جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 104

وزیراعظم آج کریں گے وارانسی کا دورہ، انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کا رکھیں گے سنگ بنیاد

0
وزیراعظم-آج-کریں-گے-وارانسی-کا-دورہ،-انٹرنیشنل-کرکٹ-اسٹیڈیم-کا-رکھیں-گے-سنگ-بنیاد

وارانسی۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کو اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کے گنجاری میں تعمیر ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی وارانسی سمیت اتر پردیش کے 16 اٹل رہائشی اسکولوں کا بھی افتتاح کریں گے۔ وہ خواتین کے علاوہ اسپورٹس فیسٹیول کے فاتحین سے الگ الگ بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر کرکٹ کے نامور کھلاڑی بھی موجود ہوں گے۔

وزیر اعظم ہفتہ کو ریاست کے لوگوں کو 1565 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا تحفہ دیں گے۔ وارانسی خطے کے صدر دلیپ سنگھ پٹیل نے کہا کہ وزیر اعظم پہلے گنجاری میں بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے بعد سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی میں پانچ ہزار سے زیادہ خواتین سے بات چیت بھی کریں گے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعظم کے استقبال کے ساتھ تمام پروگراموں میں موجود رہیں گے۔

وزیر اعظم راجتالاب گنجاری پہنچنے کے بعد 450 کروڑ روپے کی لاگت سے 30 ایکڑ پر تعمیر ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس دوران 1983 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے فاتح کھلاڑی اور دیگر مشہور کرکٹ کھلاڑی بھی موجود ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 30 ہزار کی گنجائش والے اسٹیڈیم کا طرز تعمیر کاشی اور سناتن دھرم ہوگا، جس میں دیوتا شیو کی شان نظر آئے گی۔ ہلال کی شکل کی چھت، ترشول کی شکل کی فلڈ لائٹس، گھاٹ کی سیڑھیوں پر مبنی بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

موسم کا حال: 25 ستمبر سے مانسون کی واپسی اور گرمی سے راحت کا امکان

0
موسم-کا-حال:-25-ستمبر-سے-مانسون-کی-واپسی-اور-گرمی-سے-راحت-کا-امکان

نئی دہلی: دہلی، یوپی اور ہریانہ سمیت شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں لوگ اس وقت گرمی سے پریشان ہیں۔ دریں اثنا، ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے کہا ہے کہ 25 ستمبر مانسون کے واپس لوٹنے کا امکان ہے۔ اس خبر سے لوگوں کو گرمی سے نجات ملنے کی امید ہے۔

خیال رہے کہ جنوب مغربی مانسون یکم جون تک کیرالہ سے ٹکراتا ہے اور 8 جولائی تک پورے ملک میں پھیل جاتا ہے۔ اس کی واپسی 17 ستمبر کے آس پاس شمال مغربی ہندوستان سے شروع ہوتی ہے اور 15 اکتوبر تک مکمل ہو جاتی ہے۔ آئی ایم ڈی نے کہا، ’’شمال مغرب اور ملحقہ مغربی وسطی ہندوستان میں اگلے دنوں تک بارش نہیں ہونے کا امکان ہے۔ تاہم 25 ستمبر کے آس پاس مغربی راجستھان کے کچھ حصوں سے جنوب مغربی مانسون کی واپسی کے لیے حالات سازگار ہو جائیں گے۔‘‘

اس سال مانسون کی تاخیر سے واپسی مسلسل 13ویں تاخیر ہے۔ شمال مغربی ہندوستان سے مانسون کی واپسی برصغیر سے کی واپسی کے آغاز کی علامت ہوتی ہے۔ مانسون کی واپسی میں کسی بھی تاخیر کا مطلب طویل بارش کا موسم ہے، جو زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر شمال مغربی ہندوستان میں جہاں منسون کی بارشیں ربیع کی فصل کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اس بار منسون کا موڈ اچھا نہیں رہا البتہ اس کی توقع نہیں تھی۔ ہندوستان میں اس مانسون سیزن میں اب تک 780.3 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے، جبکہ عام طور پر 832.4 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ طویل مدتی اوسط (ال پی اے) کے 94 فیصد اور 106 فیصد کے درمیان بارش کو معمول کی بارش سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر، ملک میں چار ماہ کے مانسون سیزن (جون تا ستمبر) کے دوران اوسطاً 870 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

مانسون سے پہلے منعقدہ پریس کانفرنس میں آئی ایم ڈی نے ہندوستان کے لیے معمول کے مانسون کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم، اس نے خبردار کیا تھا کہ ‘ایل نینو’ جنوب مغربی مانسون کو متاثر کر سکتا ہے۔ ‘ایل نینو’ جنوبی امریکہ کے قریب بحرالکاہل میں پانی کا گرم ہونا ہے اور یہ ہندوستان میں کمزور مانسونی ہواوؤں اور خشک حالات پیدا کرتا ہے۔

جے رام رمیش نے نئی پارلیمنٹ کو اذیت ناک ’مودی ملٹی پلیکس‘ قرار دیا

0
جے-رام-رمیش-نے-نئی-پارلیمنٹ-کو-اذیت-ناک-’مودی-ملٹی-پلیکس‘-قرار-دیا

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ہفتہ (23 ستمبر) کو پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا پرانی عمارت سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی عمارت کو ’مودی ملٹی پلیکس‘ کہا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کمپلیکس تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے اور ایسا اس لئے ہوا کیونکہ اس کی تعمیر کے وقت ان لوگوں کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی جو اسے استعمال کریں گے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے ایکس (سابقہ) ٹوئٹر پر ایک تفصیلی پوسٹ میں لکھا ’’پارلیمنٹ کی نئی عمارت جس کا آغاز بہت زیادہ تشہیر کے ساتھ کیا گیا ہے وہ دراصل پی ایم کے مقاصد کو اچھی طرح سے سمجھتی ہے۔ اسے مودی ملٹی پلیکس یا مودی میریٹ کہنا چاہیے۔ چار دن کے بعد، میں نے جو دیکھا وہ دونوں ایوانوں کے اندر اور لابیوں میں گفت و شنید اور گفتگو کی موت تھی۔ اگر فن تعمیر جمہوریت سے جمہوریت کا خاتمہ ممکن ہے تو وزیراعظم آئین کو دوبارہ لکھے بغیر بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہے کیونکہ ہال چھوٹا نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی پرانی عمارت میں نہ صرف ایک خاص چمک تھی بلکہ اس میں بات چیت کی سہولت بھی تھی۔ ایوانوں، مرکزی ہال اور راہداریوں کے درمیان پیدل چلنا آسان تھا۔ یہ نئی (عمارت) ان ضروری تعلقات کو کمزور کرتی ہے جو پارلیمنٹ کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ دونوں ایوانوں کے درمیان فوری ہم آہنگی اب انتہائی بوجھل ہے۔ پرانی عمارت میں، اگر آپ کھو گئے تھے، تو آپ کو دوبارہ واپسی کا راستہ مل جائے گا کیونکہ یہ سرکلر تھی۔ نئی عمارت میں اگر آپ اپنا راستہ کھو دیتے ہیں تو آپ بھولبلیا میں پھنس کر رہ جائیں گے۔ پرانی عمارت جگہ اور کشادگی کا احساس دیتی تھی جبکہ نئی عمارت تقریباً کلاسٹروفوبک (تنگ جگہ کا خوف) ہے۔

جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا، پارلیمنٹ میں گھومنے پھرنے کی خوشی غائب ہو گئی ہے۔ میں پرانی عمارت میں جانے کا منتظر رہتا تھا لیکن نیا کمپلیکس تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بلاتفریق سیاسی جماعت میرے بہت سے ساتھی بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ میں نے سیکرٹریٹ کے عملے سے یہ بھی سنا ہے کہ نئی عمارت کے ڈیزائن میں ان کے کام کرنے میں مدد کے لیے درکار مختلف خصوصیات پر غور نہیں کیا گیا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب عمارت استعمال کرنے والے لوگوں سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی۔

آخر میں جے رام رمیش نے کہا کہ شاید 2024 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پارلیمنٹ کی نئی عمارت کو بہتر طریقہ سے استعمال کیا جائے۔

بدھوڑی کی گالی گلوچ: دانش علی کے حق میں کھڑی ہوئی حزب اختلاف، بی جے پی پر حملہ

0
بدھوڑی-کی-گالی-گلوچ:-دانش-علی-کے-حق-میں-کھڑی-ہوئی-حزب-اختلاف،-بی-جے-پی-پر-حملہ

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے حال ہی میں ختم ہونے والے خصوصی اجلاس کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے بی ایس پی کے رکن اسمبلی دانش علی کے خلاف انتہائی قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا۔ جس پر حزب اختلاف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، جبکہ بیک فٹ پر آ چکی بی جے پی کو اپنے ہی رکن پارلیمنٹ کے خلاف نوٹس جاری کرنا پڑا۔

رمیش بدھوری نے پارلیمنٹ میں جو گالی گلوچ کی اسے دہرانا ممکن نہیں لیکن نئی پارلیمنٹ میں دئے گئے ان کے بیان نے بی جے پی کو شرمسار کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں ان کے غیر پارلیمانی ریمارکس کو نفرت انگیز تقریر قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے خلاف قابل اعتراض ریمارکس پر بات کرتے ہوئے دانش علی نے کہا، ’’پارلیمانی جمہوریت میں اس طرح کے رویے سے ہندوستان کو ’وشوگرو‘ بنانے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ اس قسم کی نفرت کو پروان چڑھانا بند کریں۔ آپ نے نہ صرف ہندوستان کی پارلیمنٹ میں، جسے مدر آف ڈیموکریسی کہا جاتا ہے، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ کی توہین کی ہے، بلکہ پورے ملک کو شرمسار کیا ہے۔‘‘ دانش علی نے مزید کہا کہ اگر رمیش بدھوڑی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیں گے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی گزشتہ روز دانش علی کی رہائش گاہ پر پہنچے اور انہیں گلے لگایا۔ بعد میں انہوں نے تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘ قرار دیا۔ وہیں، کانگریس نے کہا، ’’راہل گاندھی بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ دانش علی سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچے۔ کل بھری پارلیمنٹ میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری نے دانش علی کی توہین کی تھی۔ انہوں نے انتہائی نازیبا اور غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا اور بی جے پی کے دو سابق وزیر فحش انداز میں ہنستے رہے۔‘‘

مہاراشٹر کانگریس کے سربراہ نانا پٹولے نے کہا، ’’جس طرح سے بی جے پی کے ایم پی نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے رکن پارلیمنٹ کے ساتھ بدسلوکی کی ہم اس پر سخت احتجاج کرتے ہیں۔ بی جے پی کو اپنی ذہنیت بدلنی چاہیے۔ ہندوستان کی جمہوریت ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں کوئی ایسی ذہنیت رکھتا ہے تو یہ ملک کی جمہوریت کے لیے بہت خطرناک ہے۔‘‘

دریں اثنا، عام آدمی پارٹی نے کہا، “مودی کا دومنہ والا چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ منی پور میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی پر سوال پوچھا تو سنجے سنگھ کو معطل کر دیا گیا۔ لیکن جب بی جے پی کے ایم پی رمیش بدھوڑی نے کسی غنڈے کی طرح گالی گلوچ کی تو اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ‘‘ عآپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا، ’’ہم بار بار کہتے ہیں کہ بی جے پی بدمعاشوں کی پارٹی ہے۔ بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی نے جو زبان استعمال کی ہے وہ مافیا غنڈے کی زبان ہے۔ اگر اوم برلا میں کوئی اخلاقیات باقی ہیں تو اس ایم پی کے خلاف کارروائی کریں۔‘‘

اس معاملے پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کہا، "دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کی طرف سے بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف ایوان میں کیے گئے قابل اعتراض ریمارکس کو اسپیکر نے ریکارڈ سے ہٹا کر تنبیہ بھی دی ہے اور سینئر وزیر نے ایوان میں معافی بھی مانگی لیکن یہ افسوسناک ہے کہ پارٹی نے ابھی تک مناسب کارروائی نہیں کی۔‘‘

راہل گاندھی کا سیکولر نقطہ نظر اتحاد میں ہندوستان کی موروثی طاقت کی یاد دلاتا ہے: اجے ماکن

0
راہل-گاندھی-کا-سیکولر-نقطہ-نظر-اتحاد-میں-ہندوستان-کی-موروثی-طاقت-کی-یاد-دلاتا-ہے:-اجے-ماکن

نئی دہلی: راہل گاندھی کے کنور دانش علی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کرنے کے بعد سابق وزیر اور کانگریس لیڈر اجے ماکن نے ان کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں تقسیم بہت عام ہے، راہل جی کا سیکولر نقطہ نظر ہمیں اتحاد میں ہندوستان کی موروثی طاقت کی یاد دلاتا ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے بھری پارلیمنٹ میں بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کو گالیاں بکنے کے بعد دانش علی کو مختلف پارٹیوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ کانگریس، ٹی ایم سی، سماجوادی پارٹی اور آر جے ڈی کے مختلف لیڈران نے دانش علی کے تئیں یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی گزشتہ شام کنور دانش علی کی رہائش گاہ پہنچے ان سے ملاقات کی اور انہیں گلے بھی لگایا۔

اجے ماکن نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا ’’پوری تاریخ میں ایسے رہنما ابھرتے ہیں جو اپنی قوم کی روح کو مجسم بناتے ہیں۔ راہل گاندھی میں مجھے ہندوستان کی قدیم اقدار اور اس کے متحرک تنوع کا عکس نظر آتا ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کے تئیں ان کی غیر متزلزل وابستگی، ہمارے آئین کے تئیں ان کا گہرا احترام اور ان کی ثابت قدمی ان کی قیادت کا ثبوت ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا ’’ان کی قیادت میں کانگریس مین ہونا محض سیاسی انتخاب نہیں ہے؛ یہ اقدار، سالمیت اور تنوع یعنی ہندوستان کا عہد ہے۔ میں اس جڑاؤ پر فخر محسوس کرتا ہوں اور اس تبدیلی کے وقت میں ایسے لیڈر کے ساتھ ساتھ چلنا ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔‘‘

اجے ماکن نے پوسٹ میں کہا ’’ایک ایسی دنیا میں جہاں تقسیم بہت عام ہے، راہل جی کا سیکولر نقطہ نظر ہمیں اتحاد میں ہندوستان کی موروثی طاقت کی یاد دلاتا ہے۔ وہ بے خوف جذبے کے ساتھ چیلنجوں، لازوال اخلاقیات اور ان اصولوں کو برقرار رکھتے ہیں، جنہیں ہماری قوم نے صدیوں میں حاصل کیا ہے۔‘‘

اجے ماکن نے یہ سب ایک ایکس پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، جس میں لکھا ہے، ’’بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ دانش علی کے ساتھ ایوان میں پر بدسلوکی کی گئی۔ راہل گاندھی سمیت کانگریس لیڈروں نے ان سے ملاقات کی۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ان کی حمایت کے لیے ویڈیو جاری کی۔ ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے انٹرویو میں ان کی مذمت کی۔ آر جے ڈی کے ایم پی منوج جھا نے اپنا موقف ظاہر کرنے کے لیے ویڈیو جاری کی۔ دریں اثنا، بی ایس پی ایسے بے شرم تبصروں کے لیے بی جے پی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے پریس کانفرنس بھی نہیں کر سکی۔ تعجب کی بات نہیں کہ بی ایس پی ہندوستانی اتحاد میں شامل نہیں ہوئی اور یہ پورے ملک میں زوال پذیر نظر آ رہی ہے۔‘‘

ٹروڈو کے الزامات کے بعد ہندوستانی طلباء کینیڈا نہیں جانا چاہتے

0
ٹروڈو-کے-الزامات-کے-بعد-ہندوستانی-طلباء-کینیڈا-نہیں-جانا-چاہتے

جس طرح کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ہندوستان  پر سکھ دہشت گرد ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا  بے بنیاد الزام لگایا ہے، اس کے بعد سے  ایک  طرح کا ہنگامہ شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے دونوں طرف کے لوگ اس کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ہندوستان  نے کینیڈا کے شہریوں کو ویزے دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ دوسری طرف، ہندوستانی طلباء جو کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، اب ایسا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق سنسکرتی دھامنکر کے والدین اسے میڈیکل کی تعلیم کے لیے کینیڈا بھیجنا چاہتے تھے، لیکن ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات جس طرح خراب ہوئے ہیں اس کے بعد سنسکرتی اور اس کے والدین  نے اپنے منصوبے بدل لیے ہیں۔ سنسکرتی کی والدہ امریتا نے کہا کہ وہ ان حالات کا سامنا نہیں کرنا چاہتی جن کا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یوکرین میں پڑھنے والے طلباء کو کرنا پڑا۔ یوکرین سے ہزاروں ہندوستانی طلباء کو ملک واپس جانا پڑا۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق مہاراشٹر کے تھانے ضلع کی رہائشی امریتا دھامنکر نے کہا، ‘گزشتہ ہفتے ہم نے جو رپورٹیں دیکھی ہیں وہ پریشان کن ہیں۔ ہم بچوں کی تعلیم کے لیے ایک مستحکم صورتحال چاہتے ہیں، جو فی الحال کینیڈا میں نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا، ‘ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سنسکرتی  ایم بی بی ایس مکمل کرنے جارجیا جائے گی۔ یوکرین میں پڑھنے والے ہندوستانی طلباء کے ساتھ جو کچھ ہوا، ہم نہیں چاہتے کہ ہماری بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ سنسکرتی ان طلباء میں شامل ہے جو کینیڈا نہیں جانا چاہتے۔

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے میں مدد کرنے والی کنسلٹنٹ کمپنی ونگرو ایڈو نیکسٹ کے ڈائریکٹر ہریش مشرا نے بتایا کہ ان کے  پاس 45 ایسے طلبہ آئے تھے جو کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانا چاہتے تھے لیکن اب انھوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے پاس کینیڈا کے لیے 45 داخلے کی درخواستیں تھیں۔ ان سب نے کہا ہے کہ وہ اب کینیڈا نہیں جانا چاہتے اس لیے انہیں رقم کی واپسی کی جائے۔ والدین میں اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔‘‘

ہریش نے بتایا کہ کینیڈا میں اس کا ساتھی جو ان طلبہ کی مدد کرنے والا تھا اس نے بھی اپنا کام روک دیا ہے۔ ایسے حالات میں ایسا لگتا ہے کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے، کوئی بھی کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جانا چاہے گا۔

وَن نیشن، وَن الیکشن: کل صبح 11 بجے ہوگی کمیٹی کی میٹنگ، روڈ میپ پر ہوگا تبادلہ خیال

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن:-کل-صبح-11-بجے-ہوگی-کمیٹی-کی-میٹنگ،-روڈ-میپ-پر-ہوگا-تبادلہ-خیال

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ختم ہو چکا ہے اور اب ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کو لے کر سرگرمیاں شروع ہونے والی ہیں۔ ایک ملک، ایک انتخاب کے امکانات کو تلاش کرنے کے مقصد سے سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی سربراہی والی کمیٹی کی میٹنگ ہفتہ (23 ستمبر) کے روز صبح 11 بجے ہونے والی ہے۔ اس میٹنگ میں وَن نیشن، وَن الیکشن کے لیے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق اس میٹنگ میں کمیٹی کے چیئرمین رام ناتھ کووند کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال، سکریٹری برائے قانون کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے دیگر اراکین شامل ہوں گے۔ رام ناتھ کووند نے گزشتہ دنوں اڈیشہ میں دیے گئے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ میٹنگ 23 ستمبر کو ہوگی اور امید کی جا رہی ہے کہ وَن نیشن، وَن الیکشن کو لے کر سرگرمیاں اب تیز ہو جائیں گی۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں، شہری بلدیوں اور پنچایتوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کے معاملے پر سفارش کرنے کے لیے گزشتہ 2 ستمبر کو 8 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس کمیٹی کا چیئرمین رام ناتھ کووند کو بنایا گیا ہے، جبکہ اس کمیٹی میں شامل دیگر اراکین کے نام ہیں امت شاہ، غلام نبی آزاد، این کے سنگھ، سبھاش سی کشیپ، ہریش سالوے اور سنجے کوٹھاری۔ کمیٹی میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو بھی شامل کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس دعوت کو نامنظور کرتے ہوئے کمیٹی سے خود کو کنارہ کر لیا ہے۔

لوک سبھا انتخاب سے ٹھیک پہلے جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کا اعلان

0
لوک-سبھا-انتخاب-سے-ٹھیک-پہلے-جے-ڈی-ایس-اور-بی-جے-پی-کے-درمیان-اتحاد-کا-اعلان

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کی پارٹی جے ڈی ایس (جنتا دل سیکولر) نے آج باضابطہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی لوک سبھا انتخاب سے قبل جے ڈی ایس ایک بار پھر این ڈی اے کا حصہ بن گئی ہے۔ کماراسوامی کی آج دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے دونوں پارٹیوں میں اتحاد کا اعلان کیا۔

بی جے پی صدر نڈا نے جے ڈی ایس کا این ڈی اے میں استقبال کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ این ڈی اے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ’نیو انڈیا، اسٹرانگ انڈیا‘ کے نظریہ کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس سے قبل کرناتک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے نئی دہلی میں بی جے پی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ تینوں لیڈروں کی اس ملاقات میں اتحاد کو لے کر اتفاق قائم ہوا اور اس کے بعد باضابطہ طور پر اتحاد کا اعلان جے پی نڈا کے ذریعہ کیا گیا۔ کماراسوامی کی نڈا اور شاہ سے ملاقات کے دوران گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت بھی موجود رہے۔

جے پی نڈا نے آج ہوئی اس ملاقات کی تصویریں ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہمارے سینئر لیڈر اور وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی سے ملاقات کی۔ مجھے خوشی ہے کہ جے ڈی ایس نے این ڈی اے کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم این ڈی اے میں ان کا تہہ دل سے استقبال کرتے ہیں۔ یہ این ڈی اے اور پی ایم مودی کے ’نیو انڈیا، اسٹرانگ انڈیا‘ کے نظریہ کو مزید مضبوط کرے گا۔‘‘

اس اتحاد کے بعد صاف ہو گیا ہے کہ 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی اور جے ڈی ایس مل کر کانگریس کے خلاف امیدوار اتارے گی۔ دراصل کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس کی زبردست جیت اور بی جے پی-جے ڈی ایس کی شرمناک ہار کے بعد سے ہی دونوں میں اتحاد کی خبریں زور پکڑ رہی تھیں۔ بی جے پی لیڈر یدی یورپا لگاتار اس کے لیے کوششیں کر رہے تھے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کرناٹک میں کانگریس کا مقابلہ کرنا تنہا کسی پارٹی کے بس کی بات نہیں۔

’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘، راہل گاندھی نے دانش علی سے کی ملاقات

0
’نفرت-کے-بازار-میں-محبت-کی-دکان‘،-راہل-گاندھی-نے-دانش-علی-سے-کی-ملاقات

لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ انتہائی نازیبا، غیر پارلیمانی اور قابل اعتراض بیان کا سامنا کرنے والے بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کو اپوزیشن پارٹی لیڈران کی زبردست حمایت مل رہی ہے۔ کانگریس کے سابق صدر اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی آج دانش علی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے ان کی رہائش پر پہنچے۔

راہل گاندھی نے دانش علی کے ساتھ ہوئی ملاقات کی 2 تصویریں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہیں۔ ایک تصویر میں دونوں لیڈران گلے ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، اور دوسری تصویر میں ہاتھ ملا کر اتحاد کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان تصویروں کے ساتھ راہل گاندھی نے کیپشن لکھا ہے- ’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘

قابل ذکر ہے کہ رمیش بدھوڑی کے غیر پارلیمانی بیان پر بی جے پی نے انھیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر 15 دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ دوسری طرف دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس درمیان اپوزیشن لیڈران بھی رمیش بدھوڑی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’انھوں نے (رمیش بدھوڑی) دانش علی کو جو کچھ کہا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے معافی مانگی ہے جو ناکافی ہے۔ ایسی زبان کا استعمال ایوان کے اندر یا باہر نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی شروعات ’ناری شکتی‘ (قوت نسواں) سے ہوئی ہے، لیکن اس کی شروعات تو رمیش بدھوڑی سے ہوئی ہے۔ یہ رمیش بدھوڑی نہیں بلکہ بی جے پی کی سوچ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بدھوڑی کی رکنیت رد کی جائے۔‘‘

آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے اس تعلق سے کہا ہے کہ ’’وزیر اعظم نے ملک کی خوشحال پارلیمانی روایات کے خلاف ایسی بیمار سماجی سیاسی کلچر کو جنم دیا ہے جس میں ان کی ایک رکن پارلیمنٹ گاندھی جی کے قاتل دہشت گرد کی تعریف کرتی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’پی ایم مودی کے اشارے پر ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ ایوان کے اندر اپوزیشن کے ایک رکن پارلیمنٹ کے لیے جس غیر اخلاقی، غیر پارلیمانی اور ذیلی سطح کی زبان کا استعمال کر رہا ہے، وہ قابل اعتراض، قابل مذمت اور جمہوریت و سماج کے لیے فکر انگیز ہے۔ یہ ان کا ’امرت کال‘ نہیں بلکہ ’وِش کال‘ (زہریلا دور) ہے۔‘‘

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی رمیش بدھوڑی کے شرمناک بیان پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اخلاقیات کے رکھوالے اوم بڑلا، وشو گرو نریندر مودی، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور ساتھ میں گودی میڈیا- کوئی کارروائی؟‘‘ عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے تو پی ایم مودی سے ہی سوال کر ڈالا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی جی کیا پارلیمنٹ میں آپ کے ساتھ دہشت گرد بیٹھتے ہیں؟ کیا آر ایس ایس میں یہی زبان اور کلچر سکھایا جاتا ہے؟ میں نے تو منی پور تشدد کا معاملہ اٹھایا تھا جب مجھے معطل کر دیا گیا۔ دانش علی کے ساتھ گالی گلوج کرنے والے اس رکن پارلیمنٹ پر کیا کارروائی ہوگی؟‘‘

نہیں جاگ رہے وکرم اور پرگیان! اِسرو نے کہا ’کوشش جاری رہے گی‘

0
نہیں-جاگ-رہے-وکرم-اور-پرگیان!-اِسرو-نے-کہا-’کوشش-جاری-رہے-گی‘

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے بیان دیا تھا کہ وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے یعنی جگانے کی کوشش 22 ستمبر کو نہیں کی جائے گی، بلکہ یہ کوشش 23 ستمبر کو ہوگی۔ لیکن اِسرو کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے تازہ اَپڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج وکرم اور پرگیان کو جگانے کی کوشش کی گئی جو کہ ناکام ہو گئی۔ حالانکہ اِسرو کا یہ بھی کہنا ہے کہ لینڈر ماڈیول کو فعال کرنے کی کوشش جاری رہے گی اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کامیابی مل جائے۔

اِسرو نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’’وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کے فعال ہونے کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔ فی الحال ان کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ رابطہ قائم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔‘‘ اِسرو نے واضح کیا ہے کہ بھلے ہی پہلے کوشش میں وکرم اور پرگیان کو دوبارہ ایکٹیویٹ (فعال) کرنے میں کامیابی نہیں ملی ہو، لیکن آگے آنے والے دنوں میں بھی اس سے رابطہ کر دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ستمبر ماہ کے شروع میں اِسرو نے وکرم اور پرگیان کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا تھا اور کہا تھا کہ 14 دنوں کے بعد جب چاند پر پھر سے سورج طلوع ہوگا تب دونوں ماڈیول کو دوبارہ ایکٹیویٹ کرنے کی کوشش ہوگی۔ حالانکہ کئی سائنسدانوں نے دونوں کے دوبارہ فعال ہونے کی کم ہی امید ظاہر کی تھی۔ اگر وکرم اور پرگیان دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں تو یہ کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بھی بن جائے گا۔

اس سے قبل آج صبح اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے… رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔