موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کسان احتجاج: ملک بھر میں کسانوں نے جلائیں زرعی قوانین کی کاپیاں

ملک میں 18 جنوری کو تمام اضلاع میں یوم خواتین کسان منایا جائے گا، بنگال میں 20 سے 22 جنوری، مہاراشٹر میں 24 سے 26 جنوری، کیرالا، تلنگانہ، آندھرا پردیش میں 23 سے 25 جنوری اور اڈیشہ میں 23 جنوری کو گورنر کے آفس کے سامنے اجتماع کیا جائے گا۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات کے قوانین کی مخالفت کرنے والی کسان تنظیموں نے بدھ کے روز ملک بھر میں ان قوانین کی کاپیاں جلائیں۔

آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) کی یہاں جاری ریلیز کے مطابق، تحریک کے 49 ویں دن، کسانوں نے مختلف ریاستوں میں ان تینوں قوانین کی کاپیاں جلائیں اور ان کی منسوخی پر زور دیا۔ اس موقع پر، دہلی کے قریب تمام اضلاع سے یوم جمہوریہ کسان ٹریکٹر پریڈ کی تیاری کی اپیل کی۔

کمیٹی نے کہا کہ آج ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد مقامات پر قانون کی کاپیاں جلائی گئیں۔ اے آئی کے ایس سی سی نے دہلی کے آس پاس کے 300 کلومیٹر کے تمام اضلاع کے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہلی میں یوم جمہوریہ ٹریکٹر پریڈ کی تیاری کریں اور سرحدوں پر جمع ہوں۔

18 جنوری کو ملک بھر میں یوم خواتین کسان منایا جائے گا

ملک میں 18 جنوری کو تمام اضلاع میں یوم خواتین کسان منایا جائے گا، بنگال میں 20 سے 22 جنوری، مہاراشٹر میں 24 سے 26 جنوری، کیرالا، تلنگانہ، آندھرا پردیش میں 23 سے 25 جنوری اور اڈیشہ میں 23 جنوری کو گورنر کے آفس کے سامنے اجتماع کیا جائے گا۔

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا ہے کہ گذشتہ 50 دنوں سے حکومت نے ملک کے عوام اور کسانوں کے سامنے مستقل طور پر کوئی سچائی پیش نہیں کی ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو کیا فائدہ ہوگا۔ اس کا استدلال ہے کہ تکنیکی ترقی، سرمایہ کاری اور مجموعی طور پر ترقی ہوگی۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے بھی حقائق پیش نہیں کیا

حکومت نے نجی سرمایہ کاروں کی مدد کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کیے ہیں، لیکن وہ تکنیکی ترقی، سرمایہ کاری اور دیگر اہم امور پر سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتی۔ جب کارپوریٹ سرمایہ کاری کرے گا تو اس کا مقصد زیادہ منافع حاصل کرنا اور زمین اور پانی کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔

تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نہ صرف کسانوں کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہی ہے بلکہ ملک کی سپریم کورٹ کے سامنے بھی حقائق پیش نہیں کیا ہے۔