برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ’امریکی فورسز رات کے اندھیرے میں بغیر کسی نوٹس کے بگرام ایئر بیس چھوڑ کر روانہ ہوئی، جس کے بعد شہریوں نے وہاں پہنچ کر قیمتی اشیاء لوٹ لیں‘۔
کابل: افغان دارالحکومت سے 25 کلومیٹر دور مسافت پر واقع صوبے پروان کے ضلع بگرام سے امریکی فوج نے رات کی تاریکی میں بغیر مطلع کیے علاقہ چھوڑ دیا اور شہریوں کا اس کا فائدہ اٹھاکر فوج کے قیتمی سامان لوٹ لئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے اپنے اور نیٹو افواج کے زیر استعمال ’بگرام ایئربیس‘ کو دو روز قبل چھوڑا، جس کے بعد شہریوں نے وہاں پہنچ کر لوٹ مار مچائی اور قیمتی اشیا لے کر چلتے بنے۔
امریکی فوج کے بگرام ائیربیس سے جانے کے بعد بیرکوں اور گوداموں میں شہریوں نے لوٹ مار کی، فوجی اڈے کی بجلی بند کرنے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی، جس میں ائیربیس پر اسلحہ اور دیگر سامان بھی بکھرا پڑا نظر آ رہا ہے۔
افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق ایئربیس سے چوری ہونے والے سامان مارکیٹ میں فروخت کیلیے آگیا ہے۔ ایک شہری نے تو فوجی جوتوں کی دکان بھی کھول لی، جو بہت ہی سستے داموں فوجی بوٹ فروخت کررہا ہے۔ اس حوالے سے چوبیس گھنٹے تک افغان حکومت اور فورسز پر شدید تنقید کی گئی اور کار کردگی پر مختلف سوالات بھی اٹھائے گئے، جن میں سب سے اہم بات طالبان کے آگے سرینڈر کا خیال تھا۔
افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے سرینڈر یا طالبان کے خلاف عدم کارروائیوں کے تاثر کو مسترد کیا جبکہ اب بگرام ایئربیس کے نئے افغان کمانڈر نے بڑا انکشاف کر کے نیا پینڈورا باکس کھول دیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ’امریکی فورسز رات کے اندھیرے میں بغیر کسی نوٹس کے بگرام ایئربیس چھوڑ کر روانہ ہوئی، جس کے بعد شہریوں نے وہاں پہنچ کر قیمتی اشیاء لوٹ لیں‘۔
اگر امریکی فوج اطلاع کردیتی تو لوٹ مار روک سکتے تھے
انہوں نے بتایا کہ ’افغان فورسز کو بگرام ایئربیس خالی ہونے کی بات دو گھنٹے بعد علم میں آئی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے وہاں کا کنٹرول سنبھالا اور عوام کو منتشر کیا‘۔ افغان کمانڈر نے کہا کہ ’اگر امریکی فوج اطلاع کردیتی تو لوٹ مار روک سکتے تھے‘۔
دوسری جانب افغانستان میں افغان فوج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں، افغان طالبان نے ملک کے مزید گیارہ اضلاع پر قبضہ کرلیا۔
افغان فورسز نے جھڑپوں میں 261 طالبان کو مارنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ میدان جنگ میں مضبوط پوزیشن کے باوجود مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں۔ آئندہ ماہ مذاکرات میں تحریری امن منصوبہ افغان حکومت کو پیش کریں گے‘۔
