بھرتیوں میں بدعنوانی اور شفافیت کا مسئلہ
ملک کی بڑی ریلوے انتظامیہ نے حال ہی میں ایک انتہائی سنجیدہ اقدام اٹھایا ہے جس کا مقصد محکمانہ بھرتیوں کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اتر پردیش کے مغل سرائے میں ہونے والے ایک انکشاف کے بعد، جہاں 26 ریلوے افسران کو پیپر لیکنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا، ریلوے بورڈ نے تمام گروپ سی کی بھرتیوں کے انتخابی عمل کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ واقعہ حالیہ دنوں میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جس نے ریلوے وزارت کو اپنی بھرتی پالیسی میں فوری تبدیلیاں کرنے پر مجبور کیا۔
کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے؟
ریلوے بورڈ نے 5 مارچ کو جاری کردہ سرکلر میں بتایا کہ تمام ان بھرتیوں کو جو 4 مارچ تک حتمی منظوری نہیں ملی، منسوخ سمجھا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب سی بی آئی نے مغل سرائے میں 26 افسران کو پیپر لیک کے الزام میں گرفتار کیا۔ مذکورہ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے محکمے کے امتحان کی سوالات کو لیک کرنے میں ملوث تھے، جس کے نتیجے میں 1.17 کروڑ روپے کی نقدی بھی برآمد کی گئی۔
یہ اقدامات اس لئے اٹھائے گئے تاکہ ریلوے کے اندر شفافیت اور اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔ ریلوے وزارت کے ذرائع کے مطابق، یہ بھی طے پایا گیا ہے کہ جب تک نیا حکم جاری نہیں ہوتا، نئی بھرتی یا انتخابی عمل شروع نہیں ہوگا۔
مستقبل کے لیے نئے اقدامات
ریلوے بورڈ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ محکمانہ امتحانات کے لیے نئے اور سخت ضوابط وضع کیے جائیں گے تاکہ بدعنوانی کے امکان کو کم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ریلوے وزارت نے فیصلہ کیا ہے کہ امتحانات کو کمپیوٹر بیسڈ سینٹرلائزڈ سسٹم کے تحت منعقد کیا جائے گا، جس سے بدعنوانی کی کارروائیوں کی روک تھام ہوگی۔ اب تک یہ امتحانات مختلف ریلوے زونز اور ڈویژنز کے تحت منعقد کیے جاتے تھے، جہاں بے ضابطگیاں اور بدعنوانی کے مختلف واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
ریلوے کے داخلی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام دراصل ریلوے کی بھرتی کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے ہے، جہاں امیدواروں کے لیے حقیقی قابلیت کی بنیاد پر انتخاب ممکن ہو سکے۔
قومی آواز کی جانب سے رپورٹ
As per the report by قومی آواز, حکومت کی جانب سے یہ اقدامات ریلوے کے اندر بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہیں۔ اس معاملہ میں، نہ صرف افسران کی گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بھرتی کے نظام میں تبدیلیاں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہونے پائیں۔
یہ سب اقدام ملک بھر میں محکمانہ امتحانات کے لیے ایک مضبوط پیغام بھیج رہے ہیں کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور بدعنوانی اب قابل قبول نہیں رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدامات مستقبل کے لیے ایک نئی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں امیدواروں کو ان کی اہلیت کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا، نہ کہ کسی بھی غیر قانونی طریقے سے۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

