چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کی کوششیں ناکام، راجیہ سبھا کے چیئرمین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا مواخذہ نوٹس مسترد کر دیا
بھارتی جمہوریت کی تاریخ میں 12 مارچ 2026 کا دن ایک ایسے باب کے طور پر درج ہو چکا ہے جس نے آئینی اداروں کی خودمختاری اور پارلیمانی طاقت کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کے نوٹس کو "ٹھوس بنیادوں کی کمی” قرار دے کر مسترد کرنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس سیاسی کشمکش کا نقطہ عروج ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے پسِ پردہ پک رہی تھی۔
193 اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کردہ یہ تحریک، جس میں لوک سبھا کے 130 اور راجیہ سبھا کے 63 اراکین شامل تھے، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتیں اب انتخابی نظام کی شفافیت کے معاملے پر کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
مواخذے کی تحریک: ایک آئینی ہتھیار کا غیر معمولی استعمال
آئین ہند کے آرٹیکل 324(5) اور 124(4) کے تحت کسی بھی چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانا کوئی معمولی عمل نہیں ہے۔ یہ وہی پیچیدہ طریقہ کار ہے جو سپریم کورٹ کے جج کے لیے مخصوص ہے۔ اپوزیشن کا اس ہتھیار کو استعمال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک الیکشن کمیشن کی موجودہ قیادت کے تحت "فری اینڈ فیئر” (آزادانہ اور منصفانہ) انتخابات کا تصور دھندلا چکا ہے۔
راجیہ سبھا کے چیئرمین نے نوٹس کو یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ فراہم کردہ شواہد کسی باقاعدہ انکوائری کے لیے کافی نہیں ہیں۔ تاہم، سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں اراکین پارلیمنٹ کے دستخطوں کے باوجود اسے ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کرنا جمہوری روایات کے مطابق ہے؟
انتخابی دھاندلی سے جانبدارانہ طرز عمل تک
حزبِ اختلاف نے گیانیش کمار پر جو الزامات عائد کیے ہیں، وہ کسی بھی جمہوری ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ ان الزامات کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- ووٹر لسٹ کی خاص نظر ثانی (SIR) میں مبینہ ہیرا پھیری: اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ بہار اور دیگر ریاستوں میں ووٹر لسٹوں کی تیاری کے دوران ایک خاص طریقہ کار اپنایا گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں ایسے ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے جو روایتی طور پر اپوزیشن کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
- حکومتی امیدواروں کی مبینہ سرپرستی: الزامات کے مطابق، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر حکمران جماعت کے خلاف کارروائی میں لیت و لعل سے کام لیا گیا، جبکہ اپوزیشن کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کیے گئے۔
- تحقیقاتی عمل میں رکاوٹ: ای وی ایم (EVM) اور وی وی پی اے ٹی (VVPAT) سے متعلق شکایات پر الیکشن کمیشن کے رویے کو "غیر تسلی بخش” قرار دیا گیا۔
یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اپوزیشن کے نزدیک الیکشن کمیشن اب ایک غیر جانبدار ریفری کے بجائے ایک فریق بن چکا ہے۔
پارلیمنٹ کا وقار بمقابلہ ادارہ جاتی تحفظ
اس فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جو طوفان کھڑا ہوا ہے وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ترنمول کانگریس (TMC) کے سینئر رہنما ڈیریک او برائن نے اس فیصلے کو "پارلیمنٹ کا مذاق” قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر 190 سے زائد اراکین کے دستخط بھی انکوائری شروع کرنے کے لیے کافی نہیں، تو پھر احتساب کا عمل کہاں زندہ رہے گا؟”
دوسری جانب، حکومت کا موقف ہے کہ اپوزیشن اپنی ممکنہ شکست کا ملبہ الیکشن کمیشن پر گرانے کے لیے پہلے سے "بہانے” تراش رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق، مواخذے کی یہ تحریک اداروں کو دباؤ میں لانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش تھی۔
انتخابی نظام کی شفافیت پر عوامی اعتماد کا بحران
کسی بھی جمہوریت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عام شہری کو اپنے ووٹ کی طاقت اور اس کے صحیح گنتی ہونے پر کتنا یقین ہے۔ موجودہ بحران نے اس یقین کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ عوامی بحث اب اس نکتے پر مرکوز ہے کہ کیا گیانیش کمار ان سنگین الزامات کے سائے میں مستقبل کے انتخابات، خاص طور پر 2026 کے بڑے معرکوں میں اپنی غیر جانبداری ثابت کر سکیں گے؟
یہ صورتحال "اعتماد کے بحران” (Crisis of Confidence) کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کے سربراہ کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع (پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے) مل جاتا، تو شاید ادارے کی ساکھ بہتر ہوتی۔ اب نوٹس مسترد ہونے کے بعد الزامات کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
کیا یہ معاملہ عدالت تک جائے گا؟
مواخذے کی تحریک مسترد ہونا اس کہانی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے قانونی معرکے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
- قانونی راستہ: اپوزیشن جماعتیں چیئرمین کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
- عوامی احتجاج: آنے والے ہفتوں میں سڑکوں پر احتجاج اور انتخابی نظام کے خلاف عوامی مہم کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
- ڈیجیٹل وار: سوشل میڈیا پر "انتخابی شفافیت” (Electoral Transparency) کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے، جو نوجوان ووٹرز کے ذہنوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
آگے کا راستہ اور تجاویز
بھارتی جمہوریت کو اس وقت ایک ایسی جراحت کی ضرورت ہے جو اسے سیاسی پولرائزیشن سے نکال کر ادارہ جاتی خود مختاری کی طرف لے جائے۔
- شفاف تقرریاں: الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے ایک ایسا پینل ہونا چاہیے جس میں عدلیہ اور اپوزیشن کا کردار مزید نمایاں ہو۔
- شکایات کا ازالہ: ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پبلک آڈٹ کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔
- پارلیمانی نگرانی: الیکشن کمیشن کو پارلیمنٹ کے سامنے مزید جوابدہ بنانے کے لیے نئے قوانین کی ضرورت ہے۔
حرف آخر
گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک تو خارج ہو گئی، لیکن یہ واقعہ تاریخ میں ایک ایسی یاد دہانی کے طور پر رہے گا کہ جمہوریت میں کوئی بھی عہدہ تنقید اور احتساب سے بالا تر نہیں ہے۔ اگر ادارے عوامی اعتماد کھو دیں، تو پھر وہ صرف ڈھانچے رہ جاتے ہیں، روح ختم ہو جاتی ہے۔ اب یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ واقعی ایک "غیر جانبدار ضامن” ہے۔
