جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 105

بی جے پی نے رمیش بدھوڑی کو بھیجا ’وجہ بتاؤ نوٹس‘، دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر کو لکھا خط

0
بی-جے-پی-نے-رمیش-بدھوڑی-کو-بھیجا-’وجہ-بتاؤ-نوٹس‘،-دانش-علی-نے-لوک-سبھا-اسپیکر-کو-لکھا-خط

لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف نازیبا اور غیر آئینی تبصرہ کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے اپنی ہی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے، اور دوسری طرف دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 21 ستمبر کو لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی پر جاری بحث کے دوران رمیش بدھوڑی نے اپنے ساتھی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف بے حد شرمناک اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے لگاتار بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس درمیان بی جے پی نے بدھوڑی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا ہے اور 15 دن کے اندر اس کا جواب مانگا ہے۔ پارٹی نے پوچھا ہے کہ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کے لیے کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے؟

دوسری طرف دانش علی نے جمعرات کو لوک سبھا میں ہوئے واقعہ پر خفگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے میرے ساتھ انصاف ہوگا اور اسپیکر صاحب کارروائی کریں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو میں بھرے دل سے اس ایوان کو چھوڑنے پر غور کروں گا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’اگر پارلیمنٹ میں میرے حقوق کی حفاظت نہیں ہو سکتی ہے تو میں کس کے پاس جاؤں۔ رمیش بدھوڑی نے مجھے باہر دیکھ لینے کی دھمکی دی ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے کے علاوہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘

دانش علی کا کہنا ہے کہ ’’میں نے لوک سبھا اسپیکر کے دفتر کو خط لکھا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اس واقعہ پر نوٹس لیں گے اور مناسب کارروائی کریں گے۔‘‘ بی ایس پی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ سبھی باتیں ریکارڈ میں ہیں، پارلیمنٹ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی منتخب رکن کے لیے اس طرح کی زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔

لکس انڈسٹریز کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس کا چھاپہ، 200 کروڑ روپے ٹیکس چوری کا الزام

0
لکس-انڈسٹریز-کے-ٹھکانوں-پر-انکم-ٹیکس-کا-چھاپہ،-200-کروڑ-روپے-ٹیکس-چوری-کا-الزام

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے لکس انڈسٹریز کے ٹھکانوں پر آج چھاپہ ماری کی ہے۔ یہ چھاپہ ماری 200 کروڑ روپے سے زیادہ کی ٹیکس چوری کے الزامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ کولکاتا سمیت کمپنی سے جڑے احاطوں میں کئی شہروں میں تلاشی چل رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ لکس انڈسٹری پہلے وشوناتھ ہوزری ملس کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کا قیام گردھاری لال جی ٹوڈی نے 1957 میں کیا تھا۔ کمپنی مردوں، خواتین اور بچوں کے انڈرگارمنٹس بناتی ہے۔

گزشتہ سال شیئر بازار کے ریگولیٹری ادارہ سیبی نے انسائیڈر ٹریڈنگ میں شامل ہونے کے الزام میں 14 لوگوں پر پابندی عائد کی تھی۔ ان لوگوں میں لکس انڈسٹری کے منیجنگ ڈائریکٹر اشوک ٹوڈی کے بیٹے ادت ٹوڈی کا نام بھی شامل تھا۔ ادت کمپنی میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھال رہے تھے۔ سیبی نے مذکورہ معاملے میں لکس انڈسٹریز لمیٹڈ کے 2.94 کروڑ روپے کے غیر قانونی فائدہ کو ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔

چندریان-3: ٹل گیا وکرم اور پرگیان کو فعال کرنے کا پروگرام، اب کل کی جائے گی کوشش

0
چندریان-3:-ٹل-گیا-وکرم-اور-پرگیان-کو-فعال-کرنے-کا-پروگرام،-اب-کل-کی-جائے-گی-کوشش

جو لوگ چندریان-3 مہم پر گہرائی سے نظریں بنائے ہوئے ہیں اور اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے فعال ہونے کی خوشخبری ملے گی، انھیں مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ دراصل اِسرو کے سائنسدانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج لینڈر اور رووَر کو فعال کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، بلکہ اس کے لیے مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ یعنی اب چاند کے جنوبی قطب پر نیند کی آغوش میں پڑے وکرم اور پرگیان کو 23 ستمبر کے روز جگایا جائے گا۔

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے… رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس سے قبل نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو دونوں (پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر) سے نہ صرف رابطہ ہوگا، بلکہ ان کے پارٹس بھی استعمال کرنے کی حالت میں ملیں گے۔ دیسائی کے مطابق گزشتہ 20 دن میں دونوں نے منفی 120 سے منفی 200 ڈگری سلسیس جتنی سردی کو برداشت کیا ہے۔ 20 ستمبر کی شام سے چاند کے جنوبی قطب پر سورج کا طلوع شروع ہو گیا ہے اور دھیرے دھیرے وکرم اور پرگیان کے سولر پینل بھی ان کی بیٹری دھیرے دھیرے چارج کرنے لگیں گے۔

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔

خواتین کے ریزرویشن جیسے قوانین بنانے کے لیے مکمل اکثریت والی مضبوط حکومت ضروری: وزیر اعظم مودی

0
خواتین-کے-ریزرویشن-جیسے-قوانین-بنانے-کے-لیے-مکمل-اکثریت-والی-مضبوط-حکومت-ضروری:-وزیر-اعظم-مودی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ناری شکتی وندن ایکٹ کو ابھرتے ہوئے ہندوستان کے جمہوری عزم کی علامت قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایک مضبوط حکومت جس کی مکمل اکثریت اس طرح کے فیصلہ کن قوانین بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو، ملک کو آگے لے جانے کے لیے بہت ضروری ہے وزیر اعظم مودی نے یہ بات آج صبح یہاں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ بی جے پی مہیلا مورچہ کے اعزازی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعظم مودی صبح جب بی جے پی ہیڈکوارٹر پہنچے تو خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے ان کا شاندار استقبال کیا۔

بی جے پی صدر جگت پرکاش نڈا اور مہیلا مورچہ کی قومی صدر وناتھی سری نواسن نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ مرکزی کابینہ کی تمام خواتین وزراء اور پارٹی کی تمام خواتین ممبران پارلیمنٹ بھی پارٹی ہیڈکوارٹر میں موجود تھیں۔ پروگرام میں خواتین کارکنوں نے وزیر اعظم مودی کو پھولوں کے ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا۔ سٹیج پر وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی بھی موجود تھیں۔

ناری شکتی وندن-ابھینندن پروگرام میں موجود خواتین کے گروپ سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے خواتین ریزرویشن بل کی متفقہ منظوری کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک کے لیے ایک خاص لمحہ ہے، بی جے پی کارکنوں کے لیے ایک خاص دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج میں ملک کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کو مبارکباد دیتا ہوں۔ کل اور پرسوں ہم سب نے ایک نئی تاریخ رقم ہوتے دیکھی اور ہم سب خوش قسمت ہیں کہ لاکھوں لوگوں نے ہمیں یہ تاریخ رقم کرنے کا موقع دیا۔ یہ فیصلہ اور یہ دن آنے والی کئی نسلوں تک زیر بحث رہے گا۔ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھاری اکثریت کے ساتھ ‘ناری شکتی وندن ایکٹ’ پاس کرنے پر پورے ملک کو مبارکباد دیتا ہوں۔

سناتن تنازعہ: اودے ندھی اسٹالن اور اے. راجہ کی مشکلات میں اضافہ، سپریم کورٹ نے بھیجا نوٹس

0
سناتن-تنازعہ:-اودے-ندھی-اسٹالن-اور-اے.-راجہ-کی-مشکلات-میں-اضافہ،-سپریم-کورٹ-نے-بھیجا-نوٹس

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے اودے ندھی اسٹالن کے ذریعہ سناتن مذہب کے تعلق سے دیے گئے متنازعہ بیان پر ہنگامہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ اے راجہ کا بیان بھی تنازعہ کا شکار ہے اور اب اودے ندھی اسٹالن کے ساتھ ساتھ اے راجہ کی بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ ان دونوں کے نام سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے۔

دراصل اودے ندھی اسٹالن پر ایف آئی آر درج کرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔ جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے اس معاملے پر آج سماعت کی۔ عرضی چنئی کے ایک وکیل نے داخل کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اودے ندھی اور اے راجہ پر ایف آئی آر ہونی چاہیے۔ عرضی میں ایف آئی آر درج کیے جانے کے علاوہ بھی کئی مطالبات کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے عرضی پر سماعت کرنے سے پہلے عرضی گزار کے وکیل کو ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ بنچ نے کہا کہ ’’آپ ہائی کورٹ جائیں۔ یہاں کیوں آئے ہیں؟ ہم کیوں مداخلت کریں؟‘‘ اس پر وکیل نے کہا کہ یہ ہیٹ اسپیچ وزیر کے ذریعہ دی گئی ہے اور ہیٹ اسپیچ سے متعلق معاملہ پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ پھر بنچ نے سوال کیا کہ ’’اسپیچ کیا ہے؟‘‘ جواب میں وکیل نے اودے ندھی کا بیان پڑھ کر بنچ کو سنایا۔ بیان سننے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کو ہیٹ اسپیچ کے ساتھ ٹیگ کر دیا۔ سماعت کے بعد بنچ نے تمل ناڈو حکومت کو نوٹس جاری کیا اور چار ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ اودے ندھی سے بھی عدالت نے ان کے بیانات پر جواب مانگا ہے۔

عرضی دہندہ کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل نے بتایا کہ نفرت پھیلانے والی تقریر سے متعلق کئی معاملے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ جب ریاست خود کسی خاص مذہب کے خلاف ظلم کرتا ہے اور بچوں کو کسی خاص مذہب کے خلاف بولنے کے لیے مجبور کرتا ہے، تو سپریم کورٹ ہی واحد ترکیب ہے۔ وکیل نے عدالت سے کہا کہ ریاستی افسران کے ذریعہ دو دن پہلے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے کہ بچے سناتن مذہب کے خلاف بولیں گے۔

ایک خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے رکن پارلیمنٹ اے راجہ، تھروماولون، سو ویکنٹیشن، تمل ناڈو کے ڈی جی پی، گریٹر چنئی پولیس کمشنر، مرکزی وزارت داخلہ، ہندو مذہب اور مذہبی بندوبستی محکمہ کے وزیر پی کے شیکھر بابو اور تمل ناڈو ریاستی اقلیتی کمیشن کے پیٹر الفونس کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔

اتر پردیش حکومت کے منصوبے کو لگا جھٹکا! این جی ٹی نے وارانسی ٹینٹ سٹی پر عائد کی پابندی

0
اتر-پردیش-حکومت-کے-منصوبے-کو-لگا-جھٹکا!-این-جی-ٹی-نے-وارانسی-ٹینٹ-سٹی-پر-عائد-کی-پابندی

وارانس: اتر پردیش کے ہندو مذہبی شہر وارانسی میں یوگی حکومت کے بلند نظر منصوبے کو اس وقت دھچکا لگا جب این جی ٹی نے وارانسی کے ٹینٹ سٹی پر پابندی لگا دی ہے۔ این جی ٹی نے 30 اکتوبر تک ٹینٹ سٹی کی تعمیر پر پابندی لگا دی ہے۔ وارانسی کے تشار گوسوامی کی جانب سے اس پروجیکٹ پر اعتراض کرتے ہوئے این جی ٹی میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس کی سماعت کرتے ہوئے این جی ٹی نے یہ حکم سنایا۔

درخواست گزار کے وکیل سوربھ تیواری، جو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیس کی سماعت میں شامل ہوئے، نے کہا کہ وارانسی کے ٹینٹ سٹی معاملے میں این جی ٹی نے سخت موقف اپنایا ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے چار ججوں پر مشتمل ٹربیونل بنچ میں شامل ایک جج نے کہا کہ جس ٹینٹ سٹی میں ایک رات گزارنے کا خرچہ 40 ہزار روپے سے زیادہ ہو وہاں عام آدمی تو کیا ہماری بھی جانے کی استطاعت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی این جی ٹی جج نے آلودگی کنٹرول بورڈ کے چیئرمین اور وی ڈی اے کو اگلی سماعت میں جواب دینے کے لیے طلب کیا۔

سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے بنارس گھاٹ کے پار گنگا ریت پر ٹینٹ سٹی کا افتتاح کیا گیا۔ اس سال 19 مئی کو بنارس میں گنگا پار ٹینٹ سٹی کا افتتاح ہوا۔ ٹینٹ سٹی منصوبے پر تنقید بھی ہوئی۔ کہا گیا کہ اس عارضی ٹینٹ سٹی کی تعمیر سے کاشی کی ثقافتی شناخت کو نقصان پہنچے گا اور یہ عام لوگوں کے تصور سے بھی باہر ہوگا۔

ٹینٹ سٹی کے بارے میں سنکٹ موچن مندر کے مہنت پروفیسر وشومبھرناتھ مشرا نے ایک تصویر اور ویڈیو ٹوئٹ کر کے انہیں نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ‘گنگا کے پار ریت پر ٹینٹ سٹی کا اثر۔ ہر طرف گندگی۔‘‘ تصاویر اور ویڈیوز میں انسانی فضلا دور دور تک پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔

وہیں، ستوا بابا آشرم کے پٹھادھیشور مہمندلیشور سنتوش داس نے کہا تھا کہ ٹینٹ سٹی کوئی نیا تصور نہیں ہے بلکہ یہ برسوں سے کمبھ کے دوران پریاگ راج میں سنگم کے کنارے قائم ہے۔ وہاں لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ سنت مہنت خیمہ شہر میں کلپاواس انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح کاشی میں سیاحت کے ساتھ روحانیت کو جوڑا جا رہا ہے۔

لوک سبھا میں بی جے پی لیڈر رمیش بدھوڑی کے شرمناک بیان سے نئی پارلیمنٹ شرمسار، اسپیکر اوم برلا کی تنبیہ

0
لوک-سبھا-میں-بی-جے-پی-لیڈر-رمیش-بدھوڑی-کے-شرمناک-بیان-سے-نئی-پارلیمنٹ-شرمسار،-اسپیکر-اوم-برلا-کی-تنبیہ

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس جاری ہے اور اس درمیان لوک سبھا میں 21 ستمبر کو برسراقتدار طبقہ اور حزب مخالف لیڈروں میں زوردار بحث دیکھنے کو ملی۔ جمعرات کو جب لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی پر بحث ہو رہی تھی تو بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے اپنے ساتھی بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف انتہائی قابل اعتراض اور شرمناک الفاظ استعمال کیے۔ رمیش بدھوڑی کا بیان اس قدر پراگندہ تھا کہ اسے تحریر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے استعمال الفاظ کی سنگینی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں سخت الفاظ میں تنبیہ کی اور مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ نے بھی ایوان میں ہی اظہارِ افسوس کیا۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق برسراقتدار طبقہ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے بیان کو لوک سبھا کی کارروائی سے حذف کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ جمعرات کو بدھوڑی کے ذریعہ دیے گئے بیان کو ’سنسد ٹی وی‘ کے یوٹیوب چینل پر بھی شیئر کیا گیا تھا۔ بدھوڑی کے الفاظ پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے سخت حیرانی و ناراضگی کا اظہار کیا اور مستقبل میں کبھی ایسا رویہ دہرائے جانے پر سخت کارروائی کی تنبیہ بھی دی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے بیان کے فوراً بعد ایوان کے ڈپٹی لیڈر اور مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی ان کے شرمناک بیان کی مذمت کی۔ انھوں نے ایوان میں اس طرح کے بیان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

رمیش بدھوڑی کے انتہائی متنازعہ بیان پر بی ایس پی نے ان کی پارلیمانی رکنیت رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ بی ایس پی کی نیشنل کوآرڈنیٹر اور پارٹی چیف مایاوتی کے بھتیجے آکاش آنند کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے بھی بی جے پی لیڈر کے ذریعہ دیے گئے بیان کو انتہائی شرمناک اور نئی پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کرنے والا بتایا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’یہ صرف دانش علی کا نہیں بلکہ سبھی اراکین پارلیمنٹ کی بے عزتی ہے۔ نئی پارلیمنٹ میں ایسی زبان استعمال کرنے کے لیے بدھوڑی کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے جب اس بارے میں میڈیا والوں نے رد عمل جاننا چاہا، تو انھوں نے کہا کہ ایوان میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری اسپیکر کی ہے، میں اس معاملے پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رمیش بدھوڑی کے شرمناک بیان کو پورے مسلم طبقہ کے خلاف دیا گیا بیان ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، وہ پورے مسلم طبقہ کے خلاف تھے۔ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ بی جے پی سے جڑے مسلم اسے کس طرح برداشت کر سکتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں۔‘‘

مہارت کی ترقی معاملہ: چندرا بابو نائیڈو کی عرضی ہائی کورٹ سے مسترد

0
مہارت-کی-ترقی-معاملہ:-چندرا-بابو-نائیڈو-کی-عرضی-ہائی-کورٹ-سے-مسترد

حیدرآباد: سابق وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کو دھچکا دیتے ہوئے آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کو ان کی اسکل ڈیولپمنٹ کیس میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر اور ان کی عدالتی حراست کو منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ خیال رہے کہ وجے واڑہ اے سی بی کورٹ کی طرف سے ان کی عدالتی حراست میں 24 ستمبر تک توسیع کی گئی تھی، جس کے بعد ہائی کورٹ نے بدھ کو سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

جسٹس سرینواس ریڈی کی سنگل بنچ تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے سربراہ کے وکلاء کے دلائل سے قائل نہیں ہوئی جس میں اس کی گرفتاری اور عدالتی ریمانڈ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ نائیڈو کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے دلیل دی کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی طور پر محرک ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ کی دفعہ 17 اے کے تحت نائیڈو کو گرفتار کرنے سے پہلے گورنر سے پیشگی اجازت نہیں لی تھی۔ سی آئی ڈی کی طرف سے پیش مکل روہتگی نے دلیل دی تھی کہ پی سی ایکٹ کی دفعہ 17 اے لاگو نہیں ہوتی ہے کیونکہ سی آئی ڈی کی تحقیقات 26 جولائی 2018 کی ترمیم سے پہلے شروع ہوئی تھی۔

نائیڈو کو اس معاملے میں سی آئی ڈی نے 9 ستمبر کو نندیال سے گرفتار کیا تھا۔ اگلے دن وجے واڑہ کی اے سی بی عدالت نے اسے 14 دنوں کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ کو بعد میں راج مندری سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔ وجے واڑہ کورٹ نے نائیڈو کی عدالتی حراست کے بجائے خانہ نظر بند رکھنے کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔

متھرا شاہی عیدگاہ میں نہیں ہوگا سائنسی سروے، ہندو فریق کی عرضی سپریم کورٹ سے خارج

0
متھرا-شاہی-عیدگاہ-میں-نہیں-ہوگا-سائنسی-سروے،-ہندو-فریق-کی-عرضی-سپریم-کورٹ-سے-خارج

’شری کرشن جنم بھومی مکتی نرمان ٹرسٹ‘ کو آج سپریم کورٹ سے اس وقت زوردار جھٹکا لگا جب متھرا شاہی عیدگاہ (شری کرشن جنم بھومی) کے سائنسی سروے کا مطالبہ کرنے والی عرضی خارج کر دی گئی۔ اس سے قبل جولائی ماہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بھی شاہی عیدگاہ کے سائنسی سروے کرانے کے مطالبہ والی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ عرضی خارج کیے جانے کے بعد شری کرشن جنم بھومی مکتی نرمان ٹرسٹ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کیا تھا۔ ٹرسٹ نے اپنی عرضی میں 1968 میں ہوئے سمجھوتے کے جواز کے خلاف دلیل دیتے ہوئے اسے دکھاوا اور دھوکہ دہی بتایا۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اراضی کو آفیشیل طور پر عیدگاہ نام سے رجسٹرڈ کیا ہی نہیں جا سکتا، کیونکہ اس کا ٹیکس کٹرا کیشو دیو، متھرا کے عرفی نام کے تحت جمع کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ہندو فریق کے دعویٰ کے مطابق متھرا میں اورنگ زیب نے مندر تڑوا کر وہاں مسجد کی تعمیر کروائی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے 1670 میں متھرا میں بھگوا کیشو دیو کا مندر تڑوایا تھا اور پھر شاہی عیدگاہ مسجد کی تعمیر عمل میں آئی۔ متھرا کا یہ تنازعہ مجموعی طور پر 13.37 ایکڑ اراضی پر مالکانہ حق سے جڑا ہوا ہے۔ ہندو فریق کی طرف سے شاہی عیدگاہ مسجد کو ہٹانے اور یہ زمین بھی ’شری کرشن جنم استھان‘ کو دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے نوجوانوں کو بے روزگار رکھ کر ان کا مستقبل چھین لیا: کھڑگے

0
حکومت-نے-نوجوانوں-کو-بے-روزگار-رکھ-کر-ان-کا-مستقبل-چھین-لیا:-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان کے 25 سال سے کم عمر کے 42.3 فیصد گریجویٹس بے روزگار ہیں اور حکومت انہیں بے روزگار رکھ کر ان کا مستقبل چھین رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اب معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اپنی حالت زار کے لیے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کھڑگے نے کہا، ’’25 سال سے کم عمر کے ہندوستان کے 42.3 فیصد گریجویٹس بے روزگار ہیں۔ مودی حکومت نے انہیں بے روزگار رکھ کر ان کا مستقبل چھین لیا ہے۔ سالانہ 2 کروڑ نوکریوں کا وعدہ ہمارے نوجوانوں کے دل و دماغ میں ایک ظالمانہ مذاق کی طرح گونجتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ گریجویشن سے نوکری حاصل کرنے تک کا عمل روزانہ کی جدوجہد کی ایک افسوسناک کہانی ہے۔ کھڑگے نے کہا، ’’افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی نے اپنی ناکامی کو قبول کرنے کے بجائے اس آنے والی تباہی پر آنکھیں بند کر لی ہیں۔ امرت کال جیسے جملے نے ہمارے نوجوانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’نوجوانوں کو اب معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اپنی حالت زار کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔ وہ بہتر جانتے ہیں کہ جو حکومت 10 سال میں روزگار پیدا نہیں کر سکی وہ مستقبل میں کبھی ایسا نہیں کر سکے گی۔ مستقبل کی حفاظت کے لیے اس حکومت کو بدل ڈالو۔‘‘