پیر, مارچ 23, 2026

بھارت کی مالی مارکیٹ میں ہلچل: روپیہ اور اسٹاک انڈیکس کی زبردست گراوٹ

Share

سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے؛ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ترین سطح پر پہنچ گیا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ہندوستانی مالی مارکیٹس میں پیر کے روز واضح غیر استحکام نظر آیا، جب سینسیکس انڈیکس 1,555.62 پوائنٹس کی زبردست گراوٹ کے ساتھ 72,977.34 پر بند ہوا۔ اسی دوران، نفٹی بھی 479.95 پوائنٹس کی کمی کے بعد 22,634.55 کی سطح تک پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ہی، روپیہ بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 33 پیسے کی کمی کر کے 93.86 کی نازک سطح پر پہنچ گیا، جو کہ اب تک کی کم ترین سطح ہے۔

مارکیٹ کے ماہر اجے بگا نے صورتحال کو انتہائی تیزی سے بگڑتا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اجلاس کے آغاز میں ہی زبردست مندی کے باعث سرمایہ کار خطرے کے اثاثوں کو بیچ کر ڈالر کی شکل میں محفوظ سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی منی مارکیٹ فنڈز کی کل سرمایہ کاری اب 8 ٹریلین ڈالر کو عبور کر چکی ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار موجودہ مارکیٹ کے حالات سے کتنے خوفزدہ ہیں۔

اجے بگا کے مطابق، مارکیٹ میں موجودہ کھلبلی کی سب سے بڑی وجہ امریکی صدر کا ایران کو دیا گیا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم ہے۔ اس الٹی میٹم میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے، جو فی الحال جنگ سے پہلے کی صلاحیت کے صرف 5 فیصد پر چل رہا ہے، ورنہ ایران کا پاور گرڈ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کشیدگی نے عالمی اجناس کی منڈیوں میں بھی بھاری اتار چڑھاؤ کا باعث بنی ہے۔

خام تیل اور سونے کی قیمتوں میں تبدیلی

خام تیل کی عالمی قیمتیں بھی انتہائی غیر مستحکم رہیں، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 98.50 ڈالر فی بیرل پر رہی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سپلائی میں رکاوٹ اور عالمی طلب میں کمی کے خدشات کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

علی الرغم اس کشیدگی کے سونے کو عموماً محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، مگر اس بار سونے کی قیمت بھی تقریباً 2 فیصد گر کر 4,408 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔ تجزیہ کاروں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ سرمایہ کار مارجن کالز کی وجہ سے ایکوئٹی میں ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے سونے کی منافع بخش پوزیشنز کو بیچ رہے ہیں۔

عالمی مالی مارکیٹس کا ردعمل

عالمی مالی مارکیٹس میں بھی زبردست فروخت کی لہریں دیکھنے کو ملی۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 4 فیصد سے زیادہ گر کر 51,280 پر آگیا، جبکہ سنگاپور کا اسٹریٹس ٹائمز 2.20 فیصد گر کر 4,839 پر بند ہوا۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ بھی 3.41 فیصد کی کمی کے ساتھ 24,415 پر پہنچ گیا۔ تائیوان کا ویٹیڈ انڈیکس 2.65 فیصد گر گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 6 فیصد سے زیادہ گر کر مارکیٹ کی غیر مستحکم حالت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سے پہلے، امریکی مارکیٹس بھی جمعہ کو گراوٹ کے ساتھ بند ہوئی تھیں۔ ڈاؤ جونز انڈیکس 0.96 فیصد گر کر 45,577 پر بند ہوا، ایس اینڈپی 500 میں 1.51 فیصد کی گراوٹ رہی، جبکہ نیسڈیک 2 فیصد کی کمی کے ساتھ 21,647 کی سطح پر آگیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مغربی ایشیا میں کشیدگی کم نہیں ہوتی، عالمی مالی مارکیٹس میں عدم استحکام اور دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے کیا معانی

یہ تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے لیے خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں، اور اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خطرہ کم کرنے کے لیے اپنے پورٹ فولیو میں تنوع لائیں اور مارکیٹ کے حالات کا معائنہ کرتے رہیں۔

حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ عالمی مالی مارکیٹس کا ایک دوسرے سے جڑا ہوا نظام ہے، اور ایک علاقے میں ہونے والی تبدیلیاں دوسرے علاقوں میں بھی بڑی شدت کے ساتھ اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ حسب حال سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ تبدیلی سے باخبر رہیں۔

آگے کی راہ

جغرافیائی کشیدگی اور اقتصادی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال کے پس منظر میں، سرمایہ کاروں کو ضروری ہے کہ وہ طویل مدتی نکتہ نظر اپنائیں اور محتاط رہیں۔ اگرچہ یہ وقت چیلنجنگ ہے، مگر مارکیٹ میں مواقع بھی موجود ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ موجودہ حالات کا گہرا مشاہدہ کریں اور ایک مستحکم حکمت عملی اپنائیں، تاکہ وہ اس غیر یقینی صورتحال سے کامیابی کے ساتھ گزریں۔

پیر کے دن کی زبردست گراوٹ نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں مالی نظام کس انداز میں چلتا ہے اور بین الاقوامی سیاست کس طرح اقتصادیات کو متاثر کرتی ہے۔ ایک بات یقینی ہے کہ یہ حالات دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں موجود سوالات کا جواب دینے کے لیے کافی اہم ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، عالمی مالی مارکیٹس کی موجودہ صورت حال میں مزید تفصیلات اور تجزیے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں سرمایہ کاروں کو بہترین فیصلے کرنے کے لیے مکمل معلومات کی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔

Read more

Local News