موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دسویں مرحلے کی بات چیت: ہندوستان اور چین باہمی اتفاق سے زیر التواء مسائل کریں گے حل 

تقریبا 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے مابین معاہدے کی بنیاد پر رابطے اور بات چیت کو جاری رکھیں گے۔ زمینی سطح پر صورتحال کو مستحکم بنائیں گے اور زیر التواء معاملات کو مرحلہ وار حل کریں گے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن اور دوستی کی فضا پیدا ہوسکے۔

نئی دہلی: ہندوستان اور چین کے فوجی حکام نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول سے متصل علاقوں میں گزشتہ سال پیدا ہونے والے تعطل سے متعلق زیر التواء مسائل باہمی اتفاق سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دونوں ممالک کے فوجی کمانڈروں کے مابین ہفتہ کے روز چین کی سرحد پر واقع مولڈو علاقے میں دسویں مرحلے کی بات چیت ہوئی۔ مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریبا 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے مابین معاہدے کی بنیاد پر رابطے اور بات چیت کو جاری رکھیں گے۔ زمینی سطح پر صورتحال کو مستحکم بنائیں گے اور زیر التواء معاملات کو مرحلہ وار حل کریں گے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن اور دوستی کی فضا پیدا ہوسکے۔

دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو پیگونگ جھیل علاقے میں پیشگی چوکیوں پر تعینات فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کے عمل کو ہموار طریقے سے مکمل کرنے کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے مکمل ہونے سے مغربی سیکٹر میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے علاقوں سے متعلق اس طرح کے معاملات کو حل کرنے کی بنیاد تیار ہو گی اور یہ ایک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے مغربی خطے میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے علاقوں سے متعلق زیر التواء امور کے بارے میں کھل کر سنجیدگی سے اور تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔