افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے حتمی مرحلہ کے دوران امریکہ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان پلان پر نظر ثانی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ أفغانستان میں 650 کے لگ بھگ امریکی فوجی موجود ہیں اور انخلاء پروگرام طے شدہ شکل میں آگے بڑھ رہا ہے۔
واشنگٹن: افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے حتمی مرحلہ کے دوران امریکہ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان پلان پر نظر ثانی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انخلاء طے شدہ شکل میں جاری رکھا جائے گا۔ یہ اطلاع نیویارک ٹائمز نے دی ہے۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلاء طے شدہ شکل میں جاری رکھا جائے گا۔
نیویارک ٹائمز کی، ناموں کو پوشیدہ رکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس افغانستان پلان پر نظر ثانی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ خبر کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ اس بارے میں تجسس کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی تیزی سے پیش رفت کے جواب میں واشنگٹن انتظامیہ کیا قدم اٹھاتی ہے۔ لیکن واشنگٹن انتظامیہ انخلاء کے پلان پر ثابت قدم ہے اور قندوز شہر کے حالات پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف محدود پیمانے کا فضائی آپریشن کیا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ زیادہ وسیع قدم اٹھائے جانے کی توقع نہیں ہے۔ ایک سرکاری شخصیت نے اخبار کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ أفغانستان میں 650 کے لگ بھگ امریکی فوجی موجود ہیں اور انخلاء پروگرام طے شدہ شکل میں آگے بڑھ رہا ہے۔
حالیہ ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد شہری ہلاک
واضح رہے کہ افغان حکومتی فورسز کے کنٹرول سے نکلنے والے صوبائی مراکز کی تعداد شمال مشرق میں صوبہ تخار کے شہر تالقان کے بھی طالبان کے کنٹرول میں جانے سے 5 ہو گئی تھی۔
وقتاً فوقتاً افغان فوج کے ساتھ تعاون کے لئے امریکی فوجی کاروائیاں مہینے کے آخر میں ختم ہو جائیں گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق طالبان کے حملوں اور جھڑپوں میں حالیہ ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغانستان آزاد انسانی حقوق کمیشن کے جاری کردہ اعلان کے مطابق ماہِ مئی کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا چکا ہے۔

