موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اترپردیش حکومت بلڈوزر سے توڑ پھوڑ کے معاملے میں تین دن میں جواب دے: سپریم کورٹ

جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعیت علمائے ہند کی نئی عرضی پر اترپردیش حکومت اور دیگر جواب دہندگان کو اپنا جواب/اعتراضات تین دن میں داخل کرنے کے لئے کہا ہے

نئی دہلی: کانپور تشدد کے بعد مبینہ طور پر غیرقانونی مکانات میں توڑ پھوڑ روکنے کی مانگ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت سے تین دن کے اندر جواب دینے کے لئے کہا ہے۔

جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کی تعطیلاتی بنچ نے جمعیت علمائے ہند کی نئی عرضی پر اترپردیش حکومت اور دیگر جواب دہندگان کو اپنا جواب/اعتراضات تین دن میں داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔

سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 21 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے 13 جون کو سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی داخل کی تھی۔

اپنی عرضی میں جمعیت علمائے ہند نے قانون کے عمل کے بغیر مکانوں کو نہ ڈھانے کی ہدایت دینے اور ساتھ ہی من مانی کرنے والے افسروں پر کارروائی کی بھی مانگ کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ یوپی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ قانون کے مطابق عمل کیے بغیر کوئی اور توڑ پھوڑ نہ کرے۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ وہ توڑ پھوڑ پر روک نہیں لگا سکتی ہے۔ وہ صرف اس کارروائی کو قانون کے مطابق کرنے کے لیے کہہ سکتی ہے۔