موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

نرسنگھانند کی گرفتاری پر  حامی مشتعل

پولیس سوامی نرسنگھانند کو لیکر ہری دوار کوتوالی پہنچی جہاں ان کے پیچھے بڑی تعداد میں ان کے حامی اور دھرم سنسد کی کور کمیٹی کے اراکین کوتوالی پہنچے۔ کوتوالی میں حامیوں نے نرسنگھانند کی گرفتاری پر ہنگامہ کرنا شرو ع کردیا۔

ہری دوار: اتراکھنڈ کے ہری دوار میں ہوئی دھرم سنسد میں دیئے گئے متنازعہ بیانات کے معاملات میں سنیچر کی رات پولیس نے دوسری گرفتاری کی۔ پولیس نے جونا اکھاڑا مہامنڈلیشور اور ڈاسنا پیٹھ کے پیٹھا دیشور سوامی یتی نرسنگھانند کو گرفتار کیا ہے جس کے بعد ان کے حامی مشتعل ہوگئے۔

پولیس کے مطابق سوامی نرسنگھانند کو سروانند گھاٹ سے گرفتار کیا ہے جہاں وہ جتیندر نارائن سنگھ تیاگی کی گرفتاری کے خلاف کھانا پینا چھوڑ کر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے انشن کو ستیہ گرہ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پولیس سوامی نرسنگھانند کو لیکر ہری دوار کوتوالی پہنچی جہاں ان کے پیچھے بڑی تعداد میں ان کے حامی اور دھرم سنسد کی کور کمیٹی کے اراکین کوتوالی پہنچے۔ کوتوالی میں حامیوں نے نرسنگھانند کی گرفتاری پر ہنگامہ کرنا شرو ع کردیا۔

اسی دوران کوتوالی پہنچی بغیر نمبر پلیٹ کی ایمبولنس سے سوامی نرسنگھانند کو اسپتال لے جانے پولیس نے کوشش کی۔ جس پر حامیوں کے ہنگامہ کے مدنظر پولیس نے لاٹھیاں مار کر انہیں منتشر کیا اور وہاں سے ایمبولنس کو روانہ کیا۔ اور بعد میں سوامی نرسنگھانند کو پولیس جیپ میں بٹھاکر ہرملاپ مشن اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں میڈیکل کے بعد ان کو اسپتال میں داخل کرادیا گیا۔

نرسنگھانند گزشتہ تین دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے جس کی وجہ سے ان کو صحت سے متعلق پریشانیاں شروع ہوگئی تھیں۔ سوامی نرسنگھانند کی گرفتاری کے بعد دھرم سنسد کے کنوینر سوامی آنند سوروپ نے ستیہ گرہ جاری رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اور گرفتاری کی مذمت اور مخالفت کی ہے اور اکھاڑہ پریشد اکھاڑے کے سنتوں سے ہندوؤں کے ساتھ سامنے آنے کی اپیل کی ہے۔