موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی اسمبلی میں ’نجف گڑھ‘ کا نام بدلنے کی تجویز: ’ناہرگڑھ‘ کرنے کا مطالبہ

وادی میں ایک نئی گونج: نجف گڑھ کا نام بدلنے کی تجویز

دہلی اسمبلی کے تیسرے اجلاس میں ایک اہم باب کھلا جس میں بی جے پی کی خاتون ممبر اسمبلی نیلم پہلوان نے نجف گڑھ کا نام بدل کر ’ناہر گڑھ‘ کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب ایوان میں صرف حکمران جماعت بی جے پی کے اراکین موجود تھے، کیونکہ اپوزیشن کے 21 اراکین کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس تجویز کے ساتھ ہی ایوان میں مختلف امور بھی زیر بحث آئے جن میں شہری مسائل، طبی سہولیات کی کمی اور صفائی کے ناقص انتظامات شامل تھے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

کون: نیلم پہلوان، دہلی اسمبلی کی بی جے پی کی رکن۔

کیا: نجف گڑھ کا نام تبدیل کر کے ’ناہر گڑھ‘ کرنے کی تجویز۔

کہاں: دہلی اسمبلی، بھارت۔

کب: حالیہ اجلاس کے دوران۔

کیوں: نیلم پہلوان کا کہنا ہے کہ اورنگزیب نے اس علاقے کا اصل نام ناہر گڑھ بدل کر نجف گڑھ رکھا تھا اور یہ تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ راجا ناہر سنگھ نے 1857 کی جنگ آزادی کے دوران اس علاقے کو دہلی میں شامل کیا تھا، مگر یہ نام ابھی تک تبدیل نہیں ہوا۔

کیسے: نیلم پہلوان نے یہ تجویز اسمبلی میں پیش کی، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ سابق رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے بھی اس مسئلے کو بار بار اٹھایا ہے۔

اجلاس کا آغاز اسپیکر وجندر گپتا کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مہاکمبھ کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کرنے سے ہوا۔ نیلم پہلوان کی تجویز نے ایوان میں ہلچل مچا دی، جہاں دیگر اراکین نے بھی اپنے اپنے حل طلب مسائل کو پیش کیا۔

دہلی کے مختلف حلقوں میں بنیادی مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ نیلم پہلوان نے اپنے حلقے میں طبی سہولیات کی کمی پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں زچہ و بچہ کے مراکز موجود نہیں ہیں، جس پر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بی جے پی کے اراکین اسمبلی، ابھے ورما اور اجے مہاور نے عوامی سہولیات کی کمی کے حوالے سے شکایات درج کرائیں، جن میں صفائی کے ناقص انتظامات اور سیور کے مسائل شامل تھے۔ ابھے ورما نے میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر تنقید کی اور اجے مہاور نے اپنی اسمبلی حلقے میں گندے پانی کے بہاؤ کا مسئلہ اٹھایا۔

سی سی ٹی وی کیمرے: ایک اور اہم مسئلہ

اجلاس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وشواس نگر سے بی جے پی رکن اسمبلی او پی شرما نے الزام لگایا کہ گزشتہ حکومت نے ان کے حلقے میں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگائے۔ اس کے علاوہ وجندر گپتا اور ابھے ورما نے بھی یہ بات اٹھائی کہ دہلی کے ہر اسمبلی حلقے میں 2000 سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا منصوبہ تھا، لیکن کچھ علاقوں کو اس اہم سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔

پی ڈبلیو ڈی کے وزیر پرویش ورما نے ان شکایات کا جواب دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے اور اگر کوئی کوتاہی پائی گئی تو متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، "جس اسمبلی حلقے میں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگائے گئے، وہاں جلد ہی یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔”

اس اجلاس میں شہری مسائل کی علامات کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ، حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اس دوران نیلم پہلوان کی نام بدلنے کی تجویز نے اہمیت اختیار کر لی اور اس پر مختلف ارکان کی جانب سے مختلف آراء سامنے آئیں۔

شہری مسائل کی گہرائی میں جھانکنا

اجلاس میں شہریوں کی زندگی کو متاثر کرنے والے دیگر مسائل پر بھی بحث کی گئی۔ بی جے پی اراکین نے شہر کے مختلف علاقوں کی صفائی کے ناقص انتظامات کے خلاف آواز اٹھائی۔ ابھے ورما نے کہا کہ لوگ تعمیراتی ملبہ اور دیگر فضلہ سڑکوں پر ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے پی ڈبلیو ڈی کے راستے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

اجے مہاور نے خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ سیور بند ہونے کی وجہ سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں صحت کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

یہ تمام امور دہلی کی شہری زندگی کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اس طرح کی بحثیں نہ صرف اسمبلی کے اندر کی گونج کو ظاہر کرتی ہیں، بلکہ عوام کے ساتھ حکومت کے تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان کے حل کے لیے حکومت کو موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہری زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔