اتوار, مارچ 22, 2026

یو این آئی دفتر کی سیلنگ پر صحافتی حلقوں اور اپوزیشن کا شدید ردعمل

Share

دہلی میں یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا کے دفتر پر کارروائی نے آزادیٔ صحافت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے

دہلی میں یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا کے دفتر کو سیل کیے جانے کے واقعے پر صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، اور اسے آزادیٔ صحافت، جمہوری اقدار اور قانونی طریقۂ کار کے حوالے سے ایک تشویشناک پیش رفت قرار دیا ہے۔

یہ کارروائی دہلی ہائی کورٹ  (Delhi High Court)کے اس حکم کے بعد کی گئی جس میں رفیع مارگ پر واقع  قیمتی سرکاری زمین کے تنازعے میں مرکز کے حق میں فیصلہ دیا گیا۔ جمعہ کی رات پولیس اور مرکزی فورسز نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے دفتر کا کنٹرول سنبھال لیا، جس دوران صحافیوں کے ساتھ ہاتھا پائی اور جھڑپوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

Image

طاقت کے استعمال اور قانونی طریقۂ کار پر سنگین سوالات

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا (Editors Guild of India) نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن جس انداز میں یہ کارروائی کی گئی وہ نہایت باعثِ تشویش ہے۔ تنظیم کے مطابق مناسب پیشگی اطلاع، وقت اور طریقۂ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر ضروری طاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عدالت کا تفصیلی حکم ویب سائٹ پر جاری ہونے سے پہلے ہی سیکڑوں پولیس اور نیم فوجی اہلکار یو این آئی کے دفتر پہنچ گئے اور ڈیوٹی پر موجود صحافیوں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کو زبردستی باہر نکالا گیا۔

Image

سیاسی جماعتوں کا سخت ردعمل

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے اس کارروائی کی مذمت کی، جبکہ  ایم اے بے بی جو مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا Communist Party of India (Marxist) کے جنرل سیکریٹری ہیں، انہوں نے اسے جمہوری اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ ان کے مطابق بغیر پیشگی اطلاع اور ملازمین کو ذاتی سامان سمیٹنے کا موقع دیے بغیر اس طرح کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔

کانگریس کے سینئر رہنما رندیپ سرجے والا  نے اس واقعے کو میڈیا پر دباؤ کے ایک وسیع تر رجحان سے جوڑتے ہوئے NDTV اور BBC جیسے اداروں کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کی درجہ بندی آزادیٔ صحافت کے معاملے میں مسلسل نیچے جا رہی ہے۔

صحافتی تنظیموں کا احتجاج اور مطالبات

پریس کلب آف انڈیا (Press Club of India) نے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ اس سے صحافتی برادری کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی طرح انڈین ویمنز پریس کورپس (Indian Women’s Press Corps) نے خواتین صحافیوں کی سلامتی اور وقار کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ اس طرح کے مناظر نہ صرف ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ آزادیٔ صحافت کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

دہلی یونین آف جرنلسٹس (Delhi Union of Journalists) نے بھی پولیس کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر جمہوری اور غیر مناسب قرار دیا ہے۔

Image

جائیداد کا تنازع اور ادارے کا غیر یقینی مستقبل

یو این آئی کا رفیع مارگ پر واقع دفتر طویل عرصے سے ایک نہایت قیمتی اور اہم مقام سمجھا جاتا رہا ہے، جس پر مختلف میڈیا اداروں کی نظریں رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے لیز منسوخ کیے جانے کے بعد اب اس ادارے کے مستقبل اور اس سے وابستہ ملازمین کے روزگار پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

صحافتی یونینز نے مطالبہ کیا ہے کہ ادارے کی انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، ادارے کو جاری رکھے اور صحافیوں اور دیگر ملازمین کو ان کے واجبات بروقت ادا کیے جائیں۔

Read more

Local News