مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کے استعفیٰ نہ دینے کے سیاسی، نفسیاتی اور تنظیمی اسباب
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہارنے کے بعد ممتا بنرجی کا استعفیٰ نہ دینا بظاہر ایک عجیب ضد معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آئینی طور پر نئی اسمبلی اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ان کی حکومت کا جاری رہنا ممکن نہیں رہتا۔ مگر سیاست میں ہر عمل کا مقصد فوری نتیجہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایک ہارا ہوا لیڈر بھی استعفیٰ نہ دے کر اپنی شکست کی تشریح بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔
بی جے پی نے مغربی بنگال میں بڑی کامیابی حاصل کی جبکہ ٹی ایم سی 215 سے گھٹ کر تقریباً 80 نشستوں تک آ گئی، اور ممتا بنرجی خود بھی اپنی نشست ہار گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 100 نشستیں زبردستی چھینی گئیں اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام بھی لگایا، اگرچہ اس کے واضح ثبوت سامنے نہیں رکھے گئے۔
ممتا بنرجی استعفیٰ کیوں نہیں دینا چاہتیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ جب استعفیٰ نہ دینے سے حکومت بچ نہیں سکتی تو پھر یہ موقف کیوں اپنایا جا رہا ہے؟
اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ ممتا بنرجی شکست کو صرف عددی شکست نہیں بننے دینا چاہتیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے حامی اسے عوامی فیصلہ نہیں بلکہ انتخابی ناانصافی، ادارہ جاتی دباؤ اور سیاسی سازش کے طور پر دیکھیں۔ یہ بیانیہ ان کے لیے فوری اقتدار سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اقتدار آج چلا جائے تو کل واپس آ سکتا ہے، لیکن اگر لیڈر اپنے کارکنوں کی نظر میں اخلاقی طور پر ہار جائے تو وہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
ٹی ایم سی کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش
دوسری بڑی وجہ پارٹی کے اندر ممکنہ بغاوت اور ٹوٹ پھوٹ کا خوف ہے۔ اتنی بڑی شکست کے بعد ٹی ایم سی کے اندر بھگدڑ، موقع پرستی اور بی جے پی کی طرف منتقلی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر لیڈر فوراً استعفیٰ دے دے تو کارکنوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ لڑائی ختم ہو گئی۔
ممتا بنرجی اس کے برعکس یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ “ہم ہارے نہیں ہیں، ہمیں ہرایا گیا ہے۔” قانونی طور پر یہ موقف کمزور ہو سکتا ہے مگر سیاسی طور پر اپنے کیڈر کو متحرک رکھنے کا ایک مؤثر ہتھیار بن سکتا ہے۔
ممتا بنرجی کی پوری سیاست مزاحمت پر رہی قائم
ممتا بنرجی کی سیاسی شخصیت ہمیشہ مزاحمت، سڑک کی لڑائی اور مرکز سے ٹکراؤ کے بیانیے پر قائم رہی ہے۔ انہوں نے برسوں خود کو “اکیلی عورت بمقابلہ بڑی طاقت” کے طور پر پیش کیا۔ یہی شبیہ ان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بنی۔
اگر وہ خاموشی سے استعفیٰ دے دیتیں تو ان کی وہی جنگجو شناخت کمزور پڑ جاتی جس نے انہیں بنگال کی سیاست میں منفرد مقام دیا۔ اس لیے استعفیٰ نہ دینا حکومت بچانے کی کوشش کم اور اپنی سیاسی شناخت بچانے کی کوشش زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
شکست کے بعد بھی اپوزیشن کی سب سے بڑی آواز
ممتا بنرجی شاید یہ بھی سمجھتی ہیں کہ اگر بی جے پی بنگال میں حکومت بناتی ہے تو انہیں فوراً خود کو “مظلوم بنگال” اور “مرکزی طاقت کے خلاف مزاحمت” کی علامت کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شکست کو مکمل طور پر قبول نہ کریں بلکہ اسے مشتبہ اور متنازع بنائیں۔ بی جے پی اسی لیے ان کے اس موقف کو مضحکہ خیز قرار دے رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اگر واقعی دھاندلی ہوئی ہے تو عدالت جائیں۔
سیاسی نفسیات بھی ایک بڑی حقیقت
سیاست صرف آئین اور نمبروں سے نہیں چلتی، نفسیات بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بڑے بڑے لیڈر انتخابی شکست کے فوراً بعد اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ شکست قبول کرنا صرف حکومت چھوڑنا نہیں بلکہ اپنی “ناقابل شکست شبیہ” کے خاتمے کو تسلیم کرنا بھی ہوتا ہے۔
ممتا بنرجی نے تین دہائیوں تک بائیں محاذ سے لڑ کر بنگال حاصل کیا، پھر برسوں بی جے پی کے عروج کو روکے رکھا۔ اگر وہ ایک ہی دن میں مکمل شکست تسلیم کر لیتیں تو ان کا پورا سیاسی افسانہ کمزور پڑ جاتا۔
آئین جذبات سے نہیں چلتا
لیکن اس حکمت عملی کی ایک حد بھی ہے۔ اگر اکثریت بی جے پی کے پاس ہے تو حکومت وہی بنائے گی۔ ممتا بنرجی کا استعفیٰ نہ دینا حکومت کو روک نہیں سکتا، صرف سیاسی ماحول کو گرم رکھ سکتا ہے۔
گورنر آئینی عمل کے تحت نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ کھول سکتے ہیں جبکہ انتخابی اعتراضات کا فیصلہ عدالت یا الیکشن پٹیشن کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔
اصل جنگ اقتدار کی نہیں
اس پوری صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ممتا بنرجی استعفیٰ نہ دے کر اقتدار نہیں بچا رہیں بلکہ شکست کی زبان بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ عددی شکست کو اخلاقی مزاحمت میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔
یہ حکمت عملی وقتی طور پر ان کے کارکنوں کو حوصلہ دے سکتی ہے، مگر اگر وہ صرف الزامات تک محدود رہیں اور تنظیمی اصلاح، عوامی رابطے اور قانونی کارروائی کی طرف نہ بڑھیں تو یہی بیانیہ جلد کمزور بھی پڑ سکتا ہے۔
ممتا بنرجی کے سامنے کیا ہے اصل امتحان؟
اب اصل سوال استعفیٰ دینے یا نہ دینے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ممتا بنرجی اس شکست سے سبق لیتی ہیں یا اسے صرف سازش قرار دے کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔
اگر وہ عوامی ناراضی، تنظیمی کمزوریوں اور بدلتے سیاسی مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ دوبارہ بنگال کی سیاست میں مرکزی کردار بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر وہ صرف جذباتی مزاحمت اور انتخابی الزامات تک محدود رہیں تو یہی ضد ان کی واپسی کا راستہ بھی تنگ کر سکتی ہے۔
