موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

فوجیوں کی ہلاکت پر روس اور یوکرین کے متضاد دعوے

روسی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈونباس کے علاقے میں یوکرین کو ایک چوتھائی فوج سے محروم کر دیا گیا ہے

جنیوا: روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے فوجی مارنے کی تعداد کے حوالے سے متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں۔

روس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 14 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک اور 16 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

روسی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈونباس کے علاقے میں یوکرین کو ایک چوتھائی فوج سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایک روسی جنرل کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ میں 1 ہزار 351 روسی فوجی مارے گئے ہیں، جبکہ 3 ہزار 825 زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب یوکرین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 16 ہزار روسی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

دریں اثنا امریکہ کی جانب سے فوجی امداد کا پہلا پیکیج جنگ سے متاثرہ یوکرین پہنچ گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکہ نے یوکرین کے لیے 8 سوملین ڈالر مالیت کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ 3 روز میں مزید امدادی پیکیج یوکرین بھیجے جائیں گے۔

فرانس، ترکی اور یونان نے یوکرین میں لوگوں کا انخلاء کرنے کے لیے مشن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جو لوگ ماریوپول سے نکلنا چاہتے ہیں، ان کو مدد دیں گے۔

فرانسیسی صدر میکرون کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ماریوپول کے میئر سے بات کر لی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشن ماریوپول بھیجنے کے معاملے پر روس کے صدر ولادیمیر پیوتن سے بات کروں گا۔