موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بی جے پی کے 32 مغربی بنگالی رہنماؤں کی سیکوریٹی کا کٹاؤ، سیاست یا روٹین؟

مرکز نے بی جے پی کے 32 رہنماؤں کی سیکوریٹی واپس لی

مرکز میں حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے حال ہی میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے 32 رہنماؤں کی سیکوریٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز جاری کی گئی ایک فہرست کے ذریعے عمل میں لایا گیا۔ یہ رہنما، جو مختلف وجوہات کی بنا پر سیکوریٹی کی درخواست کر چکے تھے، اب اپنے تحفظ کے حوالے سے نئی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیکوریٹی واپس لینے کا یہ عمل ہر تین مہینے میں دوہرایا جاتا ہے اور بی جے پی کے رہنماؤں نے اس میں سیاست کی کمی کو تسلیم کیا ہے۔

### رہنماؤں کی فہرست میں کون شامل ہیں؟

جن رہنماؤں کی سیکوریٹی ختم کی گئی، ان میں کچھ اہم سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں سابق وزیر دشرتھ ٹرکی، سکھدیو پنڈا، اور سابق آئی پی ایس افسر دیواشیش دھار شامل ہیں۔ مزید برآں، دیگر ناموں میں ابھیجات داس، دیپک ہلدر، پریہ ساہا، اور دھننجے گھوش کے نام بھی شامل ہیں، جو کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار تھے۔

ایسے میں، اس تبدیلی کے پیچھے کی وجوہات کا بھی پتہ چلانا ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ فیصلے مرکز کی جانب سے کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد ہر تین مہینے کے بعد سیکوریٹی کی ضروریات کا تقييم کرنا ہے۔ چند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی میں کوئی خاص سیاسی پیغام نہیں ہے بلکہ یہ ایک روٹین کا عمل ہے۔

### سیکوریٹی کی واپسی کا پس منظر

سیکوریٹی کی واپسی کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے، بی جے پی کے ایم پی اور ترجمان شامک بھٹاچاریہ نے کہا، "یہ فیصلہ مرکز کی جانب سے لیا جاتا ہے کہ کسے سیکوریٹی کی ضرورت ہے۔ وزارت داخلہ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کون سے رہنما کو سیکوریٹی دینا ضروری ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے میں سیاست تلاش کرنا غیر مناسب ہے۔

اس خبر پر مختلف رہنماؤں کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ابھیجات داس نے کہا کہ "میں ہریدوار میں ہوں اور مجھے اس معاملے کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔ یہ سب ایک روٹین کا عمل ہے اور میں نے ماضی میں بھی ایسے کئی مواقع دیکھے ہیں۔”

### کیا یہ ایک سیاسی چال ہے؟

بہت سے ناقدین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے میں سیاسی چالوں کی جھلک ملتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب مغربی بنگال میں سیاسی حالات انتہائی حساس ہیں۔ بی جے پی نے حالیہ انتخابات میں یہاں کامیابی حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے، اور اس طرح کے فیصلوں کو سیاسی پس منظر کے ساتھ جوڑنا چند حلقوں کی نظر میں کوئی غریب خیال نہیں ہے۔

### حکومتی فیصلے کی اہمیت

مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ایسے فیصلے ہر تین مہینے بعد کئے جاتے ہیں، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ سیکوریٹی کی صورتحال کا موثر انداز میں جائزہ لیا جائے۔ اگرچہ بعض رہنماؤں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس فیصلے میں سیاست کار فرما ہے، مگر سیاسی ماہرین اس معاملے کو اہمیت دیتے ہیں۔

### مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے؟

یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مستقبل میں مغربی بنگال کے بی جے پی رہنماؤں کی سیکوریٹی کی صورتحال کیسے تبدیل ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک روٹین کا عمل ہے، مگر اس کے اثرات سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آئندہ عام انتخابات کے ساتھ ہی بنیادی اہمیت کے حامل سوالات بھی ابھر سکتے ہیں کہ آیا بی جے پی اس صورتحال کو اپنے فائدے میں بدلنے کی کوشش کرے گی یا پھر رہنماؤں کی سیکوریٹی کی اہمیت کو دوبارہ پہچانے کی ضرورت ہوگی۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔