موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسان تحریک اب صرف کسانوں کی لڑائی نہیں، بلکہ ہر طبقے کی لڑائی بن چکی ہے: ٹکیت

مسٹر ٹکیت نے کہا کہ شہروں میں پانچ سے سات مال میں خوردہ کاروبار سمٹ کر رہ جائےگا۔ آنے والے دنوں میں کوئی دودھ بھی نہیں بیچ سکے گا۔ دودھ پہلے کمپنیوں کو بیچنا ہوگا۔ کمپنیاں پھر منافع کے ساتھ دودھ عام لوگوں کو بیچیں گی۔

شری گنگا نگر: کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ تین مہینے سے جاری کسان تحریک اب کسانوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ اب ہر طبقے کی لڑائی بن گئی ہے۔

مسٹر ٹکیت آج شری گنگا نگر ضلع کے پدم پور قصبے میں سنیکت کسان مورچہ کی مہاپنچایت میں آئے ہزاروں کسانوں سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ لگائے گئے تین زرعی قانونوں کے خلاف شروع ہوئی یہ لڑائی اب ہر طبقے کے لوگوں کی لڑائی بن گئی ہے۔

حکومت ایسے ہی 17 اور قانون لانے والی ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے ہی 17 اور قانون لانے والی ہے، جس سے ہر طبقے کے لوگ متاثر ہوں گے۔حکومت سے یہ لڑائی لمبی چلے گی، کسانوں کو مورچے مضبوط رکھنے ہوں گے۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی مورچہ بندی کرنی ہوگی۔

مسٹر ٹکیت نے کہا کہ والماڑٹ جیسی غیر ملکی کمپنیاں خوردہ کاروبار کو نگلنے کو تیار بیٹھی ہیں۔ شہروں میں پانچ سے سات مال میں خوردہ کاروبار سمٹ کر رہ جائےگا۔ آنے والے دنوں میں کوئی دودھ بھی نہیں بیچ سکے گا۔ دودھ پہلے کمپنیوں کو بیچنا ہوگا۔ کمپنیاں پھر منافع کے ساتھ دودھ عام لوگوں کو بیچیں گی۔

کھیت بچیں گے تو کسان بچیں گے

سنیکت مورچہ کے سینئر رکن گرمیت سنگھ چڈھونی نے کہا کہ کھیت بچیں گے تو کسان بچیں گے۔ سبھی کسانوں کو کم ازکم امدادی قیمت ایم ایس پی فصلوں کا نہیں ملتا۔ اس میں تقریباً چار لاکھ کروڑ کا فرق ہے۔ کسان سوچے کہ اگر ہر فصل میں یہ چار لاکھ کروڑ اور ان کی جیبوں میں آئے تو نہ صرف انہیں اقتصادی طور پر مضبوطی ملے گی بلکہ ہر طبقے کی بھی اقتصادی حالت سدھرے گی۔

یہ چار لاکھ کروڑ کسانوں کے ذریعہ بازار میں آئے مہا پنچایت میں راکیش ٹکیت کو کسانوں کی طرف سے حل اور ایک تصویر تحفہ میں دی گئی۔ راجستھانی صافہ پہن کر راکیش ٹکیت سمیت سبھی کسان رہنماؤں کا احترام کیا گیا۔

مہاپنچایت سے راجستھان جاٹ مہاسبھا کے ریاستی صدر راجہ رام میل، دیہی کسان مزدور سمیتی (جی کے ایس) کے کنوینر رنجیت سنگھ راجو نے بھی خطاب کیا۔