موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

حجاب پر کوئی پابندی نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ

ڈاکٹر ونود کلکرنی نے درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ حجاب پر پابندی لگانا قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے جمعرات کو کہا کہ حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ حکومتی حکم نامے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن لباس کا ضابطہ ہے۔

چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب ڈاکٹر ونود کلکرنی نے درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ حجاب پر پابندی لگانا قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر کلکرنی کی دلیل پر اعتراض کرتے ہوئے جسٹس اوستھی نے پوچھا کہ کیا حجاب اور قرآن ایک ہی چیز ہیں؟ اس پر مسٹر کلکرنی نے کہا کہ ”میرے لیے نہیں، لیکن یہ پوری دنیا کے لیے ایک جیسا ہے۔ میں ایک ہندو برہمن ہوں اور قرآن پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ہے۔‘‘

ڈاکٹر کلکرنی کے درخواست گزار نے ایک عبوری حکم کی درخواست کی ہے کہ طالبات کو جمعہ کے دن اور آنے والے ماہ رمضان کے دوران حجاب پہننے کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک بابرکت دن سمجھا جاتا ہے۔

تاہم اس معاملے پر کل دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ سماعت ہوگی۔