موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے سے متعلق دگ وجے نے ہٹایا متنازعہ ٹویٹ

 مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہا کہ دگ وجے سنگھ کا ایک مذہبی مقام پر بھگوا جھنڈا لہرانے والے نوجوان کی تصویر کے ساتھ کیا گیا ٹویٹ مدھیہ پردیش کا نہیں ہے

بھوپال: کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ایک ٹویٹ کے ساتھ ایک متنازعہ تصویر پوسٹ کرنے کے بعد آج پھر سے سرخیوں میں آگئے، جس پر وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور دیگر کے ردعمل ظاہر کرنے پر مسٹر دگ وجے نے ٹویٹ ہٹا دیا۔

ٹویٹ میں ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے لکھا ’’کیا تلوار لاٹھی لیکر کسی مذہبی مقام پر جھنڈا لگانا مناسب ہے؟ کیا کھرگون انتظامیہ کو اسلحہ لے کر جلوس نکالنے کی اجازت تھی؟ کیا جنہوں نے پتھر پھینکنے چاہے وہ جس مذہب کے ہوں، سبھی کے گھروں پر بلڈوزر چلیں گے؟ شیوراج مت بھولئے آپ نے غیر جانبدار ہوکر حکومت چلانے کا حلف لیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پوسٹ کئے گئے فوٹوں میں نظر آرہا ہے کہ کچھ بھگوا دھاری نوجوان ہاتھوں میں بھگوا اور تلوار لیکر ایک مذہبی مقام پر جھنڈا لگا رہے ہیں۔

شیوراج کا ردعمل

اس کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ مسٹر سنگھ نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ مدھیہ پردیش کا نہیں ہے۔ مسٹر دگ وجے سنگھ کا یہ ٹویٹ ریاست میں مذہبی جنون پھیلانے کی اور ریاست کو فسادات کی آگ میں جھونکنے کی سازش ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مسٹر دگ وجے سنگھ نے سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی کی بات سنے بغیر کارروائی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک کے کسی قانون یا قاعدے میں بلڈوزر کلچر کی کوئی گنجائش ہے؟ اگر آپ نے غیر قانونی طور پر بلڈوزر چلانا ہے تو مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آئین میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کام کرنا غیر آئینی ہے۔