جمعہ, مارچ 20, 2026

مغربی ایشیا میں کشیدگی: ہندوستانیوں کی جانیں ضائع اور وطن واپسی کا عمل جاری

Share

وزارت خارجہ کی جانب سے اہم اپ ڈیٹس: 6 اموات، 3 لاکھ کی وطن واپسی

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران، ہندوستانی وزارت خارجہ نے تازہ ترین معلومات فراہم کی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ اس خطے میں اب تک 6 ہندوستانی شہریوں کی جانیں جا چکی ہیں جبکہ ایک شخص اب بھی لاپتہ ہے۔ حکومتی اہلکاروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ حالیہ عرصے میں تقریباً 3 لاکھ ہندوستانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے وطن واپس لایا گیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جنگی پیمانے پر کوششیں کی ہیں کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور جان گنوانے والوں کی لاشوں کو جلد از جلد ہندوستان پہنچایا جا سکے۔

وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سکریٹری، اسیم آر مہاجن نے کہا کہ خلیجی ممالک میں موجود ہندوستانی مشن مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ حکومت کی پوری توجہ ان خاندانوں کو راحت پہنچانے پر مرکوز ہے جنھوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ مہاجن نے مزید کہا کہ لاپتہ ہندوستانی کی بحفاظت واپسی کے لیے بھی مقامی سیکورٹی ایجنسیاں متحرک ہیں اور تلاش کی مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔

ہندوستان کی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتکاری کا کردار

وزیر اعظم نریند مودی نے مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک بات چیت کی ہے، جس میں انہوں نے ہندوستان کا موقف واضح کیا ہے۔ مودی نے عمان کے سلطان سے بھی بات چیت کی اور کہا کہ "جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کو صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ مودی نے اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دی کہ کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں امن بحال کرنا ہے۔

سفارتکاری کی اس بات چیت کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت کی استحکام رہا۔ وزیر اعظم مودی نے توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی سختی سے مذمت کی، کیونکہ ان حملوں کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جو کہ بھارت سمیت دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کر سکتا ہے۔

جبکہ وزیر اعظم مودی نے بحری راستوں کی حفاظت کی حمایت کی ہے، انہوں نے بین الاقوامی تجارت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ‘آبنائے ہرمز’ سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کی بھی اہمیت کا ذکر کیا۔

متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ رابطہ

وزارت خارجہ میں خلیجی ممالک کے جوائنٹ سکریٹری اسیم مہاجن نے مزید وضاحت کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ریاض میں ہونے والے حملے میں ایک ہندوستانی شہری کی موت کی افسوسناک خبر ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم متوفی کے خاندان کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں”۔ ریاض میں واقع ہندوستانی سفارتخانے نے متاثرہ خاندان کے ساتھ رابطہ رکھا ہے اور لاش کی جلد واپسی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

حکومت نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ مختلف واقعات میں 6 ہندوستانی شہریوں کی جانیں چلی گئی ہیں اور ایک شخص اب بھی لاپتہ ہے۔ سعودی عرب، عمان، عراق، اور متحدہ عرب امارات میں ہمارے سفارتخانے بھی لاپتہ ہندوستانی کی واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

محفوظ وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنا

وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تقریباً 3 لاکھ ہندوستانیوں کو خلیجی ممالک سے محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے کے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔ اس عمل میں ہندوستانی حکومت نے بحری اور فضائی راستوں کا استعمال کیا ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ طریقے سے واپس لایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ان افراد کے لیے خصوصی وہاں رہائش، صحت کی سہولیات اور ذہنی سکون فراہم کرنے کے لئے اقدامات کیے ہیں جو اس تنازعہ کے دوران متاثر ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا مؤقف

ہندوستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا اثر نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی پڑ سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے عالمی رہنماؤں کو ان کی تشویش کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا”۔ اس سفارتکاری کے ذریعے ہندوستان نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازعے کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آنے والے دنوں میں کیا متوقع ہے؟

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا اثر صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ تنازعہ مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار اور معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی حکومت اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اپنی خارجہ پالیسی میں امن کی بحالی کی کوششیں کر رہی ہے۔ هند ہندوستان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی مکمل حفاظت کے ساتھ ساتھ اس خطے میں امن و سکون کو بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مؤثر طریقے سے کام کرے۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ہندوستانی حکومت اور بین الاقوامی برادری اس تنازعے کو کیسے حل کرتی ہے اور اس کے اثرات کا کیا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بھی ضروری ہے کہ ہندوستانی عوام اور متاثرہ خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انہیں اس مشکل وقت میں سہارا فراہم کیا جا سکے۔

مزید معلومات کے لیے وزارت خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات پر بھی نظر رکھی جائے گی اور یہ امید کی جاتی ہے کہ ہندوستانی حکومت آواز ان افراد کے ساتھ منسلک رہے گی جو اس کشیدگی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہندوستان کے شہریوں کی حفاظت اور ان کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے، اور یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ بحران جلد از جلد حل ہو جائے گا تاکہ خطے میں امن کی بحالی کا عمل شروع ہو سکے۔

Read more

Local News