جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 100

پریس کلب آف انڈیا کا انتخاب: گوتم لہری پینل نے فتح درج کی

0
پریس-کلب-آف-انڈیا-کا-انتخاب:-گوتم-لہری-پینل-نے-فتح-درج-کی

پریس کلب آف انڈیا کے الیکشن میں گوتم لہری پینل کے سبھی امیدوار کامیاب ہوئے، جیتنے والوں میں گوتم لہری، منورنجن بھارتی،مہتاب عالم، عبدا الباری مسعود اور اشرف علی بستوی بھی شامل ہیں۔ اس بار گوتم لہری پینل کے سبھی 21 امیدواروں نے بڑ ی جیت درج کی ہے  صدر کے عہدے پر سینئر آزاد صحافی گوتم لہری، نائب صدر کے عہدے پر این ڈی ٹی وی کے سینئر جرنلسٹ منورنجن بھارتی سکریٹری جنرل کے عہدے پر دی پروب کے نیرج ٹھاکر ، جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پر دی وائر کے مہتاب عالم اور خزانچی کے عہدے پر نیوز نیشن کے موہت دو بے بھاری ووٹوں سے کامیاب ہو ئے ہیں۔

پریس کلب کی 16 رکنی مینیجنگ کمیٹی میں اس بار ایشیا نیٹ کے انیش کمار، ایشیا ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اشرف علی بستوی، آسومیا پرتی دن کے آشیش گپتا ،جاگرن نیو میڈیا کے جتن گاندھی، پی ٹی آئی کے مانویندر وشسٹ، دی نیو انڈین ایکسپریس کے مینک سنگھ، ٹائمس آف انڈیا کی میگھنا دھولیا، روزنامہ سالار اردو کے عبدالباری مسعود، آزاد صحافی این آر موہنتی، نیوز کلک کی پرگیا سنگھ، سی این این نیوز 18 کے رویندر کمار، نیوز 18 کے شنکر کمار آنند ، آزاد صحافی،سنیل نیگی، دی کاروان کی سربھی کانگا، ٹی وی 5 تیلگو کے تیلا پرو سری نواس راو اور آل انڈیا ریڈیو کی وینیتا ٹھاکر کامیاب ہوئے ہیں۔

پریس کلب کے 5 ہزار سے زائد ممبر ہر سال 21 رکنی کمیٹی کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں 16 مینیجنگ کمیٹی کے ممبر اور 5 عہدے داران کا انتخاب عمل میں آتا ہے. اس بار موسم کی خرابی کے باعث گزشتہ الیکشن کے مقابلے کم ووٹنگ ہوئی کل 1157 ووٹ پڑے۔

اس بار صدر کے عہدے کے لیے دو امیدوار گوتم لہری اور پرشانت ٹنڈن میدان میں تھے۔نائب صدر کے لیے منورنجن بھارتی اور پردیپ شرما آمنے سامنے تھے،سیکریٹری جنرل کے عہدے پر نیرج ٹھاکر اور پردیپ سریواستوا کے درمیان مقابلہ تھا، جوا ئنٹ سیکریٹری کے عہدے کے لیے مہتاب عالم اور کے وی این این ایس پرکاش میدان میں اترے جبکہ خزانچی کے عہدے کے لیے تین امیدوار اتل مشرا، موہت دوبے اور راحیل چوپڑا نے الیکشن میں حصہ لیا۔اس بار الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ایم ایم سی شرما نے نبھائی.

گوتم لہری پینل نے اس بار کے الیکشن میں اپنی ماضی سال حصول یابیوں پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی اس مشکل دور میں میڈیا کی آزادی، ادارہ جاتی خود مختاری اور ورکنگ جرنلسٹوں کے حقوق کے تحفظ پر ووٹ مانگا۔

وزیر اعظم مودی خواتین ریزرویشن کے معاملے میں سنجیدہ نہیں : للن سنگھ

0
وزیر-اعظم-مودی-خواتین-ریزرویشن-کے-معاملے-میں-سنجیدہ-نہیں-:-للن-سنگھ

جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی صدر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خواتین ریزرویشن کو لے کر سنجیدہ نہیں ہیں اور اس سلسلے میں بل کو پاس کرانے کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس صرف ایک ایونٹ مینجمنٹ تھا۔

اتوار کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن وزیرعظم مودی کی ایک اور سیاسی نوٹنکی ہونے کی وجہ سے وہ اس معاملے پر سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو ریزرویشن دینے میں سنجیدہ ہوتے تو وہ بہت پہلے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل لاچکے ہوتے اور اس کے لیے سال 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ساڑھے نو سال تک انتظار نہیں کرتے ۔

جے ڈی یو کے قومی صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں منظور شدہ بل کی دفعات کے مطابق اگلی مردم شماری اور حد بندی کمیشن کی رپورٹ کے بعد ہی خواتین کو ریزرویشن دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیگر پسماندہ طبقے (او بی سی) خواتین کو ریزرویشن دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انہیں ریزرویشن دینے کے خلاف ہے۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ ذات کی مردم شماری قومی سطح پر کرائی جانی چاہئے اور ان کی پارٹی کی طرف سے کئے گئے مطالبہ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات کی مردم شماری کی فوری ضرورت ہے جو ملک کی ذات پر مبنی آبادی کا تعین کرے گی اور ضرورت مندوں کو ریزرویشن دینے میں بھی مدد کرے گی۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ بی جے پی اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کے ختم ہونے کے خوف سے ہمیشہ کی مردم شماری کے خلاف رہی ہے۔

مسلم رکن پارلیمنٹ سے ایوان میں گالی گلوج انتہائی شرمناک: سلمان خورشید

0
مسلم-رکن-پارلیمنٹ-سے-ایوان-میں-گالی-گلوج-انتہائی-شرمناک:-سلمان-خورشید

ملک میں آئین کی بالادستی اور عوام کو حاصل جمہوری اختیارات پر جاری بحث کے دوران آئین کی بقاء کو لے کر عوام میں فکرمندی بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ اسی مقصد کے تحت غیرسیاسی و مذھبی تنظیم "انڈین مسلم فار سول‌ رائٹس” (آئی ایم سی آر) کے زیراہتمام آج 24 ستمبر کو پریاگ راج میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی طلباء یونین کے سابق صدر اور آئی ایم سی آر کے سکریٹری جنرل برائے تنظیم ڈاکٹر اعظم بیگ نے آئین کی بالادستی اور عوام کو حاصل جمہوری اختیارات پر تفصیل سے کئی اہم باتیں کہیں۔

اس موقع پر مہمان خصوصی سابق مرکزی وزیر اور سینیٔر کانگریس رہنما سلمان خورشید نے کہا کہ تیزی سے پھیلی نفرت کا اثر پارلیمنٹ میں بھی دکھنے لگا ہے۔انہوں نے لوک سبھا میں برسراقتدار جماعت کے ایک رکن کے ذریعے ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کے ساتھ گالی گلوج کے معاملے کو شرمناک حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آئین کی بالادستی کو برقرار نہیں رکھیں گے تو ملک کا تانا بانا بکھر جائے گا۔

آئی ایم سی آر کے چیٔرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے بڑا ہی جذباتی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اسلاف نے اسلیے آزادی نہیں دلائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج آئین کی بالادستی کو باقی نہیں رکھا گیا تو یہ ملک نہیں بچے گا۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور سی پی آئی کے قومی سکریٹری سید عزیز پاشا نے کہا کہ اس وقت ملک میں خوف وہراس کا ماحول ہے اور خوف وہراس کے ماحول میں عوام آزادی کے ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں ۔آئی ایم سی آر ، اسی خوف وہراس کے ماحول سے آپ کو باہر نکالنا چاہتا ہے۔ این سی پی کے قومی ترجمان اور مہاراشٹر ماینارٹی کمیشن کے سابق چیٔرمین نسیم صدیقی نے پریاگ راج کی عوام سے کہا کہ وقت آ گیا ہے آپ آئی ایم سی آر سے جڑیں، پریاگ راج سے جو آواز یں اٹھی ہیں۔ وہ کامیاب رہی ہیں۔ اس تنظیم کو بھی ہمیں آگے بڑھانا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر سیاسی پارٹیوں کو ہماری پریشانیوں میں بھی ہمارے ساتھ کھڑے رہنا پڑے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینیٔر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے سیکولر سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکولر ازم پر یقین رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ سافٹ ہندوتو کے حصار سے باہر نکلیں، تبھی وہ موجودہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہوں گی۔

رائے بریلی: ملازمت کے نام پر دھوکہ دہی کے معاملے میں ایف آئی آر درج

0
رائے-بریلی:-ملازمت-کے-نام-پر-دھوکہ-دہی-کے-معاملے-میں-ایف-آئی-آر-درج

اتر پردیش میں رائے بریلی کے کھیرو علاقے میں ہرچند پور سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے کے خلاف فرضی ملازمت کے نام پر 9 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اتوار کو پولیس ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق ملزم رام نریش ولد پرساد نے کھیرو تھانے میں سماج وادی پارٹی کے ہرچند پور کے ایم ایل اے راہل راجپوت عرف راہل لودھی ولد شیو گنیش راجپوت عرف شیو گنیش لودھی کے خلاف نوکری کے نام پر 9 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

رام نریش کے مطابق ہرچند پور کے ایم ایل اے راہل راجپوت، اس کے بھائی روہت راجپوت اور راہل کے بہنوئی کرشنا کمار لودھی نے نوکری کے نام پر اس کے بھائی کو دھوکہ دیا ہے۔

ایف آئی آر میں واضح طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ ایس پی ایم ایل اے نے ان سے 9 لاکھ روپے لیے اور انہیں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کا فرضی جوائننگ لیٹر دیا گیا۔ لکھنؤ کے تالکٹورہ میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گودام میں، کبھی بارہ بنکی کے گودام میں، کبھی سروجنی نگر میں واقع گوداموں میں وہ انہیں بٹھا دیتے تھے اور یقین دلاتے تھے کہ انہیں جلد ہی رائے بریلی ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔

جب ملزم کو معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ فراڈ ہوا ہے تو اسے جعلی چیک دیا گیا جو بعد میں باؤنس ہوگیا۔ اس کے بعد اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ پولیس نے ہفتہ کی دیر رات تقریباً 11 بجے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس تعزیرات ہند کی دفعہ 420، 467،468، 471، 506 کے تحت معاملہ درج کرکے تحقیقات کر رہی ہے۔

نیٹ فلکس یا ورزش، کوہلی یا روہت، میسی یا رونالڈو، راہل گاندھی کے ہیں یہ جواب

0
نیٹ-فلکس-یا-ورزش،-کوہلی-یا-روہت،-میسی-یا-رونالڈو،-راہل-گاندھی-کے-ہیں-یہ-جواب

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز انکشاف کیا کہ وہ کرکٹ پر فٹ بال اور رونالڈو پر میسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ریمارکس ایک حالیہ میڈیا پروگرام کے دوران   دئےگئے جس می راہل گاندھی نے یہ جواب دئے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کو کئی بار مختلف کھیل کھیلتے دیکھا گیا ہے۔ ایک میڈیا کنکلیو میں راہل گاندھی سے ان کے پسندیدہ کھلاڑی کا نام پوچھا گیا۔ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ان کے کرکٹ اور فٹ بال دونوں کے پسندیدہ کھلاڑی کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا جواب انہوں نے مزاحیہ انداز میں دیا۔

جب رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے پوچھا  گیا کہ وہ میسی اور رونالڈو میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں تو انہوں نے کہا کہ انہیں رونالڈو کی فیاضی پسند ہے لیکن ان کے مطابق فٹبالر کی حیثیت سے میسی رونالڈو سے بہتر ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ ’اگر میرے پاس فٹ بال ٹیم ہوتی تو میں میسی کو پسند کرتا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں کرکٹ سے زیادہ فٹ بال پسند ہے۔ جب ویراٹ کوہلی اور روہت شرما میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لیے کہا گیا تو راہل گاندھی کہتے ہیں، "دو میں سے ایک کیوں ، کیونکہ میں کرکٹ کا بڑا عاشق نہیں ہوں۔”

‘انڈیا’ اور ‘بھارت’ ناموں کو لے کر ملک میں سیاست چل رہی ہے۔ جب راہل گاندھی سے کہا گیا کہ وہ بھارت اور انڈیا  میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں تو انہوں نے کہا کہ ’انڈیا دیٹ یس بھارت‘۔ نیٹ فلکس اور ورزش کے درمیان راہل گاندھی نے ورزش کا انتخاب کیا۔ انہوں نے ہندوستانی اور چینی دونوں پکوانوں کو اپنے پسندیدہ قرار دیا۔

سابق سکریٹری خزانہ کا دعویٰ، ‘مودی نے سابق گورنر ارجت پٹیل کا موازنہ سانپ سے کیا تھا‘

0
سابق-سکریٹری-خزانہ-کا-دعویٰ،-‘مودی-نے-سابق-گورنر-ارجت-پٹیل-کا-موازنہ-سانپ-سے-کیا-تھا‘

سابق سکریٹری  خزانہ سبھاش چندر گرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ  وزیر اعظم  مودی نے ریزرو بینک آف انڈیا کے اس وقت کے گورنر ارجت پٹیل کا موازنہ ‘پیسے کے ڈھیر پر بیٹھے سانپ’ سے کیا تھا۔ گرگ نے یہ دعویٰ اپنی کتاب ‘We Also Make Policy’ میں کیا ہے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق گرگ نے لکھا کہ فروری 2018 کے آغاز میں اس وقت کے آر بی آئی گورنر کے تئیں نریندر مودی حکومت کی ‘مایوسی’ بڑھ گئی تھی۔ یہ ایک ماہ بعد مزید بڑھ گئی جب ارجت پٹیل نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ قومی بینکوں پر ریگولیٹری اتھارٹی کو ترک کرنے میں ناکام ہے۔ جس کی وجہ سے، ان کے مطابق، آر بی آئی کے پاس پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں کے مقابلے پبلک سیکٹر کے بینکوں پر ناکافی ریگولیٹری اتھارٹی رہ گئی تھی۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق، گرگ نے اپنی کتاب میں ارجت پٹیل پر الزام لگایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر مرکز کی انتخابی بانڈ اسکیم میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ گرگ کے مطابق، پٹیل کا خیال تھا کہ انہیں صرف آر بی آئی کے ذریعہ جاری کیا جانا چاہئے اور وہ بھی ڈیجیٹل موڈ میں۔

اسی سال جون میں، آر بی آئی کے اس وقت کے باس نے کم از کم امدادی قیمت میں اضافے کے حکومت کے فیصلے کی وجہ سے مہنگائی کے دباؤ میں ممکنہ اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے ریپو ریٹ کو بڑھا کر 6.25 فیصد کر دیا تھا۔ تین ماہ کے بعد اس نے ریپو ریٹ میں اضافہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت پر بینکوں میں لاکھوں کروڑوں روپے کا اضافی سرمایہ لگانے کا دباؤ بڑھ گیا۔ گرگ کے مطابق پٹیل کے اس اقدام سے اس وقت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو تکلیف ہوئی تھی۔

ایک تاثر تھا کہ وہ تاریخ میں سب سے زیادہ آزاد آر بی آئی گورنر کے طور پر جانا جانے چاہتے تھے۔ 14 ستمبر 2018 کو پی ایم مودی کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ کے دوران، پٹیل نے ایک پریزنٹیشن دی جس میں انہوں نے کئی حل بتائے، بشمول ڈس انویسٹمنٹ اہداف کو بڑھانا۔ گرگ نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا کہ جیٹلی نے مایوسی کے عالم میں ارجت پٹیل کے حل کو مکمل طور پر ناقابل عمل قرار دیا تھا۔

گرگ نے اپنی کتاب میں کہا کہ مرکز اور آر بی آئی کے درمیان کشیدگی کا اثر پی ایم مودی پر پڑا، جنہوں نے پٹیل کو گورنر کے طور پر منتخب کیا اور ان کا دفاع کیا۔ وزیراعظم اس صورتحال سے پریشان تھے۔ گرگ نے لکھا، "انہوں نے (پی ایم مودی) کا اندازہ لگایا ہے کہ آر بی آئی صورتحال کو سنبھالنے میں سرفہرست نہیں ہے اور وہ معاشی صورتحال کو حل کرنے اور حکومت کے ساتھ اپنے اختلافات کو حل کرنے کے لئے کوئی بامعنی کام کرنے کو تیار نہیں ہے،” گرگ نے لکھا۔

گرگ نے لکھا کہ ناراض پی ایم مودی نے نان پرفارمنگ اثاثوں کے حل پر آر بی آئی کے موقف اور حل تلاش کرنے کے بارے میں ان کے ضدی رویہ پر پٹیل کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایل ٹی سی جی ٹیکس واپس لینے کی تجویز پر گورنر پر تنقید کی۔ وزیر اعظم نے ارجیت پٹیل کا موازنہ پیسوں کے ڈھیر پر بیٹھے سانپ سے کیا تھا۔

ایم آئی ایم بدھوڑی کے نفرتی بیان کی شدید مذمت کرتی ہے : اختر الایمان

0
ایم-آئی-ایم-بدھوڑی-کے-نفرتی-بیان-کی-شدید-مذمت-کرتی-ہے-:-اختر-الایمان

مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اختر الایمان نے نئی پارلیمنٹ میں رمیش بدھوڑی کی ہیٹ اسپیچ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح بی جے پی نے نئی پارلیمنٹ میں نئے بھارت کی تصویر پیش کر دی ہے ۔

انہوں نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت افسوس ناک ہونے کے ساتھ تشویشناک بھی ہے۔ اس پر فکر انگیزی اور سنجیدگی کے ساتھ مل کر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ صرف کنور علی دانش کو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے سارے مسلمانوں کو گالی دی گئی ہے ۔ انہوں نے رکن پا رلیمان کنور علی دانش کی ستائش کی کہ انہوں نے ایوان  کے وقار کا لحاظ رکھتے ہوئے بد زبان و پست کردار رکن پارلیمنٹ کو اسی کی زبان میں جواب نہیں دیا اور ضبط کر کے اپنے اعلی معیار ہونے کا ثبوت دیا ۔

اختر الایمان نے کہا کہ اس معاملے میں ایم ائی ایم کا موقف بالکل واضح ہے ۔ہمارا کہنا ہے کہ بدھوڑی نے پارلیمنٹ میں نفرتی تقریر کی ہے لہذا سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایسے لوگوں پر کارروائی ہونی چاہیے ۔ لیکن یہاں تو اندھیر نگری ہے ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی بی جی بی لیڈر کے خلاف ساری دنیا چیخ پڑی مگر اس پر آج تک کوئی معقول کارروائی نہیں کی گئی۔

مسلمانوں کے لیے ” گولی مارو سالوں کو” نعرہ دینے والا مرکز میں وزیر ہے ۔ خاتون پہلوانوں کے سلسلے میں بھی ممبر پارلیمنٹ کو اب تک سزا نہیں ملی ۔ ایسی درجنوں مثالیں ہیں ۔ سزا صرف اپوزیشن والوں اور مسلمانوں کے لیے ہے ۔ اختر الایمان نے کہا کہ اب پاپ کا گھڑا بھر چکا ہے اور جلد ہی پھوٹنے والا ہے ۔

مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی جنرل سکریٹری انجینئر افتاب احمد نے بھی رمیش بدھوڑی کی سخت الفاظ ہیں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ جیسے پروقار اور قابل احترام ایوان میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بدھوڑی کی تقریر جو گالی گلوج پر مشتمل ہونے کے ساتھ ایک خاص طبقے کے خلاف نفرتی بیان ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ایم ائی ایم کے یوتھ ونگ کے ریاستی صدر عادل حسن ایڈووکیٹ نے بھی بدھوڑی کے اسپیچ پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی پارلیمنٹ میں ایسی نفرت انگیز تقریر جو مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا دھمکانے کے طور پر ہے اسے کسی قیمت پر ایم ائی ایم برداشت نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ تمام سیکولر پارٹیاں اس معاملے میں متحد ہیں ۔ انجینیئر افتاب احمد اور عادل حسن نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہیٹ اسپیچ سے متعلق رولنگ کے تحت بدھوڑی کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔

کلک فارمز فراڈ: لوگ سوشل میڈیا پر نوکری کے جھانسوں کا شکار نہ بنیں، یوپی پولیس

0
کلک-فارمز-فراڈ:-لوگ-سوشل-میڈیا-پر-نوکری-کے-جھانسوں-کا-شکار-نہ-بنیں،-یوپی-پولیس

لکھنؤ: یوپی پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر نوکری کے جھانسوں کا شکار نہ بنیں۔ یہ ایڈوائزری اس وقت سامنے آئی ہے جب کلک فارم فراڈ کے 50 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور بہت سے فراڈ اب بھی رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔یوپی پولیس کے سائبر سیل کا مقصد لوگوں کو اس گھوٹالے کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں متنبہ کرنا ہے کہ وہ منافع بخش نوکریوں کے جال میں پھنسنے سے باز رہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایسے گھپلوں کی وجہ سے لکھنؤ کے باشندگان کو اب تک 17 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ کلک فارمز میں سامان اور خدمات کو اچھی آن لائن ریٹنگ دے کر منافع کمانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، دھوکہ دہی کرنے والے صارفین (ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پر) سے رابطہ کرتے ہیں اور پارٹ ٹائمر کے طور پر کام کر کے روزانہ 5000 روپے تک کمانے کی لالچ دیتے ہیں۔

پولیس نے کہا، ’’صارفین جب پیشکش کو قبول کر لیتے ہیں تو انہیں ایک ‘ٹاسک مینیجر’ کے ذریعے چلائے جانے والے ٹیلی گرام چینل میں شامل کیا جاتا ہے، جو انہیں ‘ٹاسک’ تفویض کرتا ہے۔ پھر، متاثرین سے کہا جاتا ہے کہ وہ یوٹیوب کی مخصوص ویڈیوز کو ‘لائک’ کریں ‘مینیجر’ کو اسکرین شاٹ بھیجیں۔‘‘

جیسے جیسے صارفین یوٹیوب ویڈیوز کو پسند کرتے رہتے ہیں، کمائی گئی رقم سکیمرز کی ‘جاب ایپ’ پر نظر آتی ہے۔ یہ کمائی صرف دکھاوے کے لیے ہوتی ہے اور دھوکہ باز صارف کو کوئی رقم نہیں بھیجتے۔ ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ سائبر مجرم اپنی جمع شدہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے صارفین سے کچھ ٹوکن رقم (مثال کے طور پر 5000 روپے) ‘سرمایہ کاری’ کرنے کے لیے کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایک بار رقم کی منتقلی کے بعد دھوکہ باز صارفین کو واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر بلاک کر دیتے ہیں۔‘‘ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جمع شدہ رقم وصول کرنے کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھیجیں۔ انہوں نے کہا، جیسے ہی صارفین اپنے بینک کی تفصیلات شیئر کرتے ہیں، سائبر مجرمان ان کے کھاتوں سے رقم چرا لیتے ہیں۔

کلک فارم فراڈ کیسز کی تحقیقات کرنے والے سائبر سیل کے حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں شہر سے ایسے 24 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تفتیشی افسر سوربھ مشرا نے کہا کہ آپریٹر دبئی سے کام کرتے ہیں۔

مدھیہ پردیش: شیوراج حکومت پر کمل ناتھ کا بڑا حملہ، کہا- ’کمیشن لینے کے لیے دیے جا رہے ہیں بڑے بڑے ٹھیکے‘

0
مدھیہ-پردیش:-شیوراج-حکومت-پر-کمل-ناتھ-کا-بڑا-حملہ،-کہا-’کمیشن-لینے-کے-لیے-دیے-جا-رہے-ہیں-بڑے-بڑے-ٹھیکے‘

بھوپال: مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے حکومت کے بڑھتے ہوئے قرض اور کمیشن کمیشن کو لے کر ریاست پر بڑا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن حاصل کرنے کے لیے قرضے لے کر بڑے بڑے ٹھیکے دیے جا رہے ہیں۔ کانگریس کے دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کے اس بیان پر کہ کوئی اقتصادی بحران نہیں ہے، کمل ناتھ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے کتنا قرض لیا ہے، سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا ’’معلوم کریں کہ ایک سال میں کتنے بڑے ٹھیکے دئیے گئے، کتنے فیصد ایڈوانس لیا گیا، کتنی رشوت لی گئی؟ یہ لوگ اپنا کمیشن بڑھانے کے لیے قرضے لیتے ہیں۔ میرے پاس اس بارے میں مکمل معلومات ہیں۔‘‘

کانگریس کے دعویداروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کمل ناتھ نے کہا کہ چار ہزار لوگوں نے دعویٰ کیا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ میں ہارنے والا نہیں، جیتوں گا، سب دیکھ رہے ہیں کہ ان کا وارڈ یا بوٹھ جیتا یا نہیں۔ جیتنے والے امیدوار کو موقع دیا جائے گا۔ فہرست آتی رہے گی، ابھی اشارہ کر دیں گے، کل دہلی میں بھی میٹنگ ہے، ویسے بھی دعویدار کے بارے میں کافی معلومات دستیاب ہیں کیونکہ یہ انٹرنیٹ کا دور ہے۔

بی جے پی کی جانب سے چہرے کا اعلان نہ کرنے پر طنز کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’’بی جے پی شرم محسوس کر رہی ہے۔ شیوراج کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ قرار نہیں دیا جا رہا۔ امت شاہ-مودی آئے تو کس کے حق میں بات کریں گے، پارٹی کے لیے بولیں لیکن شیوراج کو چہرہ نہیں بولیں گے، افسوس کی بات ہے!‘‘

برج بھوشن نے خاتون پہلوانوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا! دہلی پولیس کا عدالت میں بیان

0
برج-بھوشن-نے-خاتون-پہلوانوں-کو-جنسی-طور-پر-ہراساں-کرنے-کا-کوئی-موقع-نہیں-چھوڑا!-دہلی-پولیس-کا-عدالت-میں-بیان

نئی دہلی: سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف درج مبینہ جنسی ہراسانی کے مقدمے میں عدالت نے ملزم کو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ دیا، جبکہ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ ملزم نے خواتین پہلوانوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا ہے اور ایسا کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔

پولیس نے راؤز ایونیو عدالت کے ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ (اے سی ایم ایم) ہرجیت سنگھ جسپال کے روبرو دلیل دی کہ سنگھ کے خلاف الزامات عائد کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔ دہلی پولیس نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف مقدمے میں تاجکستان میں مبینہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ واقعات ان کے اعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔

پولیس کے مطابق، برج بھوشن شرن سنگھ نے تاجکستان میں ایک تقریب کے دوران ایک خاتون پہلوان کو زبردستی گلے لگایا اور بعد میں یہ کہہ کر اپنے اس فعل کا جواز پیش کیا کہ اس نے ایک باپ کے طور پر ایسا کیا۔

تاجکستان میں ہونے والی ایشین چیمپئن شپ کی ایک اور شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ سنگھ نے ایک خاتون ریسلر کی قمیض بغیر اجازت کے اٹھائی اور اس کے پیٹ کو نامناسب طریقے سے چھوا۔ دہلی پولیس نے استدلال کیا کہ یہ واقعات ہندوستان سے باہر پیش آئے لیکن یہ کیس سے متعلق تھے۔

پولیس نے زور دے کر کہا کہ بات یہ نہیں ہے کہ متاثرین نے واقعات پر ردعمل ظاہر کیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ دہلی میں ڈبلیو ایف آئی کے دفتر میں ایک مبینہ واقعہ کا کرتے ہوئے کہا گیا کہ قومی راجدھانی شکایات کے لیے مناسب دائرہ اختیار ہے۔

کیس کی تفصیل سے سماعت کے بعد اے سی ایم ایم نے کیس کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو مقرر کی۔ پچھلی سماعت کے دوران دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت کی طرف سے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مانیٹرنگ کمیٹی نے اسے بری نہیں کیا تھا۔