بدھ, مارچ 18, 2026

سونم وانگچک معاملے پر پرینکا چترویدی کی تنقید، حکومت کے متنازعہ اقدامات پر سوالات

Share

وانگچک نے بطور ایک سرگرم کارکن نہ صرف لداخ کے مسائل بلکہ دیگر ماحولیاتی خدشات پر بھی اپنی آواز بلند کی ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کی راجیہ سبھا رکن، پرینکا چترویدی نے لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے خلاف درج مقدمے اور انہیں قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں لینے کی کارروائی پر سخت تنقید کی ہے۔ چترویدی نے یہ کارروائی غیر مناسب قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وانگچک کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور خدشات کو سنجیدگی سے لے۔

کارروائی کا پس منظر

سونم وانگچک، جنہیں حال ہی میں جودھپور سینٹرل جیل سے رہائی ملی ہے، تقریباً چھ ماہ تک حراست میں رہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور عوامی مفادات کے لئے ہمیشہ اپنی آواز بلند کی ہے۔ چترویدی نے کہا کہ ایسا شخص، جو ملک کے لئے اہم مسائل پر آواز اٹھاتا ہے، اس کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے جیل میں ڈالنا افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو وانگچک کی جدوجہد کا احترام کرنا چاہیے، جو تصادم کے بجائے وعدوں کی تکمیل کے لئے ہے۔

سونم وانگچک کی جدوجہد

وانگچک نے بطور ایک سرگرم کارکن نہ صرف لداخ کے مسائل بلکہ دیگر ماحولیاتی خدشات پر بھی اپنی آواز بلند کی ہے۔ ان کی رہائی کے بعد، انہوں نے اپنے نظریات کی وضاحت کی کہ وہ حکومت کے وعدوں کی تکمیل کے لئے ابھی بھی کوشاں ہیں۔ چترویدی نے کہا کہ جب دفعہ 370 کو ختم کیا گیا تو وانگچک نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا تھا، لیکن اب اگر وہ اپنی بات رکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو عوامی مفادات میں کمی محسوس ہورہی ہے۔

حکومت کی خامی

چترویدی نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے پر غور کرے۔ اس کے علاوہ، لداخ کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے لے۔ اگر حکومت عوامی مسائل پر توجہ نہیں دیتی تو ایسے مواقع پر احتجاج لازمی ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عوامی مفادات کی خاطر حکومت کو اپنی پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

سیاسی ماحول میں کشیدگی

چترویدی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولوئی کے استعفیٰ کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انہوں نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو مسلسل توڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جو کہ جمہوری نظام کے لئے صحیح نہیں ہے۔

امپورٹڈ سی ایم کی تنقید

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر طنز کرتے ہوئے چترویدی نے انہیں "امپورٹڈ سی ایم” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو عہدوں پر بٹھانا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکساں سول کوڈ کے معاملے پر بھی حکومت کو چاہیے کہ اس کے نفاذ سے پہلے تمام فریقین کا اعتماد حاصل کرے تاکہ عوام، خاص طور پر خواتین، کو اس کے حقیقی فوائد مل سکیں۔

عوامی مسائل نظر انداز

یہ تمام مسائل واضح کرتے ہیں کہ جب تک حکومت عوامی مفادات کو نہیں سمجھے گی، تب تک ایسی کشیدگیاں جاری رہیں گی۔ سونم وانگچک جیسے فعال کارکنوں کی شکایات پر غور کرنا بے حد ضروری ہے۔ پرینکا چترویدی کے خیالات اور ان کی تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومت کو عوامی مسائل کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ صورتحال ملکی سیاست میں نئے سوالات اٹھاتی ہے اور عوامی مفادات کی اہمیت کو بینا سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوریت کے حق میں راستے ہموار ہو سکیں۔

اس وقت، جب عوامی مسائل کی بات آتی ہے تو حکومت کی جوابدہی بہت اہم ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کے مفادات کی حفاظت چاہتی ہے تو اسے فعال کارکنان کی آوازوں کو سننے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، سیاسی رہنماؤں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا تاکہ جمہوری نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس کے بعد دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا حکومت اس معاملے میں کوئی مثبت تبدیلی لاتی ہے یا پھر یہ محض ایک اور سیاسی بیان ہی رہ جائے گا۔ عام لوگوں کی معلومات اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تاکہ ملک کی ترقی کا سفر جاری رہ سکے۔

Read more

Local News