موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مغربی بنگال کے گورنر ایک بار پھر اچانک دہلی کے دورے پر

اطلاعات کے مطابق گورنر کو ہنگامی حالات میں دہلی طلب کیا گیا ہے۔ ایک بار پھر گورنر جگدیپ دھنکر دہلی کے سفر پر ہیں۔ گورنر کے اس دورے پر قیاس آرائیوں کا بازار گرام ہے۔

کلکتہ: ممتا بنرجی کے دہلی کے سفر سے عین قبل اچانک ایک بار پھر گورنر جگدیپ دھنکر دہلی کے سفر پر ہیں۔ گورنر کے اس دورے پر قیاس آرائیوں کا بازار گرام ہے۔ تاہم انہوں نے اس سفر سے متعلق سوشل میڈیا پر کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔

گورنر جگدیپ دھنکر گزشتہ مہینے ہی دہلی گئے تھے جہاں انہوں نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی مرکزی وزرا اور حقوق انسانی کمیشن کے چیئرمین سے ملاقات کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق گورنر کو ہنگامی حالات میں دہلی طلب کیا گیا ہے۔ آج صبح وہ 10:46 منٹ پر دہلی کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جب وہ دہلی کے سفر پر گئے ہیں وہ ٹوئٹر پر تفصیل سے آگاہ کرتے تھے مگر اس مرتبہ انہوں نے دہلی کے سفر کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

تاہم انہوں نے دہلی کے سفر سے قبل ایک ٹویٹ کرتے ہوئے بھگوت گیتا کے ایک شلوک کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’کام کرتے رہو، پھلوں کی توقع نہ کرو‘‘۔ یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ وہ گیتا کے اس شلوک کے ذریعہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب بنگال میں تشدد کے واقعات پر قومی حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ جسے کلکتہ ہائی کورٹ میں جمع کیا گیا ہے موضوع بحث ہے۔ اسی طرح بی جے پی چھوڑ چکے مکل رائے کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں گورنر کا دورہ کافی اہم ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں گورنر کے ٹویٹ میں ممتا بنرجی کی حکومت یا پولیس انتظامیہ پر کوئی تنقید نہیں ہوئی ہے۔ جب کہ اس درمیان کافی کچھ نئے واقعات رونما ہوئے ہیں۔