ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 114

پی ایم مودی نے آج طلب کی مرکزی کابینہ کی میٹنگ، خاتون ریزرویشن بل کو لے کر قیاس آرائیاں شروع

0
پی-ایم-مودی-نے-آج-طلب-کی-مرکزی-کابینہ-کی-میٹنگ،-خاتون-ریزرویشن-بل-کو-لے-کر-قیاس-آرائیاں-شروع

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج شام مرکزی کابینہ کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے کچھ بلوں کو منظوری دی جا سکتی ہے۔ اس درمیان قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ بلوں کی فہرست میں خاتون ریزرویشن بل بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس پر اب تک حکومت کی طرف سے کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے، لیکن ایسی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پی ایم مودی ایک بار پھر سے حیران کرنے والا فیصلہ سنا سکتے ہیں۔

دراصل سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ 27 سالوں سے اٹکے خاتون ریزرویشن بل کو منظوری دلا کر ہی مودی حکومت انتخاب میں اترنا پسند کرے گی۔ اس کے ذریعہ بی جے پی کے لیے  نصف آبادی کو نمائندگی دینے کا کارڈ چلنا آسان ہو جائے گا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کانگریس نے بھی اپنی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں حکومت کے سامنے خاتون ریزرویشن بل لانے کا مطالبہ رکھ دیا ہے۔ سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے سے خاتون ریزرویشن بل کی تیاری میں ہے اور اس کی بھنک لگنے پر ہی کانگریس نے یہ مطالبہ اٹھایا ہے۔ ایسا اس لیے تاکہ بل پاس ہونے پر پورا کریڈٹ بی جے پی حکومت کو ہی نہ مل جائے۔

واضح رہے کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ طویل مدت سے اٹھتا رہا ہے، لیکن پاس نہیں ہو سکا۔ یو پی اے حکومت کے دور میں بھی یہ بل راجیہ سبھا سے تو پاس ہوا تھا، لیکن لوک سبھا میں اٹک گیا تھا۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی جیسی کچھ پارٹیوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ خاتون ریزرویشن میں ذیلی کوٹہ بھی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خاتون کوٹہ میں او بی سی، ایس سی، ایس ٹی سماج کے لیے الگ سے ریزرویشن کا انتظام ہونا چاہیے۔ اسی ایشو پر یو پی اے حکومت میں بھی یہ بل اٹک گیا تھا۔

ہندوستان کی 9 ریاستوں میں نپاہ وائرس کا اندیشہ، کیرالہ میں 2 اسٹرین موجود!

0
ہندوستان-کی-9-ریاستوں-میں-نپاہ-وائرس-کا-اندیشہ،-کیرالہ-میں-2-اسٹرین-موجود!

کیرالہ اس وقت نپاہ وائرس سے جنگ لڑ رہا ہے۔ ریاستی وزیر صحت وینا جارج کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق کیرالہ میں ملیشیائی اور بنگلہ دیشی اسٹرین پایا گیا ہے جو دونوں ممالک سے کیرالہ میں آیا ہے۔ وینا جارج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ہندوستان کی 9 ریاستوں میں نپاہ وائرس ہونے کا اندیشہ ہے۔

وزیر صحت وینا جارج کا کہنا ہے کہ آئی سی ایم آر اور ڈبلیو ایچ او نے نپاہ وائرس معاملے پر اسٹڈی کیا تھا اور یہ اخذ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی 9 ریاستوں میں نپاہ ہونے کا امکان ہے اور کیرالہ ان میں سے ایک ہے۔ علاوہ ازیں 2018 کے بعد ہم نے نگرانی کی اور پایا کہ اس کا ذریعہ چمگادڑ ہیں۔ یعنی نپاہ انفیکشن چمگادڑوں کے ذریعہ پھیلتا ہے۔ وزیر صحت کے مطابق کیرالہ میں ہمیں جو وائرس ملا ہے اس کی شناخت ہندوستانی جینوٹائپ یا آئی جینوٹائپ کی شکل میں کیا گیا ہے۔ یہ بنگلہ دیش میں پائے جانے والے اسٹرین کی طرح ہیں۔ ہمارے پاس نپاہ وائرس کے دو اسٹرین ہیں، ایک ملیشیائی اور دوسری بنگلہ دیشی۔

کیرالہ حکومت نے 18 ستمبر کو جانکاری دی ہے کہ ریاست میں 16 ستمبر سے نپاہ وائرس کے انفیکشن کا کوئی نیا معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ متاثرہ مریضوں کے رابطے میں آئے 61 لوگوں کے نمونے کی جانچ میں بھی انفیکشن کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ وزیر صحت وینا جارج نے بتایا کہ ریاست میں انفیکشن کی دوسری لہر ہے یا نہیں، اس کی تصدیق کرنے کے لیے جینوم سیکوئنسنگ کے ریزلٹ 18 ستمبر کی شام یا پھر 19 ستمبر تک دستیاب ہو پائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ کیرالہ میں نپاہ انفیکشن کا آخری معاملہ 15 ستمبر کو درج کیا گیا تھا۔ وزیر صحت نے اتوار کے روز کہا تھا کہ فی الحال حالات قابو میں ہیں۔ 9 سال کے ایک بچے سمیت 4 متاثرین کی صحت بہتر ہو رہی ہے اور بچے کو فی الحال ونٹلیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس درمیان 36 چمگادڑوں کے نمونے پونے واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی بھیجے گئے ہیں تاکہ انفیکشن کی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکے۔

امت شاہ کے ذریعہ ’بہار میں جلد انتخاب‘ سے متعلق بیان پر نتیش کمار نے دیا شدید رد عمل

0
امت-شاہ-کے-ذریعہ-’بہار-میں-جلد-انتخاب‘-سے-متعلق-بیان-پر-نتیش-کمار-نے-دیا-شدید-رد-عمل

مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ وقت سے پہلے لوک سبھا انتخاب کرانے کید ہلی سے پٹنہ تک خبر گرم ہے۔ اس درمیان پیر کے روز امت شاہ کے بہار میں جلد انتخاب ہونے کا اندیشہ ظاہر کرنے پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنا شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے پیر کے روز کہا کہ ’’ملک میں جتنا جلد انتخاب ہو، اتنا اچھا ہے۔ ہم لوگ انتخاب کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔‘‘

دراصل بہار دورہ کے درمیان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کے روز کہا تھا کہ بہار میں جلد انتخاب ہو سکتے ہیں۔ صحافیوں نے پیر کو جب اس بیان کے سلسلے میں نتیش کمار سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ’’وہ لوگ تو پورے ملک میں جلد انتخاب کرانا چاہتے ہیں، تو جلد کرائیں، ہم لوگ تو انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ نتیش کمار نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت ہند کو حق حاصل ہے کہ وہ پارلیمانی انتخاب وقت سے کچھ پہلے بھی کرا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ میں ملک کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر انتخابی کمشنرز کی تقرری کو لے کر لائے جانے والے ممکنہ بل پر نتیش کمار نے کہا کہ جو بھی بات سامنے آئے گی اس پر سبھی پارٹی کے لوگ اپنی بات رکھیں گے۔ ابھی کچھ کہنا مناسب نہیں، چیزوں کو سامنے آنے دیجیے، اس کے بعد سبھی بات رکھیں گے۔

لکھیم پور کھیری کیس: آشیش مشرا ٹینی معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی تحلیل

0
لکھیم-پور-کھیری-کیس:-آشیش-مشرا-ٹینی-معاملے-کی-جانچ-کر-رہی-ایس-آئی-ٹی-تحلیل

سپریم کورٹ نے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کو تحلیل کر دیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے ایس آئی ٹی کی جانچ کی نگرانی کر رہے ہائی کورٹ کے سبکدوش جج راکیش کمار جین کو بھی نگرانی کے کام سے آزاد کر دیا ہے۔ تین سینئر آئی پی ایس افسران ایس بی شروڈکر، دیپیندر سنگھ اور پدمجا چوہان اس ایس آئی ٹی کا حصہ تھے۔ اس معاملے میں عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ جانچ پوری ہو چکی ہے اور مقدمہ چل رہا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو بعد پھر سے ایس آئی ٹی تشکیل دی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 3 اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری میں تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں 4 کسان سمیت 8 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیا میں ہوئے اس تشدد میں مرکزی وزیر اجئے کمار مشرا کا بیٹا آشیش مشرا کلیدی ملزم ہے۔ پیر کے روز ہوئی سماعت کے دوران جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس دیپانکر دتہ کی بنچ نے ایس آئی ٹی کو تحلیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایس آئی ٹی کو پھر سے تشکیل دینے کی ضرورت محسوس ہوگی تو اس سلسلے میں مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے دورہ کے خلاف لکھیم پور کھیری کے کسان احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک ایس یو وی نے احتجاجی مظاہرہ کر رہے کسانوں کو کچل دیا تھا جس سے 4 کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ناراض لوگوں نے ایس یو وی کے ڈرائیور اور بی جے پی کے دو کارکنان کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ اس تشدد میں ایک صحافی کی بھی موت ہو گئی تھی۔ کلیدی ملزم آشیش مشرا ٹینی کو سپریم کورٹ نے گزشتہ 11 جولائی کو عارضی ضمانت پر رِہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس ضمانت کو 26 ستمبر تک کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔ لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں آشیش مشرا سمیت مجموعی طور پر 13 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ آشیش کے علاوہ دیگر ملزمین میں انکت داس، نندن سنگھ بشٹ، لطیف کالے، ستیم عرف ستیہ پرکاش ترپاٹھی، شیکھر بھارتی، سمت جیسوال، آشیش پانڈے، لوکش رانا، شیشوپال، اُلاس کمار عرف موہت ترویدی، رنکو رانا اور دھرمیندر بنجارا کا نام شامل ہے۔

لوک سبھا میں 2 بار بج گیا قومی ترانہ، اسپیکر نے جانچ کا دیا حکم

0
لوک-سبھا-میں-2-بار-بج-گیا-قومی-ترانہ،-اسپیکر-نے-جانچ-کا-دیا-حکم

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے پہلے دن پیر کو لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی اچانک ایوان میں قومی ترانہ بجنے سے ایک عجیب صورت حال پیدا ہو گئی۔ اس وقت 11 نہیں بجے تھے اور نہ ہی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اپنی کرسی پر بیٹھے تھے۔

ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی جب قومی ترانہ شروع ہو گیا تو اُس وقت ایوان میں موجود وزیر اعظم نریندر مودی اور سونیا گاندھی سمیت سبھی اراکین پارلیمنٹ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ اس کے ختم ہوتے ہی لوک سبھا کے جنرل سکریٹری اتپل سنگھ جیسے ہی ایوان کے اندر آئے، وزیر اعظم مودی نے ان سے جاننے کی کوشش کی کہ کیا ہوا۔ پھر جب لوک سبھا اسپیکر اوم برلا ایوان میں پہنچے تو روایت کے مطابق قومی ترانہ بجانے کے ساتھ ایوان کی کارروائی باضابطہ شروع ہوئی۔

اپوزیشن پارٹیوں نے اسپیکر کی موجودگی کے بغیر ایوان میں قومی ترانہ بجائے جانے اور دو بار قومی ترانہ بجنے کو اسپیکر کی بے عزتی قرار دیتے ہوئے ہنگامہ کرنا شروع کر دیا۔ اپوزیشن لیڈران کے ہنگامہ کے درمیان لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ کوئی بے عزتی نہیں ہوئی ہے، یہ تکنیکی خامی ہے، آپ نے اسے جانکاری میں لایا ہے اور اس خامی کی جانچ کروائی جائے گی۔

’بدلنا ہے تو اب حالات بدلو، ایسے نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے؟‘، پارلیمنٹ میں کھڑگے کا پی ایم مودی پر طنز

0
’بدلنا-ہے-تو-اب-حالات-بدلو،-ایسے-نام-بدلنے-سے-کیا-ہوتا-ہے؟‘،-پارلیمنٹ-میں-کھڑگے-کا-پی-ایم-مودی-پر-طنز

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا آغاز آج (پیر) سے ہو چکا ہے۔ اس دوران راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ایک نظم سے کیا اور کہا کہ ’بدلنا ہے تو اب حالات بدلو، ایسے نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے؟‘ کھڑگے کے ذریعہ سنائی گئی پوری نظم اس طرح ہے:

بدلنا ہے تو اب حالات بدلو
ایسے نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے

دل کو تھوڑا بڑا کر کے دیکھو
لوگوں کو مارنے سے کیا ہوتا ہے؟

کچھ کر نہیں سکتے تو کرسی چھوڑ دو
بات بات پر ڈرانے سے کیا ہوتا ہے؟

اپنی حکمرانی پر تمھیں غرور ہے
لوگوں کو ڈرانے دھمکانے سے کیا ہوتا ہے؟

ملکارجن کھڑگے نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ 1950 میں جب ہم نے جمہوریت کو اختیار کیا، تو بہت سے غیر ملکی دانشوروں کو لگتا تھا کہ یہاں جمہوریت ناکام ہو جائے گی، کیونکہ یہاں کروڑوں انگوٹھا چھاپ لوگ ہیں۔ تب برطانوی وزیر اعظم چرچل نے یہاں تک کہا تھا کہ انگریز چلے گئے تو ان کے ذریعہ قائم عدلیہ، صحت خدمات، ریلوے اور تعمیرات عامہ کا پورا نظام ختم ہو جائے گا۔ اتنا کمتر سمجھا گیا ہم کو، کہا گیا یہ لوگ اَن پڑھ ہیں، انگوٹھا چھاپ ہیں، جمہوریت کو کیسے ٹکائیں گے، ہم نے ٹکا کر دکھایا۔ ہمیں بار بار ٹوکا جاتا ہے کہ 70 سال میں کیا کچھ کیا آپ نے، ہم نے 70 سال میں اس ملک کی جمہوریت کو مضبوط کیا… ہمارے نڈا صاحب ہمیں چھوٹا کرنے کے لیے انڈی بولتے ہیں، نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم ہیں انڈیا۔

کانگریس صدر نے پی ایم مودی کے خلاف حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اٹل جی نے اپنی مدت کار میں 21 بار بیان دیا ہے۔ منموہن سنگھ نے 30 مرتبہ بیان دیا۔ صرف ہمارے موجودہ وزیر اعظم ایسے ہیں جنھوں نے گزشتہ 9 سالوں میں روایتی بیانات کو چھوڑ کر صرف 2 بار بیان دیا ہے۔ یہ جمہوریت ہے؟ چیئرمین جی اس کو کیسے بہتر کرتے ہیں، میں آپ پر ہی چھوڑ دیتا ہوں۔

راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ نہرو جی کا ماننا تھا کہ مضبوط اپوزیشن کی غیر موجودگی کا مطلب ہے نظام میں اہم خامیاں ہیں۔ اگر مضبوط اپوزیشن نہیں ہے تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اب جب ایک مضبوط اپوزیشن ہے تو ای ڈی، سی بی آئی کے ذریعہ سے اسے کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کیا جا رہا ہے… انھیں (اپنی پارٹی میں) لے جاؤ، انھیں واشنگ مشین میں ڈال دو اور جب وہ پوری طرح صاف ہو کر باہر آ جائیں تو انھیں (اپنی پارٹی میں) مستقل کر دو۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج کیا ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں کم ہی آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو اسے ایونٹ بنا کر چلے جاتے ہیں۔

ملکارجن کھڑگے نے اپنی تقریر میں منی پور ایشو پھر سے اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم اِدھر اُدھر جا رہے ہیں، لیکن وہ منی پور نہیں گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آخری سیشن میں بحث چاہتے ہیں۔ ایوان کے نائب سربراہ نے انھیں ٹوکا اور کہا کہ وہ بحث کے حق میں تھے، لیکن آپ نے (اپوزیشن) بحث کی اجازت نہیں دی۔ ہر ایشو پر باہر تقریر دینے کو لے کر کھڑگے نے پی ایم پر حملہ بولا۔

کھڑگے نے اپنے انداز میں کہا کہ مین رات کو دوڑتے دوڑتے یہاں پہنچا ہوں۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے سوچا تھا کہ آج کا دن بہت اچھا ہے۔ ہمارے چیئرمین صاحب (نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ) غصے میں نہیں رہیں گے اور کسی کو ڈرائیں گے نہیں۔ سبھی کو محبت سے لے کر ایک ساتھ چلیں گے۔ اسی امید کے ساتھ میں یہاں آیا تھا۔

کھڑگے نے کہا کہ آج کا دن خوشی کا دن ہے، ہمارے ساتھی سنجے سنگھ اور راگھو چڈھا کو ایوان میں لے کر آئیے، اگر خصوصی اجلاس کے پہلے دن دو اراکین کو باہر رکھنا ٹھیک نہیں لگتا۔ آپ بڑا دل دکھائیے، غصہ کم کر دیجیے۔

منی پور میں فوجی جوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد

0
منی-پور-میں-فوجی-جوان-کی-گولیوں-سے-چھلنی-لاش-برآمد

اتوار  یعنی 17 ستمبر کو مشرقی امپھال ضلع میں ہندوستانی فوج کے ایک سپاہی کی لاش ملی ہے۔ پولیس نے اطلاع  دیتے ہوئے کہا کہ کچھ مسلح افراد نے اس فوجی جوان کو اغوا کر لیا تھا۔ پولیس افسر کے مطابق فوجی اہلکار چھٹی پر اپنے گھر آیا تھا، جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق پولیس افسر نے کہا، "تین مسلح افراد نے ہفتہ یعنی16 ستمبر کو ڈیفنس سروس کور (DSC) کے 49 سالہ سرتو تھانگتھنگ کوم کو امپھال مغربی ضلع میں ہیپی ویلی میں ترونگ میں واقع اس کے گھر سے بندوق کی نوک پر اغوا کر لیا۔ اس کی گولیوں سے چھلنی لاش اتوار کو امپھال مشرقی ضلع کے مشرق میں کھننگتھیک گاؤں میں ملی۔

پولیس نے بتایا کہ فوجی نے پسماندگان میں بیوی، ایک بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔ ان کی آخری رسومات اہل خانہ کی خواہش کے مطابق ادا کی جائیں گی۔ فوج کی ایک ٹیم متوفی کے گھر پہنچ گئی تاکہ اس کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔ بھارتی فوج نے اس بزدلانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘فوج اس مشکل وقت میں ان کے سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔’

متوفی جوان کو 8ویں آسام رجمنٹ سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے کے بعد کچھ سال قبل ڈی ایس سی میں دوبارہ تعینات کیا گیا تھا۔ وہ چھٹی پر گھر گیا تھا اور پیر کو ڈیوٹی جوائن کرنی تھی۔ ان کی اہلیہ سومیون کوم نے بتایا کہ ان کا خاندان اپنے دو بچوں کی تعلیم کے لیے ہیپی ویلی علاقے میں رہ رہا ہے۔

کوم یونین منی پور (کے یو ایم) کے صدر سرتو آہو کوم نے کہا، ‘کوم قبائلی برادری منی پور میں ایک اقلیت ہے۔ یہ ایک امن پسند طبقہ  ہے اور اس میں کسی بھی برادری کو شامل یا امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔

پارلیمنٹ کا اجلاس مختصر لیکن تاریخی’،وزیر اعظم  مودی نے کہا’ رونے دھونے کے لئے بہت وقت ہے‘

0
پارلیمنٹ-کا-اجلاس-مختصر-لیکن-تاریخی’،وزیر-اعظم- مودی-نے-کہا’-رونے-دھونے-کے-لئے-بہت-وقت-ہے‘

پی ایم مودی نے کہا، پارلیمنٹ کا اجلاس مختصر ہے، لیکن یہ تاریخی فیصلوں کا اجلاس  ہے۔ یہ اجلاس  مختصر مگر بہت قیمتی ہے۔ یہ اجلاس  بہت خاص ہے۔ یہ 75 اجلاسوں  کا سفر ہو گا۔ یہ اجلاس کئی لحاظ سے اہم ہے۔  انہوں نے کہا کہ تمام اراکین پارلیمنٹ سے اپیل ہے کہ اس اجلاس میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت کریں۔ رونے کے لئے بہت وقت ہے ۔ پرانی برائیاں چھوڑیں اور اچھی باتیں لے کر نئی پارلیمنٹ میں آئیں۔

انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ‘مون مشن کی کامیابی کے بعد ہمارا ترنگا لہرا رہا ہے۔ شیو شکتی پوائنٹ نئی تحریک کا مرکز بن گیا ہے۔ ہندوستان کے لیے بہت سے امکانات اور مواقع ہیں۔ جی 20 کی کامیابی ہمارے تنوع کی وجہ بنی۔

ادھو دھڑے کی  رہنما اور راجیہ سبھا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے کہا، ‘پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس جلد بازی میں بلایا گیا ہے۔ اس کا ایجنڈا بھی نہیں لایا گیا۔ شمالی ہندوستان میں تیج منائی جاتی ہے، مہاراشٹر میں کل گنیش چترتھی منائی جائے گی، تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کے ذہن میں کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے پچھلے اجلاس سے پہلے وزیر اعظم نے منی پور میں ہو رہے واقعات پر 30 سیکنڈ کا جواب دیا تھا۔ پارلیمنٹ کے پچھلے اجلاس سے لے کر اس سیشن تک کئی واقعات ہوئے لیکن کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ کشمیر میں ہمارے فوجی شہید ہوئے ہیں لیکن وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع پارٹی ہیڈ کوارٹر میں جشن منا رہے تھے۔

اپوزیشن جماعت انڈیا الائنس کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں اپوزیشن آج کی بحث میں حصہ لے گی۔

نئی پارلیمنٹ عمارت کا خصوصی سیشن مفاد عامہ کے مسائل کو ہو وقف:مایاوتی

0
نئی-پارلیمنٹ-عمارت-کا-خصوصی-سیشن-مفاد-عامہ-کے-مسائل-کو-ہو-وقف:مایاوتی

اب سے تھوڑی دیر میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس شروع ہونے والا ہے اور بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے نئے پارلیمنٹ عمارت میں  اب سے تھوڑی دیر میں شروع ہونے والے  خصوصی اجلاس  کے مفاد عامہ کے مسائل کو وقف ہونے کی توقع کا اظہار کیا ہے ۔

مایاوتی نے کل اپنے کئی ٹوئٹس میں لکھا’ نئی پارلیمنٹ احاطے میں آج پرچم کشائی اور کل سے وہاں شروع ہورہے خصوصی سیشن کی سبھی اراکین پارلیمنٹ کو مبار کباد، امید ہےنئی پارلیمنٹ عمارت جمہوریت کی مضبوطی پر بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے انسانیت پرست آئین کے مقاصد کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے لکھا؛ ویسے کمرتوڑ مہنگائی، غریبی، بے روزگاری، لاچاری وغیرہ سے نجات اور اندرونی و باہر سیکورٹی جیسے ملک و مفاد عامہ کے سلگتے مسائل پر نئے پارلیمنٹ کا سیشن اگر وقف ہوتا ہے تو لوگوں میں امید کی نئی کرن جاگے گی۔ کشمیر میں جوانوں کی شہات کو بھی سنگینی سے لینا ضروری ہے۔‘

لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت پر کوشر اور حلال کا مشروط لیبل

0
لیبارٹری-میں-تیار-کردہ-گوشت-پر-کوشر-اور-حلال-کا-مشروط-لیبل

لیبارٹری میں مصنوعی طریقے سے تیار کردہ گوشت پرکوشر اور حلال کا لیبل لگایا جا سکتا ہے۔ یہ رائے مصنوعی طریقے سے گوشت کی تیار کی نوزائیدہ صنعت کی جانب سے مقرر کیے گئے کمیشن کے دو پینلوں پر مشتمل ماہرین نے دی ہے۔ ان ماہرین کے مطابق کوشر اور ہلال کی سند اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب لیب میں تیار کردہ گوشت کے خلیوں کو مذہبی معیارات کے مطابق طریقوں سے اخذ کیا جائے۔

ماہرین کی اس رائے کو خلیوں سےگوشت تیار کرنے والی کمپنیوں کی فتح کے طور پر دیکھا جارہا ہےکیونکہ اس کا مطلب ہے کہ یہودیت اور اسلام کے ماننے والے پیروکار ایک دن یہ مصنوعات کھا سکتے ہیں۔

گُڈ میٹ نامی کمپنی کے سی ای او جوش ٹیٹرک نے کہا، ”یہ خلیوں کی مدد سےتیار شدہ گوشت کو ایک حقیقی حل بنانے کی طرف ایک اور قدم ہے۔” مصنوعی طور پر تیار کردہ گوشت فی الحال امریکہ اور سنگاپور میں صرف قلیل مقدار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ لیکن کمپنیوں کو امید ہے کہ نجی اور سرکاری سرمایہ کار پوری دنیا میں اس گوشت کی پیداوار بڑھانے اور خوراک کو تبدیل کرنے کے لیے اس شعبے کو کافی رقم فراہم کریں گے۔

یہ گوشت جانوروں کے خلیوں کے نمونوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جنہیں غذائیت کے لیے ملی جلی اشیاء سے بنتے ہیں اور انہیں اسٹیل کے برتنوں میں تیار کیا جاتا ہے، جس سے زمینی صنعتی کاشتکاری کے کاموں اور مذبح خانوں کی ضرورت سے گریز کیا جاتا ہے۔

اس نئی صنعت کی کمپنیاں امید کرتی ہیں کہ ان کی پراڈکٹ صرف ویگن ڈائٹ استعمال کرنے والوں اور سبزی خوروں کے ساتھ ساتھ آب و ہوا سے متعلق حساس مگر گوشت کھانے والوں کو بھی پسند آئے گی۔

گڈ میٹ نے شرعی ماہرین کا ایک پینل بلایا تھا، جس نے کمپنی کی پیداوار کا جائزہ لیا اور اتوار کو کہا کہ کاشت شدہ گوشت حلال ہو سکتا ہے اگر دیگر عوامل کے علاوہ، وہ خلیے جن سے گوشت بنایا جاتا ہے اسلامی قانون کے مطابق ذبح کیے گئے جانور سے لیے گئے ہوں۔ اگرچہ گڈ میٹ کمپنی کا تیار کردہ چکن فی الحال اس معیار پر پورا نہیں اترتا لیکن اس کمپنی کے مالک ٹیٹرک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ رائے صنعت کو حلال مصنوعات بنانے کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔

کوشر سرٹیفیکیشن کی سب سے بڑی ایجنسی آرتھوڈوکس یونین (او یو) نے چھ ستمبر کو کہا کہ اسرائیلی کمپنی سپر میٹ کی طرف سے تیار کردہ کاشت شدہ چکن معیار پر پورا اترتا ہے کیونکہ چکن کے خلیوں کو جانوروں کے اجزاء نہیں کھلائے گئے ۔ کمپنی کے مالک ایدو سیور نے کہا کہ سپر میٹ اور او یو مل کر صنعت کے لیے وسیع تر رہنما خطوط پر کام کر رہے ہیں۔

حلال سرٹیفیکیشن ایجنسی او یو اور اسلامک سروسز آف امریکہ کے مطابق امریکہ میں 12 ملین سے زیادہ لوگ کوشر اور 8 ملین حلال مصنوعات کھاتے ہیں۔ ریگولیٹرز نے اس سال کے شروع میں کاشت شدہ چکن کو امریکی استعمال کے لیے کلئیرنس دی اور اس کے بعد سے اسے کچھ اعلیٰ درجے کے ریستوراں میں پیش کیا گیا ہے۔