موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کورونا کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون کا حل ’ویکسین‘ ہے ’لاک ڈاؤن‘ نہیں: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کا حل لاک ڈاؤن نہیں ویکسین ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ملک کو اس سال کے آخر تک اپنی 40 فیصد آبادی کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دینی چاہیے۔

جینیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کا حل لاک ڈاؤن نہیں ویکسین ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ملک کو اس سال کے آخر تک اپنی 40 فیصد آبادی کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دینی چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے مشیر ڈاکٹر پیٹر سنگر ایک انٹرویو میں کہا کہ کورونا کی نئی تبدیل شدہ شکل ’اومیکرون‘ کی شدت کو جاننے کے لیے“ہفتوں کی ضرورت ہے” اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کورونا وائرس نئی “ویک اپ کال ہو سکتی ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسینیشن کورونا کی تمام شکلوں کو ختم کرنے کا حل ہے، لاک ڈاؤن اومیکرون کا مقابلہ کرنے کا حل نہیں ہے۔

اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے کہا کہ بوٹسوانا اور جنوبی افریقہ کی طرف سے اومیکرون کی فوری نشاندہی اور ابتدائی رپورٹنگ نے “دنیا کو وقت دیا ہے” کہ وہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرے۔

ڈاکٹر پیٹر نے کہا کہ کورونا کی نئی شکل کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں یہ زیادہ متعدی ہوسکتا ہے، صحت کے حکام کو شبہ ہے کہ آیا یہ زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس موقع ہے لیکن ہمیں تیزی سے کام کرنا چاہیے اور پتا لگانے اور روک تھام کے اقدامات کو تیز کرنا چاہیے۔