ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 110

خاتون ریزرویشن بل لوک سبھا سے پاس، آئیے جانتے ہیں کس نے کیا کہا!

0
خاتون-ریزرویشن-بل-لوک-سبھا-سے-پاس،-آئیے-جانتے-ہیں-کس-نے-کیا-کہا!

خاتون ریزرویشن بل کو لوک سبھا سے منظوری مل گئی ہے۔ یہ بل لوک سبھا میں بہ آسانی پاس ہو گیا، حالانکہ کچھ اراکین پارلیمنٹ نے ضروری ترمیم سے متعلق مشورہ ضرور دیا ہے۔ خاتون ریزرویشن بل پر 20 ستمبر کو پرچی کے ذریعہ ووٹنگ ہوئی۔ اس بل کے حق میں 454 ووٹ پڑے، جبکہ اس کے خلاف محض 2 ووٹ ڈالے گئے۔ اب یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔

20 ستمبر کو خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں ووٹنگ سے قبل بحث کرائی گئی۔ اس بحث میں تقریباً 60 اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا اور اکثریت نے اس بل کی حمایت میں اپنی بات رکھی۔ اپوزیشن کی طرف سے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، سپریا سولے، ڈمپل یادو، کنی موژی، مہوا موئترا وغیرہ نے اپنی باتیں رکھیں، جبکہ برسراقتدار طبقہ کی طرف سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، ارجن میگھوال، اسمرتی ایرانی وغیرہ نے خاتون ریزرویشن بل کے فائدے بتائے۔ آئیے یہاں جانتے ہیں کس لیڈر نے خاتون ریزرویشن بل پر کیسا رد عمل ظاہر کیا۔

امت شاہ (مرکزی وزیر داخلہ):

سوشل میڈیا پر کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس بل کی حمایت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس میں او بی سی، مسلموں کا ریزرویشن نہیں ہے۔ اگر آپ بل کی حمایت نہیں کریں گے تو کیا ریزرویشن جلدی ہوگا؟ اگر آپ اس بل کی حمایت کرتے ہیں تو کم از کم گارنٹی تو دیں گے۔

ارجن رام میگھوال (وزیر قانون):

حد بندی کو لے کر سوال کھڑا کیا جا رہا ہے۔ حد بندی کے سیکشن 8 اور 9 میں یہ کہا گیا ہے کہ تعداد دے کر ہی تعین ہوتا ہے۔ ان تکنیکی چیزوں میں ہم جائیں گے تو آپ چاہتے ہیں کہ یہ بل پھنس جائے۔ لیکن ہم اس بل کو پھنسنے نہیں دیں گے۔ سپریم کورٹ نے طے کیا ہے کہ خاتون ریزرویشن کا موضوع افقی بھی ہے اور عمودی بھی۔ اب فوراً تو حد بندی یا مردم شماری نہیں ہو سکتی، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ فوراً ریزرویشن دے دیجیے۔

سونیا گاندھی (کانگریس):

یہ میری زندگی کا جذباتی لمحہ ہے۔ پہلی بار مقامی بلدیہ میں خواتین کی شراکت داری طے کرنے والی آئین ترمیم میرے شریک حیات راجیو گاندھی ہی لے کر آئے تھے، لیکن یہ سات ووٹوں سے راجیہ سبھا میں گر گیا تھا۔ بعد میں اسے پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس حکومت نے پاس کرایا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مقامی بلدیہ کے ریزلٹ کے ذریعہ 15 لاکھ منتخب خاتون لیڈران ہیں۔ راجیو گاندھی کا خواب ابھی تک نصف ہی پورا ہوا ہے۔ اس بل کے پاس ہونے کے ساتھ ہی وہ پورا ہوگا۔ کانگریس پارٹی اس بل کی حمایت کرتی ہے۔

میرا سوال ہے کہ ہندوستانی خواتین گزشتہ 13 سالوں سے اپنی سیاسی ذمہ داری کا انتظار کر رہی ہیں، لیکن انھیں اب مزید انتظار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ کتنے سال؟ دو سال، چار سال، چھ سال یا پھر آٹھ سال؟ کیا (خواتین کے ساتھ) یہ سلوک مناسب ہوگا؟ اسے فوراً عمل میں لایا جائے۔ ساتھ ہی ذات پر مبنی مردم شماری کرا کے درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور انتہائی پسماندہ طبقہ (او بی سی) کی خواتین کے لیے ریزرویشن کا انتظام کیا جائے۔

راہل گاندھی (کانگریس):

میری نظر میں ایک چیز (او بی سی کوٹہ نہیں ہونا) اس بل کو نامکمل بناتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بل میں او بی سی ریزرویشن کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہندوستان کی آبادی کے ایک بڑے حصے، خواتین کے بڑے حصے کی ریزرویشن تک رسائی ہونی چاہیے۔ اس بل میں یہ موجود نہیں ہے۔

اس بل میں دو ایسی چیزیں ہیں جو مجھے عجیب و غریب لگتی ہیں۔ ایک یہ کہ بل کو نافذ کرنے کے لیے تازہ مردم شماری کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ دوسری یہ کہ بل کو نافذ کرنے کے لیے نئی حد بندی کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ بل آج ہی نافذ ہو سکتا ہے۔

سپریا سولے (این سی پی):

نشی کانت دوبے کہہ رہے ہیں کہ ہم یعنی اپوزیشن اتحاد انڈیا اس طرف ہے جو کہ خواتین کو نیچا دکھاتے ہیں۔ مجھے مہاراشٹر بی جے پی کے سابق چیف نے ٹی وی میں کہا کہ گھر جا اور کھانا بنا۔ ملک کوئی اور چلا لے گا۔ کابینہ وزیر نے میرے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا۔ یہ ہے بی جے پی کی ذہنیت۔ ہمارا کوئی کچھ کہتا ہے تو ’انڈیا‘ خراب ہے، لیکن اپنی باری میں نہیں دیکھتے۔ میں ایسے تبصرہ پر رد عمل نہیں دیتی لیکن انھوں نے (نشی کانت دوبے) بولا تو میں نے جواب دیا ہے۔

ہرسمرت کور (شرومنی اکالی دل):

حکومت خواتین کو لڈو دکھا رہی ہے، لیکن کہہ رہی ہے کہ وہ اسے کھا نہیں سکتیں۔ کچھ ہی گھنٹوں میں نوٹ بندی اور لاک ڈاؤن کرنے والی حکومت کو یہ بل لانے میں ساڑھے نو سال کا وقت کیوں لگا؟ جب آپ نے (بی جے پی نے) انتخابی منشور میں خاتون ریزرویشن کا وعدہ کیا، ساڑھے نو سال کیوں لگ گئے؟ لاک ڈاؤن گھنٹوں میں کر سکتے ہیں، نوٹ بندی گھنٹوں میں کر سکتے ہیں تو یہ بل لانے میں آخر ساڑھے نو سال کیوں لگ گئے؟ اب لائے ہیں تو اسے آئندہ لوک سبھا انتخاب سے کیوں نافذ نہیں کر رہے؟

ڈمپل یادو (سماجوادی پارٹی):

لوک سبھا اور اسمبلیوں میں تو یہ بل نافذ ہوگا، کیا راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل میں بھی نافذ ہوگا؟ یہ بل 13 سال سے لٹکا ہوا تھا، لیکن ان کی حکومت (بی جے پی حکومت) کو بھی 10 سال بعد اس کی یاد آئی۔ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے کہ آنے والے لوک سبھا انتخاب اور پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخاب میں یہ نافذ ہو پائے گا کہ نہیں؟

خاتون ریزرویشن بل تبدیلی کا مظہر، لیکن مردم شماری اور حد بندی کی شرط بہت عجیب: راہل گاندھی

0
خاتون-ریزرویشن-بل-تبدیلی-کا-مظہر،-لیکن-مردم-شماری-اور-حد-بندی-کی-شرط-بہت-عجیب:-راہل-گاندھی

لوک سبھا میں خاتون ریزرویشن بل (ناری شکتی وَندن ایکٹ) پر بحث کے دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے خواتین کے لیے ریزرویشن کا انتظام کرنے والے اس بل کو تبدیلی کا مظہر قرار دیا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اس بل کے نفاذ کے لیے مردم شماری اور حد بندی کی شرط رکھ دی گئی ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’خاتون ریزرویشن بل کو میری حمایت ہے، یہ خواتین کے لیے بہت ضروری قدم ہے۔ خواتین نے ملک کی آزادی کے لیے بھی لڑائی لڑی ہے۔ یہ خواتین ہمارے برابر ہیں اور کئی معاملوں میں ہم سے آگے بھی ہیں۔ لیکن میرے خیال سے یہ بل ادھورا ہے۔ اس میں او بی سی ریزرویشن کو جوڑا جانا چاہیے۔‘‘ پھر انھوں نے کہا کہ ’’بل کے نفاذ کے لیے نئی مردم شماری اور ڈیلمٹیشن کی ضرورت ہے، لیکن میری رائے ہے کہ یہ ابھی نافذ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد سیٹ ابھی ریزرو کرنی ہوگی۔‘‘

کیرالہ کے وائناڈ سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچے راہل گاندھی نے لوک سبھا میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بھی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ ’’اپوزیشن ذات پر مبنی مردم شماری کا ایشو اٹھاتا ہے تو بی جے پی دھیان ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے لیے نیا ایونٹ کرتی ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ او بی سی اور ہندوستانی لوگوں کی اس طرف توجہ نہ جائے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مرکزی حکومت میں 90 سکریٹری میں سے صرف 3 کا تعلق او بی سی سے ہے۔ یہ ہندوستان کے 5 فیصد بجٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ او بی سی سماج کی بے عزتی ہے۔ دلتوں اور قبائلوں کی تعداد کتنی ہے، یہ جاننے کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری کی ضرورت ہے۔‘‘ پھر مرکزی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جلد از جلد ہمارے ذریعہ کی گئی مردم شماری کا ڈاٹا ریلیز کیجیے، نہیں تو ہم کر دیں گے۔‘‘

اسدالدین اویسی نے کی ’خاتون ریزرویشن بل‘ کی مخالفت، لیکن کیوں!

0
اسدالدین-اویسی-نے-کی-’خاتون-ریزرویشن-بل‘-کی-مخالفت،-لیکن-کیوں!

خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے چیف اسدالدین اویسی نے اس پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس بل کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور خاتون ریزرویشن بل میں موجود خامیوں کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں اس بل کی مخالفت کر رہا ہوں۔ اس بل کو لے کر یہ دلیل دی گئی ہے کہ اس سے مزید خواتین پارلیمنٹ اور اسمبلی میں منتخب ہو کر آئیں گی۔ اس میں او بی سی اور مسلم خواتین کے لیے انتظام کیوں نہیں کیا گیا ہے؟ ان کی نمائندگی پارلیمنٹ میں بہت کم ہے۔‘‘

حیدر آباد سے رکن پارلیمنٹ اویسی نے کہا کہ ملک میں 7 فیصد مسلم خواتین ہیں، لیکن اس ایوان میں ان کی نمائندگی صرف 0.7 فیصد ہی ہے۔ مسلم لڑکیوں کا ڈراپ آؤٹ 19 فیصد ہے، جبکہ دیگر طبقات میں یہ صرف 12 فیصد ہے۔ اتنا ہی نہیں، نصف مسلم خواتین ناخواندہ ہیں۔ اویسی نے بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت اعلیٰ ذات کی خواتین کی نمائندگی بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ مسلم اور او بی سی خواتین کی نمائندگی نہیں بڑھانا چاہتی۔ 17ویں لوک سبھا تک مجموعی طور پر 690 خاتون اراکین پارلیمنٹ منتخب کی گئیں۔ ان میں سے صرف 25 خواتین ہی مسلم طبقہ سے تھیں۔‘‘

اویسی نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’وہ (حکومت) کہتے ہیں کہ ایوان میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی سہولت نہیں ہے۔ یہ صرف بڑے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لانا چاہتے ہیں۔ یہ چھوٹے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نہیں چاہتے۔ یہ بل پارلیمنٹ اور اسمبلی میں او بی سی اور مسلم خواتین کے لیے راستے بند کرتا ہے۔‘‘

راکیش ٹکیت کا مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاج کا انتباہ

0
راکیش-ٹکیت-کا-مطالبات-پورے-نہ-ہونے-پر-احتجاج-کا-انتباہ

لکھنؤ: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ اگر کسانوں کے مطالبات بشمول آبپاشی کے لیے مفت بجلی اور گنے کے لیے اعلیٰ ایس اے پی کو پورا نہیں کیا گیا تو وہ حکومت کے خلاف اپنا احتجاج تیز کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

راکیش ٹکیت نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ لکھنؤ میں کسانوں کا حالیہ احتجاج اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کسی سیاسی ایجنڈے سے متاثر نہیں تھا۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ جہاں حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے تئیں لاتعلق ہے وہیں اپوزیشن انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان میں ناراضگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسان اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر حکومت سے بے حد ناخوش ہیں۔ گنے کے کاشتکاروں کو ان کے واجبات وقت پر نہیں مل رہے۔ بی کے یو آنے والے دنوں میں ہر ضلع میں کسان احتجاج کرے گی۔

بی کے یو لیڈر نے غریب کسانوں کی قیمت پر کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مرکز پر بھی تنقید کی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی حکومت سیاسی فائدے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

ٹکیت نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مسئلہ کو حل نہیں کرنا چاہتی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی اپنے انتخابی منشور میں کسانوں سے کئے گئے وعدوں میں ناکام رہی ہے، چاہے وہ لوک سبھا ہو یا اسمبلی انتخابات۔

غازی آباد میں ’مڈ ڈے میل‘ کا دودھ پینے سے 25 بچے بیمار، اسپتال میں داخل

0
غازی-آباد-میں-’مڈ-ڈے-میل‘-کا-دودھ-پینے-سے-25-بچے-بیمار،-اسپتال-میں-داخل

غازی آباد کے لونی کوتوالی علاقہ کے پرائمری اسکول، پریم نگر میں مڈ ڈے میل کا دودھ پینے سے 25 بچے بیمار ہو گئے ہیں۔ دودھ پیتے ہی طلبا کو سر اور پیٹ میں درد کے ساتھ ساتھ الٹی کی شکایت ہونے لگی۔ بچوں کی خراب ہوتی طبیعت کو دیکھتے ہوئے انھیں فوراً لونی سی ایچ سی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی سی ایم او غازی آباد فوراً اسپتال پہنچے اور بیمار بچوں سے ملاقات کی۔ سبھی بچوں کا علاج جاری ہے اور وہ خطرے سے باہر بتائے جا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرائمری اسکول، پریم نگر، لونی میں 513 بچے پڑھتے ہیں۔ پریم نگر اور آس پاس کی کالونی کے بچے بھی اس اسکول میں پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔ اسکولی طلبا کا کہنا ہے کہ صبح تقریباً 10 بجے مڈ ڈے میل کا دودھ آیا تھا۔ اسکول اسٹاف نے بچوں کو دودھ پینے کے لیے کہا۔ کچھ بچوں نے جب یہ دودھ پیا تو انھوں نے اس کا مزہ کڑوا ہونے کی شکایت کی۔ بچوں نے اس دودھ کو پینے سے منع بھی کیا، لیکن پھر بھی انھیں دودھ پلایا گیا۔ کچھ بچوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اسکول اسٹاف کے ذریعہ پٹائی ہونے کے خوف سے کڑوا دودھ پی لیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ دودھ پیتے ہی کچھ بچوں کو الٹی ہونے لگی۔ کچھ بچے سر میں درد اور پیٹ درد کی شکایت کرنے لگے۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی بچے سر اور پیٹ درد سے رونے لگے۔ بچوں کی طبیعت اچانک خراب ہونے کی خبر ملتے ہی آس پاس کے لوگ جمع ہو گئے۔ بیمار بچوں کو ایمبولنس کے ذریعہ لونی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں داخل کرایا گیا۔ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی ایس ڈی ایم ارون دیکشت بھی موقع پر پہنچے۔ انھوں نے بیمار بچوں کے اہل خانہ سے بات کی۔ لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے پر پولیس فورس بلایا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی اس اسکول کا کھانا کھانے سے کچھ بچے بیمار ہوئے ہیں۔ اس کی شکایت متعلقہ افسروں سے کی بھی گئی تھی۔

تناؤ کے درمیان وزارت خارجہ نے کینیڈا میں مقیم طلبا اور ہندوستانیوں کے لیے جاری کیں سفری ہدایات

0
تناؤ-کے-درمیان-وزارت-خارجہ-نے-کینیڈا-میں-مقیم-طلبا-اور-ہندوستانیوں-کے-لیے-جاری-کیں-سفری-ہدایات

نئی دہلی: کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بیان کے بعد کینیڈا میں مقیم ہندوستانیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ دریں اثنا، بدھ (20 ستمبر) کو وزارت خارجہ نے ہندوستانی شہریوں اور طلبا کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں اور طلبا سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ وہاں بڑھتی ہوئی ہندوستان مخالف سرگرمیوں اور مجرمانہ تشدد کے پیش نظر انتہائی احتیاط برتیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا جانے والے شہریوں کو بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کینیڈا میں ان علاقوں اور ممکنہ مقامات کا سفر کرنے سے گریز کریں جہاں اس طرح کے واقعات دیکھے گئے ہوں۔ حال ہی میں، ان دھمکیوں نے خاص طور پر ہندوستانی سفارت کاروں اور ہندوستانی کمیونٹی کے ان حصوں کو نشانہ بنایا ہے جو ہندوستان مخالف ایجنڈے کی مخالفت کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمارا ہائی کمیشن/قونصلیٹ کینیڈا میں ہندوستانی کمیونٹی کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کینیڈین حکام کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔

تلنگانہ: وزیر اعلیٰ چندرشیکھر راؤ نے مسلم دھوبیوں کو ماہانہ 250 یونٹ مفت بجلی دینے کا کیا اعلان

0
تلنگانہ:-وزیر-اعلیٰ-چندرشیکھر-راؤ-نے-مسلم-دھوبیوں-کو-ماہانہ-250-یونٹ-مفت-بجلی-دینے-کا-کیا-اعلان

تلنگانہ میں اسمبلی انتخاب کے دن قریب آ رہے ہیں، اور اس سے ٹھیک پہلے وزیر اعلیٰ کے. چندر شیکھ راؤ (کے سی آر) نے مسلم دھوبیوں کے حق میں ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ مسلم طبقہ کے جو بھی لوگ لانڈری چلاتے ہیں یا پھر دھوبی گھاٹ پر کام کرتے ہیں، انھیں ہر ماہ 250 یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت نے اس کے لیے ایک سرکلر بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری سرکلر میں مسلم طبقہ کے ایسے لوگوں کو مدد پہنچانے کی ہدایت دی گئی ہے جو دھوبی کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ پہلے یہ فائدہ صرف پسماندہ طبقہ کے دھوبیوں کو دیا جاتا تھا۔ ریاست میں پسماندہ طبقہ کے دھوبیوں کے لیے یہ منصوبہ 2021 سے ہی نافذ ہے، اور یہ فائدہ مسلم دھوبیوں کو بھی مل سکے گا۔

حال ہی میں حیدر آباد سے لوک سبھا رکن اسدالدین اویسی نے کہا تھا کہ مسلم طبقہ سے جڑے کئی لوگ دھوبی ہیں، انھیں بھی پسماندہ طبقہ سے جڑے منصوبے کا فائدہ ملنا چاہیے۔ اب جبکہ مسلم دھوبیوں کو ماہانہ 250 یونٹ بجلی مفت دینے کا اعلان وزیر اعلیٰ کے ذریعہ کر دیا گیا ہے تو یقیناً اویسی کو خوشی ہوئی ہوگی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخاب رواں سال کے آخر میں ہونا ہے، اور کانگریس نے پہلے ہی تلنگانہ میں ’گرہ جیوتی یوجنا‘ کے تحت ہر ماہ 200 یونٹ بجلی مفت دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ ریاست میں کانگریس کو بی جے پی کے ساتھ ساتھ بی آر ایس سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ مقابلہ سہ رخی ہونے کا پورا امکان ہے، حالانکہ کانگریس لگاتار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ کے سی آر اور بی جے پی دونوں ملے ہوئے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر کے 46 لاکھ اموات ہونے سے روک سکتا ہے ہندوستان: ڈبلیو ایچ او

0
ہائی-بلڈ-پریشر-کو-کنٹرول-کر-کے-46-لاکھ-اموات-ہونے-سے-روک-سکتا-ہے-ہندوستان:-ڈبلیو-ایچ-او

نئی دہلی: عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر کے 2040 تک 4.6 ملین اموات کو روک سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس کے دوران ہائی بلڈ پریشر کے تباہ کن عالمی اثرات پر اپنی پہلی رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں 30-79 سال کی عمر کے 188.3 ملین بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ 50 فیصد کنٹرول کی شرح حاصل کرنے کے لیے، ہائی بلڈ پریشر والے 67 ملین سے زیادہ لوگوں کا مؤثر طریقے سے علاج کرنے کی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق، ہائی بی پی کا مسئلہ کل 37 فیصد ہندوستانیوں میں پایا گیا ہے۔ 32 فیصد مرد اور 42 فیصد خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں۔ کل متاثرین میں سے صرف 30 فیصد ہی علاج کر پاتے ہیں۔ 35 فیصد خواتین اور 25 فیصد مرد اس علاج سے شفایاب ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال صرف 15 فیصد لوگوں (19 فیصد خواتین اور 11 فیصد مرد) کا ہائی بلڈ پریشر کنٹرول میں ہے۔

بے قابو ہائی بی پی ہارٹ اٹیک، فالج اور ناگہانی موت کا سبب بنتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی 52 فیصد اموات کی وجہ ہائی بی پی ہو سکتی ہے۔

عالمی سطح پر، ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں تین میں سے ایک بالغ کو متاثر کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہر پانچ میں سے چار افراد کا مناسب علاج نہیں کیا جاتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ممالک کوریج میں اضافہ کریں تو 2023 سے 2050 کے درمیان 76 ملین اموات کو روکا جا سکتا ہے۔

انتخابات کے پیش نظر خواتین ریزرویشن بل کو فروغ دینے والی حکومت کا ارادہ کچھ اور ہے! کھڑگے

0
انتخابات-کے-پیش-نظر-خواتین-ریزرویشن-بل-کو-فروغ-دینے-والی-حکومت-کا-ارادہ-کچھ-اور-ہے!-کھڑگے

نئی دہلی: لوک سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پر بحث سے پہلے کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کو حکومت کے ارادوں پر سوال اٹھایا اور کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ حکومت انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسے فروغ دے رہی ہے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے تیسرے دن خواتین ریزرویشن بل سے قبل اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا، ’’2010 میں ہم نے راجیہ سبھا میں بل پاس کیا تھا لیکن لوک سبھا میں اسے پاس نہیں کیا جا سکا، تو یہ کوئی نیا بل نہیں ہے۔ اگر وہ اسی بل کو آگے بڑھاتے تو یہ کام جلد ہو گیا ہوتا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ وہ انتخابات کے پیش نظر اس کی تشہیر کر رہے ہیں لیکن درحقیقت حد بندی یا مردم شماری ہونے تک، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ وہ پہلے والے کو بھی جاری رکھ سکتے تھے لیکن ان کے ارادے مختلف ہیں۔ ہم اصرار کریں گے کہ خواتین کے ریزرویشن کو لانا پڑے گا اور ہم مکمل تعاون کریں گے لیکن خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کیا جانا چاہیے۔‘‘

ان کا یہ بیان آئین (128 ویں ترمیم) بل 2023 کے لوک سبھا میں کاروبار کی ضمنی فہرست میں پیش کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ خاتون ریزرویشن بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ریزرویشن 15 سال کی مدت تک جاری رہے گا اور خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کے اندر درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے کوٹہ ہوگا۔ تاہم ذرائع نے بتایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس قانون کے لاگو ہونے کا امکان نہیں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اسے حد بندی کا عمل ختم ہونے پر ممکنہ طور پر 2029 کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا، میں۔

حد بندی کے عمل کے آغاز کے بعد ریزرویشن نافذ ہو جائے گا اور 15 سال تک جاری رہے گا۔ بل کے مطابق خواتین کے لیے مخصوص نشستیں ہر حد بندی کے بعد تبدیل کی جائیں گی۔ حکومت نے کہا کہ خواتین پنچایتوں اور میونسپل اداروں میں نمایاں طور پر حصہ لیتی ہیں لیکن اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی ابھی تک محدود ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خواتین مختلف نقطہ نظر لاتی ہیں اور قانون سازی کی بحث اور فیصلہ سازی کے معیار کو تقویت دیتی ہیں۔ کانگریس نے اس بل کو ’انتخابی جملہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے ملک کی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ دھوکہ بھی قرار دیا ہے۔

‘سوشل میڈیا کے عادی ہو رہے بچے، استعمال کے لیے کم از کم عمر مقرر کی جائے’ کرناٹک ہائی کورٹ

0
‘سوشل-میڈیا-کے-عادی-ہو-رہے-بچے،-استعمال-کے-لیے-کم-از-کم-عمر-مقرر-کی-جائے’-کرناٹک-ہائی-کورٹ

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل (19 ستمبر) کو ایک اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوانوں اور خاص طور پر اسکول کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی تجویز کیا کہ جب انہیں ووٹ کا حق ملے تب ہی انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ عمر 21 یا 18 سال ہو سکتی ہے۔

ٹی او آئی کی رپورٹ کے کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے یہ تبصرہ اس وقت کیا گیا جب جسٹس جی نریندر اور جسٹس وجئے کمار اے پاٹل کی ڈویژن بنچ ایکس کارپ (سابقہ ​​ٹوئٹر) کی اپیل پر سماعت کر رہی تھی۔ ڈویژن بنچ نے کہا، ’’اسکول جانے والے بچے سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں اور اگر ان پر پابندی لگائی جائے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا۔‘‘

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے مزید کہا، ’’بچے 17 یا 18 سال کے ہو سکتے ہیں لیکن کیا ان میں یہ فیصلہ کرنے کی پختگی ہے کہ کیا ملک کے مفاد میں ہے اور کیا نہیں؟ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ انٹرنیٹ سے بھی ان چیزوں کو ہٹایا جانا چاہئے جو جو دماغ میں زہر بھرتی ہیں۔ حکومت کو سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔‘‘

کرناٹک ہائی کورٹ کے یہ تبصرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرف سے دائر اپیل کی سماعت کے دوران سامنے آئے ہیں جس میں سنگل جج بنچ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69اے کے تحت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے احکامات جاری کیے تھے۔ منظور شدہ حکم پر سوال اٹھانے والی ان کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے کمپنی پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے کمپنی سے کہا تھا کہ وہ اپنی صداقت ظاہر کرنے کے لیے جرمانے کی رقم کا 50 فیصد جمع کرے۔ کمپنی نے دلیل دی کہ یہ جرمانہ بہت زیادہ ہے اور غیر منصفانہ بھی۔

کیس کی سماعت بدھ (20 ستمبر) تک ملتوی کر دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ وہ ‘ایکس کارپ’ کی طرف سے مانگی گئی عبوری راحت پر بدھ کو فیصلہ کرے گی اور اس کی اپیل پر بعد میں سماعت کی جائے گی۔