ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 111

سونیا گاندھی نے کی خاتون ریزرویشن بل کی حمایت، تمام رکاوٹوں کو دور کر کے فوری نافذ کرنے کا مطالبہ

0
سونیا-گاندھی-نے-کی-خاتون-ریزرویشن-بل-کی-حمایت،-تمام-رکاوٹوں-کو-دور-کر-کے-فوری-نافذ-کرنے-کا-مطالبہ

نئی دہلی: ملک کی نئی پارلیمنٹ میں آج کارروائی کا دوسرا دن ہے اور خواتین ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث ہو رہی ہے۔ کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے اعلان کیا کہ کانگریس خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرا کے اس بل میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی ریزرویشن کا بندوبست کیا جانا چاہئے۔ انہوں کہا کہ تمام رکاوٹوں کو دور کر کے اس بل کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہئے کیونکہ مزید تاخیر ہندوستانی خواتین کے لیے بہت ناانصافی کی بات ہوگی۔

سونیا گاندھی کی مکمل تقریر

لوک سبھا اسپیکر کا شکریہ ادا کرنے کے بعد سونیا گاندھی نے کہا، انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے میں ناری شکتی وندن قانون کی حمایت میں کھڑی ہوئی ہوں۔ دھوئیں سے بھری ہوئی رسوئی سےے لے کر روشنی سے جگمگاتے ہوئے اسٹیڈیم تک بھارت کی خواتین کا سفر بہت لمبا ہے لیکن آخرکار اس نے منزل کو چھو لیا ہے۔ اس نے جنم دیا، اس نے پریوار چلایا، اس نے مردوں کے بیچ تیز دوڑ لگائی اور بے مثال صبر و تحمل کے ساتھ اکثر خود کو ہارتے ہوئے لیکن آخری بازی میں جیت کو دیکھا۔ بھارت کی خواتین کے دل میں وسیع سمبر جیسا صبر ہے اور اس نے خود کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی شکایت نہیں کی اور صرف اپنے فائدے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ اس نے ندیوں کی طرح سب کی بھلائی کے لیے کام کیا ہے اور مشکل وقت میں ہمالیہ کی طرح ڈٹی رہی۔

خاتون کے صبر کا اندازہ لگانا ناممکن ہے، وہ آرام کو نہیں جانتی اور تھک جانا بھی نہیں جانتی۔ ہمارے عظیم ملک کی ماں ہے خاتون لیکن خاتون نے ہمیں صرف جنم ہی نہیں دیا ہے، اپنے آنسوؤں، خون پسینہ سے سینچ کر ہمیں اپنے بارے میں سوچنے لائق عقلمند اور طاقتور بھی بنایا ہے۔

خاتون کی محنت، خاتون کی حرمت اور خاتون کی قربانی کی شناخت کر کے ہی ہم لوگ انسانیت کے امتحان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جنگ آزادی اور جدید ہندوستان کی تعمیر کے ہر محاذ پر خاتون مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑی ہے۔ وہ امیدوں، توقعات، تکلیفوں اور گھرستی کے بوجھ تلے نہیں دبی۔ سروجنی نائیڈو، سوچیتا کرپلانی، ارونا آصف علی، وجے لکشمی پنڈت، راجکماری امرت کور اور ان کے ساتھ تمام لاکھوں خواتین سے لے کر آج کے آج کی تاریخ تک خاتون نے مشکل وقت میں ہر بار مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، بابا صاحب امبیڈکر اور مولانا آزاد کے خوابوں کو زمین پر اتار کر دکھایا ہے۔ اندرا گاندھی جی کی شخصیت اس سلسلہ میں بہت ایک بہت روشن اور زندہ مثال ہے۔

خود میری زندگی کا یہ بہت جذباتی لمحہ ہے۔ پہلی مرتبہ مقامی بلدیہ میں خواتین کی شراکت طے کرنے والی آئینی ترمیم میرے شریک حیات راجیو گاندھی جی لائے تھے، جو راجیہ سبھا میں 7 ووٹوں سے گر گیا تھا۔ بعد میں پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت میں کانگریس پارٹی نے ان سے یہ کام کرایا۔ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک بھر کے مقامی بلدیہ کے ذریعے ہمارے پاس 15 لاکھ منتخب شدہ خواتین لیڈر ہیں۔ راجیو گاندھی جی کا خواب ابھی تک نصف ہی پورا ہوا ہے، اس بل کے منظور ہونے کے ساتھ ہی وہ پورا ہو جائے گا۔

کانگریس پارٹی اس بل کی حمایت کرتی ہے۔ ہمیں اس بل کے منظور ہونے سے خوشی ہے مگر ایک تشویش بھی ہے میں سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ گزشتہ 13 برسوں سے ہندوستانی خواتین اپنی سیاسی ذمہ داری کا انتظار کر رہی ہیں اور اب انہیں کچھ سال اور انتظار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ کتنے سال 2 سال، 4 سال، 6 سال، 8-10 کیا؟ کیا ہندوستان کی خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک مناسب ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا مطالبہ ہے کہ اس بل کو فوراً عمل میں لایا جائے اور اس کے ساتھ ہی ذات پر مردم شماری کرا کر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کی خواتین کے ریزرویشن کا بھی انتظام کیا جائے۔ حکومت کو اس کے لیے جو قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وہ اٹھانے چاہئیں۔

خواتین کو شکریہ کے تعاون کا اعتراف کرنے اور انہیں شکریہ کہنے کا یہ سب سے مناسب وقت ہے۔ اس بل میں اور تاخیر کرنا ہندوستانی خواتین کے ساتھ بہت ناانصافی ہوگی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ناری شکتی وندن کو اس کے راستہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

خاتون ریزرویشن بل: نئی پارلیمنٹ میں حکومت نے عظیم جھوٹ سے اپنی اننگ شروع کی! اکھلیش یادو

0
خاتون-ریزرویشن-بل:-نئی-پارلیمنٹ-میں-حکومت-نے-عظیم-جھوٹ-سے-اپنی-اننگ-شروع-کی!-اکھلیش-یادو

لکھنؤ: خاتون ریزرویشن بل یعنی ناری شکتی وندن قانون لوک سبھا میں پیش کیا جا اور آج پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے تیسرے دن اس پر بحث کی جائے گی۔ دریں اثنا، اس معاملہ پر یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے مرکزی حکومت نو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئی پارلیمنٹ میں اپنی اننگ کے پہلے ہی دن عظیم جھوٹ بولا ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ’’نئی پارلیمنٹ میں پہلے ہی دن بی جے پی نے عظیم جھوٹ سے اپنی اننگ شروع کی ہے۔ جب مردم شماری اور حدبندی کے بغیر خاتون ریزرویشن بل نافذ ہی نہیں ہو سکتا، جس میں کئی سال گزر جائیں گےے، تو بی جے پی حکومت کو آپا دھاپی میں خواتین سے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘

اکھلیش یادو نے مزید کہا ’’بی جے پی حکومت نہ تو مردم شماری کے حق میں ہے اور نہ ہی ذات پر مبنی مردم شماری کے حق میں، اس کے بغیر تو خواتین کا ریزرویشن ممکن نہیں۔ ’خاتون ریزرویشن‘ جیسے سنجیدہ موضوع پر یہ آدھا ادھورا بل مضحکہ خیز ہے، جس کا جواب خواتین آئندہ انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈال کر دیں گی۔‘‘

قبل ازیں، اکھلیش یادو نے خاتون ریزرویشن بل میں پسماندہ، دلت اور اقلیتی خواتین کو شامل نہ کرنے پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ایک پر اپنی کل کی ایک پوسٹ میں اکھلیش یادو نے لکھا، ’’خاتون ریزرویشن میں صنفی انصاف اور سماجی انصاف کا توازن ہونا چاہئے۔ اس میں پسماندہ، دلت، اقلیتی، قبائلی طبقات کی خواتین کا ریزرویشن مقررہ فیصد کے طور پر صاف ہونا چاہئے۔‘‘

دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی نے بھی اس بل پر مرکز سے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا بل لایا جا رہا ہے، بی ایس پی جس کے حق میں ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس بار خواتین ریزرویشن بل ضرور پاس ہو جائے گا، جو کافی عرصے سے معلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن دینے کے بجائے اگر ان کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے 50 فیصد ریزرویشن دیا جاتا ہے تو ہماری پارٹی اس کا تہہ دل سے خیر مقدم کرے گی، جس کے بارے میں حکومت ضرور نوٹس لیں۔

مایاوتی نے کہا ’’ہماری پارٹی اس بل کی حمایت ضرور کرے گی لیکن اس میں ایس سی، ایس ٹی خواتین کے علاوہ او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن ملنا چاہئے۔ اسے پہلے سے مقررہ کوٹے میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘ او بی سی خواتین کے حوالہ سے سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی یکجا نظر رہی ہیں لیکن بی ایس پی نے اقلیتی طبقہ کی خواتین کے لیے ریزرویشن کی بات نہیں کی ہے۔

کیا خواتین ریزرویشن بل کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ آسان نہیں ہے؟

0
کیا-خواتین-ریزرویشن-بل-کے-لیے-آگے-بڑھنے-کا-راستہ-آسان-نہیں-ہے؟

کل  حکومت نے ناری شکتی وندن ایکٹ بل  کے نام سے خواتین ریزرویشن بل پیش کیا اور کہا کہ اس سے لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھے گی۔ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے ایک تہائی کوٹہ بنانے کی کوششیں 1996 سے جاری ہیں۔ مارچ 2010 میں، راجیہ سبھا نے آئین (108 ویں ترمیم) بل، 2008 منظور کیا، لیکن یہ قانون لوک سبھا میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ بل دونوں ایوانوں میں منظور ہو جاتا ہے تو  کیا یہ سال 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں لاگو ہوگا یا نہیں ؟

بل میں خواتین کو دیئے جانے والے 33 فیصد ریزرویشن میں سے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن دینے کی تجویز ہے۔ تاہم، او بی سی کمیونٹی کی خواتین کے لیے ریزرویشن کی کوئی تجویز نہیں ہے، جس کا مسئلہ آر جے ڈی اور ایس پی مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ جب بھی یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا دونوں جماعتوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار ان کا کیا موقف ہے کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں I.N.D.I.A اتحاد کا حصہ ہیں جب کہ کانگریس سمیت اتحاد میں شامل دیگر پارٹیاں بل کی حمایت میں ہیں۔واضح رہے  آر جے ڈی اور ایس پی او بی سی طبقے کی سیاست کرتے رہے ہیں۔

اب غور طلب بات یہ ہے کہ مخصوص نشستوں کی نشاندہی کیسے کی جائے گی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ تاہم اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ سیٹوں کی نشاندہی کیسے کی جائے گی۔ یہاں تک کہ 2010 میں جب یہ بل پیش کیا گیا تو اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خواتین کے لیے کون سی نشستیں الگ رکھی جائیں گی۔ تاہم، حکومت نے تجویز پیش کی تھی کہ خواتین کے لیے مخصوص حلقے قرعہ اندازی کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لگاتار تین انتخابات میں ایک سے زیادہ نشستیں محفوظ نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ہی منگل کو پیش کیے گئے بل میں مخصوص نشستوں کو گھمانے کی تجویز بھی ہے۔ تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ خواتین کے لیے 33 فیصد مخصوص نشستوں کی نشاندہی کیسے کی جائے گی۔ بل پر آج  سے بحث شروع ہو گی۔

خواتین کے ریزرویشن بل کے پاس ہونے پر جن آئینی ترامیم کی ضرورت ہو گی، ان میں حد بندی کے لیے آرٹیکل 82 اور 170(3) میں بھی ترمیم ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کو حد بندی کے بعد ہی لاگو کیا جائے گا۔ ہر مردم شماری کے بعد، حد بندی ایکٹ آرٹیکل 82 کے تحت لاگو کیا جاتا ہے، جس میں مردم شماری کے بعد علاقائی حلقہ بندیوں کی نئی تعریف کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی آرٹیکل 170(3) کا تعلق اسمبلیوں کی تشکیل سے ہے۔ اگر خواتین ریزرویشن بل منظور ہوتا ہے تو یہ 15 سال کے لیے لاگو ہوگا۔ تاہم 15 سال کی مدت پوری ہونے کے بعد اس میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے جس کے لیے بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوگا۔ ایک اور بات قابل غور ہے کہ بل کے ذریعے خواتین کو صرف لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں ریزرویشن ملے گا۔ یہ راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسلوں میں لاگو نہیں ہوگا۔

یہاں تک کہ اگر خواتین ریزرویشن بل منظور ہو جاتا ہے، تو یہ آئندہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں لاگو نہیں ہوگا کیونکہ حد بندی کا کام مکمل نہیں ہوا ہے۔ حلقہ بندیوں کا کام 2026 میں شروع ہو گا، حلقوں کی تقسیم کے بعد ہی فیصلہ کیا جا سکے گا کہ خواتین کے لیے کون سی نشستیں مختص ہوں گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً حلقہ بندیوں کا از سر نو تعین کیا جاتا ہے تاکہ جمہوریت میں آبادی کی صحیح نمائندگی ہو اور سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔

مرکز کو ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، خواتین کوٹہ کے لیے آئین میں ترمیم کرنی چاہیے: اسٹالن

0
مرکز-کو-ایس-سی،-ایس-ٹی،-او-بی-سی،-خواتین-کوٹہ-کے-لیے-آئین-میں-ترمیم-کرنی-چاہیے:-اسٹالن

تمل ناڈو کے وزیر اعلی اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے 2015 میں کی گئی ذات پات کی مردم شماری کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مرکز سے کہا کہ ایس سی / ایس ٹی کے لئے ریزرویشن کو صحیح طریقے سے نافذ کیا جانا چاہئے اور اوبی سی اور ایم بی سی کے لئے مناسب کوٹہ ہونا چاہئے اور اس کی قومی سطح پر نگرانی کی جانی چاہئے۔

منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کے زبردست حامی مسٹر اسٹالن نے کل رات دہلی میں منعقد تقریب میں کہا کہ سماجی انصاف کی معاشرے کو بہت سخت ضرورت ہے ۔سماجی انصاف کے لیے ہندوستان پر دوسری قومی کانفرنس سے ورچوئل طور پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماجی انصاف کسی خاص ریاست تک ہی محدود نہیں ہے،بلکہ جب بی جے پی برسراقتدار تھی تو یہ پورے ہندوستان کا معاملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ منڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا ’’ ذاتوں اور برادریوں کی گنتی کا پیمانہ الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ ہوسکتا ہے۔ تمل ناڈو 69 فیصد ریزرویشن پر عمل کرتا ہے۔ اگرچہ دیگر ریاستوں میں یہ فیصد مختلف ہے، لیکن ریزرویشن کا مسئلہ ہر جگہ ایک جیسا ہے اور اسے نظرانداز کیا جاتاہے۔

ہمیں آئین کا جو نسخہ دیا گیا اس میں ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ الفاظ نہیں ہیں! ادھیر رنجن چودھری کا بیان

0
ہمیں-آئین-کا-جو-نسخہ-دیا-گیا-اس-میں-’سوشلسٹ‘-اور-’سیکولر‘-الفاظ-نہیں-ہیں!-ادھیر-رنجن-چودھری-کا-بیان

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا آج تیسرا دن ہے اور خاتون ریزرویشن بل یعنی ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ لوک سبھا میں پیش کیا جا چکا ہے، جس پر آج ہی بحث ہوگی۔ اس سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف ادھیر رنجن چودھری نے نئی پارلیمنٹ میں دئے جانے والے آئین کے نسخے پر پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آئین میں ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ الفاظ نہیں ہیں!

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ادھیر رنجن چودھری نے کہا، ’’آئین کے جو نئے نسخے آج (19 ستمبر) ہمیں دئے گئے، جنہیں ہاتھوں میں پکڑ کر ہم پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں داخل ہوئے، ان کی تمہید میں ‘سوشلسٹ سیکولر’ الفاظ نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ الفاظ 1976 میں ترمیم کے بعد شامل کیے گئے تھے لیکن اگر آج کوئی ہمیں آئین دیتا ہے اور یہ الفاظ نہیں ہیں تو یہ تشویشناک بات ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے مزید کہا، ’’ان کے ارادے مشکوک ہیں۔ یہ بہت چالاکی سے کیا گیا ہے۔ یہ میرے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ میں نے اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن مجھے یہ مسئلہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا گیا۔‘‘

نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا کی کارروائی خاتون ریزرویشن بل کے ساتھ شروع ہوئی۔ لوک سبھا میں اس بل کو مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے پیش کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ بل اب ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کے نام سے جانا جائے گا۔ اس کے بعد جب اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن چودھری بولنے کے لیے اٹھے تو انہوں نے کہا کہ یہ بل کانگریس حکومت کے دوران پیش کیا گیا تھا اور یہ راجیہ سبھا میں پاس ہو گیا تھا اور لوک سبھا میں پاس نہیں ہو پایا تھا۔

حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی نے اس پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد ادھیر رنجن چودھری نے وزیر اعظم مودی سے کہا کہ ’’ان کے رویے سے پتہ چل جائے گا کہ ایوان میں ہر شخص کے خیالات کیا ہیں۔ ذرا ان لوگوں کو دیکھو۔ وہ آپ کی باتوں کا بھی احترام نہیں کر رہے۔ اس قسم کا رویہ براہ راست وزیراعظم کی توہین ہے۔‘‘

ہندوستان-کینیڈا کشیدگی: 30 ہندوستانی کمپنیوں کے 40 ہزار کروڑ روپے داؤ پر، کینیڈا کی معیشت پر بھی خطرہ!

0
ہندوستان-کینیڈا-کشیدگی:-30-ہندوستانی-کمپنیوں-کے-40-ہزار-کروڑ-روپے-داؤ-پر،-کینیڈا-کی-معیشت-پر-بھی-خطرہ!

نئی دہلی: ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث کاروباری دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔ دراصل، بڑے تجارتی شراکت دار ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر جاری تنازعہ کینیڈا میں کام کرنے والی ہندوستانی فرموں کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے اور ان کی طرف سے وہاں کی گئی ہندوستانی سرمایہ کاری پر اثر پڑ سکتا ہے۔ صرف ہندوستانی کمپنیوں پر ہی نہیں بلکہ کینیڈا کی معیشت پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے، کیونکہ ان کمپنیوں میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں۔

کینیڈا کے لیے ہندوستانی کمپنیوں کی کیا اہمیت ہے اور وہاں ان کمپنیوں کی کتنی بڑی سرمایہ کاری ہے؟ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر اس حوالہ سے رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار کے ساتھ یہ معلومات اس سال مئی 2023 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں شیئر کی گئی تھیں۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کی جانب سے ‘فراہم انڈیا ٹو کینیڈا: اکنامک امپیکٹ اینڈ انگیجمنٹ (اقتصادی اثرات اور مشغولیت) کے عنوان سے رپورٹ جاری کی گئی تھی اور یہ رپورٹ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب مرکزی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل ٹورنٹو کے دورے پر تھے۔

سی آئی آئی کی اس رپورٹ میں اعدادوشمار کے ساتھ اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ہندوستان نہ صرف سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور خلیجی ممالک بلکہ کینیڈا جیسے ممالک کے لیے بھی کتنا اہم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کینیڈا کی معیشت میں ہندوستانی ہنرمندوں کی شراکت اور کینیڈا میں ہندوستانی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کینیڈا میں ہندوستانی صنعت کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور ایف ڈی آئی اور روزگار پیدا کرنے میں وہاں موجود ہندوستانی کمپنیوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔

سی ای ای کی رپورٹ پر نظر ڈالیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جاری کشیدگی کا کاروباری شعبے پر کیا اثر پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق 30 ہندوستانی کمپنیوں کی کینیڈا میں موجودگی ہے اور ان کی طرف سے ملک میں کی گئی سرمایہ کاری کی مالیت 40446 کروڑ روپے ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، دونوں ممالک کے درمیان اس تازہ تناؤ سے پہلے تجارتی تعلقات کے بارے میں ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں موجود ان ہندوستانی کمپنیوں میں سے 85 فیصد نے مستقبل میں اختراع کے لیے فنڈنگ ​​میں اضافے کی امید ظاہر کی ہے۔

کینیڈا میں کاروبار کرنے والی ہندوستانی کمپنیوں کے ذریعے 17000 سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ ان کمپنیوں کے تحقیق و ترقی کے اخراجات بھی 700 ملین کینیڈین ڈالر بتائے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کینیڈا میں ہندوستانی کاروبار بڑھ رہا ہے جو دونوں ممالک کی معیشت کے لیے بہتر ہے۔ اب جب کہ ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی زور پکڑ رہی ہے، وہاں کمپنیوں کے کاروبار متاثر ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت میں آسانی اور بہتر تعلقات کی وجہ سے ہندوستان نے وہاں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ کینیڈا کے پنشن فنڈز نے بھی ہندوستان میں 55 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کا کینیڈا میں بڑا کاروبار ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی کمپنیاں سافٹ ویئر، قدرتی وسائل اور بینکنگ کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ان میں وپرو اور انفوسس جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال 2022 میں ہندوستان کینیڈا کا 10 واں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔ مالی سال 2022-23 میں ہندوستان نے کینیڈا کو 4.10 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا۔ جبکہ کینیڈا نے 2022-23 میں ہندوستان کو 4.05 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2021-22 میں سات بلین ڈالر تھی جو سال 2022-23 میں بڑھ کر 8.16 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

نوئیڈا میں انسانیت شرمسار، بقایا قرض واپس نہ کرنے پر سبزی فروش کو ننگا کیا، مارا پیٹا گیا

0
نوئیڈا-میں-انسانیت-شرمسار،-بقایا-قرض-واپس-نہ-کرنے-پر-سبزی-فروش-کو-ننگا-کیا،-مارا-پیٹا-گیا

اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر ضلع سے انسانیت کو شرمسار کر دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک سبزی فروش کو قرض لینا اتنا مہنگا پڑ گیا کہ اسے ننگا کر  مارا پیٹا گیا اور بازار میں گھمایا گیا۔ درحقیقت، پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق، نوئیڈا میں ایک 35 سالہ لہسن بیچنے والے کو قرض دینے والے اور اس کے ساتھیوں نے اس وقت مارا پیٹا جب وہ 5,600 روپے کے کل قرض کا ایک حصہ ادا کرنے سے قاصر تھا۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق ایڈیشنل ڈی سی پی (سنٹرل نوئیڈا) راجیو ڈکشٹ نے کہا کہ اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ معلومات کے مطابق، تقریباً ایک ماہ قبل قرض لینے والے لہسن بیچنے والے نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ لہسن کا ٹھیلا لگانے  کے علاوہ سیکٹر 88 کی پھل سبزی منڈی میں کام کرتا ہے۔

پریشان بیچنے والے کے مطابق، پیر کو وہ 5,600 روپے کے قرض میں سے 2,500 روپے واپس کرنے گیا اور درخواست کی کہ وہ بالآخر باقی قرض بھی واپس کر دے گا۔ مین پور، اتر پردیش کے رہنے والے سبزی فروش نے کہا، "قرض دینے والے نے اپنے اکاؤنٹنٹ اور دو مزدوروں کو دکان پر بلایا۔ انہوں نے مجھے دکان کے اندر پکڑا،  میرے کپڑے اتارے، لاٹھیوں سے مارا اور مجھے گالی دی۔

اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہے جس میں مبینہ طور پر بیچنے والے کو اس کے کپڑے اتارنے پر مجبور کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد برہنہ شخص کو بغیر کپڑوں کے دکان سے کھلے میں بھیج دیا جاتا ہے۔

ایڈیشنل ڈی سی پی دکشت نے کہا کہ پیر کو ہی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ دکشت  نے کہا، "مرکزی ملزم سندر سنگھ اور اس کے ساتھی بھگنداس سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرار ہونے والوں کو بھی جلد پکڑا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

حکومت ایک طرف خواتین کے لئے بل لا رہی ہے، دوسری طرف برج بھوشن کا تحفظ :ونیش پھوگاٹ

0
حکومت-ایک-طرف-خواتین-کے-لئے-بل-لا-رہی-ہے،-دوسری-طرف-برج-بھوشن-کا-تحفظ-:ونیش-پھوگاٹ

ملک کے معروف پہلوان  ساکشی ملک اور ونیش پھوگاٹ نے ایک فحش ویڈیو وائرل ہونے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں ایک خاتون پہلوان شامل ہیں اور یہ ویڈیو جعلی ہے۔  ونیش پھوگاٹ نے منگل  یعنی 19 ستمبر کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے خواتین کے ریزرویشن بل کا بھی ذکر کیا۔

واضح رہے کہ ویڈیو میں جس اولمپین پہلوان کا نام شامل کیا گیا تھا اس پہلوان  نے خود  منگل 19 ستمبر کو کہا ہے  کہ اسے  بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا شکار بنایا گیا ہے۔ پہلوان ساکشی ملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے جس میں  اس نے کہا ہے کہ ملزم برج بھوشن کے لوگ مسلسل کسان برادری اور ہریانہ کی بیٹیوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس  کا کہنا تھا کہ ‘کچھ دن پہلے میرے بارے میں بھی افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ میں نے ملزمان سے معاہدہ کرلیا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔’ اسی ملزم پارٹی کا آئی ٹی سیل تین چار دنوں سے ایک فحش ویڈیو وائرل کر رہا ہے…” ساکشی ملک نے کہا کہ خاتون ریسلر نے ویڈیو میں ہونے  کے دعوے کو غلط قرار دیا ہے  اور کہا ہے کہ اس ویڈیو سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ادھر پہلوان کے گاؤں میں جہاں غم  ہے وہیں غصہ بھی زبردست نظر آ رہا ہے۔ گاؤں کے پردھان اور لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کھلاڑیوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

ساکشی ملک نے کہا کہ ‘ہم نے جو لڑائی شروع کی تھی وہ انصاف کے لیے تھی اور ملزمان کی جانب سے لوگ ہمیں کتنا ہی بدنام کرنے کی کوشش کریں، جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا ہماری لڑائی جاری رہے گی۔’

ونیش پھوگاٹ نے ‘X’ پر اپنی پوسٹ میں لکھا، "آج وزیر قانون شری ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل کو پیش کیا۔ اس بل کے دونوں ایوانوں میں منظور ہونے کے بعد لوک سبھا میں خواتین ارکان کی تعداد 181 ہو جائے گی۔ اس بل کو لانے پر حکومت کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایک طرف حکومت خواتین کو عزت دینے کے لیے یہ بل لا رہی ہے تو دوسری طرف خواتین کے جنسی استحصال کے الزام میں برج بھوشن جیسے شخص کو تحفظ دے رہی ہے۔”

ونیش پھوگاٹ نے مزید لکھا، ’’دو دن پہلے سوشل میڈیا پر ملک کی ایک خاتون ریسلر کے نام سے ایک فرضی ویڈیو اپ لوڈ کیا گیا تاکہ اسے بدنام کیا جا سکے۔ حکومت کہاں سو رہی ہے؟ کیا حکومت اس خاتون پہلوان کو انصاف فراہم کر پائے گی؟ حکومت نہ صرف برج بھوشن جیسے شخص کو بچا رہی ہے بلکہ اسی طرح کی ذہنیت والے لوگوں کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ بل کے آنے کے بعد مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ میں جو 181 خواتین ارکان پارلیمنٹ  بیٹھیں گی وہ خواتین کے احترام کے لیے لڑیں گی اور خواتین کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔‘‘

واضح رہے  کہ وائرل ویڈیو معاملے میں 18 ستمبر کو ہریانہ پولیس نے حصار سے ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا اور بتایا تھا کہ پہلوان کی تصویر سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے کہا کہ 30 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ کا خاتون ریسلر سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کا نام ویڈیو میں ملزم نے استعمال کیا تھا۔

خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث کل، انڈیا اتحاد کی قیادت کریں گی سونیا گاندھی!

0
خاتون-ریزرویشن-بل-پر-لوک-سبھا-میں-بحث-کل،-انڈیا-اتحاد-کی-قیادت-کریں-گی-سونیا-گاندھی!

20 ستمبر نئی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا کے لیے تاریخی ثابت ہونے والا ہے۔ کل خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث ہوگی اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی انڈیا اتحاد کی طرف سے اس بل پر بحث کی قیادت کریں گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونیا گاندھی کانگریس اور اپوزیشن کی طرف سے خاتون ریزرویشن بل پر اپنی بات رکھیں گی اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بل کے مسودہ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں گی۔

قابل ذکر ہے کہ خاتون ریزرویشن بل 19 ستمبر کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا جس پر کل بحث ہونی ہے۔ کانگریس پارٹی اس بل کی حمایت کرتی رہی ہے اور لوک سبھا میں آج خاتون ریزرویشن بل پیش کیے جانے سے قبل جب میڈیا نے سونیا گاندھی سے ان کا رد عمل مانگا تھا تو انھوں نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ ’’یہ تو اپنا ہے۔‘‘ حالانکہ بل کا مسودہ سامنے آنے کے بعد کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے اور مودی حکومت کو دھوکہ باز تک کہہ ڈالا ہے۔

دراصل یو پی اے حکومت میں جو خاتون ریزرویشن بل راجیہ سبھا سے پاس ہوا تھا وہ موجودہ بل سے بہت مختلف تھا۔ مثلاً یو پی اے کے ذریعہ راجیہ سبھا سے پاس کرائے گئے بل میں خواتین کو ریزرویشن فوراً مل جاتا، جبکہ بی جے پی حکومت کے بل میں مردم شماری کرائے جانے اور ڈیلمٹیشن کا عمل انجام دیے جانے کے بعد ہی بل نافذ کرنے کا التزام ہے۔ یعنی 2029 کے لوک سبھا انتخاب میں ہی اس کا نفاذ ممکن ہو پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس خاتون ریزرویشن بل کی مخالفت تو نہیں کرے گی، لیکن مودی حکومت پر حملہ ضرور کرے گی۔

یو پی اے اور مودی حکومت کے بل میں ایک اور فرق ہے۔ راجیہ سبھا سے پاس یو پی اے کے بل میں راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل میں بھی خواتین کو ریزرویشن دینے کا انتظام تھا، لیکن بی جے پی حکومت نے تیار بل میں راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل میں خواتین کو ریزرویشن نہیں دیا گیا ہے۔ یہ دونوں نکات بہت اہم ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ سونیا گاندھی جب انڈیا اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے خاتون ریزرویشن بل پر اپنی بات رکھیں گی تو مضبوطی کے ساتھ معاملہ اٹھائیں گی۔

خاتون ریزرویشن بل کی راہ میں ہیں کئی رخنات، پیش ہے سرسری جائزہ

0
خاتون-ریزرویشن-بل-کی-راہ-میں-ہیں-کئی-رخنات،-پیش-ہے-سرسری-جائزہ

خاتون ریزرویشن بل 19 ستمبر کو لوک سبھا میں پیش کر دیا اور اب 20 ستمبر کو ایوانِ زیریں میں اس پر بحث ہونی ہے۔ اس بل کے پاس ہونے اور قانون بننے کے بعد لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں بہت کچھ بدل جائے گا۔ حالانکہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن یقینی بنانے والے اس بل کے قانون بننے کی راہ میں کئی رخنات بھی ہیں۔ آئین پر گہری نظر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ بل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کئی رکاوٹوں کو پار کرنا ہوگا اور اس میں سب سے پہلا رخنہ تو فوری مردم شماری اور ڈیلمٹیشن کا عمل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بل (آئین کی 128ویں ترمیم) کے ضابطوں میں یہ صاف درج ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے قانون بننے کے بعد تب نافذ ہوگا جب آئندہ مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حد بندی (ڈیلمٹیشن) یا انتخابی حلقوں کی از سر نو تعین کا عمل انجام دیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بل کے پاس ہونے کے بعد اسے قانون بننے کے لیے کم از کم 50 فیصد ریاستی اسمبلیوں سے بھی منظوری لینی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ریاستوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 2002 میں کی گئی آئین ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 82 کے مطابق 2021 میں ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کے حساب سے حد بندی کا عمل 2026 میں ہونا تھا۔ پھر 2026 کے بعد پہلی مردم شماری 2031 میں کی جانی ہے، جس کے بعد انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ 2021 میں مردم شماری کا عمل شروع ہونا تھا جسے کورونا وبا کے سبب ملتوی کر دیا گیا تھا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخاب سے پہلے خاتون ریزرویشن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے حکومت کو تیزی سے کام کرنا ہوگا، جو ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

سیاسی ماہرین نے ایک اور بڑی فکر کا اظہار کیا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ کیا خواتین اپنے شوہروں کے پاس حقیقی طاقت ہونے کے بعد بھی ترجیح حاصل کر سکتی ہیں؟ مشہور وکیل شلپی جین کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ اگر کوٹہ کے تحت منتخب نمائندہ انہی کنبوں سے ہوں گے جہاں مرد رشتہ دار سیاست میں ہیں تو ایسے میں خواتین کے فروغ کے لیے بنائے گئے اس قانون کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس بل میں ان خواتین کو انتخاب لڑنے کے لیے حوصلہ دینے کا التزام ہو سکتا ہے جو سیاسی پس منظر سے نہیں ہیں۔ ورنہ ریزرویشن کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔