موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سپریم کورٹ نے راکیش استھانا کی تقرری پر مرکز کو نوٹس جاری کیا

مرکزی حکومت کے ذریعہ مسٹر راکیش استھانا کی تقرری کو دہلی ہائی کورٹ نے 12 اکتوبر کو قانونی قرار دیا تھا اور اس تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کمشنر کے طور پر راکیش استھانا کی تقرری کے سلسلے میں جمعہ کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اے ایس بوپنا نے مرکزی حکومت کے علاوہ گجرات کیڈر کے 1984 بیچ کے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسر مسٹر استھانا کو نوٹس جاری کیا ہے۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ مسٹر استھانا کی تقرری کو دہلی ہائی کورٹ نے 12 اکتوبر کو قانونی قرار دیا تھا اور اس تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے دو ہفتے کے اندر جواب دینے کو کہا

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر آج مرکز اور مسٹر استھانا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے دو ہفتے کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے 18 نومبر کو جلد سماعت کی سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی اپیل پر اس معاملے میں آج سماعت کی اجازت دی تھی۔ مسٹر بھوشن نے ’خصوصی تذکرہ‘ کے تحت اپیل کی تھی، جسے قبول کرلیا گیا تھا۔

اس سے قبل ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ نے تقرری سے متعلق نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

مسٹر استھانا کو مرکزی وزارت داخلہ نے اس سال 27 جولائی کو ان کی ریٹائرمنٹ سے چار دن پہلے تقرری کی تھی۔ وہ 31 جولائی کو ریٹائر ہونے والے تھے۔

صدر عالم نے قانون کے خلاف تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ اس معاملے میں سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (سی پی آئی ایل) نامی ایک رضاکار تنظیم (این جی او) کی جانب سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے مداخلت کی درخواست دائر کی تھی۔ مسٹر بھوشن نے اس سے قبل سپریم کورٹ میں تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے ایک پی آئی ایل دائر کی تھی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ مسٹر استھانا کی تقرری دہلی کے مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجوں کے پیش نظر ان کے وسیع تجربے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی تقرریاں ہوئی ہیں۔