ہفتہ, مارچ 28, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 108

’خاتون ریزرویشن بل کا نفاذ مردم شماری اور حد بندی سے قبل ہو‘، راجیہ سبھا میں کانگریس کا مطالبہ

0
’خاتون-ریزرویشن-بل-کا-نفاذ-مردم-شماری-اور-حد-بندی-سے-قبل-ہو‘،-راجیہ-سبھا-میں-کانگریس-کا-مطالبہ

خاتون ریزرویشن بل (ناری شکتی وَندن ادھینیم) لوک سبھا سے پاس ہو چکا ہے اور جمعرات کو اس پر راجیہ سبھا میں بحث جاری ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ رنجیت رنجن نے اس بل کے تعلق سے ایوان بالا میں اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی سیٹیں محفوظ کرنے کی سہولت دینے والے اس بل کو رنجیت رنجن نے برسراقتدار طبقہ کا ’انتخابی ایجنڈا‘ اور ’جھنجھنا‘ ٹھہرایا۔ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس مجوزہ قانون کو مردم شماری اور حد بندی کے پہلے ہی نافذ کیا جانا چاہیے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ رنجیت رنجن نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھیں اس بل کے پیچھے سازش نظر آتی ہے، کیونکہ حکومت ساڑھے نو سال بعد اسے لے کر آئی ہے۔ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد سیٹیں محفوظ کرنے کے التزام والے ’آئین (128ویں ترمیم) بل، 2023‘ پر ایوانِ بالا میں بحث کی شروعات کرتے ہوئے رنجیت رنجن نے کہا کہ 2014 کے عام انتخاب کے وقت بی جے پی کے انتخابی منشور میں خاتون ریزرویشن کی بات کی گئی تھی، لیکن اس نے اسے پیش کرنے میں اتنا طویل وقت لگا دیا۔ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر اس بل کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی کیا ضرورت تھی؟

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس کی خاتون لیڈر نے کہا کہ حکومت کا مقصد اس بل کے ذریعہ سرخیاں بٹورنا ہے۔ اس بل کو انتخابی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے رنجیت رنجن نے کہا کہ کیا حکومت اس کے ذریعہ ’جھنجھنا‘ (بچوں کا کھلونا) دکھا رہی ہے۔ حکومت کا ارادہ حد بندی کے بعد سیٹوں کی تعداد مین اضافہ کر ریزرویشن مہیا کرانا ہے تاکہ مردوں کی سیٹوں کی تعداد نہ گھٹے۔ انھوں نے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل، پسماندہ طبقہ (او بی سی) کی خواتین کو بھی حقوق دیے جانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ سیاست کے دلدل میں تنہا خواتین کا اترنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں انھیں اختیار یافتہ بنانے کی ضرورت ہے۔

رنجیت رنجن نے بل کو ’ناری شکتی وَندن ادھینیم‘ نام دینے پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ برابری خواتین کا آئینی حق ہے اور اسے دیوی بنانا مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت بھلے ہی خواتین کے وَندن (سلام) کی بات کرتی ہے، لیکن اس کی کتھنی اور کرنی میں بہت فرق ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت کو خواتین کو مناسب احترام ہی دینا تھا تو اس نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے افتتاح کے موقع پر قبائلی سماج سے آنے والی خاتون صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو کیوں نہیں مدعو کیا۔ جنتر منتر پر خاتون پہلوانوں کے دھرنے کا معاملہ ہو یا منی پور میں خواتین کے استحصال کا معاملہ، حکومت کے رخ کو سبھی نے دیکھا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ جب اقتدار حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو خواتین کی ’وَندنا‘ کی جاتی ہے، لیکن خواتین کسی رحم کی محتاج نہیں۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ایک بار کہا تھا کہ خواتین کے معاملے میں مردوں کی ذہنیت دوہری ہوتی ہے اور وہ خواتین کو احترام اور برابری دینے کے وقت اپنا پلہ جھاڑ لیتے ہیں۔

آندھرا پردیش: اسپیکر کے ویل میں ہنگامہ کرنے والے 16 اراکین اسمبلی معطل

0
آندھرا-پردیش:-اسپیکر-کے-ویل-میں-ہنگامہ-کرنے-والے-16-اراکین-اسمبلی-معطل

آندھرا پردیش اسمبلی اسپیکر تمینینی سیتارام نے آج 16 اراکین اسمبلی کی معطلی کا حکم صادر کر دیا۔ معطل کیے گئے اراکین اسمبلی میں سے 14 کا تعلق ٹی ڈی پی سے ہے، جبکہ 2 وائی ایس آر سی پی کے باغی اراکین اسمبلی ہیں۔ اناگنی ستیہ پرساد، پیاوُلا کیشو اور وائی ایس آر سی پی کے باغی اراکین اسمبلی کوٹمریڈی، شری دھر ریڈیو کو پورے اجلاس کے لیے معطل کیا گیا ہے، جبکہ بقیہ کی معطلی آج پورے دن کے لیے ہوئی ہے۔

دراصل سابق وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کی رِہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی ٹی ڈی پی کے اراکین نے ایوان میں خوب ہنگامہ کیا تھا۔ اپوزیشن پارٹی کی نعرہ بازی کے سبب آندھرا پردیش اسمبلی اسپیکر تمینینی سیتارام نے جمعرات کو ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی بھی کر دی تھی۔ پھر جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو ٹی ڈی پی لیڈرس پوسٹر لے کر اسپیکر کے ویل میں پہنچ گئے اور اسپیکر کو گھیر لیا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ٹی ڈی پی اراکین سے اپنی سیٹوں پر جانے اور وقفہ سوال چلنے دینے کی گزارش کی۔ اس درمیان برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن اراکین کے بیچ تلخ نوک جھونک بھی ہوئی۔

قابل ذکر ہے کہ کوشل وِکاس نگم گھوٹالہ معاملہ میں چندرابابو نائیڈو کی گرفتاری پر ٹی ڈی پی اراکین کے زیر التوا کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے قانونی امور کے وزیر بی راجندرناتھ نے کہا کہ وہ اس موضوع کو تجارتی صلاحکار کونسل کی میٹنگ میں اٹھا سکتے ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کے تقریباً ایک درجن اراکین اسمبلی نے اسپیکر کی کرسی کے پاس کھڑے ہو کر سیاہ پوسٹر (پلے کارڈ) لہرائے اور نعرہ بازی کی۔ یہ سب ٹی ڈی پی ریاستی صدر کنجراپو اتچینائیڈو ویل سے دیکھ رہے تھے۔ یہ ہنگامہ تب بھی جاری رہا جب سماجی فلاح کے وزیر میروگو ناگارجن ان الزامات کی تردید کر رہے تھے کہ کلیانمستو یوجنا بند کر دی گئی۔ وزیر آبپاشی امباتی رام بابو نے مبینہ طور پر اپنی مونچھیں گھمانے پر ہندوپور رکن اسمبلی نندموری بال کرشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی کوئی فلم نہیں ہے۔

خواتین ریزرویشن کے نفاذ کے بعد ملک کا مزاج بدلے گا: وزیر اعظم مودی

0
خواتین-ریزرویشن-کے-نفاذ-کے-بعد-ملک-کا-مزاج-بدلے-گا:-وزیر-اعظم-مودی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے والے ناری شکتی وندن بل 2023 کوبڑی اکثریت سے منظور کرنے کے لئے لوک سبھا میں تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ خواتین ریزرویشن کے نفاذ کے بعد ہندوستان کا مزاج بدلے گا اور ملک نئی بلندیوں پر پہنچے گا۔

وزیر اعظم مودی نے آج چندریان 3 کی کامیابی اور خلائی شعبے میں ملک کی کامیابیوں پر بحث شروع ہونے سے پہلے لوک سبھا میں ایک مختصر بیان میں اظہار تشکر کیا۔ اسپیکر اوم برلا کو مخاطب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا ’’مجھے بولنے کی اجازت دینے کے لیے، مجھے وقت دینے کے لیے میں آپ کا بہت مشکور ہوں۔ میں صرف 2-4 منٹ لینا چاہتا ہوں۔ کل ہندوستان کے پارلیمانی سفر کا ایک سنہری لمحہ تھا۔ اور اس سنہری لمحے کے حقدار اس ایوان کے سبھی ارکان ، سبھی پارٹیوں کے ارکان ہیں، سبھی پارٹیوں کے لیڈر بھی۔ ایوان میں ہوں یا ایوان سے باہر، وہ بھی برابر کے حقدار ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا ’’آج، آپ کے ذریعے، اس بہت اہم فیصلہ میں اور ملک کی ماتر شکتی میں ایک نئی توانائی بھرنے میں، یہ کل کا فیصلہ اور آج راجیہ سبھا کے بعد، جب ہم آخری پڑاؤ بھی مکمل کرلیں گے، ملک کی ماتر شکتی کا جو مزاج بدلے گا، جو اعتماد پیدا ہوگا وہ ملک کو نئی بلندیوں پر لے جانے والے ایک ناقابل تصور، منفرد قوت کے طور پر ابھرے گا میں یہ تجربہ کرتا ہوں اور اس مقدس کام کو انجام دینے میں آپ سب نے جو تعاون، حمایت اور بامعنی گفتگو کی ہے، اس کے لیے، ایوان کے لیڈروں کی حیثیت سے، میں آج آپ سب کو تہہ دل سے سلام کرنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں۔ شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔ ‘‘

لوک سبھا نے بدھ کے روز 128ویں آئینی ترمیمی بل کو منظور کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک طویل عرصے سے زیر التوا تاریخی فیصلہ لیا گیا، جو دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرتا ہے۔ ’ناری شکتی وندن بل 2023‘ کل دن بھر کی بحث کے بعد لوک سبھا میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے پرچی کے ذریعے ووٹنگ کرائی، جس میں بل کے حق میں 454 اور مخالفت میں دو ووٹ ڈالے گئے۔ اس طرح آئینی ترمیمی بل دو تہائی سے زیادہ اکثریت سے منظور کر لیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں جمعرات کو اس بل پر بحث شروع ہوئی اور دیر شام تک اس بل کے پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پاس ہونے کا قوی امکان۔

پلوامہ حملہ: مرکز پر پھر حملہ آور ہوئے ستیہ پال ملک، سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ

0
پلوامہ-حملہ:-مرکز-پر-پھر-حملہ-آور-ہوئے-ستیہ-پال-ملک،-سپریم-کورٹ-کی-نگرانی-میں-تحقیقات-کا-مطالبہ

نئی دہلی: جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے بدھ کو پلوامہ دہشت گردانہ حملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ نریندر مودی حکومت اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے فروری 2019 میں کشمیر میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کی موت ہوئی۔ سابق گورنر نے مزید کہا کہ ’’میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں جس میں ہمارے 40 فوجی شہید ہوئے تھے۔ اب تک وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت نے اس سانحہ پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور سنگین غلطیوں کو تسلیم کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘

ستیہ پال ملک نے پریس کلب آف انڈیا میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے اس سال اپریل میں پلوامہ حملے کے بارے میں اٹھائے گئے سنگین سوالات کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا ’’میں دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ ممکنہ دہشت گردانہ حملے کی متعدد انٹیلی جنس اطلاعات کے باوجود حکومت نے سی آر پی ایف جوانوں کو سفر کے لیے طیارہ فراہم نہیں کیا۔ اگر طیارہ دستیاب ہوتا تو فوجی شہید نہ ہوتے۔‘‘

خیال رہے کہ 14 اپریل کو ‘دی وائر نیوز پورٹل’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ملک نے کہا تھا ’’جب میں نے جموں و کشمیر کے اس وقت کے گورنر کی حیثیت سے مرکز کی اپنی غلطیوں کو 2019 کے پلوامہ قتل عام کو مورد الزام ٹھہرایا، تو وزیر اعظم مودی نے ان سے کہا تھا، ’تم ابھی خاموش رہو۔‘

خیال رہے کہ ابھی تک نہ تو پی ایم او اور نہ ہی کسی دوسرے سرکاری ونگ نے ستیہ پال ملک کے دعووں کا جواب دیا ہے۔ ستیہ پال ملک کے الزامات کے بعد، سی بی آئی نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مبینہ ہیلتھ انشورنس گھوٹالہ کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے انہیں سمن جاری کیا تھا۔

ستیہ پال ملک نے کہا کہ ’’پی ایم مودی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران بالاکوٹ میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کی ہلاکت اور ہندوستانی فضائیہ کے حملے پر سیاست کی تھی۔ یہاں تک کہ پہلی بار ووٹروں سے کہا گیا کہ وہ اپنا ووٹ ان بہادر فوجیوں کے نام کریں جنہوں نے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا۔ اس کے بعد چار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن مودی حکومت جوابدہ طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ الیکشن جیتنا ان کی واحد ترجیح ہے۔ ملک کے عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس بار بھی پارلیمانی انتخابات سے قبل ایسے ہی حملے ہو سکتے ہیں۔‘‘

ملک نے مزید کہا کہ 14 فروری 2019 کو پلوامہ قتل عام میں سی آر پی ایف کے 40 جوان مارے گئے تھے۔ حکام نے بتایا تھا کہ جیش محمد کا دہشت گرد عبدالاحمد ڈار بھی دھماکے میں مارا گیا تھا۔ ڈار کو جموں و کشمیر پولیس نے کئی بار گرفتار کیا تھا لیکن اسے ہر بار رہا کر دیا گیا۔ اس دوران بارڈر سیکورٹی فورس کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سنجیو کے سود نے کہا کہ بہت سے سوال جواب طلب ہیں۔ ستیہ پال ملک کی بات کو دہراتے ہوئے، انہوں نے پوچھا کہ اتنی بڑی تعداد میں سی آر پی ایف اہلکاروں (تقریباً 2500) کو حفاظتی خطرات کے باوجود ایئر لفٹ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔

سنجیو کے سود نے مزید کہا کہ سی آر پی ایف کے قافلہ (78 گاڑیوں) کو دیکھتے ہوئے پورے راستے کو صاف کیوں نہیں کیا گیا؟ جموں و کشمیر میں اتنی سخت حفاظتی نگرانی کے باوجود 300 کلو گرام سے زیادہ وزنی آر ڈی ایکس سمیت دھماکہ خیز مواد ملک کی محفوظ ترین شاہراہ تک کیسے پہنچا؟ سود نے کہا ’’ملک اور اس کے عوام کو مودی اور ان کی حکومت سے واضح جواب کی ضرورت ہے۔ وہ ہمیشہ فوجیوں کے قتل کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں پلوامہ میں کی گئی غلطیوں کی جوابدہی طے کرنی چاہئے۔ ہم سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، تاکہ عوام کو حقیقت کا پتہ چل سکے۔ پی ایم مودی اب تک اس سے بچتے رہے ہیں۔‘‘

ایئر انڈیا کو جھٹکا! ڈی جی سی اے نے فلائٹ سیفٹی چیف کی منظوری ایک مہینہ کے لیے معطل کر دیں

0
ایئر-انڈیا-کو-جھٹکا!-ڈی-جی-سی-اے-نے-فلائٹ-سیفٹی-چیف-کی-منظوری-ایک-مہینہ-کے-لیے-معطل-کر-دیں

نئی دہلی: ٹاٹا گروپ کی ملکیت ایئر انڈیا کے لیے بری خبر ہے۔ ایوی ایشن ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے کچھ کوتاہیوں کی وجہ سے ایئر انڈیا کے فلائٹ سیفٹی چیف کو دی گئی منظوری کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کے حادثے سے بچاؤ کے پروٹوکول میں کچھ خامیاں پائیں، جس کے بعد اس کیریئر کے فلائٹ سیفٹی چیف کی منظوری کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا میں 26 اگست کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی دو رکنی معائنہ ٹیم نے ایئر انڈیا کی اندرونی حفاظت کے حوالے سے کیے گئے آڈٹ میں کئی خامیاں پائی ہیں اور اس کے بعد اس حوالے سے ایک ریگولیٹری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ جانکاری حکام کے حوالے سے دی گئی تھی۔

اس کے جواب میں، ایئر انڈیا کے ترجمان نے زور دے کر کہا تھا کہ تمام ایئر لائنز ریگولیٹرز اور بیرونی اداروں سے باقاعدگی سے حفاظتی آڈٹ کرواتی ہیں اور اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ڈی جی سی اے کی ٹیم نے 25 اور 26 جولائی کو ایئر انڈیا کا اندرونی آڈٹ، حادثے سے بچاؤ کے کام اور ضروری تکنیکی عملے کی دستیابی کے حوالے سے جائزہ لیا تھا۔

ڈی جی سی اے نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ جائزے میں ایئر انڈیا کے حادثات سے بچاؤ کے کام اور منظور شدہ فلائٹ سیفٹی مینوئل اور متعلقہ شہری ہوا بازی کی ضروریات کے مطابق تکنیکی عملے کی دستیابی میں خامیاں پائی گئی ہیں۔

ڈی جی سی اے کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایئر انڈیا میں پائی جانے والی خامیوں کی وجہ سے ایئر انڈیا کے فلائٹ سیفٹی چیف کو دی گئی منظوری کو ایک ماہ کے لیے روکا جا رہا ہے۔

خاتون ریزرویشن بل راجیہ سبھا میں پیش، ’خواتین کی نشستوں کا فیصلہ کمیشن کرے گا‘

0
خاتون-ریزرویشن-بل-راجیہ-سبھا-میں-پیش،-’خواتین-کی-نشستوں-کا-فیصلہ-کمیشن-کرے-گا‘

نئی دہلی: خاتون ریزرویشن بل (ناری شکتی وندنن ادھینیم) کو جمعرات کے روز راجیہ سبھا میں پیش کر دیا گیا۔ راجیہ سبھا میں اسے مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے پیش کیا، جوکہ 128 واں آئینی ترمیمی بل ہے۔ اس بل کو لوک سبھا سے گزشتہ روز ہی منظور کیا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کے بعد مردم شماری اور نشستوں کی حد بندی ہوگی، جو ایک آئینی عمل ہے۔ حد بندی کمیشن فیصلہ کرے گا کہ خواتین کو کون سی نشستیں دی جائیں گی۔ بل پیش کرتے ہوئے میگھوال نے کہا کہ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کی طرف ایک قدم ہے اور دنیا کو سمت دکھانے کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

راجیہ سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے میگھوال نے کہا کہ اس بل کے ذریعے لوک سبھا اور ملک کی تمام قانون ساز اسمبلیوں میں ایک تہائی نشستیں نسوانی قوت کے لیے مختص کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعے ایس سی، ایس ٹی زمرہ کی خواتین کو بھی ریزرویشن دیا جائے گا، اس لیے مردم شماری اور حد بندی ضروری ہے۔

آئین کے آرٹیکل 82 میں پہلے سے ہی ایک شق موجود ہے، جس میں حد بندی کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل منظور ہوگا، مردم شماری ہوگی اور پھر حد بندی کی جائے گی۔ یہ آئینی عمل ہے اور حد بندی کمیشن فیصلہ کرے گا کہ خواتین کو کون سی نشستیں دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن تمام متعلقین سے بات چیت کرے گا۔ مرکزی وزیر نے اس موقع پر ایک نظم بھی پڑھی، ’’سپنے سب ساکار کریں گے، ناری کو ادھیکار ملیں گے، ماترشکتی نیترتو کرے گی، جن گن من کی شان بڑے گی، جس کے معنی ہیں تمام خواب پورے کریں گے، خواتین کو حقوق ملیں گے، قوت مادر قیادت کرے گی، ملک و قوم کی شان بڑھے گی۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں خاتون ریزرویشن بل پیش کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز اسے لوک سبھا نے منظور کر لیا ہے اور حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بل جمعرات (آج) کو راجیہ سبھا میں بھی پاس ہو جائے گا۔

سفارتی تنازعہ کے درمیان ہندوستان کا سخت اقدام، کینیڈا کے لیے ویزا سروسز تاحکم ثانی معطل!

0
سفارتی-تنازعہ-کے-درمیان-ہندوستان-کا-سخت-اقدام،-کینیڈا-کے-لیے-ویزا-سروسز-تاحکم-ثانی-معطل!

نئی دہلی: کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بیان کے بعد ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں تلخی آ گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اعلیٰ سفارت کار کو ملک بدر کر دیا ہے۔ اب ہندوستان نے کینیڈا کے لیے تمام ویزا سروسز تاحکم ثانی بند کر دی ہیں۔

بی ایل ایس انڈیا ویزا ایپلیکیشن سنٹر نے اپنی ویب سائٹ پر ایک نوٹس جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تمام ویزا سروسز 21 ستمبر 2023 سے اگلے احکامات تک معطل کر دی گئی ہیں۔

بی ایل ایس انٹرنیشنل انڈیا ویزا ایپلیکیشن سینٹر نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا، ’’ہندوستانی مشن سے اہم معلومات۔ آپریشنل وجوہات کی بنا پر، ہندوستانی ویزا سروس کو 21 ستمبر 2023 سے تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے براہ کرم بی ایل ایس ویب سائٹ دیکھیں۔‘‘

ایک ہندوستانی اہلکار نے ویزا خدمات کی معطلی کی تصدیق کی، تاہم اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا ’’زبان صاف ہے اور یہ وہی کہتی ہے جو کہنا چاہتی ہے۔‘‘ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستان نے کوویڈ 19 وبائی امراض کے بعد ویزا خدمات معطل کی ہیں۔

اس سے قبل وزارت خارجہ کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی جس میں کینیڈا جانے والے ہندوستانی شہریوں سے محتاط رہنے کو کہا گیا تھا۔ کہا گیا تھا کہ کسی ایسے علاقے میں نہ جائیں جہاں ہندوستان مخالف واقعات پیش آئے ہوں یا اس کا امکان ہو۔ نیز، کینیڈا میں نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں جاتے وقت محتاط رہیں۔

دو روز قبل کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے خالصتانی علیحدگی پسند کے قتل میں ہندوستانی حکومت کے ایجنٹ کے ‘ممکنہ’ ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

چھتیس گڑھ کے 600 گاؤں نکسل ازم سے پاک: بھوپیش بگھیل

0
چھتیس-گڑھ-کے-600-گاؤں-نکسل-ازم-سے-پاک:-بھوپیش-بگھیل

رائے پور: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں نکسل ازم کا اثر کم ہو رہا ہے اور 600 گاؤں ایسے ہیں جو نکسل ازم سے آزاد ہو چکے ہیں اور عام لوگوں کو بہتر سہولیات مل رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ بگھیل نے یہاں ایک نیوز چینل کے ذریعہ منعقدہ پروگرام میں کہا کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں تعلیم، صحت، آنگن واڑی سمیت ترقی دیکھی جا رہی ہے اور چھتیس گڑھ میں نکسل ازم کم ہو رہا ہے۔ تقریباً 600 گاؤں نکسل ازم سے آزاد کرائے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ عوام کی جامع ترقی ہی چھتیس گڑھ ماڈل ہے۔ اس ماڈل کے تحت حکومت گاؤں میں رہنے والے کسانوں، قبائلیوں اور معاشی طور پر کمزور لوگوں کو خوشحال بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ چھتیس گڑھ میں کسانوں کا قرض معاف کیا گیا اور یہاں کے لوگوں کی اقتصادی ترقی اور بہتری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

چھتیس گڑھ ماڈل کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چھتیس گڑھ حکومت ان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ہر ممکن اسکیمیں چلا کر لوگوں کو مالا مال کرنے کا کام کر رہی ہے۔ اس ماڈل کے تحت ریاست میں 750 سے زیادہ سوامی اتمانند بہترین انگریزی-ہندی میڈیم اسکول کھولے گئے ہیں۔ ان سکولوں کے ذریعے ان خاندانوں کو راحت ملی ہے اور بچے انگلش میڈیم میں تعلیم حاصل کر کے پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مزدوروں، بے روزگاروں اور کسانوں کو بھی براہ راست ان کے کھاتوں میں رقم منتقل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے لوگوں کی معاشی خوشحالی کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت آرٹ کلچر کو فروغ دینے اور اسے فروغ دینے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ گزشتہ تین سالوں سے قبائلی میلے کا اہتمام کیا گیا۔ تقریباً 27 ممالک سے قبائلیوں کی ٹیمیں بھی چھتیس گڑھ آئیں اور قبائلی میلے میں اپنی ثقافت کا مظاہرہ کیا جس سے ایک دوسرے کی ثقافت کو جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ یہی نہیں ہماری حکومت میں ریاست کے نوجوانوں کے لیے بہتر کام کیا گیا ہے۔ بے روزگاری الاؤنس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے اور بڑی تعداد میں بھرتی کا عمل شروع کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت فراہم کر کے انہیں مالی طور پر مضبوط کرنے کا کام کیا ہے۔ حکومت نے پانچ سالوں میں کسانوں، غریبوں اور قبائلیوں سمیت تمام طبقات کی بہتری کے لیے کام کیا ہے۔ کسانوں کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے پہلے زرعی قرضے معاف کر کے اور آبپاشی ٹیکس معاف کر کے کسانوں کو معاشی طور پر خوشحال بنانے کا کام کیا گیا ہے۔

آنند وہار ریلوے اسٹیشن پر ’قلی‘ بنے راہل گاندھی، سر پر اٹھایا سامان

0
آنند-وہار-ریلوے-اسٹیشن-پر-’قلی‘-بنے-راہل-گاندھی،-سر-پر-اٹھایا-سامان

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا کے بعد سے زندگی کے ہر شعبہ حیات سے وابستہ عام لوگوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ٹرک ڈرائیوروں، مکینکوں، کھیت مزدوروں وغیرہ سے ملاقات کر چکے راہل نے اب ریلوے اسٹیشن پر کام کرنے والے قلیوں سے ملاقات کی ہے۔ راہل گاندھی نے آنند وہار آئی ایس بی ٹی، دہلی کا دورہ کیا اور قلیوں بات چیت کی۔ دریں اثنا، راہل گاندھی نے نہ صرف ان کی سرخ رنگ کی وردی زیب تن کی بلکہ انہی کی طرح سر پر سامان بھی بھی اٹھایا!

راہل گاندھی نے اپنے واٹس ایپ چینل پر جاری کردہ بیان میں کہا ’’آج دہلی کے آنند وہار ٹرمینل پر وہاں کام کرنے والے قلی بھائیوں سے ملاقات کی۔ کافی وقت سے میرے دل میں بھی خواہش تھی اور انہوں نے بھی بہت پیار سے بلایا تھا۔ اور ہندوستان کے محنتی بھائیوں کی خواہش تو ہر حال میں پوری ہونی چاہئے۔‘‘

کانگریس نے اسے راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا قرار دیا ہے۔ کانگریس نے ٹوئٹ کیا، ’’راہل گاندھی جی نے آج دہلی کے آنند وہار ریلوے اسٹیشن پر قلی ساتھیوں سے ملاقات کی۔ حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ریلوے اسٹیشن کے قلی ساتھیوں نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ آج راہل جی ان کے درمیان پہنچے اور اطمینان سے اس کی بات سنیں۔ بھارت جوڑو یاترا جاری ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے یکم اگست کو دہلی کی ہول سیل سبزی اور پھلوں کی منڈی میں دکانداروں کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ ایک سبزی فروش کے آنسو بہاتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے خود کو اور اپنے جیسے دوسرے لوگوں کو درپیش مشکلات بیان کی تھیں۔ اسی ویڈیو کو دیکھنے کے بعد راہل گاندھی سبزی منڈی پہنچے تھے۔

ہندوستان سے فرار ہونے والا گینگسٹر کینیڈا میں ہلاک، این آئی اے کی مطلوبہ فہرست میں شامل تھا

0
ہندوستان-سے-فرار-ہونے-والا-گینگسٹر-کینیڈا-میں-ہلاک،-این-آئی-اے-کی-مطلوبہ-فہرست-میں-شامل-تھا

نئی دہلی: ہندوستان سے فرار ہونے والے ایک اور گینگسٹر کو کینیڈا کے شہر پنی پیگ میں قتل کر دیا گیا ہے۔ پنجاب سے فرار ہو کر کینیڈا میں چھپے اے کیٹیگری کے گینگسٹر سکھدل سنگھ عرف سکھا دونیکے کو کینیڈا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ سکھا خالصتانی دہشت گرد ارشدیپ سنگھ عرف عرش ڈالا کا دایاں ہاتھ تھا اور این آئی اے کی مطلوبہ فہرست میں شامل تھا۔ سکھا کینیڈا میں بیٹھ کر ہندوستان میں اپنے حواریوں کے ذریعے بھتہ خوری کا کام بھی کرتا تھا۔

سکھدل سنگھ عرف سکھا دونیکے نے 2017 میں جعلی دستاویزات کی بنیاد پر کینیڈا فرار ہونے کے لیے پاسپورٹ اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا، جبکہ اس کے خلاف سات مجرمانہ مقدمات درج تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس نے پولیس سے ملی بھگت کے ذریعے کینیڈا کا ویزا حاصل کیا۔ دونیکے کے خلاف اس معاملہ میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پنجاب پولیس کے دو اہلکاروں پر اس کی مدد کرنے کا الزام تھا، بعد میں انہیں موگا پولیس نے گرفتار کر لیا۔

خیال رہے کہ اس سال خالصتانی لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کو بھی کینیڈا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ نجر کو دو نقاب پوش بندوق برداروں نے سرے میں ایک گرودوارے کی پارکنگ کے قریب گولی ماری تھی۔ ان کے قتل کے بعد خالصتانی حامیوں نے کینیڈا، لندن اور امریکہ سمیت کئی مقامات پر احتجاج کیا اور ہندوستان مخالف نعرے لگائے اور نجر کے قتل کا ذمہ دار ہندوستان کو ٹھہرایا۔

خالصتان کے لیے ریفرنڈم کرانے کی کوشش کرنے والے گروپ میں ہردیپ سنگھ نجر کا نام کافی نمایاں تھا۔ وہ پنجاب کے ضلع جالندھر کے گاؤں بھار سنگھ پور کا رہنے والا تھا۔ ہردیپ سنگھ نجر کو ہندوستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے مفرور اور دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے اس پر 10 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کے روز کینیڈا کی پارلیمنٹ (ہاؤس آف کامنز) میں خالصتانی دہشت گرد ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ہندوستانی حکومت کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے۔ تاہم ہندوستان نے ان کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان کی جانب سے کینیڈا میں مقیم انڈین کمیونٹی سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔