جمعہ, مارچ 13, 2026

زرعی قانون کے نفاذ کے ایک سال مکمل ہونے پر پھر کانگریس نے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا

Share

کانگریس محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں کہا کہ مودی حکومت نے ایک سال قبل آج ہی کے دن زراعت سے متعلق تین سیاہ ایگریکلچر آرڈیننس لے کر آئی تھی اور اپنے مٹھی بھر سرمایہ دار دوستوں کے لئے 25 لاکھ کروڑ روپے کے سالانہ زرعی پیداوار کے کاروبار کے لئے موقع فراہم کیا تھا۔

نئی دہلی: کانگریس نے زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو نافذ کرنے کے ایک سال مکمل ہونے پر ہفتہ کو کہا کہ یہ تینوں قانون ظالمانہ ہیں اور ان کے سبب سیکڑوں کسان شہید ہوئے ہیں۔ اس لئے حکومت کو انہیں فوراً واپس لینا چاہیے۔

کانگریس محکمہ مواصلات کے چیف رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں کہا کہ مودی حکومت نے ایک سال قبل آج ہی کے دن زراعت سے متعلق تین سیاہ ایگریکلچر آرڈیننس لے کر آئی تھی اور اپنے مٹھی بھر سرمایہ دار دوستوں کے لئے 25 لاکھ کروڑ روپے کے سالانہ زرعی پیداوار کے کاروبار کے لئے موقع فراہم کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان تینوں سیاہ قوانین کے خلاف ملک کا کسان تحریک کرنے پرمجبور ہوا۔ انہوں نے دہلی کی سرحدوں پر تحریک کرکے حکومت پر ان قوانین کو واپس کرنے کا دباؤ بنایا لیکن حکومت نے ان کی ایک نہیں سنی اور اپنی ضد پر اڑی رہی جس کے سبب شدید سردی اور دیگر وجوہات سے 500 سے زائد کسان تحریک کے دوران شہید ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کو ملک کے کسانوں کے مفاد میں اپنی ضد کو چھوڑ دینا چاہیے اوران تینوں زرعی قوانین کو واپس لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان تحریک کررہے ہیں اور وہ حکومت کے کسی بھی ظلم سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

Read more

Local News