پالیسی ساز ادارہ سی ڈبلیو سی کے تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں دو روزہ اجلاس کے آخری دن اتوار کی شام شہر کے نواحی علاقہ تکو گوڑہ میں ہوئے جلسہ میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھرگے اور کانگریس اقتدار والی ریاستوں کے اہم کانگریسی لیڈروں نے شرکت کی۔

ان اہم وعدوں کے اعلان کے ذریعہ جنوبی ہند کی اس نئی اہم ریاست میں کانگریس نے رائے دہندوں کو راغب کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ کانگریس جس نے قبل ازیں 2 ڈیکلریشنس کے دریعہ اہم وعدے کئے تھے آج 6 اہم اور دیگر وعدوں کا اعلان کیا۔ ان میں مہا لکشمی اسکیم کے تحت ہر خاتون کو2500 روپے، 500روپے میں گیس سلنڈر، خواتین میں آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت، بے گھر افراد کو مکان کی تعمیر کے لئے 5لاکھ روپے کی مالی مدد، تلنگانہ تحریک میں شہید ہونے والے افراد کے ہر خاندان کو 250 گز زمین، بھروسہ اسکیم کے تحت کسانوں کو فی ایکڑ 15 ہزار روپے کی مدد کے ساتھ ساتھ زرعی مزدوروں کو سالانہ 12ہزار روپے کی امداد، دھان کی فصل پر فی کونٹل 500 روپے بونس، گرہا جیوتی اسکیم کے تحت ہر خاندان کو 200یونٹ تک مفت بجلی، نوجوانوں کی ترقی کی اسکیم کے نام پر طلبا کو 5لاکھ روپے کے تعلیمی اخراجات کے لئے بھروسہ کارڈ، ہر منڈل میں تلنگانہ انٹرنیشنل اسکول کا قیام، بافندوں کو ہر ماہ 4ہزا رروپے وظیفہ اور ہر خاندان کو 10لاکھ روپے آروگیا شری کے تحت بیمہ کا اعلان شامل ہے۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی سابق صدر سونیاگاندھی نے کہا کہ عوام کے لئے 6 گارنٹیوں  کا اعلان کرتے ہوئے وہ خوشی محسوس کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خواب ہے کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں اقتدار پر آئے۔ انہوں نے ریاست کی عوام سے خواہش کی کہ وہ ان کے خواب کو پورا کریں۔ اس موقع پر سونیاگاندھی نے بوئن پلی میں راجیوگاندھی نالج ٹریننگ سنٹر کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہر وقت ترقی کے معاملہ میں سب سے آگے رہتی ہے۔ انہوں نے ریاست کی چندرشیکھرراو حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 10 سال کے دوران چندرشیکھرراو حکومت نے ترقی اور عوامی بہبود کے  لئےکوئی ٹھوس کام نہیں کیا البتہ ریاست کو مقروض بنادیا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت ریاست کا بجٹ فاضل تھاجو اب دیوالیہ پن کا شکار ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے بجٹ کا حکومت بہتر طور پر استعمال نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں سرکاری زیرانتظام ادارے منافع میں چل رہے ہیں لیکن یہاں حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ادارے اور کارپوریشن نقصان میں چل رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ چندرشیکھرراو دونوں میں سازباز ہوگیا ہے اور وہ باہر ایک دوسرے پر تنقیدیں کرتے ہوئے اپنے آپ کو دشمن جماعتوں کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اقتدار کے لئے تلنگانہ کی تشکیل عمل میں نہیں لائی بلکہ یہاں کے عوام کے دیرینہ خواب کو پورا کرنے کے لئے تلنگانہ کی تشکیل عمل میں لائی تھی لیکن کانگریس جس مقصد کے لئے تلنگانہ کی تشکیل عمل میں لائی وہ مقصد 10 سال بعد بھی پورا کرنے میں چندرشیکھرراو حکومت ناکام ہوگئی ہے۔

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس آج سے شروع ہوگا،کیسا رہےگا خصوصی اجلاس؟

0
پارلیمنٹ-کا-خصوصی-اجلاس-آج-سے-شروع-ہوگا،کیسا-رہےگا-خصوصی-اجلاس؟

پارلیمنٹ کا پانچ روزہ اجلاس آج یعنی18 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔ حکومت نے اس کا اعلان کرتے ہوئے اسے ‘خصوصی اجلاس’ کہا تھا لیکن بعد میں واضح کیا گیا کہ یہ ایک باقاعدہ اجلاس ہے۔ اسے موجودہ لوک سبھا کا 13 واں اجلاس اور راجیہ سبھا کا 261 واں اجلاس بتایا گیا ہے۔ اجلاس 22 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس دوران ایوان کی کارروائی 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک اور پھر دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔ اس اجلاس میں پارلیمنٹ کے 75 سالہ سفر پر بحث اور الیکشن کمشنرز کی تقرری سمیت چار بلوں پر غور کرنے کی تجویز ہے۔

یہ اجلاس پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوگا۔ اگلے دن  یعنی 19 ستمبر پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہی فوٹو سیشن کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اسی دن صبح 11 بجے سینٹرل ہال میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جانا ہے۔ جس کے بعد ارکان پارلیمنٹ نئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچیں گے۔ سیشن کا اجلاس 19 ستمبر کو ہی نئی عمارت میں ہو گا اور 20 ستمبر سے اس میں باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اتوار یعنی 17 ستمبر کی صبح نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھر نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی پرچم لہرایا۔

اجلاس کے فہرست ایجنڈے کے اہم موضوعات میں سے ایک دستور ساز اسمبلی سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے 75 سالہ سفر پر بحث کرنا ہے۔ پارلیمنٹ کے سفر کی کامیابیوں، تجربات، یادوں اور سیکھنے پر خصوصی گفتگو ہوگی۔ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری کی دفعات پر مشتمل بل بھی پاس کرنے کے لیے درج کر دیا گیا ہے۔ اسے مانسون اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔

لوک سبھا کے لیے درج دیگر کاموں میں ایڈووکیٹ (ترمیمی) بل 2023، پریس اینڈ جرنلز رجسٹریشن بل 2023 شامل ہیں، جو پہلے ہی 3 اگست 2023 کو راجیہ سبھا میں پاس ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹ آفس بل 2023 کو بھی لوک سبھا کی کارروائی میں درج کیا گیا ہے۔ یہ بل 10 اگست 2023 کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ ایجنڈا عارضی ہے اور اس میں مزید موضوعات شامل کیے جا سکتے ہیں۔

حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ درج ایجنڈے کے علاوہ پارلیمنٹ میں کچھ نئے قوانین یا دیگر مضامین پیش کرے۔ تاہم حکومت کی جانب سے کسی ممکنہ نئے قانون کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران جی 20 سربراہی اجلاس کی کامیابی، چاند پر چندریان 3 کی سافٹ لینڈنگ اور آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ‘ون نیشن ون الیکشن’ اور ملک کا نام ‘انڈیا’ سے بدل کر ‘بھارت’ کرنے کی تجویز بھی اس سیشن میں لائی جا سکتی ہے۔

آئین میں ‘خصوصی اجلاس’ کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن حکومت اسے صدر کے حکم کے بعد اہم قانون سازی اور قومی مفاد کے واقعات سے متعلق حالات میں بلا سکتی ہے۔ ایسے اجلاس میں  وقفہ سوالیہ کا انعقاد لازمی نہیں ہے۔ اب تک سات مرتبہ خصوصی اجلاس بلایا جا چکا ہے۔ ان میں سے پہلا خصوصی اجلاس 1977 میں، دوسرا سیشن 1991 میں، تیسرا سیشن 1992 میں، چوتھا سیشن 1997 میں، پانچواں سیشن 2008 میں، چھٹا سیشن 2015 میں اور ساتواں سیشن 2017 میں بلایا گیا۔

ایسے غیر معمولی وقت پر اجلاس بلانے پر بہت سے لیڈر حیران ہیں کیونکہ پارلیمنٹ میں عام طور پر تین سیشن ہوتے ہیں جن میں بجٹ سیشن، مانسون سیشن اور سرمائی اجلاس ہوتا ہے۔ اس بار مانسون اجلاس جولائی اگست میں ہوا تھا۔ سرمائی اجلاس نومبر دسمبر میں ہوگا۔ بجٹ اجلاس ہر سال جنوری کے آخر سے شروع ہوتا ہے۔ ایک ہی وقت میں، دو سیشنوں کے درمیان چھ ماہ سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہو سکتا۔

اس سے پہلے نئی پارلیمنٹ میں مرکزی وزراء کے لیے کمروں کی الاٹمنٹ کی اطلاع تھی۔ جس میں بالائی گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل پر وزراء کو کمرے الاٹ کیے گئے ہیں۔

بی جے پی اور کانگریس نے پہلے ہی اپنے اپنے ممبران اسمبلی کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں موجود رہنے کے لیے وہپ جاری کر دیے ہیں۔ کانگریس نے اپنے ارکان پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ وہ 18 سے 22 ستمبر تک ہونے والے پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کریں اور پارٹی کے موقف کی تائید کریں۔ ساتھ ہی بی جے پی نے اپنے ارکان پارلیمنٹ سے اہم بلوں پر بحث کرنے اور حکومت کے موقف کی حمایت کرنے کو کہا تھا۔

مرکزی حکومت کی دعوت پر سیشن شروع ہونے سے ایک دن پہلے (17 ستمبر کو) ایک آل پارٹی میٹنگ ہوئی۔ اس میں مختلف جماعتوں کے قائدین کو اجلاس میں مجوزہ کام کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور ان سے بات چیت کی گئی۔ تاہم، کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا کہ پردے کے پیچھے کچھ اور ہو سکتا ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا ایجنڈا شیئر کرتے ہوئے کہا تھا، ”جو ایجنڈا سامنے آیا ہے اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ نومبر میں سرمائی اجلاس تک انتظار کر سکتا ہے۔” انہوں نے کہا تھا، ”مجھے یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح قانون ساز ہینڈ گرنیڈ آخری وقت میں پھٹنے کے لیے تیار ہیں۔ پردے کے پیچھے کچھ اور ہے۔‘‘

خواتین ڈاکٹرز کی بے روزگاری: اسباب کیا ہیں؟

0
خواتین-ڈاکٹرز-کی-بے-روزگاری:-اسباب-کیا-ہیں؟

34 سالہ کنول عباد نے بہت محنت سے ڈاکٹر آف فارمیسی کی تعلیم حاصل کچھ برس پہلے مکمل کی، لیکن پھر پہلے شادی اور بعد میں امور خانہ داری کی وجہ سے وہ اپنا پروفیشن نہیں اپنا سکیں۔ شادی کے بعد اپنے پروفیشن کی جاب ان کے لیے صرف ایک خواب ہی رہ گیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”میں نے اپنے سسرالیوں کو قائل کرنے کی بہت کوشش کی کہ وہ مجھے کام کرنے کی اجازت دیں لیکن کام کرنے کی اجازت نہیں ملی اور بچوں کی پیدائش کے بعد میں گھر کے کام کاج میں لگ گئی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ میری ساری محنت، سرمایہ اور قیمتی وقت ضائع ہوا۔‘‘

کنول کے خیال میں ثقافتی اور سماجی اقدار خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ یہ صرف کنول کی ہی کہانی نہیں بلکہ پاکستان میں کئی ایسی خواتین ڈاکٹرز ہیں، جو اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یا توجاب نہیں کرتیں یا پھر تعلیم کو آخری مراحل میں ترک کر دیتی ہیں۔

گیلپ پاکستان اور ‘پرائیڈ‘ کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 35 فیصد خواتین ڈاکٹرز ملازمت نہیں کر رہیں۔ اس تحقیق نے اپنے نتائج کی بنیاد سروے 2020-21 پر رکھی ہے اور لیبر مارکیٹ پر پاکستانی ادارہ شماریات کے ڈیٹا کو پیش نظر رکھ کر اس کا تجزیہ کیا ہے۔ اس تحقیق میں خصوصی توجہ خواتین میڈیکل گریجویٹس پر دی گئی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 99 ہزار گھرانوں سے ڈیٹا جمع کیا گیا اور جس کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا کہ 36 ہزار خواتین ڈاکٹرز یا تو بے روزگار ہیں یا مختلف وجوہات کی بنیاد پر لیبر فورس کا حصہ بننا نہیں چاہتیں۔اس سروے کے مطابق ملک میں خواتین ڈاکٹرز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ چار ہزار نو سو چوہتر ہے۔

اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کرنے والی ڈاکٹر سبین عابد خان کا کہنا ہے کہ خواتین کے کاندھوں پر دوہری ذمہ داری ہے، جس کی وجہ سے ان کی پروفیشنل گروتھ متاثر ہوتی یا پھر انہیں اپنے پروفیشن میں کام کرنے کا بھرپور موقع نہیں مل پاتا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ بہت مشکل ہے جبکہ خواتین کے لیے شفٹوں کے حوالے سے بہت زیادہ چوائس نہیں ہے، کیونکہ ان پر گھر کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے اور انہیں بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا پڑتی ہے اس لیے شفٹوں میں جاب کرنا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

تاہم کراچی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ سیدہ تحریم شہزاد کا کہنا ہے کہ مردوں کی سوچ خواتین کی پروفیشنل گروتھ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”میں ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے کے قریب ہوں، اس کے بعد ہاؤس جاب ہوگی لیکن مجھے اور میری کلاس فیلوز کو یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ آیا ہمیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کی اجازت ملے گی بھی یا نہیں۔‘‘

سیدہ تحریم شہزاد کے مطابق دور دراز علاقوں میں تقرری اور مرد اور عورت کا ساتھ کام کرنا مختلف عوامل میں سے چند ایک ہیں، جن کی وجہ سے پاکستانی خاوند اپنی بیویوں کو نوکری کرنے نہیں دیتے۔ سیدہ تحریم شہزاد کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے خواتین میں اسپیشلائزیشن کی طرف بھی جانے کا بہت زیادہ رجحان نہیں ہے: ”آپ کو زیادہ تر خواتین گائناکالوجسٹ یا چائلڈ اسپیشلسٹ ملیں گی کیونکہ ان شعبوں میں مرد ڈاکٹرز یا اسٹاف کی نسبتاﹰ موجودگی کم ہوتی ہے. لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ انتہائی با صلاحیت خواتین جو دماغی یا دوسرے امراض کی ماہر بننا چاہتی ہیں وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔‘‘

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ بہت سارے والدین جب بچیوں کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دلاتے ہیں تو ان کے ذہن میں پروفیشنل گروتھ نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر اشرف نظامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہمارے ہاں یہ رجحان ہے کہ والدین بچیوں کو میڈیکل کالجز میں اس لیے بھی داخل کرواتے ہیں ان کی بچیوں کو بعد میں اچھے رشتے مل جائیں گے۔‘‘ ڈاکٹر اشرف نظامی کا مزید کہنا تھا ہسپتالوں کا مجموعی ماحول بھی ایسی خواتین ڈاکٹرز کی پروفیشنل گروتھ میں رکاوٹ ہے۔

پاکستان میں سماجی اور ثقافتی اقدار بہت مضبوط ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے اس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے لیکن سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ اس مسئل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”جن خواتین کی پروفیشنل پریکٹس میں شادی یا معاملات کی وجہ سے وقفہ آ جاتا ہے ان کو اجازت دی جانا چاہیے کہ وہ کچھ برسوں بعد اپنا پروفیشن جوائن کریں۔‘‘

تاہم ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ یہ وقفہ بہت طویل نہیں ہو سکتا: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیکل سائنس میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ نئی دوائیں اور ویکسینز آ رہی ہیں، طویل وقفے کی صورت میں کسی خاتون ڈاکٹر کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا کہ وہ اتنے لمبے عرصے کی رخصتی کا ازالہ کر سکے۔‘‘

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ بہت ساری بچیاں اسکول میں ہی یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ انہیں میڈیکل سائنس پڑھنا ہے لیکن اس پروفیشن کے حوالے سے انہیں چیلنجز کا علم نہیں ہوتا اور انہیں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ رہائش سمیت اس پروفیشن میں کئی چیلنجیز ہیں۔

سابق مشیر صحت کا خیال ہے کہ یہ مسائل ایسے نہیں ہیں، جنہیں حل نہیں کیا جا سکے: ”ہم نے اپنے دور حکومت میں میڈیکل انشورنس متعاراف کرائی، جس سے نئے ڈاکٹرز کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور بہت ساری خواتین نے نوکریاں بھی حاصل کیں۔ زیادہ مواقع، لچکدار شفٹیں اور طویل رخصتی کی اجازت سمیت کئی ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جن سے یہ مسائل حل کیے جا سکیں۔‘‘

قدرت نے ایم ایف حسین کو برش و رنگوں کے ذریعے شاہکار تراشنے کا فن عطا کیا تھا

0
قدرت-نے-ایم-ایف-حسین-کو-برش-و-رنگوں-کے-ذریعے-شاہکار-تراشنے-کا-فن-عطا-کیا-تھا

دنیا میں بہت کم ایسی ہستیاں پیدا ہوتی ہیں جنہوں نے زندگی میں توبے پناہ شہرت حاصل کی ہو ، مرنے کے بعد بھی برسوں تک لوگ انہیں بھلا نہیں پائے ہوں۔17 ستمبر 1915 میں ہندستان کے ایک چھوٹے سے علاقے میں پیدا ہونے والے عظیم مصور مقبول فدا حسین بھی ان شخصیات میں سے ایک تھے ۔

گھرانہ مذہبی سلیمانی بوہری تھا جو داؤدی بوہریوں سے جدا ایک چھوٹا سا فرقہ ہے۔مادری زبان گجراتی تھی۔ مصوری کا شوق مدرسے  سےپروان چڑھا۔مدرسے میں حسین پڑھتے پڑھاتے نہیں تھے بلکہ خطاطی کرتے تھے اور ممبئی کے آرٹ اسکول میں طالب علمی کے دوران ہی فلموں کی ایسی لت پڑی کہ فلموں کے پوسٹر بنانے شروع کردیئے تھے۔جس سے انکی پڑھائی کا اور رہن سہن کا خرچہ نکل آتا تھا۔

حسین کے والد نے بہت چاہا کہ وہ کاروبار کی طرف مائل ہو جائیں لیکن ان کا رجحان تو پیٹنگ کی طرف تھا۔ وہ دکان پر بیٹھتے تو بھی پنسل سے خاکے بناتے رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی پہلی آئل پینٹنگ دکان پر ہی بیٹھ کر بنائی۔ ان کے چچا جنہیں یہ دکان ان کے باپ ہی نے بنا کر دی تھی، یہ دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور ان کے باپ کو بتایا۔ جب ان کے والد نے وہ تصویر دیکھی تو مقبول حسین کو گلے لگا لیا۔ مقبول چند دنوں بعد بیندرے صاحب (مشہور مصور) کو اپنے باپ سے ملانے لے گئے۔ بیندرے بھی اندور سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان کے والد کو صلاح دی کہ حسین اچھے مصور بن سکتے ہیں اور انہوں نے یہ بات مان لی۔ مقبول خود حیران ہوئے کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ ان کے باپ کے ان الفاظ کے ساتھ حسین کی پیشہ ورانہ فنی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کے باپ نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور کہا ’’ بیٹا جاؤ اور اپنی زندگی کو رنگوں سے بھر دو۔‘‘

دادا نے بھی مرتے ہوئے حسین کی مٹھی میں دس روپے ایسے رکھے تھے کہ گویا عمر بھر کا امام ضامن باندھ دیا ہو۔ 1934 میں اندور کی ایک سڑک کنارے حسین کی پہلی تصویر دس روپے میں فروخت ہوئی تو حسین بے اختیار دادا کی قبر پر دوڑے چلے گئے اور اس کے بعد حسین نے مانو مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔

ایم ایف حسین نے چار آنے سے ایک کروڑ تیئس لاکھ روپے کمانے تک کا سفر یوں ہی اور آسانی سے طے نہیں کیا بلکہ برسوں کی محنت اور اپنے کام سے لگن کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچے۔جس دور میں وہ فلمی پینٹرہوا کرتے تھے اس وقت چھ بائی دس فٹ کے پوسٹر بنانے کے انہیں صرف چار آنے ملتے تھے۔ اس پر بھی تنگ دستی کا حال یہ تھا کہ ایک بار معاشی حالات کی بہتری کیلئے انہیں ایک فیکٹری میں مزدور کی حیثیت سے کام کرنا پڑا۔ اس فیکٹری میں کھلونے تیار ہوتے تھے۔

حقیقت تو یہ ہے ایک مصور کی حیثیت سے ان کی پہچان 1940 میں ہوئی تھی جبکہ ان کی بنائی ہوئی تصاویر کی پہلی باقاعدہ نمائش 1947ء میں ہوئی تھی۔ پچاس کی دھائی سے وہ ترقی پسند فنکاروں کی صف میں شامل ہوئے۔ 60 کے عشرے سے انہیں ہندستان کا نہایت تجربہ کار اور منجھا ہوا مصور شمار کیا جانے لگا۔

ان کا اپنا مخصوص لائف اسٹائل تھا ۔ وہ نگے پاوٴں رہاکرتے تھے ۔ اپنی گاڑی کو بھی انہوں نے اپنی پسند کے مختلف رنگوں میں خود پینٹ کیا ہوا تھا۔ انہیں ہندوستان کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا جس میں ‘پدم بھوشن’ بھی شامل ہے۔ انہیں پارلیمنٹ کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ جس قدر ایوارڈز انہیں ملے ،ان کا شمار بھی ایک مشکل امر ہے۔

ایک وقت ایسا آیا گویا ان کی شہرت کو پر لگ گئے ہوں ۔ جب یہ شہرت ہندستان کی سرحدوں سے نکل کر بیرون ملک پہنچی تو انہیں ‘ ہندستان کا پکاسو’ کہہ کر پکارا جانے لگا۔ دریں اثناء راگ مالا سیریز کیلئے بنائی گئی ان کی ایک تصویر لندن کے کرسٹیز نیلام گھر میں لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوئی۔ انہوں نے بیرون ملک ہندستان کی ثقافت ،کلچراور مذہبی روایات کواپنے انداز میں متعارف کرایا۔ وہ ہندستان کے ان چند عظیم مصوروں میں سے ایک تھے جن کے بنائے ہوئے شاہکار کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں آسمان چھوتی ہیں۔اپنے انتقال سے صرف چار روز پہلے ہی ان کا ایک شاہکار،جس کا نام انہوں نے ‘ ہارس اینڈ وومن ‘ رکھا تھا ،لندن میں ایک کروڑ تیئس لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔

ان کی 3 پینٹنگس بان ہیم آکشن میں سب سے زیادہ قیمت پر نیلام کی گئی۔ ان کی آئیل پینٹنگ پر 2.32کروڑ روپیے قیمت آئی۔ ان کی ایک پینٹنگ جو ایک خاتون اور ایک گھوڑے پر مشتمل تھی ، 1.23 کروڑ میں نیلام ہوئی۔ ان کے بنے ہوئے فن پارے اور مجسمے لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوئے ۔ایم ایف حسین کا ایشیا کے ان امیر ترین مصوروں میں شمار ہوتا تھا جن کے فن پارے مہنگے داموں فروخت ہوتے تھے۔ انھیں 1971ء میں عالمی شہرت یافتہ مصور پابلو پکاسو کے ساتھ ساؤپولو میں منعقدہ مصوری میلے میں مدعو کیا گیا تھا جہاں انھیں فوربس میگزین نے ”ہندستان کا پکاسو” کے خطاب سے نوازا تھا۔

ایم ایف حسین شارٹ فلمیں بنانے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔سن 1994 میں جب ان کی نگاہ مادھوری ڈکشٹ پر پڑی۔ وہ مادھوری دکشت کی خوب صورتی اور حسن کے وہ دلدادہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے مادھوری کے ساتھ ‘گج گامنی’ کے نام سے’ ٹیل آف تھری’ سیریز بنائی جس میں انہوں نے مادھوری کو اس قدر خوب صورتی کے ساتھ پینٹ کیا کہ نئی نسل میں ان کی وجہ شہرت ہی مادھوری کی پینٹنگس بن گئیں۔ انہیں مادھوری کے فن سے دیوانگی کی حد تک لگاوٴ تھا۔ انہیں مادھوری کی ایک فلم "ہم آپ کے ہیں کون” اس قدر پسند تھی کہ 70 مرتبہ اسے دیکھا۔

ان کے یہ الفاظ ‘‘سینما کے حساب سے ہم آپ کے ہیں کون کوئی دھماکہ فلم نہ تھی۔لیکن وہ (مادھوری) تو اللہ کی پناہ۔میں تو گویا راہداریوں میں ہی ناچ رہا تھا۔اس کے بعد یوں ہوا کہ جس شہر میں ،دنیا کے جس کونے میں یہ فلم دیکھنے کو ملی میں نے موقع ضائع نہیں کیا۔دی دی تیرا دیور دیوانہ گانا ان کو بہت پسند تھا۔ ان میں مادھوی دکشت کے ڈانس سے بے حد متاثر ہوئے ۔ مادھوری کے پانچ الٹے قدم ایم ایف حسین کے جادہء عشق کے لیے منزل حسن و ناز کی جا نب ایک بہت بڑا سفر ثابت ہوئے اور اس کے بعد تو گویا ایک دروازہء خاور کھلا۔ تبو،ودیا بالن،ارمیلا ماتوندکر،امرتا راؤ اور پھر انوشکا شرما ان کے آستانہء عالیہ پر بڑی دور سے چل کے آتی تھیں۔

اس سے قبل 1967ء میں انہوں نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنی دستاویزی فلم ‘تھرو دی آئیز آف اے پینٹر’ کے لئے’ گولڈن گلوب ایوارڈ’ حاصل کیا ۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی شارٹ فلمیں بنائیں۔ وہ اپنی لگن اور زبان دونوں کے بڑے پکے تھے۔ نڈر تھے ، کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ان کی آپ بیتی بھی شائع ہوچکی ہے۔

مقبول فدا حسین فلمی دنیا کو اپنی طرف سے دبئی میں ہندی فلموں کا ایک نہایت وسیع میوزیم بطور تحفہ دینا چاہتے تھے جس کے لئے وہ آخری وقت تک کام بھی کرتے رہے۔ گو کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کام کس حدتک مکمل ہوا لیکن ان کے چاہنے والوں اور ان کے جانشینوں کو یہ کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ ان کا یہ خواب ضرور پورا ہو۔ وہ دنیا کے بیشمار ممالک میں ہندستان کی پہچان بنے مگرانہیں آخری سانسیں لندن میں آئیں۔ وہ دوبئی میں بھی رہے اور قطر نے تو انہیں اعزادی شہریت دے رکھی تھی۔

ان کی پینٹنگس پر جہاں ایک طرف کئی گوشوں سے ستائش کی گئی تھی وہیں دوسری طرف ان کو تنقیدوں کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ ستر کی دہائی میں ان کی شہرت نے ایک نیا موڑ لیا۔ وہ یکایک متنازعہ حیثیت اختیار کرگئے۔ انہوں نے کچھ ہندو دیوی دیوتاؤں کی عریاں تصاویر بنائیں جس کا جواز ان کے پاس یہ تھا کہ اجنتا اور ایلورا کی تاریخی وادیوں میں بھی اسی طرح کے دیوی دیوتاوٴں کے مجسمے ہیں لہذا اگر انہوں نے اپنے کینوس پر انہیں اتارا ہے تو اس میں کیا حرج ہے لیکن ان کا جواز کسی طرح قابل قبول نہ ہوا۔ سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات قائم کر دیئے گئے۔ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جانیں لگیں۔ ایک تنظیم نے ان کے سر کی قیمت گیارہ اعشاریہ پانچ ملین روپے مقرر کی جس کے بعد وہ 2006 میں جلا وطنی پر مجبور ہوگئے۔

ستمبر 2007 میں کیرالا کے ہائی کورٹ نے فدا حسین کو ایوارڈ دینے پر پابندی عائد کردی۔ کیرالہ حکومت نے اس سال مصوری کا معروف ”راجہ روی ورما ایوارڈ، فداحسین کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
ستمبر 2008 میں ہندوستان کی سپریم کورٹ نے مقبول فدا حسین کی ایک متنازعہ پینٹنگ کے سلسلے میں فنکار کے کام کا دفاع کرتے ہوئے فن کا نمونہ قرار دیا اور ان کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی گئی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملک میں لاتعداد فحش مجسمے اور تصویریں عام ہیں، ان سے لوگوں کے جذبات کیوں مجروح نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی ان کے خلاٴف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پینٹنگ فحش نہیں۔ عالمی شہرت یافتہ ہندستانی مصور مقبول فداحسین (ایم ایف حسین)97 سال کی عمر 9 جون 2011 کو لندن کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے ہیں۔

لیبیا میں سیلاب متاثرین کے امداد ہماری ملی ذمہ داری ہے : ارشد صدیقی

0
لیبیا-میں-سیلاب-متاثرین-کے-امداد-ہماری-ملی-ذمہ-داری-ہے-:-ارشد-صدیقی

لیبیا میں سیلاب سے قیامت صغری منظر نظر آ رہا ہے ۔شدید بارش و طوفان کی وجہ سے دو ڈیم مکمل طور پر ٹوٹ گے  اورڈیم سے لگے ہوئے شہر دیرنہ کی آبادی و مکانات کو سیلاب کا پانی اپنے ساتھ بہہ کر لے گیا ۔ واضح رہےصرف چند منٹوں میں تقریباً پورا شہر بہہ گیا۔ پانی اترنے پر جب امدادی قافلے وہاں پہنچے تو ہر صرف انسانی لاشیں مٹی میں دبی ہوئی دیکھائی دے رہی تھی۔

واضح رہے صرف  چند مساجد اپنی جگہ مظبوطی سے محفوظ نظر آئی ، اس کے علاوہ پورے شہر دیرنہ کی عمارتیں و مکانات مکمل تباہ و برباد نظر آرہی ہیں۔ لیبیا کی خانہ جنگی نے امدادی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رکھا ہے وطن عزیز ہندوستان کا مسلمان قدرتی آفات میں انسانوں کی امداد کے لیے پوری دنیا میں جانا و منانا جاتا ہے بلخصوص ترکی کے زلزلے کے متاثرین کی امداد میں ہند کا مسلمان کسی  سے بھی پیچھے نہیں رہے-

گزشتہ ہفتے مراکش میں آیے زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے مختلف ممالک سرگرم عمل نظر آئے مگر لیبیا کے متاثرین کی لیے کوئی خاص مہم نظر نہیں آتی۔ جب لبیا میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے 40 ہزار تک جا سکتی ہے ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریڈ کریسینٹ سوسائٹی آف انڈیا نے لیبیا اور مراکش کے متاثر ین کی امداد کر نے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ سوسائٹی ملک و بیرون ملک قدرتی حادثات میں انسانوں کی حسب ضرورت امداد کرتی رہی ہے۔

ریڈ کریسینٹ سوسائٹی آف انڈیا نے چیرمین ارشد صدیقی کی صدارت میں ایک میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مراکش و لیبیا میں ضرورت کا سامان لے کر ایک قافلے بھی بھیجا جائے۔  دواؤں کی ایک کھیپ فوری روانہ کی جائے گی  اور کوشش کی جائے گی کہ ڈاکٹرس کی ایک ٹیم بھی بھیجی جائے۔ اس میٹینگ میں شہباز صدیقی ،شکیل صدیقی عامر ادریسی، سعید خان، ڈاکٹر علیم صدیقی، ڈاکٹر قاسم امام ،جناب نظام الدین، رائین فاروق ،سید نسیم قریشی، ڈاکر عظیم الدین، جناب منیر خان ،تاج محمد امیر شامل تھے-

پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے کروڑوں لوگوں کولگ سکتا ہے جھٹکا، پی ایف پر سود ہو سکتا ہے کم

0
پرائیویٹ-سیکٹر-میں-کام-کرنے-والے-کروڑوں-لوگوں-کولگ-سکتا-ہے-جھٹکا،-پی-ایف-پر-سود-ہو-سکتا-ہے-کم

پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے کروڑوں لوگوں کے لیے ایک بری خبر ہے۔ آنے والے دنوں میں پی ایف پر سود کم ہو سکتا ہے۔ اس سے پرائیویٹ ملازمت کرنے والوں کے لیے سماجی تحفظ کی واحد بنیاد کمزور پڑ سکتی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی ایک خبر میں آر ٹی آئی کے حوالے سے یہ جانکاری دی گئی ہے۔ خبر کے مطابق، مالی سال 2021-22 کے دوران، ای پی ایف او ​​کو زائد کا تخمینہ لگانے کے بعد بھی نقصان ہوا تھا۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ ای پی ایف او​​کے پاس 449.34 کروڑ روپے کا سرپلس ہوگا، جب کہ اسے 197.72 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد پی ایف پر دی جانے والی سود کی شرحوں پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

فی الحال پی ایف پر ملنے والا سود پہلے ہی کم ہے۔ ای پی ایف او نے مالی سال 2022-23 کے لیے پی ایف پر سود کی شرح 8.15 فیصد مقرر کی ہے۔ وزارت خزانہ کا خیال ہے کہ ای پی ایف سے ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایف کی شرح سود پر نظر ثانی کرنا ضروری ہے۔ پی ایف کی بلند شرح سود کو کم کرنے اور انہیں مارکیٹ ریٹ کے برابر لانے کی ضرورت ہے۔

فی الحال، اگر ہم پی ایف پر ملنے والے سود کا بازار سے موازنہ کریں، تو یہ واقعی زیادہ ہے۔ چھوٹی بچت اسکیموں میں، صرف ایک سینئر سٹیزن سیونگ اسکیم ہے، جس پر فی الحال پی ایف سے زیادہ سود مل رہا ہے۔ اس اسکیم کی شرح سود فی الحال 8.20 فیصد ہے۔ سوکنیا سمردھی یوجنا سے لے کر نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ (NSC) تک، ہر چیز پر شرح سود پی ایف سے کم ہے۔ اسی وجہ سے وزارت خزانہ کافی عرصے سے پی ایف سود کو 8 فیصد سے کم کرنے کی وکالت کر رہی ہے۔

دوسری طرف، اگر ہم پی ایف پر پہلے سے موصول ہونے والے سود کو دیکھیں، تو فی الحال شرحیں نچلی طرف ہیں۔ پی ایف پر سود مسلسل کم کیا جا رہا ہے۔ مالی سال 2015-16 میں پی ایف پر شرح سود 8.80 فیصد سے کم کر کے 8.70 فیصد کر دی گئی۔ ٹریڈ یونینوں کے احتجاج کے بعد اسے دوبارہ 8.80 فیصد کر دیا گیا۔ اس کے بعد پی ایف پر شرح سود کم ہوتی رہی اور 2021-22 میں 8.10 فیصد کی کم سطح پر آگئی۔ 2022-23 میں اس میں معمولی اضافہ کرکے 8.15 فیصد کردیا گیا۔

نجی شعبے میں کام کرنے والے کروڑوں لوگوں کے لیے پی ایف سماجی تحفظ کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ اس سے ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کے لیے فنڈ بنانے میں مدد ملتی ہے۔ پی ایف پر اچھا سود ملنے سے کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ پی ایف کی رقم کا انتظام ای پی ایف او ​​یعنی ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ فی الحال ای پی ایف او​​کے صارفین کی تعداد 6 کروڑ سے زیادہ ہے۔

نپاہ وائرس صرف کیرالہ میں ہی کیوں تباہی مچا رہا ہے

0
نپاہ-وائرس-صرف-کیرالہ-میں-ہی-کیوں-تباہی-مچا-رہا-ہے

ملائیشیا میں 19 سال قبل نپاہ وائرس کا پتہ چلا تھا۔  یہ وائرس ہندوستان میں یہ وائرس  سال 2018 میں پایا گیا تھا۔ نپاہ وائرس سب سے پہلے کیرالہ میں پایا گیا تھا۔ تاہم 5 سال بعد کیرالہ میں ایک بار پھر نپاہ وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا ہے۔ اس سال 17 ستمبر تک ریاست میں نپاہ وائرس کے چھ معاملے سامنے آئے ہیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ نپاہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے نپاہ وائرس کے معاملات میں اموات کی شرح 40 سے 70 فیصد کے درمیان ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ اس سال کیرالہ میں رپورٹ ہونے والے چھ معاملات میں سے دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

نپاہ وائرس سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ اس کا وائرل اسٹرین ہے۔ مثال کے طور پر، یہ اسٹرین اس وقت بنگلہ دیش میں پھیلا ہوا ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شرح اموات 90 فیصد  ہے۔ کیرالہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں پایا جانے والا وائرس بنگلہ دیش میں پایا جانے والا اسٹرین ہے۔

نپاہ وائرس زونوٹک ہے (وہ بیماریاں جو جانوروں سے انسانوں میں پھیلتی ہیں)۔ ایسی صورتحال میں یہ وائرس چمگادڑوں سے پھلوں اور ان سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ 2019 کی ایک تحقیق کے مطابق، نپاہ وائرس چمگادڑوں سے پھلوں میں منتقل ہوا اور پھر وہ پھل کیرالہ کے تمام 14 اضلاع کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری تک پہنچ گئے۔

کیرالہ میں پچھلے پانچ سالوں میں نپاہ وائرس کے پھیلنے کی جو وجہ دیکھی گئی ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نپاہ علاقے کے پھلوں کی چمگادڑوں کے لیے مقامی (کسی بھی بیماری کے لیے موزوں جگہ) بن چکا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ کیرالہ کا صحت عامہ کا بنیادی ڈھانچہ ہوگا، جہاں نامعلوم بخار کی وجہ سے ہونے والی اموات کا پتہ چلا ہے۔

مدھیہ پردیش: ’ووٹر لسٹ میں گڑبڑی پائی گئی تو بی ایل او پر ہوگی کارروائی‘

0
مدھیہ-پردیش:-’ووٹر-لسٹ-میں-گڑبڑی-پائی-گئی-تو-بی-ایل-او-پر-ہوگی-کارروائی‘

بھوپال: مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔ ریاستی انتخابی افسر انوپم راجن نے یہاں تک انتباہ دیا ہے کہ اگر بے ضابطگی پائی جاتی ہے تو بی ایل او اور ای آر او کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف الیکٹورل آفیسر انوپم راجن نے کلکٹر اور ضلع الیکشن افسران کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کی اور اسمبلی انتخابات 2023 کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت 4 اکتوبر کو کی جائے گی۔ اس کے بعد ووٹر لسٹ میں کسی مردہ یا ڈبل ​​انٹری والے ووٹر کا نام نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کسی بھی بی ایل او کی ووٹر لسٹ میں مردہ اور دوہرے درج شدہ ووٹرز پائے گئے تو متعلقہ بی ایل او، ای آر او کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی چیف الیکٹورل آفیسر راجن نے ووٹر لسٹ میں ناموں کو شامل کرنے، حذف کرنے اور ترمیم کرنے کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کو مقررہ وقت کے اندر حل کرنے کی ہدایت دی۔

بتایا گیا ہے کہ ریاست میں ووٹر لسٹ کی دوسری خصوصی مختصر نظر ثانی 2023 کے تحت 2 اگست سے 11 ستمبر تک 42 لاکھ 75 ہزار 952 درخواستیں آن لائن اور آف لائن حاصل ہوئیں، جن میں ناموں کو شامل کرنے، حذف کرنے اور ان میں ترمیم کی درخواست کی گئی تھی، ان میں سے 29 لاکھ 46 ہزار 146 درخواستیں نمٹائی جا چکی ہیں۔ جبکہ 13 لاکھ 29 ہزار 806 درخواستیں زیر التوا ہیں، انہیں مقررہ مدت میں حل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت 4 اکتوبر کو کی جائے گی اور اس مدت کے دوران، ریاست کے تمام 64 ہزار 523 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی فہرستیں بی ایل اوز کی طرف سے دستیاب کرائی جائیں گی۔ اس دوران سیکٹر افسران بھی موجود رہیں گے۔ اس کے ساتھ تسلیم شدہ قومی سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔

سی ڈبلیو سی کا اجلاس اختتام پذیر، کانگریس آئندہ انتخابات کے لیے کمربستہ

0
سی-ڈبلیو-سی-کا-اجلاس-اختتام-پذیر،-کانگریس-آئندہ-انتخابات-کے-لیے-کمربستہ

حیدرآباد: کانگریس ورکنگ کمیٹی حیدرآباد میں جاری دو روزہ اجلاس آج اختتام پذیر ہو گیا۔ اجلاس کے دوسرے دن سی ڈبلیو سی کی توسیعی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ میٹنگ کے اختتام کے بعد پارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ توسیعی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی یہ میٹنگ اس اعتماد کے ساتھ ختم ہوتی ہے کہ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، میزورم، راجستھان اور تلنگانہ کے عوام آئندہ اسمبلی انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس کو مینڈیٹ فراہم کریں گے۔

اپریل-مئی 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں جیت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ ’’ہم آنے والی لڑائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہم امن و امان، آزادی، سماجی اور معاشی انصاف، مساوات سے متعلق عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔‘‘

تلنگانہ کے حوالے سے جاری کردہ ایک اور بیان میں کانگریس نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے 9 سال بعد سنہرے تلنگانہ کا وعدہ توڑا گیا، مرکزی اور حیدرآباد دونوں حکومتوں نے دھوکہ دیا۔ پارٹی نے کہا کہ ہم تلنگانہ کے عوام سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئندہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دیں۔ بنگارو تلنگانہ کے خواب کو دوبارہ زندہ کرنے اور وہ مستقبل فراہم کرنے کا وقت ہے جس کے تلنگانہ کے لوگ مستحق ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے متعارف کرائی ’وشوکرما اسکیم‘، دستکاروں کو بغیر گارنٹی حاصل ہوگا 3 لاکھ تک کا قرض

0
وزیر-اعظم-مودی-نے-متعارف-کرائی-’وشوکرما-اسکیم‘،-دستکاروں-کو-بغیر-گارنٹی-حاصل-ہوگا-3-لاکھ-تک-کا-قرض

نئی دہلی: وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز دہلی کے دوارکا میں ’یشو بھومی‘ کے نام سے انڈیا انٹرنیشنل کنونشن اور ایکسپو سینٹر (آئی آئی سی سی) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج وشوکرما جینتی کا خاص دن جو کہ روایتی کاریگروں اور دستکاروں کے لیے وقف ہے، اسی طرح یشوبومی بھی ملک کے ہر دستکار اور کارکن کے لیے وقف ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ’وشوکرما یوجنا‘ ہندوستان کی مقامی مصنوعات کو عالمی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ جس طرح جسم میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اسی طرح وشوکرما ساتھی (دستکار) سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے بغیر روزمرہ کی زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔ فرج کے دور میں بھی لوگ گھڑے کا پانی پسند کرتے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ان ساتھیوں کو پہچان اور حمایت ملنی چاہیے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وشوکرما یوجنا کے ذریعہ تمام ساتھیوں کو تربیت دینے پر زور دیا گیا ہے۔ ٹریننگ کے دوران حکومت کی طرف سے ہر ساتھی کو 500 روپے یومیہ الاؤنس دیا جائے گا۔ جدید ٹول کٹ کے لیے 15000 روپے دیے جائیں گے۔ حکومت اشیا کی برانڈنگ میں بھی مدد کرے گی۔ اس کے بدلے میں حکومت چاہتی ہے کہ آپ صرف ان دکانوں سے سامان خریدیں جن کے پاس جی ایس ٹی رجسٹریشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹولز صرف ہندوستان میں تیار کردہ ہونے چاہئیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ حکومت بغیر کسی گارنٹی کے کاروبار شروع کرنے کے لیے رقم فراہم کرے گی۔ 3 لاکھ روپے تک کا قرض بغیر کسی گارنٹی کے دیا جائے گا اور اس کا سود بھی بہت کم ہوگا۔ نئے ٹولز خریدنے پر آپ کو پہلی بار ایک لاکھ روپے تک کا قرض ملے گا۔ اس کی ادائیگی کے بعد 2 لاکھ روپے کا قرض دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا ’’جب ٹیکنالوجی اور روایت مل جاتی ہے تو کمال ہو جاتا ہے، پوری دنیا نے جی-20 کرافٹ بازار میں یہ دیکھا ہے۔ سمٹ میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو وشوکرما ساتھیوں کی طرف سے بنائے گئے تحائف دیے گئے۔ پہلے ہمیں لوکل کے لیے آواز بننا ہوگا اور پھر اسے گلوبل بنانا ہوگا۔ لوکل خریدنے کا مطلب صرف دیوالی کے دئے خریدنا نہیں ہوتا بلکہ اس میں ہر چھوٹی بڑی چیز شامل ہوتی ہے، جس میں کارکنوں کے خون پسینے کی بو ہوتی ہے۔‘‘