الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: سنبھل کی جامع مسجد کی رنگ و روغن کی اجازت
الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد کی کمیٹی کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی بیرونی دیواروں پر رنگ و روغن کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس روہت رنجن اگروال کی سنگل بینچ نے سنایا اور کہا کہ رنگ و روغن کا یہ کام صرف مسجد کی بیرونی دیواروں تک محدود رہے گا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کام کے سلسلے میں اگر روشنیوں کی تنصیب کی جاتی ہے تو یہ کام کسی بھی قسم کے ڈھانچے کو نقصان پہنچائے بغیر کیا جانا چاہئے۔
مسجد کمیٹی نے رنگ و روغن کی اجازت کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس اگروال نے اس درخواست پر غور کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کی بیرونی دیواروں کا حسن بڑھایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ساختی تبدیلی نہ کی جائے یا کسی تاریخی ڈھانچے کو نقصان نہ پہنچے۔
قانونی پس منظر اور درخواست کا طریقہ
مسجد کی رنگ و روغن کی اجازت کے لیے درخواست دائر کرنے کے بعد، عدالت نے بھارتی آثار قدیمہ سروے (اے ایس آئی) کو اس معاملے کی نگرانی کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ یہ حکم ایک ہفتے کے اندر رنگ و روغن کے کام کو مکمل کرنے کے لئے تھا۔
اس سے پہلے، الہ آباد ہائی کورٹ نے مسجد کی رنگ و روغن کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا اور صرف صفائی کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے اے ایس آئی سے رپورٹ طلب کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ حالت میں رنگ و روغن کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف مسجد کی حیثیت کو برقرار رکھنے بلکہ اس کی آرائش میں اضافے کا بھی ذریعہ بنے گا۔ سنبھل کی شاہی جامع مسجد تاریخی اور ثقافتی رکھتی ہے، اور اس کے باہر کی حالت کو بہتر بنانا اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
عوامی ردعمل اور اہمیت
یہ فیصلہ سنبھل کی مقامی کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑانے کا باعث بنا ہے، جہاں لوگ اس بات کے خواہاں تھے کہ مسجد کی بیرونی دیواروں کو بہتر بنایا جائے۔ اس فیصلے سے عوامی ردعمل میں مثبت تبدیلی آئی ہے، اور لوگوں نے اس اقدام کو مسجد کی اہمیت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے طور پر دیکھا۔
مقامی رہنماؤں نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ مساجد کی حالت کو بہتر بنانا نہ صرف اسلامی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ مقامی ثقافت کو بھی مضبوط کرتا ہے۔
مسجد کی تاریخی اہمیت
سنبھل کی جامع مسجد کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور یہ علاقائی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ یہ مسجد واضح طور پر اسلامی فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے اور اس کا محفوظ رہنا نہایت اہم ہے۔ اگرچہ عدالت نے رنگ و روغن کی اجازت دے دی ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے تاریخی اور ثقافتی اعتبار کو مدنظر رکھا جائے۔
آئندہ کے اقدامات اور نگرانی
اس معاملے میں اگلے مراحل یہ ہیں کہ مسجد کمیٹی رنگ و روغن کا کام شروع کرے گی اور اے ایس آئی کی نگرانی میں یہ کام مکمل کیا جائے گا۔ اگرچہ عدالت نے یہ کام ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم کچھ چیلنجز پیش آ سکتے ہیں، بشمول موسم کی خرابی یا دیگر مسائل۔
یہ بات اہم ہے کہ عوامی اہمیت کے حامل مقامات کی دیکھ بھال اور رنگ و روغن کے کام کو مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ انجام دیا جائے، تاکہ وہ اس عمل کا حصہ بن سکیں اور اپنی ثقافتی ورثے کی حفاظت میں کردار ادا کر سکیں۔
مقامی کمیونٹی کی شمولیت
رنگ و روغن کے اس منصوبے میں مقامی کمیونٹی کی شمولیت نہ صرف اس عمل کو بہتر بنائے گی بلکہ لوگوں کو یہ احساس بھی دلائے گی کہ وہ اپنے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف مسجد کی خوبصورتی کو بڑھائے گا بلکہ عوامی شعور کو بھی بیدار کرے گا۔
یہ صورتحال یہ عندیہ دیتی ہے کہ اگر ہم اپنے ثقافتی ورثے کی حفاظت کرنے کے سلسلے میں اجتماعی طور پر کام کریں تو بہتری ممکن ہے۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

