موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بہار میں سی بی آئی نے ایک بار لالو پرساد کی گرفتاری کے لیے مانگی تھی فوج کی مدد

مسٹر پرساد چارہ گھوٹالہ میں پہلی بار 134 دن جیل میں رہنے کے بعد 11 دسمبر 1997 کو جیل سے باہر آئے تھے

لالو پرساد کو غیر منقسم بہار کے اربوں ڈالر کے مشہور چارہ گھوٹالہ کے درجنوں معاملے سامنے آنے کے بعد اقتدار سے بے دخل ہونے کے چند دن بعد ہی ہتھیار ڈال کر 30 جولائی 1997 کو پہلی بار جیل جانا پڑا تھا۔

اس سے پہلے مسٹر پرساد کے ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی سے فوج کی مدد لینی پڑی تھی۔ تاہم، دباؤ میں، لالو پرساد نے 30 جولائی 1997 کو عدالت میں ہتھیار ڈال دیے اور تصادم ٹل گیا۔

لالو پرساد چارہ گھوٹالہ میں پہلی بار 134 دن جیل میں رہنے کے بعد 11 دسمبر 1997 کو جیل سے باہر آئے تھے۔

چارہ گھوٹالے میں وارنٹ جاری ہونے کے بعد اس نے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن وہ جیل جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ساتھ ہی بہار پولیس بھی ان کی گرفتاری کی کوشش سے گریز کر رہی تھی۔

دریں اثنا، سی بی آئی کے فوری جوائنٹ ڈائریکٹر یو این وشواس نے لالو پرساد کی گرفتاری کے لیے فوج سے بھی مدد مانگی، لیکن فوج کی جانب سے فوری مدد کرنے سے انکار کردیا۔

اسی دوران 29 جولائی 1997 کی رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا گیا، ریپڈ ایکشن فورس تعینات کر دی گئی، لیکن لالو پرساد کے حامی کھلے عام پرتشدد مظاہروں کی دھمکیاں دے رہے تھے۔
صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کی تعیناتی کی بھی بات ہوئی۔

بالآخر لالو پرساد کو جھکنا پڑا اور اگلی صبح 30 جولائی 1997 کو لالو پرساد نے سی بی آئی کورٹ میں خودسپردگی کی اور انہیں جیل جانا پڑا۔

 

لالو پرساد کا جیل کا سفر کچھ یوں تھا

لالو پرساد کو پہلی بار 30 جولائی 1997 کو 135 دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

28 اکتوبر 1998 کو دوسری بار 73 دن جیل میں رہے۔

5 اپریل 2000 تیسری بار 11 دن جیل

28 نومبر 2000: غیر متناسب اثاثہ جات کیس میں ایک دن کی جیل

3 اکتوبر 2013 کو چارہ گھوٹالہ کیس میں دوسرے کیس میں مجرم ثابت ہونے پر 70 دن کی جیل

23 دسمبر 2017 کو انہیں چارہ گھوٹالہ کے تیسرے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

انہیں 24 مارچ 2018 کو ڈمکا ٹریژری سے متعلق چوتھے کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گزشتہ سال اپریل میں تقریباً تین سال بعد ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

چارہ گھوٹالہ میں لالو پرساد سے متعلق پانچویں کیس میں فیصلہ 15 فروری کو

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے خلاف چارہ گھپلہ کے سب سے بڑے معاملے آر سی 47 اے/96 میں فیصلہ 15 فروری کو آئے گا۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے تمام ملزمان کو فیصلے کے دن عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے۔ لالو پرساد عدالت میں پیش ہونے کے لیے اتوار کو ہی رانچی پہنچ چکے ہیں۔ وہیں پارٹی کے علاوہ لالو پرساد پارٹی کے علاوہ ’مہا گٹھ بندھن‘ سمیت دیگر لیڈروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

مسٹر پرساد نے پیر کی صبح رانچی کے مورہ آبادی میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں دھوپ کا بھی لطف اٹھایا۔ وہیں صبح سے سب سے پہلے لالو پرساد سے ملنے والے ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر اور رکن اسمبی بندھو ترکی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یہ ڈورنڈا ٹریژری سے 139.35 کروڑ روپے غیر قانونی طریقے سے نکالنے سے جڑا معاملہ ہے۔ معاملے میں شروع میں 170 ملزمان تھے جن میں سے 55 ملزمان کی موت ہوگئی ہے۔ دپیش چانڈک اور آر کے داس سمیت سات ملزمین کو سی بی آئی نے گواہ بنایا۔ سشیل جھا اور پی کے جیسوال نے فیصلے سے اقبال جرم کر لیا۔ معاملے میں چھ ملزمان مفرور ہیں۔

اس ہائی پروفائل معاملے میں لالو پرساد کے علاوہ سابق رکن پارلیمان جگدیش شرما، ڈاکٹر آر کے رانا، اس وقت کے پی اے سی صدر دھرو بھگت، اس وقت کے انیمل ہسبنڈری سکریٹری بیک جولیس، محکمہ انیمل ہسبنڈری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر کے ایم پرساد سمیت 99 ملزمان کے خلاف 15فروری کو فیصلہ آئے گا۔ معاملے کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے 575 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ وکیل دفاع کی جانب سے 25 گواہ پیش کیے گئے۔