موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

31 جولائی تک ’ون نیشن ون راشن کارڈ‘ اسکیم نافذ کرنے کی سپریم کورٹ نے دی ہدایت

سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ون نیشن ون راشن کارڈ اسکیم کو 31 جولائی تک نافذ کرنے کی ہدایت کی۔ اعلی عدالت نے حکومت سے غیر منظم اور غیر مقیم مزدوروں کی رجسٹریشن کے لئے نیشنل انفارمیٹکس سنٹر (این آئی سی) کی مدد سے ایک ویب پورٹل تیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’ون نیشن ون راشن کارڈ‘ اسکیم کو 31 جولائی تک نافذ کریں۔

جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے غیر مقیم مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق مرکزی اور ریاستی حکومتوں کیلئے متعدد رہنما خطوط جاری کیں۔

اعلی عدالت نے حکومت سے غیر منظم اور غیر مقیم مزدوروں کی رجسٹریشن کے لئے نیشنل انفارمیٹکس سنٹر (این آئی سی) کی مدد سے ایک ویب پورٹل تیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

مہاجر مزدوروں کی نقل مکانی اور کورونا وبا کی وجہ سے دگرگوں صورتحال کی اصلاح کے لئے ازخود نوٹس لینے سے متعلق اپنے حکم میں عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ حکومتیں غیر مقیم مزدوروں کے لئے راشن مہیا کرے اور وبا جاری رہنے تک کمیونٹی کچن جاری رکھا جائے۔

بنچ نے ریاستوں کو ان کے مطالبہ کے مطابق اضافی غلہ فراہم کرنے کی ہدایت کی ، اور ریاستی حکومتوں سے بھی کہا کہ وہ غیر مقیم مزدوروں میں راشن کی تقسیم کے لئے موزوں منصوبے بنائے۔

خیال رہے ’ون نیشن ون ون راشن کارڈ‘ اسکیم کے تحت راشن ملک کے کسی بھی حصے سے لیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ دہلی کے علاوہ ، اس اسکیم کو ابھی تک مغربی بنگال اور آسام کی ریاستی حکومتوں نے نافذ نہیں کیا ہے۔