راہل گاندھی نے مودی پر اسرائیل اور امریکہ کی حمایت کی بنیاد پر خارجہ پالیسی میں کمپرومائز کرنے کا الزام عائد کیا
آج لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپرومائزڈ ہے، کیونکہ مودی صرف وہی کرتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل ان سے چاہتے ہیں۔ راہل نے یہ بات پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی کبھی بھی ہندوستان کے مفاد میں فیصلے نہیں لے سکتے اور یہ بات واضح ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے ہندوستان کی سیاست میں بھی گرما گرمی پیدا ہوئی ہے۔ راہل گاندھی کی تنقید مودی کے اس بیان کے بعد آئی ہے جب انہوں نے مغربی ایشیا کی کشیدگی پر حکومت کا موقف پیش کیا۔ راہل نے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی اب ان کی ذاتی پالیسی بن گئی ہے، جو دنیا کے سامنے مذاق بن کر رہ گئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور ان کے اثرات
راہل گاندھی نے کہا کہ مودی کی خارجہ پالیسی اپنی نوعیت میں امریکہ کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے اور یہ ایک مذاق بن چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کنٹرول میں ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ مودی کیا کرنے والے ہیں۔ راہل کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب مودی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے دوران پارلیمنٹ میں بے تُکا بیان دیا۔
راہل نے واضح کیا کہ مودی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مثلاً ایل پی جی اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کووڈ کے دوران حالات بہتر ہونے کی بات کرتے ہوئے وزیراعظم یہ نہیں بتاتے کہ اس دوران کتنی جانیں گئیں اور کس قدر تباہی ہوئی۔
اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ اور دیگر مسائل
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ کیرالہ میں اپنے پروگرام کے سبب کُل جماعتی میٹنگ میں شامل نہیں ہو پائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میٹنگ میں ڈھانچہ پر مبنی غلطی ہوئی ہے اور اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پوری قوم اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ حکومت ان کی مشکلات کا حل نکالے۔
ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سوالات
راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد، بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا واقعی ہندوستان کی خارجہ پالیسی امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے گرد گھوم رہی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا اب ضروری ہو گیا ہے۔ مودی کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنے کے بجائے بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے فیصلے لے رہی ہے۔
آگے کا راستہ
اگر یہ حالات ایسے ہی رہے تو ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں آنے والی تبدیلیاں آگے چل کر ملکی مفادات کے خلاف جا سکتی ہیں۔ اس کے اثرات نہ صرف بین الاقوامی سٹیج پر دیکھے جا سکتے ہیں بلکہ یہ عوامی زندگی میں بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
اس وقت جب کہ ہندوستان میں معاشی اور سیاسی مسائل بڑھ رہے ہیں، راہل گاندھی کی تنقید کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ اگر حکومت نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں نہیں کیں، تو عوام کی مشکلات میں اضافہ ہونا طے ہے۔
برطانیہ، امریکہ، اور بین الاقوامی تعلقات
یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کا اثر مستقبل کی خارجہ پالیسی پر کیا پڑے گا۔ اگر ہندوستان ان ممالک کے ساتھ زیادہ ھم آہنگی پیدا کرتا ہے تو اس کے نتائج ہیں، جبکہ اگر وہ اپنے مفادات کے خلاف چلتا ہے تو اس کے اندرونی مسائل مزید بگڑ سکتے ہیں۔
خارجہ پالیسی کا مستقبل
اب سوال یہ ہے کہ مستقبل میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کیا شکل اختیار کرے گی؟ کیا وہ واقعی عوامی مفادات کی حفاظت کرے گی یا پھر بین الاقوامی دباؤ کے سامنے جھک جائے گی؟ یہ سوالات صرف سیاسی رہنماؤں کے لیے ہی نہیں بلکہ عام عوام کے لیے بھی اہم ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ خارجہ پالیسی کو کسی بھی ملک کی معاشی، سیاسی، اور سماجی ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر وزیراعظم مودی نے اس جانب توجہ نہ دی تو اس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔
حکومت کے لیے چیلنجز
حکومت کے سامنے یہ چیلنجز کیسے حل ہوں گے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ مودی کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات سے ہٹ کر ملک کی ترقی کے لیے سوچیں۔
آخر میں
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ راہل گاندھی کی تنقید کے بعد ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات کا جواب دے کہ وہ اپنے ملک کے مفاد کو مقدم رکھے گی یا بین الاقوامی دباؤ کے سامنے جھک جائے گی۔ اس کا جواب صرف وقت ہی دے گا، مگر اس کے اثرات جلد نظر آ سکتے ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر فیصلہ، ہر پالیسی کا اثر عوام پر پڑتا ہے، اور یہی عوامی مشکلات ایک ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس بات کا خیال رکھے اور ایک جامع، متوازن، اور عوامی مفادات کی حامل خارجہ پالیسی وضع کرے۔
اس بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ BBC کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں یا Reuters کے تجزیے کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔
