موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

حکومت کی اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا کے رکن اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ان پر ہونے والے جان لیوا حملے کی جانچ چل رہی ہے۔

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ان پر ہونے والے جان لیوا حملے کی جانچ چل رہی ہے۔

ایوان بالا میں ایک بیان میں مسٹر امت شاہ نے کہا کہ مسٹر اسدالدین اویسی پر اتر پردیش میں ضلع ہاپوڑ کے پلکھوا کے چھجارسی ٹول پلازہ کے پاس جان لیوا حملہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں مقامی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے معلومات طلب کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اویسی کے سفر یا آمد و رفت کے بارے میں مقامی سطح پر کوئی اطلاع نہیں تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مسٹر اویسی پر حملے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور دونوں کے پاس سے دو غیر قانونی پستول برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اویسی کو دہلی اور کیرالہ میں بلٹ پروف کار اور زیڈ پلس سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بیان کے بعد مسٹر شاہ نے کہا کہ انہیں زبانی طور پر معلوم ہوا ہے کہ مسٹر اویسی نے سیکیورٹی لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مسٹر اویسی کو سیکیورٹی لینی چاہئے اور سب کے خدشات کو دور کرنا چاہئے۔