موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

وادی گلوان میں ہندوستانی فوج نے لہرایا ترنگا

چین کو ہندوستانی فوجیوں نے وادی گلوان میں ترنگا لہرا کر دیا کرارا جواب

نئی دہلی: نئے سال کے موقع پر ہندوستانی فوجیوں کو تحفہ دیکر نمائشی جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرنے کے بعد وادی گلوان میں چینی پرچم لہرائے جانے کا پروپیگنڈا کرنے والے چین کو ہندوستانی فوجیوں نے وادی گلوان میں ترنگا لہرا کر کرارا جواب دیا ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق فوج نے سال 2020 میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں ہونے والے پرتشدد جھڑپ کے بجائے ترنگا لہرا کر اپنے پرعزم ارادوں کے بارے میں واضح پیغام دیا ہے۔

چین کی سرکاری میڈیا نے نئے سال کے بعد ایک ویڈیو جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے وادی گلوان میں چینی پرچم لہرایا ہے۔ جواب میں جاری کی گئی ان تصاویر میں ہندوستانی فوج کے اہلکار وادی گلوان میں ترنگا لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

چین کی جانب سے وادی گلوان کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد ہندوستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

دفاعی ذرائع نے چین کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے یہ ویڈیو پروپیگنڈے کے تحت جاری کی ہے اور یہ ویڈیو گلوان ویلی کے بجائے چین کی سرحد کے اندر کسی اور علاقے کی ہے۔