ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 113

خصوصی اجلاس: نئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے وزیر اعظم اور دیگر ارکان، تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی اپیل

0
خصوصی-اجلاس:-نئے-پارلیمنٹ-ہاؤس-پہنچے-وزیر-اعظم-اور-دیگر-ارکان،-تلخیوں-کو-بھلا-کر-آگے-بڑھنے-کی-اپیل

نئی دہلی: نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ آج خصوصی اجلاس کا دوسرا دن ہے اور آج کی کارروائی نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہو گئی۔

نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا، ہندوستان کو چندریان -3 کی کامیابی پر فخر ہے۔ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ نئے پارلیمنٹ ہاؤس آئے ہیں۔ ہمیں تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ہے۔ یہ عمارت نئی ہے۔ تمام انتظامات نئے ہیں۔ سب کچھ نیا ہے، لیکن کل اور آج کو جوڑنے والا ایک بہت بڑا ورثہ ہے جو نیا نہیں، پرانا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’میری طرف سے آپ سبھی کو مچھامی دوکڑم‘۔ آج سموتسری بھی منائی جا رہی ہے، یہ ایک شاندار روایت ہے۔ آج وہ دن ہے جب ہم ‘مچھامی دُکڑم’ کہتے ہیں، یہ ہمیں کسی ایسے شخص سے معافی مانگنے کا موقع فراہم کرتا ہے جسے ہم نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر تکلیف پہنچائی ہو۔ میں پارلیمنٹ کے تمام ارکان اور ملک کے عوام کو بھی ‘مچھامی دوکڑم’ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ جین مت کے مطابق مچھامی کا مطلب ہے معافی اور دوکڑم کا مطلب ہے غلطیاں۔ اس کا مطلب یہ ہے ’’میری جانب سے کی گئیں دانستہ یا غیر دانستہ غلطیوں کے لئے مجھے معاف کر دیں۔‘‘

رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ حکومت لوک سبھا کی آج کی کارروائی میں ہی خاتون ریزرویشن بل پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس بل کو وزیر قانون ارجن رام میگھوال کی جانب سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ ۔اس کے بعد بل کو ایوان سے منظور کرانے کے لئے کل 20 ستمبر کو بحث ہوگی اور 21 ستمبر کو اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔

قبل ازیں، نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی اجلاس شروع ہوا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان کا مشترکہ فوٹو شوٹ پرانی پارلیمنٹ میں صبح 9:30 بجے ہوا۔ تصاویر تین گروپوں میں لی گئیں۔ پہلی تصویر میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان موجود تھے اور دوسری تصویر میں راجیہ سبھا کے سبھی ممبران موجود تھے۔ جبکہ تیسری تصویر میں صرف لوک سبھا کے ممبران تھے۔ پی ایم مودی صبح 11 بجے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال پہنچے۔

وزیر اعظم مودی سنٹرل ہال سے آئین کا نسخہ لے کر پیدل ہی نئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ اس دوران نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، سونیا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سمیت لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے دیگر ارکان موجود تھے۔ این ڈی اے کے تمام ارکان پارلیمنٹ وزیر اعظم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ اور اپوزیشن کے دیگر ارکان پارلیمنٹ بھی نئی عمارت میں داخل ہوئے لیکن وہ علیحدہ گروپ میں وہاں پہنچے۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری، رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، گورو گگوئی اور دیگر نے ایک ساتھ پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں داخلہ لیا۔

مودی حکومت نے گزشتہ 9.5 سالوں میں ریزرویشن بل پر کوئی قدم نہیں اٹھایا: کانگریس

0
مودی-حکومت-نے-گزشتہ-9.5-سالوں-میں-ریزرویشن-بل-پر-کوئی-قدم-نہیں-اٹھایا:-کانگریس

نئی دہلی: مرکزی کابینہ کی جانب سے خواتین ریزرویشن بل کی منظوری کے بعد کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے اس سمت میں تاخیر سے کارروائی کی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ساڑھے 9 سالوں میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے کئی خطوط کے باوجود مودی حکومت نے اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا ’’خواہ بی جے پی نے اس میں بہت تاخیر کی ہے لیکن یہ بہتر ہے دیر سے ہی سہی۔ بل آخرکار دن کی روشنی دیکھ رہا ہے!‘‘

ایکس سابقہ (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے کہا، ’’1989 میں راجیو گاندھی جی نے پہلی بار بلدیاتی اداروں کے لیے یہ تصور پیش کیا تھا۔ راجیو گاندھی کے وژن کو 1993 میں نافذ کیا گیا۔ 2010 میں سونیا گاندھی کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران، ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے خواتین کے ریزرویشن بل کو پاس کیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’ساڑھے 9 سالوں میں، سونیا گاندھی، راہل گاندھی جی اور خود کانگریس پارٹی کے کئی خطوط کے باوجود، مودی حکومت نے اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ بھلے ہی بی جے پی نے اس میں کافی تاخیر کی ہے، لیکن یہ کبھی نہ ہونے سے بہتر ہے کیونکہ بل آخرکار دن کی روشنی دیکھ رہا ہے۔

وینوگوپال کا ردعمل وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ کی طرف سے پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ میں خواتین کے لیے ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے آئینی ترمیمی بل کو منظوری دینے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، اس طرح پارلیمنٹ کے جاری خصوصی اجلاس میں تاریخی بل کے پیش ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔‘‘

کانگریس نے حال ہی میں پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے حیدرآباد میں اختتام پذیر دو روزہ اجلاس ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خاتون ریزرویشن بل کو منظور کیا جائے۔ پیر کو کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے، این سی پی لیڈر سپریہ سولے اور لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بھی خصوصی اجلاس میں بل کو پاس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کینیڈا کے الزامات پر ہندوستان نے لگائی لتاڑ، کینیڈیائی سفارت کار کو ہندوستان چھورنے کا حکم

0
کینیڈا-کے-الزامات-پر-ہندوستان-نے-لگائی-لتاڑ،-کینیڈیائی-سفارت-کار-کو-ہندوستان-چھورنے-کا-حکم

نئی دہلی: ہندوستان نے منگل کو کینیڈا کے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا کہ خالصتانی دہشت گرد ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ہندوستانی ایجنٹوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ہندوستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے پیچھے ہندوستانی حکومت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا، اس کے جواب میں اب حکومت ہند نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کینیڈا کی سرزنش کی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی طرف سے کینیڈا کے سفارت کار کو بھی پانچ روز کے اندر ہندوستان چھورنے کے لئے کہا ہے۔ اس ’اعلیٰ سفارت کار’ کی شناخت ہندوستان  میں کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ اولیور سلویسٹر کے طور پر ہوئی ہے۔

ہندوستانی حکومت اس سے قبل بھی نجر کے قتل میں اپنے کردار سے انکار کر چکی ہے۔ اس سے قبل کینیڈا میں بھی یہ بات اٹھ چکی ہے کہ نجر کو ہندوستانی ایجنٹوں نے قتل کیا تھا لیکن ہندوستان نے اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ کینیڈا نے بھی نجر کے قتل میں ہندوستان کے کردار کی تحقیقات کے پیش نظر اپنے اعلیٰ ہندوستانی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس واقعے کے بعد ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

وزارت خارجہ نے منگل کی صبح ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کی چھان بین کی گئی ہے۔ ان کے وزیر خارجہ کا بیان بھی سنا ہے۔ ہم کینیڈین وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ہندوستانی حکومت پر کینیڈا میں ہونے والے کسی بھی تشدد میں ملوث ہونے کا الزام لگانا انتہائی مضحکہ خیز اور سیاسی طور پر محرک ہے۔ ہم قانون کی حکمرانی کے حوالے سے جمہوری اقدار کے پابند رہے ہیں۔‘‘

وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے بے بنیاد الزامات خالصتانی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔ انہیں کینیڈا میں پناہ دی جارہی ہے، جب کہ وہ ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ کینیڈین حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جو کہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کینیڈا کے رہنماؤں نے بھی ان شدت پسندوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

مرکز اور مہاراشٹر حکومت پر شیو سینا کا بڑا حملہ

0
مرکز-اور-مہاراشٹر-حکومت-پر-شیو-سینا-کا-بڑا-حملہ

شیوسینا کے منہ بولے اخبار سامنا میں ایک طرف  گنیش چتھرتی کے تہوار  کے ذریعے بھگوان سے تمام پریشانیوں کو دور کرنے کی دعا کی گئی ہے تو دوسری طرف ریاست میں شندے، بی جے پی اور این سی پی کی مشترکہ حکومت پر حملہ کیا اس کے علاوہ سامنا میں مرکزی حکومت کو لے کر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔

سامنا میں لکھا گیا کہ ‘ایک طرف خشک سالی، فصلوں کا نہ ہونا ، اس سے پیدا ہونے والا قرض کا بوجھ، اس کی وجہ سے کسانوں کی بڑھتی ہوئی خودکشی اور دوسری طرف حکمرانوں کے دھوکہ دہی کے اعلانات، یہ ریاست پر سنگین بحران ہے۔ ریاست کے لوگ آج  دعا کر رہے ہوں گے کہ دہلی والوں نے جو اپنی سیاسی خود غرضی کے لیے مہاراشٹر پر  بحران مسلط کئے ہوئے ہیں  ان کو ہمیشہ کے لیے دور کر دیا جائے۔

مرکزی حکومت کو تحریرکئے  گئے خط میں لکھا ہے – ‘مرکز کے ‘خود ساختہ’ حکمرانوں کے بارے میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ مہنگائی سے لے کر بے روزگاری تک، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے سے لے کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے تک، مذہب سے لے کر ترقی تک، ملکی سلامتی سے لے کر نام نہاد خود انحصاری تک، صرف ڈنک اور غلط خبروں کے غبارے ہوا میں چھوڑے جا رہے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں نسلی اور مذہبی پولرائزیشن کا کاروبار شروع ہو چکا ہے۔ حکمراں جماعت فسادات بھڑکانے اور سیاسی فائدے کے لیے اس کا فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شیو سینا کے اخبار میں لکھا گیا ہے – ‘مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے مذہب اور عقیدے کے جال میں پھنسے ہوئے ہم وطنوں کو پھنسانے کی سازش شروع ہو گئی ہے۔ اس کے لیے ایودھیا میں شری رام مندر، یکساں سول کوڈ، ‘ایک ملک ایک قانون’ جیسے کئی مسائل کی ‘دھمکی’ دی جا رہی ہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر قریشی نے ‘نفرت پر قابو پانے’ کے لیے ’وسنت ویلی‘ کے سابق طلباء کا خط شیئر کیا

0
سابق-چیف-الیکشن-کمشنر-قریشی-نے-‘نفرت-پر-قابو-پانے’-کے-لیے-’وسنت-ویلی‘-کے-سابق-طلباء-کا-خط-شیئر-کیا

نئی دہلی: سابق چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) ایس وائی قریشی نے وسنت ویلی اسکول کے سابق طلباء کا ایک خط شیئر کیا ہے، جس میں اسکول اور ٹی وی ٹوڈے گروپ کے بانی ارون پوری پر زور دیا گیا کہ وہ نفرت انگیز آوازوں پر لگام لگائیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کا احتساب ضروری ہے جو خبروں کی آڑ میں کھلم کھلا فرقہ وارانہ پولرائزیشن میں مصروف ہیں۔

ایس وائی قریشی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر خط کا اشتراک کرتے ہوئے کہا ’’یقین ہے کہ پوری اسکول کو بند کرنے کا پرنسپل پروفیسر سدھیر چودھری کے تبادلے پر غور نہیں کریں گے!‘‘

پوری کو لکھے ایک خط میں سابق طلبا نے لکھا ’’ہم آج آپ کو وسنت ویلی اسکول کے سابق طلبا کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے گروپ وسنت ویلی اسکول کا بانی ہے اور ٹی وی ٹوڈے، انڈیا ٹوڈے اور آج تک سمیت کئی ٹیلی ویژن چینلز کا مالک ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کے سابق طلباء کے طور پر ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ناقابل یقین حد تک فخر ہے، کیونکہ ایمرجنسی، 1984 کے دہلی فسادات، 2002 کے گجرات فسادات سمیت ہمارے ملک کے تاریک ترین دور میں بھی جوابدہ قرار دینے کی انڈیا ٹوڈے کی تاریخی میراث ہے۔‘‘

خط میں کہا گیا ہے کہ ’’آپ کے قائم کردہ تعلیمی ادارے کے اندر ہی ہم نے آزادی، انصاف، مساوات، بھائی چارے کے اپنے آئینی اصولوں کو سیکھا اور ان پر عمل کیا۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ انہیں اقدار کو انڈیا ٹوڈے سے وابستہ لوگوں کی طرف سے ہی تیزی سے کمزور کیا جا رہا ہے۔‘‘

خط میں مزید لکھا گیا، ’’ہماری صرف یہ درخواست ہے کہ آپ انڈیا ٹوڈے گروپ کے چیئرمین اور ایڈیٹر ان چیف کی حیثیت سے اپنی نشریات سے نکلنے والی نفرت کو روکیں اور ان لوگوں کا احتساب کریں جو خبروں کی آڑ میں کھلے عام فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔‘‘ اس نے انڈیا ٹوڈے گروپ کی بہترین رپورٹنگ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

’ان کو انڈیا نہیں بھارت کی ہچکی آ رہی ہے!‘ سامنا میں مرکز اور مہاراشٹر حکومت پر حملہ

0
’ان-کو-انڈیا-نہیں-بھارت-کی-ہچکی-آ-رہی-ہے!‘-سامنا-میں-مرکز-اور-مہاراشٹر-حکومت-پر-حملہ

ممبئی: شیوسینا یو بی ٹی نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے ذریعے ریاست میں شندے، پھڈنویس اور اجیت پوار کی قیادت والی مخلوط حکومت پر حملہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اخبار میں لکھا گیا ہے کہ ان کو انڈیا کی نہیں بلکہ بھارت کی ہچکی آ رہی ہے۔

سامنا میں لکھا گیا کہ ’’ایک طرف خشک سالی، فصلوں کی ناکامی، اس سے پیدا ہونے والا قرض کا بوجھ اور کسانوں کی بڑھتی ہوئی خودکشی اور دوسری طرف حکمرانوں کے دھوکہ دہی کے اعلانات، یہ ریاست پر سنگین بحران ہے۔ ریاست کے لوگ گنیش چترتھی کے موقع پر دعا کر رہے ہوں گے کہ دہلی والوں نے اپنی سیاسی خود غرضی کے لیے مہاراشٹر پر مسلط کیے گئے اس بحران کو ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں۔‘‘

سامنا میں مرکزی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے لکھا گیا ’’مرکز کے ‘خود ساختہ’ حکمرانوں کے حوالے سے صورتحال مختلف نہیں ہے۔ مہنگائی سے لے کر بے روزگاری تک، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے سے لے کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے تک، مذہب سے لے کر ترقی تک، ملکی سلامتی سے لے کر نام نہاد خود انحصاری تک، صرف ڈنکا اور غلط خبروں کے غبارے ہوا میں چھوڑے جا رہے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں نسلی اور مذہبی پولرائزیشن کا کاروبار شروع ہو چکا ہے۔ حکمران جماعت فسادات بھڑکانے اور سیاسی فائدے کے لیے اس کا فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔‘‘

سامنا میں مزید لکھا گیا ’’مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے مذہب اور عقیدے کے جال میں پھنسے ہوئے ہم وطنوں کو پھنسانے کی سازش شروع ہو گئی ہے۔ اس کے لیے ایودھیا میں شری رام مندر، یکساں سول کوڈ، ‘ایک ملک ایک انتخاب’ جیسے کئی مسائل کو ‘دھمکی’ دی جا رہی ہے۔‘‘

‘سامنا’ میں لکھا گیا کہ ’’ایک طرف چار مہینوں سے جل رہے منی پور کے بارے میں خاموشی برقرار رکھی جا رہی ہے، تو دوسری طرف پارلیمنٹ کے سکیورٹی اہلکاروں پر منی پوری ٹوپی رکھ کر ریاست کی شناخت ظاہر کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا ’انڈیا‘ اتحاد 2024 میں ان کا صفایا کر دے گا، اس کا احساس ہونے پر حکمران اور ان کے حواریوں کو ’انڈیا نہیں، بھارت‘ کی ہچکی آ رہی ہے!

مودی کابینہ نے خاتون ریزرویشن بل کو دی منظوری، کانگریس نے کیا استقبال!

0
مودی-کابینہ-نے-خاتون-ریزرویشن-بل-کو-دی-منظوری،-کانگریس-نے-کیا-استقبال!

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے درمیان مرکز کی مودی حکومت نے آج کابینہ کی میٹنگ میں خاتون ریزرویشن بل کو منظوری دے دی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بل کو پاس کرانے کے لیے پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر پرہلاد سنگھ پٹیل نے پی ایم مودی اور مودی حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ خاتون ریزرویشن بل کے مطالبہ کو پورا کرنے کی اخلاقی ہمت صرف مودی حکومت میں ہے، جو کابینہ کی منظوری سے ثابت ہو گیا۔

دراصل حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے جانے کے بعد سے ہی اجلاس میں کئی طرح کے بل پیش ہونے کے قیاس لگائے جا رہے تھے۔ آخر کار اجلاس کے پہلے دن تمام قیاسوں کو درکنار کرتے ہوئے مرکزی کابینہ نے خاتون ریزرویشن بل کو منظوری دے دی۔ اب اس منظوری کے بعد خاتون ریزرویشن بل کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق خاتون ریزرویشن بل میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد یا ایک تہائی سیٹیں محفوظ کرنے کی تجویز ہے۔ اس بل میں خواتین کے 33 فیصد کوٹہ کے اندر ایس سی، ایس ٹی اور اینگلو انڈین کے لیے بھی ذیلی ریزرویشن کی بات کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بل میں تجویز ہے کہ سبھی عام انتخاب کے بعد محفوظ سیٹوں کو روٹیٹ کیا جانا چاہیے۔

مودی کابینہ کے ذریعہ خاتون ریزرویشن بل کو منظوری دیے جانے کے بعد کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی طویل مدت سے خاتون ریزرویشن بل کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ہم مبینہ طور پر سامنے آ رہے مرکزی کابینہ کے فیصلے کا استقبال کرتے ہیں اور بل کی تفصیل کا انتظار کر رہے ہیں۔ خصوصی اجلاس سے پہلے کل جماعتی میٹنگ میں اس پر اچھی طرح سے بحث کی جا سکتی تھی اور پردے کے پیچھے والی سیاست کی جگہ عام اتفاق بنایا جا سکتا تھا۔‘‘

واضح رہے کہ 2010 میں یو پی اے کی منموہن سنگھ حکومت نے اس سمت میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے راجیہ سبھا میں ہنگامے کے درمیان خاتون ریزرویشن بل پیش کیا تھا اور وہاں سے پاس کرا لیا تھا۔ لیکن بعد میں لوک سبھا میں یہ بل پیش نہیں ہو سکا۔ کانگریس نے آج بھی مطالبہ کیا ہے کہ یہ بل راجیہ سبھا سے پاس ہونے کے سبب اب بھی زندہ ہے، اس لیے حکومت اسے لوک سبھا میں پاس کرائے۔

شیوسینا تنازعہ: سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے اسپیکر کو لگائی پھٹکار

0
شیوسینا-تنازعہ:-سپریم-کورٹ-نے-مہاراشٹر-کے-اسپیکر-کو-لگائی-پھٹکار

سپریم کورٹ نے پیر کے روز شیوسینا تنازعہ میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور ان کے خیمہ کے خلاف داخل نااہلیت کی عرضی پر فیصلہ لینے میں تاخیر سے متعلق ادھو ٹھاکرے گروپ کے ذریعہ داخل عرضی پر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کی سخت تنقید کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ جے بی پاردیوالا اور منوج مشرا کی بنچ نے ان اراکین پارلیمنٹ کی نااہلیت پر فیصلے میں تاخیر کے ایشو پر سخت تنقید کی، جنھوں نے ٹھاکرے گروپ کو چھوڑ دیا اور شندے گروپ کے ساتھ اتحاد کر لیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسپیکر کو سپریم کورٹ کے وقار کا خیال رکھنا ہوگا اور اس کے فیصلے کو چار مہینے گزر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم صرف نوٹس کی سطح پر ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ اس کے 11 مئی کے فیصلے کے بعد کیا کارروائی کی گئی، جس میں اسے ’مناسب وقت‘ کے اندر عرضیوں پر فیصلہ دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ اسپیکر اپنے پیر کھینچنا جاری نہیں رکھ سکتے اور ہدایت دیا کہ وہ متعلقہ معاملے کی سماعت ایک ہفتہ سے پہلے نہیں کریں گے۔

عدالت عظمیٰ نے 14 جولائی کو نوٹس جاری کیا تھا اور راہل نارویکر اور ایکناتھ شندے سے دو ہفتہ کے اندر جواب مانگا تھا۔ شیوسینا-یو بی ٹی لیڈر سنیل پربھو کے ذریعہ داخل عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسپیکر ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ کی شکل میں ناجائز طریقے سے جاری رکھنے کی اجازت دینے کے لیے نااہلیت والی عرضیوں پر فیصلہ لینے میں تاخیر کر رہے ہیں، جن کے خلاف نااہلیت کی عرضیاں زیر التوا ہیں۔

شندے اور ان کے خیمے کے خلاف زیر التوا نااہلیت کی عرضیوں پر فیصلہ لینے میں اسپیکر کے ذریعہ کی گئی تاخیر کے خلاف ٹھاکرے گروپ نے 4 جولائی کو عدالت عظمیٰ کا رخ کیا تھا۔ 11 مئی کو سپریم کورٹ کی ایک آئینی بنچ نے ہدایت دی تھی کہ مہاراشٹر اسپیکر کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کے ملزم ایکناتھ شندے سمیت 16 شیوسینا اراکین اسمبلی کے خلاف ’مناسب وقت میں نااہلیت عرضیوں پر فیصلہ کرنا چاہیے‘۔

عدالت عظمیٰ نے 29 جون کو اپنے فیصلے میں ادھو ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ عہدہ پر بحال کرنے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ انھوں نے ایوان میں ’طاقت کا مظاہرہ‘ کا سامنا کرنے سے پہلے اپنی مرضی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پانچ ججوں نے اتفاق رائے سے مانا تھا کہ اُس وقت کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے ذریعہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے ٹھاکرے کو بلایا جانا مناسب نہیں تھا، لیکن انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی ہونے کے بعد شندے کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کرنا مناسب تھا، کیونکہ ٹھاکرے نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پربھو کی جگہ پر بھرت گوگاولے (شندے گروپ سے) کو شیوسینا کے چیف وہپ کی شکل میں منظوری دینے کے اسپیکر کے ذریعہ لیے گئے فیصلے کو ’قانون کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس چندرچوڑ کی قیادت والی آئینی بنچ نے کہا تھا کہ سیاسی پارٹی ایوان میں وہپ اور پارٹی لیڈر کی تقرری کرتا ہے، نہ کہ قانون ساز پارٹی کرتا ہے۔

مشن سورج: آدتیہ ایل-1 سے متعلق اِسرو نے سنائی خوشخبری، دیا تازہ اَپڈیٹ

0
مشن-سورج:-آدتیہ-ایل-1-سے-متعلق-اِسرو-نے-سنائی-خوشخبری،-دیا-تازہ-اَپڈیٹ

اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) ایک طرف چندریان-3 کے ذریعہ حاصل ڈاٹا پر ریسرچ کر رہا ہے، اور دوسری طرف مشن سورج کو لے کر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اِسرو نے پیر کے روز آدتیہ ایل-1 کو لے کر ایک بڑی خوشخبری سنائی۔ اِسرو نے بتایا کہ آدتیہ ایل-1 مشن نے سائنسی ڈاٹا جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے لکھا کہ ’’آدتیہ ایل-1 نے سائنسی ڈاٹا جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسٹیپس مشین کے سنسر نے زمین سے 50 ہزار کلومیٹر سے زیادہ دوری پر سپر تھرمل اور انرجیٹک آئن اور الیکٹرون کی پیمائش شروع کر دی ہے۔‘‘

اِسرو کا کہنا ہے کہ آدتیہ ایل-1 جو ڈاٹا جمع کر رہا ہے وہ سائنسدانوں کو زمین کے آس پاس کے ذرات کے رویہ کا تجزیہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ ڈاٹا کسی ایک یونٹ کے ذریعہ جمع کیے گئے توانا ذرات والے ماحول میں تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ بہرحال، یہ ایک بہت بڑی خبر ہے کہ آدتیہ سولر وِنڈ پارٹیکل ایکسپریمنٹ (ایسپیکس) پے لوڈ کا ایک حصہ، سپرا تھرمل اینڈ انرجیٹک پارٹیکل اسپیکٹرومیٹر (اسٹیپس) مشین نے اپنا ڈاٹا جمع کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اسٹیپس مختلف سمتوں میں جائزہ لینے والے 6 سنسرز سے مزین ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اسٹیپس کی سرگرمی 10 ستمبر کو زمین سے 50 ہزار کلومیٹر سے زیادہ دوری پر ہوئی۔ ضروری جانچ سے گزرنے کے بعد ڈاٹا جمع کرنا تب تک جاری رہا جب تک کہ خلائی طیارہ زمین سے 50 ہزار کلومیٹر کے نشان سے آگے نہیں بڑھ گیا۔ اسٹیپس کی ہر یونٹ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔

کل نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا خصوصی اجلاس، دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہونے کا وقت مقرر

0
کل-نئے-پارلیمنٹ-ہاؤس-میں-منعقد-ہوگا-خصوصی-اجلاس،-دونوں-ایوانوں-کی-کارروائی-شروع-ہونے-کا-وقت-مقرر

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 ستمبر یعنی آج سے شروع ہو چکا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، یعنی راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی کارروائی کل دوپہر تک کے لیے ملتوی ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی اعلان کیا گیا ہے کہ 19 ستمبر کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کے لیے الگ الگ وقت بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔

دی گئی جانکاری کے مطابق لوک سبھا کی کارروائی 19 ستمبر کو دوپہر 1.15 بجے اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2.15 بجے شروع ہوگی۔ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے لوک سبھا کو مطلع کیا کہ پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس (قدیم) میں کارروائی کا آخری دن ہے اور آج کے بعد ایوان کی کارروائی نئی عمارت میں ہوگی۔ انھوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ سبھی اراکین نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں نئی امیدوں کے ساتھ داخل ہوں گے۔

ایوان کو خطاب کرتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس حصول آزادی کی تاریخی گھڑی سے لے کر ہندوستانی آئین بننے کے مکمل عمل اور اس کے ساتھ جدید ملک کے قابل فخر جمہوری سفر کا گواہ رہا ہے۔ آزاد ہندوستان کی پہلی لوک سبھا کے اسپیکر گنیش واسودیو ماولنکر کو یاد کرتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ ملک کے اعلیٰ جمہوری ادارہ کے پہلے اسپیکر کی شکل میں انھوں نے اصول کمیٹی، خصوصی استحقاق کمیٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی سمیت کئی دیگر کمیٹیوں کو قائم کیا اور ایوان کے اندر اعلیٰ روایات کی بنیاد رکھی۔ دیگر سبھی سابق لوک سبھا صدور کے تعاون کا تذکرہ کرتے ہوئے اوم برلا نے کہا کہ ان سے قبل 16 صدور نے پارلیمنٹ کی اعلیٰ روایات قائم کی ہیں۔