اتوار, مارچ 22, 2026

ایران کی جنگ بندی کی شرط: اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ اور مستقبل کی ضمانت

Share

نریندر مودی سے گفتگو میں ایرانی صدر کی اہم باتیں اور علاقائی تناظر

ہفتہ کو ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے نہ صرف دوطرفہ روابط بلکہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی اور اسرائیلی جارحیت پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ بات چیت اس وقت ہوئی جب دنیا بھر میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، اور اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی جوہری مذاکرات بھی چل رہے ہیں۔

پیزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اس جنگ کے آغاز کا باعث نہیں بنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "حملہ آوروں نے بغیر کسی معقول وجہ یا قانونی بنیاد کے ایران پر حملے شروع کیے، جبکہ جوہری مذاکرات جاری تھے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے نہ صرف ایرانی فوجی قیادت بلکہ بے گناہ شہریوں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ان حملوں میں معصوم بچوں سمیت کئی عام شہری جاں بحق ہوگئے، جس نے انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ صدر پیزشکیان نے ایک خاص واقعے کی جانب بھی اشارہ کیا جہاں امریکی فوج نے ایک اسکول کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 168 معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے۔

جوہری پروگرام کی نگرانی کی یقین دہانی

پیزشکیان نے یقین دہانی کرائی کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے شفافیت فراہم کرنے کے لیے عالمی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم یہ چاہیں گے کہ دنیا ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی تصدیق کرے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی نہ رہے۔”

ایران نے علاقائی سلامتی کے فریم ورک کے قیام کی تجویز بھی دی، جس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کی بحالی کی کوشش کی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی تعاون کو بڑھایا جائے اور کشیدگی کو کم کیا جائے۔

جنگ بندی کی شرائط

پیزشکیان نے واضح طور پر کہا کہ جنگ اور تنازعات کے خاتمے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی جارحیت فوری طور پر بند کریں اور اس بات کی ضمانت دیں کہ مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی واقعے کی تکرار نہیں ہوگی۔ انہوں نے برکس گروپ سے اپیل کی کہ وہ ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت کو روکنے کی کوشش کریں، تاکہ علاقے میں امن اور استحکام کو بحال کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس گفتگو میں مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات کی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ جنگ کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ ہمیں جلد از جلد ایک دوسرے کی طرف امن کی جانب بڑھنا چاہیے۔”

خوراک اور توانائی کی حفاظتی ضرورت

وزیر اعظم مودی نے خاص طور پر خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کے حملے کی سخت مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات عالمی خوراک اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور خلیج فارس میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی اہمیت دی۔

یہ بات اہم ہے کہ اس طرح کی کشیدگی کا اثر نہ صرف خطے پر بلکہ عالمی سطح پر بھی پڑتا ہے۔ اگر اس مسئلے کا جلد حل نہیں نکالا گیا تو یہ عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مستقبل کی سمت

ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی کے تناظر میں، یہ بات واضح ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور اعتماد کی بحالی ہی ایک مستقل حل پیش کر سکتی ہے۔ ایران کی طرف سے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت اور اس کے پُرامن کردار کی دعویداری ایک طرف ہے، تو دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے دفاعی اقدامات کی ضرورت کا احساس بھی جاری ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جنگ بندی اور امن کی کوششیں ایک طویل عمل ہیں، جس کے لیے تمام فریقین کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ علاقے میں دیرپا امن قائم ہوسکے۔

جیسا کہ پیزشکیان نے کہا، "امن کی ضمانت کے لیے ضروری ہے کہ ہم جنگ کی آگ کو بجھائیں اور ایک نئے مستقبل کی طرف بڑھیں، جہاں ہم سب کے مفاد میں امن و امان قائم ہو۔”

یہی وقت ہے کہ عالمی رہنما اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی جارحیت کی روک تھام کی جا سکے۔ اس طرح کی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، اور اسی طرح ہی ہم ایک پرامن اور مستحکم دنیا کی امید رکھ سکتے ہیں۔

Read more

Local News