موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ملک بھر میں بینکوں کی نجکاری کے خلاف دو روزہ ہڑتال، خدمات متاثر: اے آئی بی ای اے

بینک ملازمین، افسران اور منیجرز مرکزی حکومت کے پبلک سیکٹر کے بینکوں (پی ایس بی) کی نجکاری اور بینکنگ لاز (ترمیمی) بل کو متعارف کرانے کے قدم کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔

حیدرآباد: پرائیویٹائزیشن کے خلاف یونین فورم آف بینک یونینس (یو ایف بی آئی) کی کال پر جمعرات سے ملک بھر کے بینکوں کی دو روزہ ہڑتال شروع ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے بینکوں کا کام کاج متاثر ہوا ہے۔

بینک ملازمین، افسران اور منیجرز مرکزی حکومت کے پبلک سیکٹر کے بینکوں (پی ایس بی) کی نجکاری اور بینکنگ لاز (ترمیمی) بل کو متعارف کرانے کے قدم کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔ حکومت اس بل کو پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں پیش کرنے والی ہے۔

آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) کے جنرل سکریٹری سی وینکٹ چلم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل حکومت کو پبلک سیکٹر کے بینکوں میں ان کی ایکویٹی کیپٹل کو 51 فیصد تک کم کرنے کا اہل بنائے گا اور پرائیویٹ سیکٹر کو بینکوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مختلف ریاستوں سے ہمیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہڑتال کامیابی سے شروع ہوئی ہے اور ملازمین اور افسران جوش و خروش کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہو رہے ہیں۔

بینک ملازمین کا ماننا ہے کہ بینکوں کی نجکاری ان کی ملازمتوں، ملازمتوں کے تحفظ اور مستقبل کے امکانات کو متاثر کرنے کے علاوہ ملک، معیشت اور عوام کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

بینکوں میں ہڑتال کی وجہ سے بینکنگ لین دین متاثر ہوا ہے۔ بینکوں کی بیشتر شاخیں بند ہیں۔ لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے اور کئی جگہوں پر اے ٹی ایم میں پیسے نہیں ہیں۔