تمل ناڈو اور کیرالہ میں عیدالفطر کا شاندار جشن، نماز اور اجتماعی عبادت کا اہتمام
تمل ناڈو اور کیرالہ میں مسلمانوں نے عیدالفطر کی نماز انتہائی جوش و خروش کے ساتھ ادا کی۔ یہ نماز 20 مارچ بروز جمعہ کو منائی گئی جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے عید 21 مارچ کو منائی جائے گی۔ جنوبی ہند کی ان ریاستوں میں موسم خوشگوار رہا اور نماز عید کے بڑے اجتماع دیکھے گئے، جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ عبادات اور دعاوں کا اہتمام بھی کرتے رہے۔
مدورئی شہر میں خاص طور پر تمکم میدان میں نماز عید کا اہتمام کیا گیا۔ یہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی۔ کوئمبٹور کے علاقے کنیاموتھور میں بھی عائشہ محل کے تحت نماز عید ادا کی گئی، جس میں مقامی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر امن اور خوشحالی کے لئے خاص دعا کی گئی۔
کیرالہ میں بھی عیدالفطر کے موقع پر بڑے پیمانے پر نماز کے اجتماعات منعقد ہوئے۔ ترواننت پورم کے چندرشیکھرن نائر اسٹیڈیم میں پالیام جمعہ مسجد کے زیر اہتمام نماز عید کی گئی، جبکہ کوچی میں کلور عیدگاہ میں بھی ہزاروں افراد نے نماز ادا کی۔ ان مواقع پر امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی تقویم کا نواں مہینہ ہے جو قرآن مجید کے نزول کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس مقدس مہینے کے اختتام پر عیدالفطر منائی جاتی ہے، جو روزوں کی خوشی کا اظہار کرتی ہے۔ عید کے دن مسلمان صرف نماز عید ادا نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بھی بانٹتے ہیں، مستحقین کی مدد کرتے ہیں اور صلہ رحمی کو فروغ دیتے ہیں۔
چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے عید کا اعلان
دوسری جانب ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں شوال کا چاند نظر نہ آنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی۔ لکھنؤ عیدگاہ کے امام مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بتایا کہ جمعرات کو چاند نظر نہیں آیا، اسی وجہ سے 30واں روزہ مکمل کیا جائے گا اور عید ہفتہ کو منائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عید کی نماز صبح 10 بجے ادا کی جائے گی، جس کے بعد ملک و دنیا کے امن کے لیے خصوصی دعا کی جائے گی۔
جموں و کشمیر میں بھی شوال کا چاند نظر نہ آنے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ وہاں کی شیعہ تنظیم کی رویت ہلال کمیٹی نے بتایا کہ خراب موسم اور بادلوں کے باعث چاند دکھائی نہیں دیا اور کسی معتبر شہادت کی اطلاع بھی موصول نہیں ہوئی۔ اس کے پیش نظر کشمیر سمیت دیگر علاقوں میں بھی عید 21 مارچ کو منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجتماعی عبادات اور خوشیوں کی فضا
عیدالفطر کے دن مسلم کمیونٹی نے اجتماعی عبادت کو خاص طور پر اہمیت دی۔ یہ دن نہ صرف روحانی طور پر اہم ہے بلکہ معاشرتی خوشیوں کا بھی مظہر ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ عید کے دن خاص طور پر مستحقین کے لئے زکوة فطر کی ادائیگی کی جاتی ہے، تاکہ روزہ داروں کے روزوں کے اثرات کا بھرپور خیال رکھا جا سکے۔
بہت سے مسلمانوں نے اس بار بھی عیدالفطر کے موقع پر فنون لطیفہ، موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ یہ سرگرمیاں عید کی خوشیوں کو دو چند کرتی ہیں۔ مسلمان اپنے خاندان، دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خوشیاں بانٹتے ہیں۔
عیدالفطر کی تیاریوں کا آغاز
عید کی تیاریوں کا آغاز رمضان کے آخری عشرے سے ہی ہو جاتا ہے۔ لوگ عید کے لئے نئے کپڑے خریدتے ہیں، مٹھائیاں تیار کرتے ہیں اور اپنے گھر کو سجانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ خاص طور پر عید کی مٹھائیاں، جیسے کہ سیویاں اور دیگر میٹھے پکوان، عید کی شان ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اپنے عزیز و اقارب کے لئے تحائف بھی خریدے جاتے ہیں، تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشیوں کا تبادلہ کیا جا سکے۔
ایسی خوشیوں کے عالم میں جہاں سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خوشی مناتے ہیں، وہاں سمجھ بوجھ اور احترام بھی بڑھتا ہے۔ عید الفطر کا دن نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہ لوگوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور یکجہتی کا پیغام بھی دیتا ہے۔
آگے کا منظر
یہ عید نہ صرف روحانی طور پر مسلمانوں کے لئے اہم ہے بلکہ معاشرتی طور پر بھی ایک اہم سنگ میل ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، مشکلات بھول کر خوشیاں بانٹتے ہیں۔ عیدالفطر کا یہ جشن مسلمانوں کے لئے ایک نئی امید کی کرن ہوتا ہے، جہاں وہ نئے عزم و حوصلے کے ساتھ زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
یہ عید مسلمانوں کے لئے ایک موقع ہے تاکہ وہ اپنے روابط کو مستحکم کریں، کمزوروں کی مدد کریں اور ملکی اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ عیدالفطر کا یہ جشن عید کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں کو بھی یاد دلاتا ہے۔ اس عید کے ذریعے مسلمان اپنے ایمان کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور اللہ کی رحمت اور برکت کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم سب کو چاہیے کہ ہم عیدالفطر کی خوشیوں کو بھرپور انداز میں منائیں اور اپنے درمیان محبت، اخوت اور بھائی چارے کو بڑھاوا دیں۔ یہی عیدالفطر کا اصل پیغام ہے، جو ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے۔
مزید خبریں، آپ ہماری فیس بک، ٹویٹر اور گوگل نیوز پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ٹیلی گرام چینل کو بھی جوائن کریں۔
