ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 112

مودی حکومت نے 2029 تک خاتون ریزرویشن کے دروازے بند کر دیے: کھڑگے

0
مودی-حکومت-نے-2029-تک-خاتون-ریزرویشن-کے-دروازے-بند-کر-دیے:-کھڑگے

منگل کے روز نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا کے لیے پہلا کام کا دن رہا۔ نئی پارلیمنٹ میں راجیہ سبھا کے پہلے اجلاس میں پی ایم مودی نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ (خاتون ریزرویشن بل)، جی-20، ملک کی نئی پارلیمنٹ اور پرانی پارلیمنٹ جیسے اہم موضوعات کا تذکرہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں آج یہاں راجیہ سبھا کے سبھی ساتھیوں سے گزارش کرنے آیا ہوں کہ جب بھی خاتون ریزرویشن بل ہمارے سامنے آئے تو آپ سب متفقہ طور پر اس معاملے میں فیصلہ کریں۔

اس کے بعد راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ خاتون ریزرویشن بل کی ہم نے ہمیشہ حمایت کی ہے۔ 2010 میں راجیہ سبھا میں کانگریس-یو پی اے حکومت نے خاتون ریزرویشن بل پاس کروایا تھا۔ کھڑگے نے کہا کہ سیاست میں جس طرح ایس سی/ایس ٹی طبقہ کو آئینی موقع ملا ہے، اسی طرح او بی سی طبقہ کی خواتین سمیت سبھی کو اس بل سے یکساں موقع ملنا چاہیے۔

حزب مخالف لیڈر نے کہا کہ مودی حکومت جو بل لائی ہے، اس کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بل کے موجودہ مسودہ میں لکھا ہے کہ یہ 10 سالہ مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا۔ کھڑگے نے کہا کہ اس کا مطلب صاف ہے کہ مودی حکومت نے شاید 2029 تک خاتون ریزرویشن کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ بی جے پی کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی خاتون ریزرویشن بل کو لے کر حکومت پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ بل سب سے بڑے انتخابی جملوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’انتخابی جملوں کے اس موسم میں یہ سبھی جملوں سے بڑا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ ’’جیسا ہم نے پہلے بتایا تھا، مودی حکومت نے ابھی تک 2021 کی دہائی کی مردم شماری نہیں کرائی ہے، جس سے ہندوستان جی-20 میں واحد ملک بن گیا ہے جو مردم شماری کرانے میں ناکام رہا۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش کہتے ہیں کہ ’’اس (بل) میں کہا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے ایکٹ بننے کے بعد کرائی جانے وال پہلی ڈیکیڈ مردم شماری کے بعد ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ ہوگا۔ یہ مردم شماری کب ہوگی؟‘‘ کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرویشن اگلی مردم شماری کی اشاعت اور اس کے بعد ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام پانے کے بعد ہی اثر انداز ہوگا۔ کیا 2024 کے انتخاب سے پہلے مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام دیا جائے گا؟ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ بل اپنے نفاذ کی تاریخ کے بہت غیر واضح وعدے کے ساتھ آج سرخیوں میں ہے۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ ایونٹ مینجمنٹ ہے۔

’ہم ہندوستان کو اُکسانے کی کوشش نہیں کر رہے‘، کناڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو کا تیور ہوا نرم!

0
’ہم-ہندوستان-کو-اُکسانے-کی-کوشش-نہیں-کر-رہے‘،-کناڈا-کے-وزیر-اعظم-ٹروڈو-کا-تیور-ہوا-نرم!

کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے علیحدگی پسند سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے پیچھے حکومت ہند کی سازش کا الزام لگایا تھا جس کے بعد ہندوستان نے اپنا سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اب جسٹن ٹروڈو کا تیور کچھ نرم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ انھوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم ہندوستان کو اکسانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ ہم بس اتنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان اس معاملے کو سنجیدگی سے لے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ رواں سال جون میں کناڈا کے ایک اہم خالصتانی لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ کناڈا کے سرے میں واقع گرو نانک سکھ گرودوارے کے نزدیک دو نامعلوم حملہ آوروں نے نجر پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے پر گزشتہ روز کناڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کے پیچھے حکومت ہند کی سازش ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کناڈائی سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس یہ ماننے کی وجہ ہے کہ حکومت ہند کے ایجنٹوں نے ہی نجر کا قتل کیا۔ کناڈائی ایجنسیاں نجر کے قتل میں ہندوستان کی سازش کے امکانات کی جانچ کر رہی ہیں۔ ٹروڈو نے یہ بھی زور دیا کہ کناڈا کی زمین میں کناڈائی شہری کے قتل میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان الزامات کے بعد ہندوستان کی طرف سے سخت اعتراض ظاہر کیا گیا۔ ہندوستانی وزارت کارجہ نے کناڈا کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ ہندوستان نے کہا کہ اس طرح کا الزام صرف ان خالصتانی دہشت گرد اور شدت پسندوں سے دھیان ہٹانے کے لیے ہے جنھیں طویل مدت سے کناڈا میں پناہ دی جا رہی ہے اور جو ہندوستان کی علاقائی اتحاد و سالمیت کے لیے لگاتار خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

خاتون ریزرویشن بل پر کیا کہتی ہیں ملک کی سرکردہ خاتون سیاسی لیڈران؟

0
خاتون-ریزرویشن-بل-پر-کیا-کہتی-ہیں-ملک-کی-سرکردہ-خاتون-سیاسی-لیڈران؟

خاتون ریزرویشن بل 19 ستمبر کو ہنگامہ کے درمیان لوک سبھا میں پیش کر دیا گیا۔ اس بل کا مسودہ بھی سامنے آ گیا ہے جس کے بعد کئی طرح کے اعتراضات اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ برسراقتدار طبقہ خاتون ریزرویشن بل لوک سبھا میں پیش کیے جانے کو تاریخی اور مودی حکومت کی ایک بہت بڑی حصولیابی ٹھہرا رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ملک کی سرکردہ خاتون سیاسی لیڈران خاتون ریزرویشن بل کے تعلق سے کیا نظریہ رکھتی ہیں۔

اوما بھارتی (بی جے پی):

مجھے خوشی ہے کہ خواتین کو ریزرویشن مل رہا ہے۔ لیکن اس بات کی کسک بھی ہے کہ یہ (خاتون ریزرویشن بل) بغیر او بی سی ریزرویشن کے آیا ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے او بی سی خواتین کی شراکت داری نہیں کی تو جو سماج ہمیشہ سے ہم پر بھروسہ کرتے آیا ہے، اس کا بھروسہ ٹوٹ جائے گا۔

سپریا شرینیت (کانگریس):

خاتون ریزرویشن کو لے کر مودی جی کی پالیسی اور نیت دونوں میں کھوٹ ہے۔ مودی حکومت کے خاتون ریزرویشن بل میں صاف لکھا ہے کہ خاتون ریزرویشن مردم شماری اور حد بندی کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ مطلب 2029 سے پہلے خاتون ریزرویشن ممکن نہیں ہے۔

رابڑی دیوی (آر جے ڈی):

خاتون ریزرویشن کے اندر محروم، نظر انداز، زرعی اور محنت کش طبقات کی خواتین کی سیٹیں محفوظ ہوں۔ مت بھولو، خواتین کی بھی ذات ہے۔ دیگر طبقات کی تیسری/چوتھی نسل کی جگہ محروم طبقات کی خواتین کی ابھی پہلی نسل ہی خواندہ ہو رہی ہے، اس لیے ان کا ریزرویشن کے اندر ریزرویشن ہونا لازمی ہے۔

آتشی (عآپ):

عام آدمی پارٹی نے اس بل کا استقبال کیا ہے۔ حالانکہ بل کے التزامات 2024 میں نافذ نہیں ہوں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کو خواتین کے فلاح میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ خاتون ریزرویشن بل نہیں، بلکہ خواتین کو بے وقوف بنانے والا بل ہے۔

ڈمپل یادو (سماجوادی پارٹی):

میں خاتون ہوں اور اس بل کی حمایت کرتی ہوں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ جو آخری صف میں کھڑی خواتین ہیں، اس کو بھی اس کا حق ملنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن ملے۔

محبوبہ مفتی (پی ڈی پی):

مردوں پر مشتمل سیاسی منظرنامہ کے مشکل مرحلہ کو خود پار کرنے کے بعد مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ آخر کار خاتون ریزرویشن بل حقیقت بن جائے گا۔ نصف آبادی ہونے کے باوجود ہماری نمائندگی بے حد کم ہے۔ یہ ایک بہترین قدم ہے۔

این ڈی اے کی حکومت کو 10 سال ہونے والے ہیں۔ اگر انھوں نے یہ پہلے ہی طے کیا ہوتا تو 2024 کے انتخاب میں خواتین کو بڑی تعداد میں حصہ لینے کا موقع ملتا، لیکن دیر آئے درست آئے۔ اچھی بات ہے۔ ملک کی ترقی میں یہ ایک اہم قدم ہوگا۔

مایاوتی (بی ایس پی):

ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں ریزرویشن 33 فیصد دینے کی جگہ اگر ان کی نصف آبادی کو بھی دھیان میں رکھ کر 50 فیصد دیا جاتا تو اس کی ہماری پارٹی پورے دل سے استقبال کرتی، جس کے بارے میں حکومت کو ضرور غور و خوض کرنا چاہیے۔ لیکن بی ایس پی کے ان مطالبات پر حکومت کی طرف سے عمل نہیں کیا جاتا ہے تب بھی ہماری پارٹی پارلیمنٹ میں اس خاتون ریزرویشن بل کو حمایت دے گی اور اسے پاس کرانے میں پوری مدد کرے گی۔

پرینکا چترویدی (شیوسینا-یو بی ٹی):

یہ 30 سالوں پر مشتمل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ہمارے آئین نے برابری کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بل ضروری تھا۔ کئی پارٹیوں نے بی جے پی کو ساڑھے نو سال پہلے جاری ہوئے اس کے انتخابی منشور کا وعدہ یاد دلایا۔ یہ دیر سے آیا لیکن مجھے امید ہے کہ جلد ہی عمل میں آئے گا۔ بل میں لکھا تھا کہ یہ فوراً نافذ نہیں ہوگا کیونکہ حد بندی ہونے کے بعد ہی اس کا نفاذ ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ 2029 تک یہ ریزرویشن نافذ نہیں ہوگا۔ انھوں نے دروازے تو کھول دیے ہیں، لیکن اب بھی خواتین کے لیے داخلہ ممنوع ہے۔

کانگریس نے خاتون ریزرویشن بل کو بتایا ایک بڑا ’انتخابی جملہ‘، پی ایم مودی کے ’دھوکہ‘ کو سمجھیے

0
کانگریس-نے-خاتون-ریزرویشن-بل-کو-بتایا-ایک-بڑا-’انتخابی-جملہ‘،-پی-ایم-مودی-کے-’دھوکہ‘-کو-سمجھیے

لوک سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پیش کر دیا گیا ہے۔ اسے مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے پیش کیا۔ اس کا مسودہ سامنے آنے کے بعد فوراً کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’یہ بل سب سے بڑے انتخابی جملوں میں سے ایک ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کے ساتھ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔‘‘

دراصل کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’انتخابی جملوں کے اس موسم میں یہ سبھی جملوں سے بڑا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ ’’جیسا ہم نے پہلے بتایا تھا، مودی حکومت نے ابھی تک 2021 کی دہائی کی مردم شماری نہیں کرائی ہے، جس سے ہندوستان جی-20 میں واحد ملک بن گیا ہے جو مردم شماری کرانے میں ناکام رہا۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش کہتے ہیں کہ ’’اس (بل) میں کہا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے ایکٹ بننے کے بعد کرائی جانے وال پہلی ڈیکیڈ مردم شماری کے بعد ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ ہوگا۔ یہ مردم شماری کب ہوگی؟‘‘ کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرویشن اگلی مردم شماری کی اشاعت اور اس کے بعد ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام پانے کے بعد ہی اثر انداز ہوگا۔ کیا 2024 کے انتخاب سے پہلے مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام دیا جائے گا؟ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ بل اپنے نفاذ کی تاریخ کے بہت غیر واضح وعدے کے ساتھ آج سرخیوں میں ہے۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ ایونٹ مینجمنٹ ہے۔

محض 15 سال کے لیے ہے خاتون ریزرویشن بل، آئیے اہم نکات پر ڈالیں نظر

0
محض-15-سال-کے-لیے-ہے-خاتون-ریزرویشن-بل،-آئیے-اہم-نکات-پر-ڈالیں-نظر

خاتون ریزرویشن بل آج لوک سبھا میں مرکزی وزیر قانون ارجن رامی میگھوال کے ذریعہ پیش کر دیا گیا۔ اس بل کو پیش کیے جانے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ خاتون ریزرویشن بل کا نام ’ناری شکتی وندن‘ (قوتِ نسواں کو سلام) ہوگا۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ اس بل کے نافذ ہونے کے بعد ہماری جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔ ہماری حکومت اس بل کو قانون بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

بہرحال، خاتون ریزرویشن بل کا جو مسودہ سامنے آیا ہے اس میں کچھ اہم نکات ہیں جس پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کی مدت کار محض 15 سال ہوگی۔ یعنی اگر لوک سبھا میں بحث کے بعد خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیے جانے والا بل پاس ہو گیا تو ایسا نہیں ہے کہ یہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ نکات ہیں جو بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ آئیے ان نکات پر ڈالتے ہیں ایک نظر۔

  • مرکزی وزیر قانون نے کہا کہ خاتون ریزرویشن بل کے پاس ہونے کے بعد لوک سبھا میں خواتین کے لیے مختص سیٹوں کی تعداد 181 ہو جائے گی۔ لوک سبھا میں فی الحال خاتون اراکین کی تعداد 82 ہے۔

  • مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کا کہنا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کی مدت کار 15 سال ہوگی۔ حالانکہ اس مدت کار کو بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کے پاس حق موجود ہوگا۔

  • بل کے مسودہ میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ڈیلمٹیشن یعنی نئی حد بندی کے بعد ہی ریزرویشن نافذ ہوگا۔ مسودہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیلمٹیشن کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے گا۔ ڈیلمٹیشن کا عمل پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ ریاستی اسمبلیوں کے لیے بھی ہوگی۔ ڈیلمٹیشن کے بعد تقریباً 30 فیصد سیٹیں بڑھنے کا امکان ہے۔

  • خاتون ریزرویشن بل کے مسودہ کے مطابق پارلیمنٹ اور دہلی سمیت سبھی ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد سیٹیں خواتین کے لیے محفوظ ہوں گی۔ بڑی بات یہ ہے کہ ایس سی-ایس ٹی طبقہ کے لیے کوٹہ کے اندر کوٹہ نافذ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 33 فیصد ریزرویشن کے اندر ایس سی-ایس ٹی میں شامل ذاتوں کو بھی ریزرویشن دینے کا انتظام ہوگا۔

حیرت ہے کہ مودی جی نے خاتون ریزرویشن بل لانے کے لیے 10 سال انتظار کیا: کپل سبل

0
حیرت-ہے-کہ-مودی-جی-نے-خاتون-ریزرویشن-بل-لانے-کے-لیے-10-سال-انتظار-کیا:-کپل-سبل

خاتون ریزرویشن بل لوک سبھا میں پیش کر دیا گیا ہے اور 20 ستمبر کو اس بل پر ایوان زیریں میں بحث ہوگی۔ اس بل کو لوک سبھا میں پیش کیے جانے کی قیاس آرائیاں گزشتہ کچھ دنوں سے چل رہی تھیں اور 18 ستمبر کو مرکزی کابینہ کی ہوئی میٹنگ کے بعد تو ایک طرح سے یہ طے ہی ہو گیا تھا کہ آج لوک سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پیش کر دیا جائے گا۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے اس قدم پر راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔

دراصل خاتون ریزریوشن بل لوک سبھا میں پیش کیے جانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان کپل سبل نے 19 ستمبر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ٹوئٹ کیا جس میں انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب سبھی پارٹیاں بل کی حمایت میں تھیں، تو پھر 10 سال تک انتظار کرنے کی کیا ضرورت پڑی؟ سبل کا کہنا ہے کہ ایسا 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کو توجہ میں رکھ کر کیا گیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کپل سبل نے عوام سے اس بات پر غور کرنے کی اپیل کی ہے کہ مودی جی نے خاتون ریزرویشن بل لانے کے لیے 10 سال کا انتظار کیوں کیا۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے ’’خاتون ریزرویشن بل: حیرانی ہو رہی ہے کہ پی ایم مودی نے اس بل کو پیش کرنے کے لیے 10 سال کا انتظار کیوں کیا، جبکہ سبھی پارٹیاں اس کی حمایت میں رہی ہیں؟ شاید 2024 اس کی وجہ ہے۔ لیکن اگر حکومت او بی سی خواتین کو کوٹہ مہیا نہیں کراتی ہے تو بی جے پی 2024 میں یوپی میں بھی ہار سکتی ہے۔ ذرا اس بارے میں سوچیے گا!‘‘

وزیر اعظم مودی نے پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کا نام ’سمودھان سدن‘ رکھنے کی تجویز پیش کی

0
وزیر-اعظم-مودی-نے-پرانے-پارلیمنٹ-ہاؤس-کا-نام-’سمودھان-سدن‘-رکھنے-کی-تجویز-پیش-کی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو مشورہ دیا کہ جس دن تمام قانون سازی کے کام پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں منتقل ہو جائیں گے، پارلیمنٹ کی پرانی عمارت کو ’سمودھان سدن‘ (آئین ساز ایوان) کے نام سے جانا جانا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر سینٹرل ہال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ’’میری ایک تجویز ہے۔ اب جب کہ ہم نئی پارلیمنٹ میں جا رہے ہیں، پرانی عمارت کا وقار کبھی کم نہیں ہونا چاہیے۔ اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو اسے ‘سمودھان سدن‘ کے نام سے جانا چاہیے۔

اپنے 40 منٹ کے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ’’یہیں 1947 میں انگریزوں نے اقتدار منتقل کیا اور ہمارا سینٹرل ہال اس تاریخی لمحے کا گواہ ہے۔‘‘

پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں منظور کیے گئے کئی اہم قوانین کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہیں پر ‘تین طلاق’ کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کیا گیا، جو کہ شاہ بانو کیس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا تھا اور آخر کار طویل انتظار کے بعد ہماری مسلمان ماوؤں اور بہنوں کو اس پارلیمنٹ کی وجہ سے اس وقت انصاف ملا جب قانون سازی کی گئی۔

انہوں نے کہا، ’’گزشتہ برسوں میں پارلیمنٹ نے خواجہ سراؤں کو انصاف فراہم کرنے والے قوانین بھی پاس کیے ہیں۔ ہم نے متحد ہو کر ایسے قوانین پاس کیے جو خاص طور پر معذور افراد کے روشن مستقبل کی ضمانت دیں گے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا موقع ملا۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اب تک لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے 4000 سے زیادہ قوانین پاس کیے ہیں۔ جب ضرورت پڑی تو بلوں کو پاس کرنے کے لیے حکمت عملی بنانے کے لیے مشترکہ اجلاس منعقد کیے گئے۔ یہ پارلیمنٹ ہی تھی جس نے ہمیں اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی اجازت دی۔ اور ہم نے تین طلاق کے خلاف قانون پاس کیا۔‘‘

منی پور: خاتون تنظیم نے گرفتار 5 نوجوانوں کی رِہائی کا کیا مطالبہ، 48 گھنٹے کے لیے امپھال بند کا اعلان

0
منی-پور:-خاتون-تنظیم-نے-گرفتار-5-نوجوانوں-کی-رِہائی-کا-کیا-مطالبہ،-48-گھنٹے-کے-لیے-امپھال-بند-کا-اعلان

منی پور میں حالات جیسے ہی کچھ بہتر ہوتے ہیں، کوئی نیا معاملہ سامنے آ جاتا ہے۔ اب منی پور کی وادی امپھال میں میتئی خواتین کی تنظیم ’میرا پیبی‘ اور دیگر مقامی کلب نے پیر کی نصف شب سے 48 گھنٹے کے لیے بند کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بند ہتھیار لے جانے اور وردی پہننے کے الزام میں گرفتار کیے گئے پانچ نوجوانوں کی رِہائی کے لیے بلایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح بازار اور دکانیں بند رہنے کے سبب معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر رہا۔ حالانکہ سڑکوں پر کچھ گاڑیاں چلتی ہوئی ضرور دکھائی دیں، لیکن بند کا خطارہ خواہ اثر بھی ہے۔ پیر کے روز مشرقی امپھال کے کھرئی اور کونگبا، بشنوپور ضلع کے نامبول، مغربی امپھال کے کاکوا اور تھوبل ضلع کے کچھ علاقوں میں میرا پیبی نے سڑکوں کو رخنہ انداز کر دیا تھا۔ منی پور پولیس نے ہفتہ کو پانچ نوجوانوں کو وردی پہن کر اسلحہ لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان پانچوں کو جیوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انھیں پولیس حراست میں بھیجا گیا۔

آئل لینتھابل سنٹر یونائٹیڈ کورڈنیٹنگ کمیٹی کے صدر یمنام ہٹلر نے کہا کہ گرفتار کیے گئے پانچوں نوجوان یہاں کے شہری اور گاؤں کے سویم سیوک ہیں۔ وہ سبھی اپنے گاؤں کو کوکی-زو شورش پسندوں کے حملے سے بچانے کے لیے رکھوالی کر رہے تھے۔ ہم ان کی رِہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر حکومت انھیں رِہا کرنے میں ناکام رہی تو یہ تحریک مزید تیز ہوگی۔ ہفتہ کو مظاہرین نے پورومپت پولیس اسٹیشن کے سامنے نوجوانوں کی رِہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس دوران کچھ مظاہرین اور آر اے ایف کے جوان کو معمولی چوٹیں بھی آئی تھیں۔

خواتین کے لیے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن کا بل پارلیمنٹ میں پیش

0
خواتین-کے-لیے-لوک-سبھا-اور-ریاستی-اسمبلیوں-میں-33-فیصد-ریزرویشن-کا-بل-پارلیمنٹ-میں-پیش

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوسرے دن مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے خاتون ریزرویشن بل پیش کر دیا۔ حکومت نے اس بل کو ناری شکتی وندن (نسوانی قوت کو سلام) بل نام دیا ہے۔ اس بل کو پیش کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے اور اب اس پر کل بحث کی جائے گی۔

خیال رہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے تحت لوک سبھا اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ لوک سبھا میں موجودہ سیٹوں کے حساب سے 181 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال بل پیش کرتے وقت کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ہے۔

بل میں ایس سی اور ایس ٹی کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ہے لیکن اس میں او بی سی خواتین کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوٹا راجیہ سبھا یا ریاستوں کی قانون ساز کونسلوں میں بھی لاگو نہیں کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ’’اٹل جی کے دور میں کئی بار خواتین ریزرویشن بل پیش کیا گیا لیکن ہم اسے منظور کرانے کے لیے ضروری اعداد حاص نہیں کر سکے، اس کی وجہ سے یہ خواب ادھورا رہ گیا۔ خدا نے مجھے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی طاقت کو تشکیل دینے کا کام کرنے کے لیے چنا ہے۔‘‘

وہیں، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا ’’ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں راجیہ سبھا میں پاس ہونے والا خواتین ریزرویشن بل ابھی زندہ ہے۔ ہماری سی ڈبلیو سی میٹنگ میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کو پاس کیا جائے۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے بھی خواتین ریزرویشن بل کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا۔ ہم خاتون ریزرویشن بل کو پاس کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔‘‘

قبل ازیں، بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بھی خاتون ریزرویشن بل کی حمایت کی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی پارٹی خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ ہے۔ لیکن ایس سی، ایس ٹی/ او بی سی کوٹہ کو یقینی بنایا جائے۔ آبادی کے حساب سے 50 فیصد ریزرویشن ہو تو اچھا ہو گا۔ پہلے ایس سی، ایس ٹی اور اب او بی سی ریزرویشن کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ امید ہے اس بار یہ بل پاس ہو جائے گا۔ میں مرکزی حکومت کی جانب سے خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کرتی ہوں۔‘‘

غورطلب ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خواتین ریزرویشن بل ایوان کی میز پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ اہم مسئلہ 1996 سے لے کر اب تک کے 27 سالوں میں متعدد بار پارلیمنٹ میں اٹھایا جا چکا ہے لیکن یہ دونوں ایوانوں میں منظور نہ ہو سکا۔ 2010 میں اسے راجیہ سبھا پاس کیا گیا تھا لیکن یہ لوک سبھا سے پاس نہیں ہو سکا تھا۔‘‘

کشمیر: کوکر ناگ کے گڈول جنگل علاقے میں آپریشن ساتویں روز بھی جاری

0
کشمیر:-کوکر-ناگ-کے-گڈول-جنگل-علاقے-میں-آپریشن-ساتویں-روز-بھی-جاری

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ کے جنگل علاقے میں منگل کو مسلسل ساتویں روز بھی آپریشن جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے کمیں گاہ کو پوری طرح سے تباہ کر دیا ہے اوروسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے کمیں گاہ میں چھپے ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کے لئے مارٹر، گرینیڈ لانچر،مشین گن وغیرہ کے علاوہ اسرائیلی ساخت کے جدید سامان کا بھی استعمال کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے پیر کی شام ایک فوجی جوان کی لاش بر آمد کی جو گذشتہ 6 روز سے لاپتہ تھا۔اس فوجی جوان کی شناخت پردیپ سنگھ کے بطور ہوئی ہے جو فوج کی 19 آر آر سے وابستہ تھا۔

ذرائع کے مطابق فوج نے ایک جھلسی ہوئی لاش بھی بر آمد کی ہے جس کی شناخت معلوم کی جا رہی ہے۔13 ستمبر کو شروع ہونے والے اس آپریشن کے آغاز میں ہی ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک جاں بحق ہوئے تھے۔معلوم ہوا ہے کہ اتوار کواحتیاطی طور پر سیکورٹی محاصرے کو پوش کریری علاقے تک وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ پھنسے ہوئے ملی ٹینٹ فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپندرا دیویدی نے ہفتے کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکر ناگ جنگل علاقے میں جاری انکائونٹر کی آپریشنل صورتحال کا جائزہ لیا۔

علاوہ ازیں جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار و دیگر افسران آُپریشن پر کی کڑی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔