موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

حجاب کے مسئلے کو طول دینا افسوسناک: مایاوتی

مایاوتی نے ٹویٹ کیا، مسلم خواتین کی طرف سے حجاب کا مسئلہ بہت سنگین اور حساس ہے، اس کی آڑ میں سیاست اور تشدد ناانصافی ہے

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کرناٹک میں مسلم خواتین کے حجاب پہننے کے معاملے کو ملک کی سماجی ہم آہنگی کے لیے بہت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر جاری سیاسی ہنگامہ افسوسناک ہے۔

محترمہ مایاوتی نے جمعہ کو کہا کہ حجاب کے مسئلہ کی آڑ میں سیاسی تشدد جائز نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ذریعہ اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ مسلم خواتین کی طرف سے حجاب کا مسئلہ بہت سنگین اور حساس ہے۔ اس کی آڑ میں سیاست اور تشدد ناانصافی ہے۔

یہ افسوسناک ہے کہ کرناٹک میں اس مسئلہ کو اٹھا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی بھائی چارے اور خیر سگالی کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔ بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ اس کا بروقت نوٹس لے۔

قابل ذکر ہے کہ مسلم خواتین کے حجاب پہننے کو شخصی آزادی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر جاری بحث کے شدید ردعمل کا ملک گیر اثر ہو رہا ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے نام پر مذہبی لباس پہننے کی چھوٹ کی مخالفت کر رہا ہے۔