موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

پنجاب وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے قانون ساز کی میٹنگ سے قبل ہی دے دیا استعفیٰ 

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے آج شام قانون ساز پارٹی کی میٹنگ سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

چنڈی گڑھ: پنجاب کی دو بار کمان سنبھالنے والے کیپٹن امریندر سنگھ نے آج شام قانون ساز پارٹی کی میٹنگ سے قبل ہی وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

ایک اہم سیاسی پیش واقعہ میں، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

انہوں نے گورنر بنواری لال پروہت کو استعفی نامہ سونپنے کے بعد آج شام صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے صبح کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اس بارے میں مطلع کردیا تھا۔ میرے ساتھ ایسا تیسری بار ہوا ہے جب مجھے اطلاع دیئے بغیر قانون ساز پارٹی کی میٹنگ طلب کی گئی ہو۔ یہ میری سراسر توہین ہے کہ وزیر اعلی ہونے کے ناطے اس میٹنگ میں مجھے اطلاع تک نہیں دی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ اعلی کمان کا مجھ سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اس لئے مزید توہین برداشت نہیں کرسکتا اور مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

آگے کی حکمت عملی اپنوں سے مل کر طے کروں گا

انہوں نے بھاری دل سے کہا کہ اب اعلی کمان جس پر اعتماد ہو، اسے وزیر اعلی بنائیں۔ اس کے بعد وہ اپنے 52 سال سے ساتھ رہے اپنے ساتھیوں اور حامیوں سے مل کر آگے کی حکمت عملی پر غور کریں گے۔ وہ پارٹی نہیں چھوڑ رہے ہیں لیکن آگے کے متبادل کھلے ہیں۔ میں سیاست میں ہی رہوں گا لیکن آگے کی حکمت عملی اپنوں سے مل کر طے کروں گا۔ پارٹی جسے بھی وزیر اعلی بنائے گی وہ اسے تسلیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے اسمبلی انتخابات میں میرے قیادت میں پارٹی انتخابی میدان میں اتری اور بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئی۔ اب پارٹی اعلی کمان کو مجھ پر بھروسہ نہیں رہا کہ یہ انتخاب جیت پائیں گے یا نہیں۔ چاہے جو بھی ہو میری توہین تو نہیں کرنی چاہیئے تھی۔

دوسری جانب کانگریس کے مشاہد اجے ماکن اور ہریش چودھری اور پارٹی انچارج ہریش راوت کی موجودگی میں قانون ساز پارٹی کی میٹنگ جاری رہی جس میں اگلے وزیر اعلی کے نام کا فیصلہ ہونا ہے۔ میٹنگ دیر شام تک چلنے کا امکان ہے۔