جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 107

ووٹر آئی ڈی بنانے کے لیے آدھار لازمی نہیں، الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں وضاحت

0
ووٹر-آئی-ڈی-بنانے-کے-لیے-آدھار-لازمی-نہیں،-الیکشن-کمیشن-کی-سپریم-کورٹ-میں-وضاحت

نئی دہلی: ووٹر شناختی کارڈ بنانے کے لیے آدھار کارڈ لازمی نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے جمعرات (21 ستمبر) کو سپریم کورٹ میں یہ اطلاع دی۔ عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ووٹروں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے نئے ووٹر رجسٹریشن کے لیے ضرورت فارم 6بی میں آدھار نمبر فراہم کرنے کی شرط کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے معاملہ کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ سوکمار پٹ جوشی اور امت شرما نے کہا کہ ووٹر شناختی کارڈ بنانے میں آدھار نمبر فراہم کرنے کی شرط کو ختم کرنے کے لیے جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ووٹرز کے رجسٹریشن فارم میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اس معاملے میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ بھی جمع کرایا، جس کے بعد عدالت نے درخواست کا تصفیہ کر دیا۔

تلنگانہ پردیش کمیٹی کے سینئر نائب صدر جی نرنجن نے اس سلسلے میں عرضی داخل کی تھی۔ انہوں نے الیکٹرز ترمیمی ایکٹ 2022 کے سیکشن 26 میں نئے ووٹر شناختی کارڈ بنانے کی دفعات پر وضاحت طلب کی تھی۔ اس کے مطابق ووٹر شناختی کارڈ بنانے کے لیے فارم 6 اور ووٹر کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے فارم 6بی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں آدھار نمبر کو بھرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں عرضی گزار نے کہا کہ جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے لیکن وہ ووٹ ڈالنے کی عمر کے ہیں، انہیں ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا جاتا۔

اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے کہا کہ ووٹر رجسٹریشن فارم میں آدھار نمبر بھرنے کی شرط کو ختم کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جلد ہی جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ووٹر لسٹ میں 66 کروڑ 23 لاکھ آدھار نمبر پہلے ہی اپ لوڈ ہو چکے ہیں۔ ان پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں موجودہ اصول کہتا ہے کہ ووٹر کارڈ بنانے یا ووٹر کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے آدھار کارڈ لازمی ہے۔ اس لیے اس حوالے سے ضروری وضاحت جاری کی جائے گی اور فارم میں تبدیلیاں بھی کی جائیں گی۔ اس کے بعد ہی سپریم کورٹ نے درخواست کا تصفیہ کر دیا۔

کینیڈا دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ: ہندوستان

0
کینیڈا-دہشت-گردوں-کی-محفوظ-پناہ-گاہ:-ہندوستان

حکومت ہند  نے کینیڈا کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ذریعہ خالصتانی دہشت گرد ہردیپ سنگھ نجر کی ہلاکت کے معاملے میں ہندوستان کو ایک بھی ثبوت نہیں دیا  ہے، جبکہ ہندوستان نے دعویٰ کیا ہے کہ کینیڈا دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے لیکن بھارت مخالف سرگرمیوں کے کئی ثبوت فراہم کرنے کے باوجود وہاں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہاں ایک معمول کے بریفنگ میں کہا کہ ان کی رائے میں کینیڈا کی حکومت متعصب ہے اور اس نے ہندوستان پر جتنے بھی الزامات لگائے ہیں وہ سیاسی طور پر محرک ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے جی۔20 سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان کے حالیہ دورے کے دوران مسٹر ٹروڈو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات میں نجر کے قتل کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس میں ہندوستان کے کردار پر بات کی تھی جسے مسٹر مودی نے مسترد کر دیا تھا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کینیڈا نے بھارت کو ان واقعات کے حوالے سے کوئی ثبوت فراہم کیے ہیں جن کے لیے وہ بھارت پر الزام لگا رہا ہے، ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ کینیڈا نے بھارت کو نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔نجر کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے اور بہت سے لوگ اس کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ دیگر جبکہ بھارت نے نجر اور بہت سے دوسرے لوگوں کے بارے میں کئی بار ثبوت دیے ہیں لیکن کینیڈین حکومت نے اس کے خلاف کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں تشدد اور جرائم اپنے عروج پر ہیں اور یہ دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن چکا ہے اور انہیں وہاں مالی مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کینیڈین حکومت دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور منظم جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے یا انہیں بھارت کے حوالے کرے تاکہ وہ یہاں انصاف کے عمل کا سامنا کر سکیں۔

سفارت کاروں کی بے دخلی سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارت کاروں کی تعیناتی کے حوالے سے تعداد برابر ہونی چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں کینیڈا کے سفارت کاروں کی تعداد کینیڈا میں ہندوستانی سفارت کاروں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ کینیڈا اور بھارت میں دونوں ممالک کے سفارت کاروں کی تعداد برابر ہوگی۔

ویزوں سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں بھارتی سفارت کاروں کے خلاف لگائی جانے والی دھمکیوں اور پوسٹرز کی وجہ سے ان کی معمول کی ڈیوٹی متاثر ہوئی ہے، اس لیے ویزوں کے اجراء کا کام اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کے پاس پہلے سے انڈین ویزا یا او سی آئی کارڈ ہے، اسے سفر کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہندوستانی طلباء اور کینیڈا میں رہنے والے دیگر مسافروں اور وہاں سفر کرنے کی تیاری کرنے والوں کے لیے ایک ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے۔

ملک میں 25 سال سے کم عمر کے 42 فیصد گریجویٹ  نوجوان بے روزگار: رپورٹ

0
ملک-میں-25-سال-سے-کم-عمر-کے-42-فیصد-گریجویٹ- نوجوان-بے-روزگار:-رپورٹ

پہلے آر بی آئی کی رپورٹ آئی کہ لوگوں کی بچت 50 سال میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے اور لوگوں پر قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب ملک میں بے روزگاری کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جو پریشان کن ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 25 سال سے کم عمر کے 42.3 فیصد نوجوان گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 2019-20 میں 8.8 فیصد تھی جو 2020-21 میں کم ہو کر 7.5 فیصد اور مالی سال 2022-23 میں 6.6 فیصد رہ گئی ہے۔ لیکن پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ معلومات عظیم پریم جی یونیورسٹی کے اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2023 کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 22.8 فیصد بے روزگاری کی شرح 25 سے 29 سال کے نوجوانوں میں ہے۔ اعلیٰ مادھیامک سطح کی تعلیم حاصل کرنے والے 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 21.4 فیصد ہے جو کہ سب سے زیادہ ہے۔ 35 سال اور اس سے زیادہ عمر کے فارغ التحصیل افراد میں بے روزگاری کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے۔ جبکہ 40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے گریجویٹ افراد میں بے روزگاری کی شرح صرف 1.6 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق 25 سال سے کم عمر کے ناخواندہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 13.5 فیصد پائی گئی ہے۔ جبکہ 40 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ناخواندہ گروپ میں بے روزگاری کی شرح 2.4 فیصد ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی یہ رپورٹ سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ یہ رپورٹ این ایس او کے ایمپلائمنٹ- بے روزگاری سروے، لیبر ورک فورس سروے، نیشنل فیملی ہیلتھ سروے، انڈسٹریز کا سالانہ سروے، آبادی کی مردم شماری جیسے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ انڈیا ورکنگ سروے کے نام سے ایک خصوصی سروے کرناٹک اور راجستھان کے دیہی علاقوں میں بھی کرایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں کمی کے باوجود آمدنی کی سطح مستحکم رہی۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کی آمدنی کورونا کی وبا کے آنے سے پہلے ہی کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔ 2004 کے بعد سے، خواتین کی ملازمت کی شرح یا تو گر رہی تھی یا مستحکم رہ گئی تھی۔ 2019 سے خواتین کی ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وبائی امراض کے دوران خواتین کی ایک بڑی تعداد نے خود روزگار کو اپنایا ہے۔ کورونا وبا سے پہلے 50 فیصد خواتین خود ملازمت کرتی تھیں اور وبا کے بعد یہ تعداد 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں بھی برقعے پر پابندی کے قانون کی حتمی منظوری

0
سوئٹزرلینڈ-میں-بھی-برقعے-پر-پابندی-کے-قانون-کی-حتمی-منظوری

سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے چہرے کو ڈھانپنے والے برقعے جیسے ملبوسات پر پابندی کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔ اس حوالے سے قانونی بل دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی بڑی شدت سے آگے بڑھاتی رہی تھی۔

قومی کونسل کے 151 ارکان نے اس قانون سازی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 29 ووٹ اس کی مخالفت میں پڑے۔ واضح رہے کہ ایوان بالا میں اس قانون کو پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔

دو برس قبل اس حوالے سے ملک گیر ریفرنڈم کرایا گیا تھا، جس میں سوئس ووٹروں نے نقاب اور برقعوں کے ساتھ ماسک اور بندھن، جو کچھ افراد مظاہروں کے دوران پہنتے ہیں، پر پابندی کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد ہی پابندی سے متعلق قانون کو منظور کیا گیا ہے۔

سوئس ایوان زیریں میں ووٹنگ کے ساتھ ہی ملکی پارلیمنٹ نے اس پابندی کو وفاقی قوانین میں شامل کر لیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے 1,000 سوئس فرانک یعنی تقریباً 1100 امریکی ڈالر تک کا جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت اب عوامی مقامات اور عوام کے لیے قابل رسائی نجی عمارتوں، دونوں جگہوں پر ناک، منہ اور آنکھوں کے ڈھانپے جانے کی ممانعت ہو گی۔ البتہ اس قانون میں بعض مستثنیات کو بھی شامل کیا گیا ہے، اور ان کے تحت اس کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں بہت کم تعداد میں خواتین برقعے کی طرح کے لباس سے اپنے پورے چہرے ڈھانپتی ہیں، جو شاید افغانستان، جنوبی ایشیائی ممالک اور عرب دنیا میں زیادہ پہنا جاتا ہے۔ یورپ میں بیلجیم اور فرانس جیسے ممالک نے پہلے ہی اس طرح کے لباس پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اب ان ممالک کی فہرست میں سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہو گیا ہے۔

خاتون ریزرویشن بل راجیہ سبھا میں بھی ہوا پاس، مخالفت میں نہیں پڑا ایک بھی ووٹ

0
خاتون-ریزرویشن-بل-راجیہ-سبھا-میں-بھی-ہوا-پاس،-مخالفت-میں-نہیں-پڑا-ایک-بھی-ووٹ

خاتون ریزرویشن بل (ناری شکتی وَندن ادھینیم) لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی پاس ہو گیا ہے۔ ایوان بالا نے صد فیصد اتفاق کے ساتھ ’ناری شکتی وَندن ادھینیم‘ کو پاس کر دیا ہے۔ اس بل کی حمایت میں 215 ووٹ پڑے، جبکہ مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔ اس ریزلٹ کا اعلان کرنے کے بعد راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے کہا کہ ’’یہ ایک اتفاق ہے کہ ہندو کیلنڈر کے مطابق آج پی ایم مودی کا یومِ پیدائش بھی ہے۔ میں انھیں اس کے لیے تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘

راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پر آٹومیٹیڈ ملٹی میڈیا ڈیوائس کے ذریعہ ووٹنگ کرائی گئی۔ کچھ اراکین پارلیمنٹ کا ووٹ ریکارڈ نہیں ہونے پر انھوں نے پرچیوں سے ووٹنگ کی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خاتون ریزرویشن بل پاس ہونے کے بعد اب اسے صدر جمہوریہ کے پاس دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی منظوری ملنے کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پر ووٹنگ سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے ایوان میں ہوئی بحث کا جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے بل پر مثبت بحث کی ہے۔ مستقبل میں اس بحث کا ایک ایک لفظ کام آنے والا ہے۔ ہر لفظ کی اپنی قدر ہے، اہمیت ہے۔‘‘ ساتھ ہی وزیر اعظم نے کہا کہ ’’قوت نسواں کو خصوصی احترام صرف بل سے نہیں مل رہا ہے۔ اس بل کے تئیں سبھی سیاسی پارٹیوں کی مثبت سوچ ہونا، یہ ہمارے ملک کی قوت نسواں کو نئی توانائی دے گا۔‘‘

منی پور میں پھر پرتشدد واقعات، پولیس اسٹیشنوں اور عدالتوں پر بھیڑ کا حملہ، کئی زخمی

0
منی-پور-میں-پھر-پرتشدد-واقعات،-پولیس-اسٹیشنوں-اور-عدالتوں-پر-بھیڑ-کا-حملہ،-کئی-زخمی

منی پور میں نسلی تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جمعرات کو ایک بار پھر تشویشناک حالات پیدا ہو گئے جب 5 گرفتار نوجوانوں کی رِہائی کے لیے بھیڑ نے پرتشدد مظاہرہ کیا۔ بلاشرط ان نوجوانوں کی رِہائی کا مطالبہ کر رہی بھیڑ نے امپھال مشرق میں پورومپیٹ پولیس اسٹیشن اور امپھال مغرب ضلع میں سنگجامیئی پولیس اسٹیشن اور کواکیتھیل پولیس چوکی پر حملے کی کوشش کی۔ بھیڑ کے ذریعہ مقامی عدالتوں پر بھی حملے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ حالانکہ سیکورٹی فورسز نے حالات کو بے قابو نہیں ہونے دیا۔ اس واقعہ میں کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امپھال میں 16 ستمبر کو 5 نوجوانوں کی گرفتاری ہوئی تھی، اور اس کے بعد سے ہی حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ ان نوجوانوں کی رِہائی کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آج سیکورٹی فورسز نے مظاہرین بھیڑ پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے جس میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ افسران نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد ریاستی حکومت نے امپھال کے دونوں ضلعوں میں کرفیو کی نرمی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امپھال مغرب کے ضلع مجسٹریٹ نے اس سلسلے میں آفیشیل حکم بھی جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 21 ستمبر کو صبح 5 بجے سے رات 9 بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی تھی، جسے شام 5 بجے سے واپس لے لیا گیا ہے۔ ایسے میں پہلے سے جاری سبھی پابندیاں نافذ رہیں گی۔ یہ حکم مشرقی امپھال کے لیے بھی دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ منی پور پولیس نے 16 ستمبر کو جدید اسلحے رکھنے اور پولیس کی فرضی وردی پہننے کے الزام میں پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد پولیس نے ایک بیان بھی جاری کیا تھا۔ پولیس نے کہا تھا کہ پانچوں کو جیوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جہاں سے انھیں پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔

’کسان 27 روپے میں گزارہ کر رہے اور متر کروڑوں کما رہے‘، چھتیس گڑھ میں پرینکا گاندھی کا خطاب

0
’کسان-27-روپے-میں-گزارہ-کر-رہے-اور-متر-کروڑوں-کما-رہے‘،-چھتیس-گڑھ-میں-پرینکا-گاندھی-کا-خطاب

کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعرات کو چھتیس گڑھ کا دورہ کیا۔ بھلائی میں منعقد ایک تقریب کے دوران انھوں نے مہنگائی، بے روزگاری وغیرہ مسائل پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کے ذریعہ مفاد عامہ میں چلائے جا رہے منصوبوں کی تعریف کی۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ چھتیس گڑھ کی عوام کانگریس کو آئندہ اسمبلی انتخاب میں ووٹ کرے تاکہ کانگریس حکومت کے ذریعہ مفاد عامہ میں چلائے جا رہے منصوبے رکنے نہ پائیں۔ مرکزی حکومت نے عوام سے پیسہ چھین کر اپنے صنعت کار ’متروں‘ کی آبیاری کی ہے۔ حالانکہ چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت ایک ایک پیسہ عوام کی جیب میں ڈال رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے ہونے والے نقصان سے عوام کو بچانے کا کام چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کر رہی ہے۔ کانگریس حکومت گاؤں، گائے، گوٹھان اور کسان کی بھلائی کے لیے کام کر رہی ہے۔ چھتیس گڑھ حکومت کی پالیسیوں نے کسانوں اور خصوصاً خواتین کو بڑے پیمانے پر روزگار دے کر ان کی معاشی حالت مضبوط کی ہے اور ترقی کی نئی مثال قائم کی ہے۔

پرینکا گاندھی نے مرکز کے خلاف تلخ تیور اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے سبب مہنگائی، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ مہنگائی سے پریشان ہے۔ مرکزی حکومت نے ملک کی ملکیتیں بڑے بڑے صنعت کاروں کے حوالے کر دی۔ مرکزی حکومت نے جی-20 تقریب کا انعقاد کرایا، یہ اچھی بات ہے۔ حکومت نے جی-20، یشوبھومی اور نئی پارلیمنٹ بنانے میں ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر دیے۔ دو ہوائی جہاز آٹھ آٹھ ہزار کروڑ روپے کے خریدے گئے۔ لیکن وزیر اعظم مودی یہ جواب نہیں دے پاتے کہ آپ کی سڑک کیسے بنے گی، مہنگائی کیسے کم ہوگی، روزگار کیسے ملے گا۔ آج کسان ایک دن میں 27 روپے کما رہا ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم مودی کے سرمایہ دار دوست ایک دن میں 16 سو کروڑ روپے کما رہے ہیں۔ جب سوال پوچھا جاتا ہے تو عوام کا دھیان بھٹکانے کے لیے جذباتی تقریریں کی جاتی ہیں، مذہب اور ذات کی سیاست کا استعمال ہوتا ہے۔

تقریب میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، ریاستی کانگریس انچارج کماری شیلجا، نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھ دیو، ریاستی کانگریس صدر دیپک بیج سمیت متعدد سینئر لیڈران موجود رہے۔ اس دوران تقریباً 309.56 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا اجرا اور بھومی پوجن بھی کیا گیا۔ اس موقع پر پرینکا گاندھی نے این جی او کی خواتین کے ساتھ سیلفی لی۔ پرینکا گاندھی کو اپنے درمیان دیکھ کر خواتین بہت خوش ہوئیں۔

چندریان-3: ’چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار‘، رووَر اور لینڈر کو کل ہی کیا جائے گا فعال!

0
چندریان-3:-’چاند-پر-مکمل-طلوع-آفتاب-کا-انتظار‘،-رووَر-اور-لینڈر-کو-کل-ہی-کیا-جائے-گا-فعال!

چندریان-3 کے لیے 22 ستمبر یعنی جمعہ کا دن بہت اہم ثابت ہونے والا ہے۔ اِسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار ہے اور 22 ستمبر کو سلیپ موڈ میں چاند کے جنوبی قطب پر موجود لینڈر ماڈیول یعنی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے ایسی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ لینڈر ماڈیول کو 23 ستمبر یعنی ہفتہ کے روز فعال کیا جائے گا، اور اگر اس میں کامیابی ملی تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ کیونکہ چندریان-3 نے پہلے ہی کامیابی کی سبھی منزلیں طے کر لی ہیں، اور اگر سلیپ موڈ سے لینڈر ماڈیول ٹھیک طرح فعال ہو جاتا ہے تو یہ ’بونس‘ یعنی تحفہ کی مانند ہوگا۔

اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ ’’ہم 22 ستمبر کو لینڈر اور رووَر دونوں کو فعال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہماری قسمت اچھی رہی تو اس میں کامیابی ملے گی۔ پھر ہمیں مزید پریکٹیکل ڈاٹا حاصل ہوں گے جو چاند کی سطح کی مزید تحقیق میں معاون ہوں گے۔‘‘

چندریان-3 مشن سے متعلق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کا بیان بھی جمعرات کو سامنے آیا۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ملک کو اب کچھ ہی گھنٹوں میں پرگیان اور وکرم کے نیند سے بیدار ہونے کا انتظار ہے۔ ایسا ہوتے ہی اس طرح کی کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ چاند پر 14 دن کی رات ختم ہونے والی ہے اور ہمیں بے صبری سے وہاں طلوع آفتاب اور اس کے ساتھ ہی وکرم اور پرگیان کے فعال ہونے کا انتظار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چاند پر آفتاب طلوع ہونا (سورج نکلنا) شروع ہو چکا ہے اور بس مکمل طلوع کا انتظار ہے، یا پھر یوں کہیں کہ سورج کی روشنی سے لینڈر اور رووَر کے سولر پینل کو ریچارج ہونے کا انتظار ہے۔

2029 سے پہلے خواتین کو ریزرویشن نہیں مل سکتا، راجیہ سبھا میں جے پی نڈا کا اعتراف!

0
2029-سے-پہلے-خواتین-کو-ریزرویشن-نہیں-مل-سکتا،-راجیہ-سبھا-میں-جے-پی-نڈا-کا-اعتراف!

خاتون ریزرویشن بل 20 ستمبر کو لوک سبھا سے پاس ہو گیا، اور 21 ستمبر یعنی آج اس بل پر راجیہ سبھا میں بحث جاری ہے۔ بحث کے دوران بیشتر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے بل کی حمایت تو کی، لیکن اس کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی زور و شور سے یہ مطالبہ بھی رکھا گیا کہ 33 فیصد خواتین کے لیے طے کردہ ریزرویشن کے اندر او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن بھی یقینی بنایا جائے۔ ان معاملوں پر بی جے پی صدر اور رکن پارلیمنٹ جے پی نڈا نے راجیہ سبھا میں اپنا موقف واضح الفاظ میں پیش کیا۔

جے پی نڈا نے راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 2029 سے پہلے خواتین کو ریزرویشن نہیں مل سکتا۔ دراصل انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’خواتین کو کس سیٹ پر ریزرویشن ملنا چاہیے، کس سیٹ پر نہیں ملنا چاہیے، یہ فیصلہ حکومت نہیں کر سکتی۔ یہ فیصلہ کمیشن کرے گا۔ اس سے پہلے ضروری ہے کہ مردم شماری ہو، اور پھر حد بندی کا عمل انجام پائے۔ اس لیے آج بل پاس ہونے کے بعد 2029 میں 33 فیصد خواتین اراکین پارلیمنٹ بن کر آ جائیں گے۔ اور اگر یہ بل آج پاس نہین ہوتا تو یہ طے ہے کہ 2029 میں بھی 33 فیصد خواتین اراکین پارلیمنٹ نہیں بن پائیں گی۔‘‘

آج اپنے خطاب میں جے پی نڈا نے خاتون ریزرویشن بل (ناری شکتی وَندن ادھینیم) کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’21ویں صدی خواتین کی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان کی خواتین خود کو قائد کے کردار میں لے کر آئی ہیں۔ بہت سے ایسے ممالک ہیں جنھوں نے خواتین کو ووٹنگ رائٹس دینے کے لیے طویل جدوجہد کی تھی۔ ہمارا نظریہ خواتین کے تعلق سے بے چاری، بے بس عورت جیسا کبھی نہیں رہا۔ ہم نے ہمیشہ خواتین کا احترام کیا ہے۔ ناری شکتی وَندن ادھینیم لا کر ہم خواتین کو عزت دینے کا کام کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ خواتین میں فیصلے لینے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ تحقیقی یہ بھی بتاتی ہے کہ نشہ کے خلاف خواتین نے آواز اٹھائی ہے۔ جہاں خواتین قائد کے کردار میں ہیں وہاں بدعنوانی کم ہوتی ہے۔‘‘

راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پر بحث کے دوران بی جے پی کو او بی سی مخالف ٹھہرائے جانے پر نڈا نے کہا کہ ’’ہندوستان کو پہلا او بی سی وزیر اعظم بی جے پی نے دیا ہے۔ آج 27 وزیر او بی سی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی جے پی کے 303 اراکین پارلیمنٹ میں سے 29 فیصد او بی سی ہیں۔ یہ تو صرف لوک سبھا کا نمبر ہے۔‘‘

میہل چوکسی کو بامبے ہائی کورٹ سے جھٹکا، مفرور قرار دینے کے خلاف دائر کی گئی درخواست مسترد

0
میہل-چوکسی-کو-بامبے-ہائی-کورٹ-سے-جھٹکا،-مفرور-قرار-دینے-کے-خلاف-دائر-کی-گئی-درخواست-مسترد

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے جمعرات کو کروڑوں کے بینک گھوٹالے کے ملزم تاجر میہل چوکسی کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا جس میں اس نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی اس دردخواست کو چیلنج کیا تھا جس میں اسے مفرور اقتصادی مجرم (ایف ای او) قرار دیا گیا تھا۔

جسٹس ایس وی کوتوال نے چوکسی کی درخواستوں میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے دفاع کے دعوں کو مسترد کردیا جس میں تفشیشی ایجنسی کے طریقہ کار کے غیرقانونی عمل کا الزام لگایا گیا تھا اور ای ڈی کی درخواستوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ ای ڈی کی درخواست اصولوں کے تحت دائر کی گئی ہے اور ان کی نظر میں ہو غلط نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے میہل چوکسی کی طرف سے دائر چاروں درخواستوں کو فوری اثر سے مسترد کر دیا۔

واضح رہے کہ محکمہ ای ڈی نے گزشتہ دنوں خصوصی پی ایم ایل اے کورٹ میں عضداشت داخل کی تھی اور چوکسی کو مفرور اقتصادی مجرم قرار دینے کی اجازت طلب کی تھی نیز اس اجازت کے بعد ایف ای او ایکٹ، 2018 کی دفعہ 4 اور 12 کے رو سے ملزم کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔

قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو ایف ای او قرار دیا جا سکتا ہے اگراس کے خلاف 100 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کی رقم کے جرائم کے تحت وارنٹ جاری کیا گیاہو ، یا اگر وہ شخص ملک چھوڑ کر چلا گیا ہے یا اسکی واپسی کے کوئ آثار نظر نہیں آتے ہو

ارب پتی سونے کے بیوپاری نیرو مودی اور گیتانجلی جیمز کے پروموٹر ان کے چچا میہول چوکسی نے مبینہ طور پر کروڑوں کی دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا تھا۔

چوکسی اور مودی پر الزام ہے کہ انہوں نے دھوکہ دہی کے دعووں پر مبنی پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) سمیت ہندوستانی بینکوں کی غیر ملکی شاخوں کے حق میں 12636 کروڑ روپے کے لیٹر آف انڈرٹیکنگ (ایل او یو) اور غیر ملکی لیٹر آف کریڈٹ (ایف ایل سی) حاصل کیے ہیں۔