موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

افغان اپنی لڑائی خود لڑیں، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر کوئی ملال نہیں: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان فوج اب اس قابل ہے کہ طالبان دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ ہم افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ساتھ ہی امریکی صدر جو بائیڈن نے افغان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف متحد ہو کر لڑیں۔

صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور ہم افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ 20 سال تک افغانستان میں فوج تعینات رکھنے کے لئے امریکہ کو کئی کھربوں ڈالر سے زیادہ کے اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ جب کہ لڑائی کے دوران ہزاروں امریکی فوجیوں نے جان کی بازی بھی ہار دی جبکہ ہم نے افغانستان کی 300000 حفاظتی دستوں کو بہترین فوجی تربیت اور درکار اسلحہ اور رقوم فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان فوج اب اس قابل ہے کہ طالبان دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے۔

علاوہ ازیں، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ افغان حکومت کو درکار فضائی مدد فراہم کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کو ممکنہ خطرات کا جائزہ روزانہ کی بنیاد پر لے رہے ہیں۔

مسٹر نیڈ پرائس نے کہا کہ افغانستان میں بنیادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جو ہمارے لیے اہم ہیں، پرُتشدد واقعات طالبان کے معاہدوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔