موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

امریکی سینیٹ نے دفاعی بل پر ٹرمپ کے ویٹو کو کیا مسترد

سینیٹ نے قومی دفاع اتھارٹی ایکٹ (اے ڈی اے اے) کے نام سے یہ دفاعی بل 81–13 کے فرق سے منظور کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے ایوان بالا سینیٹ نے مالی سال 2021 کے قومی دفاعی بل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویٹو کو مسترد کردیا ہے۔

جمعہ کے روز اس بل کی حمایت کرنے والے سینیٹ کے دو تہائی سے زیادہ ارکان نے ٹرمپ کے اس ویٹو کو مسترد کردیا۔

سینیٹ کے اس فیصلہ کو مسٹر ٹرمپ کے لئے ایک بڑا دھچکا سمجھا جارہا ہے کہ ان کے دور میں یہ ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ سینیٹ نے قومی دفاع اتھارٹی ایکٹ (اے ڈی اے اے) کے نام سے یہ دفاعی بل 81–13 کے فرق سے منظور کیا ہے۔

23 دسمبر کو امریکی صدر نے اس بل پر ویٹو کا اعلان کیا تھا۔ امریکی اراکین پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان نمائندگان نے 740 ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کے بل کو 322۔87 کے فرق سے پیر کو ہی منظور کرلیا تھا۔ ایوان نمائندگان نے بل پر غور کے لئے اسے ریپبلکن اکثریتی سینیٹ کو بھیجا تھا۔

صرف اس بل کے ذریعے ہی آئندہ ایک سال تک امریکہ کی دفاعی پالیسی پر خرچ کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بل کی کچھ شقوں پر مخالفت کی

ڈونلڈ ٹرمپ جو چند ہفتوں میں صدارت چھوڑنے والے ہیں، نے بل کی کچھ شقوں پر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے ان پالیسیوں کی مخالفت کی ہے جو افغانستان اور یوروپ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی تعداد کو محدود کرتی ہیں۔

این ڈی اے اے میں نارڈ اسٹریم 2 پائپ لائن منصوبے پر پابندی عائد کرنے اور روسی میزائل دفاعی نظام ایس -400 خریدنے کے حوالہ سے ترکی کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے بھی ایک شق ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس کو قانون سازی کے لئے منظور کردہ بل پر صدر کے دستخط لازمی ہیں۔

کچھ غیر معمولی حالات میں صدر بل پر دستخط نہیں کرتے اور نہ ہی اسے ویٹو کرتے ہیں۔ ایسے پالیسی ساز معاملوں میں اختلافات ہوتا ہے۔ لیکن ایوان کے اراکین دونوں ایوانوں میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ بل پاس کرکے صدر کے ویٹو کو مسترد کرکے اس بل کو قانون بنا سکتے ہیں۔